جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تب حضرت عیسی کو آسمان سے نازل کیا جائے گا کہ جا اے نبی امام مہدی کے لشکر میں شامل ہو اور اب کی بار عیسی علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی بن کر آئیں گے امام مہدی امامت کروائیں گے جس کے پیچھے پیارے عیسی علیہ السلام نماز پڑھیں گے اور یہ اللہ کا معجزاتی لشکر اس دنیا سے ہر ظلم کو ہر برائی کو ختم کر دے گا فتنوں کے تمام ناگ ماریں جائیں گے اور میرے حسین علیہ السلام مسکرائیں گے کہ دیکھو اے لوگوں خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اس دن حسین علیہ السلام کی قربانی صحیح معنوں میں مکمل ہوگی !
میرے دل کے بےترتیب پن کو اماں نے پھانپ لیا تھا اماں میرے پاس بیٹھیں اور کہنے لگیں کہ پتر حوصلہ رکھ دل کو مضبوط رکھ خدا نے کہہ دیا تھا اسکی مدد قریب ہے اور حقیقیت یہ ہی ہے کہ ہم اس کی مدد کے قریب تر ہیں اپنے دل کو سکون سے روشناس کروا اور میرے ساتھ بیٹھ کر انتظار کر کہ یہ انت��ار بھی عبادت ہے یہ عبادت ایسی ہے جو ایمان کو مضبوط کرے گی دکھی دلوں کو سہارا دے گی ٹوٹے ہوئے لوگوں کو جوڑنے کا کام کرے گی پتر سن امام مہدی وہ سیڑھی ہیں جو خدا تک لے جاتی ہے !
کچھ دیر خاموشی قائم رہی پھر اماں نے تلاوت شروع کی ،اماں سورۃ النصر پڑھ رہی تھیں ، اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّـٰهِ وَالْفَتْحُ ( جب اللہ کی مدد اور فتح آچکی ) اماں پہلی آیت پڑھ کر رک گئیں میری طرف دیکھنے لگیں اور کہا کہ پتر خدا کی ہر آیت ہر زمانے ہر وقت پر لاگو ہے جیسے اس آیت میں خدا صاف اور واضح مدد کا وعدہ کر رہا ہے اور خدا کی وہ مدد امام مہدی ہونگے یہ وہ مدد ہے جو خدا نے کربلا والوں کی ، اور ایسی مدد آج ��ے پہلے کسی کی نہیں کی گئی ہے یہ وہ مدد ہے جس کو پوری دنیا میں فتح ملے گی ، اب اماں اپنی میٹھی آواز میں دوسری آیت کی تلاوت کر رہی تھیں " وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِىْ دِيْنِ اللّـٰهِ اَفْوَاجًا ( اور آپ نے لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیا) " سن پتر وہ لوگ جو امام حسین کے مخالف بن کر دین سے بےدخل ہوئے ان کے بدلے خدا کئی گنا زیادہ نیک اور صالح لوگ اسلام کو دے گا جو جوق در جوق دین میں شامل ہونگے امام مہدی کی پیروی کریں گے اور حق کے لشکر کا پرچم اٹھائیں گے ، اماں اب تیسری آیت تلاوت کرنے لگیں " فَسَبِّـحْ بِحَـمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ اِنَ��هٝ كَانَ تَوَّابًا ( تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے معافی مانگیے، بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے ) سن پتر یہ آیت ہمارے لیے کہ ہم نے کیا کرنا ہے ہم نے ہر حال میں اللہ کی رسی کو تھام کر رکھنا ہے اور خدا کے سامنے استغفار کرنی ہے خدا کا بندہ بن کر رہنا ہے کہ اگر ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو خدا سے معافی مانگنی ہے اور وہ ہماری توبہ قبول کرے گا اس سورۃ کے آخر میں خدا نے امید کا دروازہ کھولا ہے کہ خدا ہر وقت ہمارے ساتھ رہے گا بس اسکو پکارتے رہنا اور اس کے بتائے ہوئے رستے پر چلنا کہ تیرا شمار اس لشکر میں ہوں جس پر خدا کی رحمت ہے اور تیری ماں کیلئے یہ کافی ہوگا کہ اس کا بیٹا دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کو راضی کر گیا ہے !
عباس
تیرہواں حصہ !
کربلا کے لاڈلے حسین علیہ السلام !
امام ِ زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام !
اماں کربلا ختم ہوگئی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسکی یاد اب بھی تازہ ہے جیسے سب اب بھی سامنے ہو رہا ہو ، میں اماں کے قدموں میں بیٹھا تھا اماں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ پتر وہ کربلا ختم نہیں ہوئی ہے وہ جاری ہے اور جاری رہے گی تب تک جب تک خدا کا وعدہ پورا نہیں ہوجاتا ہے !
خدا کا وعدہ ؟ میں نے اماں کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا اور اماں نے مسکرا کر کہا کہ ہاں پتر وہ خدا بڑا غیور ہے رحیم و کریم ہے وہ اپنے لاڈلے بندوں کی قربانی کو ضائع نہیں جانے دیتا جیسے اس خدا نے پہلے بتا دیا تھا کہ کربلا ہونی ہے اور کربلا ہوگئی ویسے ہی اس خدا نے بتایا تھا کہ آل محمد سے ہی اس امت کو وہ امام ملے گا جو اس دنیا میں وہ امن قائم کرے گا جس امن کے خاطر حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھی شہید ہوئے ،
اماں آپ امام مہدی کی بات کر رہی ہیں ؟ جی پتر امام مہدی یعنی امام ِ زمانہ جو ہر زمانے کے امام ہیں اور ہر زمانے والے کو یہ بتایا جاتا ہے کہ جب امام کا ظہور ہو تو ان کے ہاتھ بیعت کرنا کیونکہ وہ ہاتھ حسین علیہ السلام کا ہی ہوگا اور میں تجھے آج کہتی ہوں کہ آنے والے نسلوں کو یہ بتانا تیرا فرض ہے کہ مسلمان اب بیعت امام مہدی کے ہاتھ پر کریں گے ! اماں کو سن کر میں سوچ میں ڈوب گیا اور اماں ایک ڈائری اور قلم اٹھا کر کہتی ہیں کہ پتر آج لکھتا جا جو جو میں تجھے بتانے لگی ہوں اماں کہنے لگی کہ پتر امام کا ظہور تب ہوگا جب اس دنیا میں فتنے جنم لے چکے ہیں اتنے فتنے ہونگے کہ پاؤں رکھنے تک کی جگہ نہیں ہوگی یہ فتنے کسی ناگ کی مانند ہر انسان کو ڈسیں گے حتی کہ لوگ خدا کے پاک گھر فقط مشہور ہونے اور دکھاوے کیلئے جایا کریں گے خدا کے تمام احکامات کو فراموش کردیا جائے گا ہر ایک اپنے حساب کا اسلام لے کر کے بیٹھا ہ��گا پتر اب سن ایک خاص بات سن کہ تجھے لوگ کہتے ملیں گے کہ امام ابھی وجود میں نہیں آئیں ہیں کچھ کہیں گے کہ وجود میں آچکے ہیں تو نے ان میں سے کسی کی نہیں سننی اور جو میں کہہ رہی ہوں اس کو ذہن نشین کر لے کہ جس دن جس لمحہ خدا نے یہ کہا کہ مسلمانوں کے امام مہدی آئیں گے اسی دن انکا وجود ہوگیا تھا بالکل ویسے ہی جیسے پیارے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلے وجود میں لایا گیا اور دنیا بعد میں بنائی گئی یہ سب رب کے کام ہیں اس میں ہم نے دخل نہیں دینی ہے ہم نے وہ کرنا ہے جو رب نے کہا ہے اور رب نے کہا کہ بیعت کرنی ہے امام کے لشکر میں شامل ہونا ہے اور لشکر میں شامل ہونے کیلئے تجھے خدا کا بندہ بننا ہوگا اور خدا کا بندہ بننا آسان نہیں ہے پتر ۔۔ !
میں سر کو جھکائے پریشانی کی حالت میں بیٹھا رہا اور اماں اٹھ کر جانے لگیں تو اماں کو پکار کر کہا کہ اماں میرے لیے دعا کر کہ میرے اعمال ایسے روشن ہوں کہ جب امام آئیں تو میں خوشی خوشی ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے جاؤں ، اماں رک گئی اور کہنے لگی پتر اس وقت یہ دنیا تہس نہس ہو رہی ہوگی جب امام کا ظہور ہوگا اور خدا ان کو فقط ایک رات میں ہی بادشاہی دے گا وہ عرب پر حکومت کریں گے عرب کی مشرقی ممالک امام مہدی کی حمایت میں لشکر بھیجیں گے انکی حکومت میں شامل ہوجائیں اور پھر ایسا وقت آئے گا کہ پوری دنیا میں امام مہدی امن قائم کردیں گے پتر تو جانتا ہے امام مہدی کا نام محمد ہوگا ان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا انکا ظہور کعبہ میں ہوگا لوگ بیعت کریں گے حتی کہ ان کے مخالف جماعتیں بھی بنائی جائے گی ایک لشکر آئے گا سیریا سے جو کعبہ کو ختم کرنے آئے گا اور وہ لشکر کعبہ پہنچنے سے پہلے ایک ریگستان میں دھنس جائے گا یہ اس وقت کا سب سے بڑا معجزہ ہوگا اور پھر پوری دنیا کو پتہ چل جائے گا کہ کربلا کی مٹی نے سانس لینا شروع کر دیا ہے اہل بیت کا وارث امام مہدی آچکا ہے اب کربلا کا بدلہ لیا جائےگا اور اب وہ امن قائم ہوگا جس کے واسطے فاطمہ کی آل کٹ گئی تھی اب وہ امن قائم ہوگا جس کے واسطے ننھے اصغر نے شہادت کا جھولا گلے لگایا !
��ماں رو رہی تھیں میں اماں کے پاس بیٹھا رہا اور پوچھا کہ اماں کیوں رو رہیں کہ امام مہدی آئیں گے نا وہ کربلا کو سکون دیں گے نا تو اماں کہنے لگی کہ پتر مجھے اپنے اللہ پر پیار آرہا ہے وہ جانتا تھا وہ عالم ہے غیوب کا وہ سب کو بنانے والا جانتا تھا کہ کربلا ہوگی اور اسکا بدلہ لیا جائے گا اس لیے اس رب نے اپنا سب سے بڑا معجزہ نبی بنا کر بھیجا ، اماں دوبارہ رونے لگ گئیں میں اماں کے ہاتھ پکڑ کر بیٹھا رہا اور چومتا رہا ، اماں کہنے لگی کہ پتر اللہ کا وہ معجزہ عیسی علیہ السلام ہیں جن کی پیدائش سے لے کر انکی وہ حیات جو انہوں نے اس دنیا میں گزاری اور اس کے بعد کی تمام حیات جب وہ آسمان پر اٹھا لیے گئے اور وہ معجزہ اب ایک بار پھر ہوگا
👇👇👇👇👇👇👇👇👇جاری ہے
تبرک !
میں اپنے بوجھ زدہ وجود کے ساتھ جب تخیل کی سیڑھیاں عبور کر کے ٹیرس پر پہنچا تو وہ مجھے بےچینی سے ٹہلتی ہوئی ملی وہ اپنے کانپتے ہاتھ چہرے پر پھیر رہی تھی اس میں سے آج پریشانی کی مہک آرہی تھی جو میں نے سیڑھیوں پر ہی محسوس کر لی تھی اس نے میری طرف دیکھا اور اسکے بےاختیار آنسو بہنا شروع ہوگئے میں بینچ پر بیٹھ چکا تھا اب وہ بوجھل قدموں کے ساتھ بےچینی سے اپنے دل کو تھامے میرے سامنے بیٹھ گئی
کیا ہوا ہے ��ب خیر ہے ؟(میں نے انجان لہجے میں سوال کیا )
کہاں تھے تم تمہارا فون بند جا رہا تھا ؟
چارچنک ختم تھی!( اب اس کے آنسو گالوں کو چھو کر گردن کا لمس چوم رہے تھے )
کیا تمہیں اندازہ نہیں ہے جب تم اس طرح غائب ہوتے ہو تمہاری آواز نہیں سننے کو ملتی دل کتنا فکر مند ہوتا ہے کہ تم ٹھیک ہو بھی یا نہیں!
پگلی ابھی صبح ہی تو بات ہوئی تھی (میں نے ہنس کر جواب دیا )
صبح ؟ تمہارے لمس کو محسوس کیے ہوئے بیس گھنٹے ہوچکے ہیں چاند نما شخص (وہ بھاری آواز میں بولی )
بات ہوئی تھی نا ؟(میں نے سمجھانے کے انداز میں کہا )
لیکن اس کے بعد جو تمہارا قحط تھا اس نے میرے جسم سے سارا خون چوس کر مجھے زرد کر دیا ہے (��ب وہ میرے ہاتھ اپنے گالوں سے لگا چکی تھی )
محبت ہر وقت موجود نہ ہو تو کیا محبت چھوڑ دو گی ؟(اب میری آواز میں سختی آچکی تھی )
اگر کسی کیلئے انتظار لکھا ہے تو کیا اسے ہر وقت انتظار کروایا جائے گا ؟
محبت کیا بدلا مانگتی ہے ؟
میری محبت بس تمہیں مانگتی ہے تم بدلہ تو نہیں ہو چاند نما شخص !
اس تخیل کے علاوہ ایک حقیقت کی دنیا ہے جہاں ہزار لوگ ہیں جو میرے انتظار میں بھی ہوتے ہیں کیا تم حالات سے اور میرے روز مرہ کے تمام معاملات سے ناواقف ہو ؟
معذرت مجھ سے غلطی ہوگئی میں آئندہ ایسا نہیں بولوں گی (اس نے خاموشی سے سر جھکا لیا تھا اور پچیس منٹ تک تخیل کا ٹیرس خاموش رہا )
بولو میں سننا چاہتا ہوں کہ تمارے دل میں کیا ہے !(اب تک میں پانچ سگریٹیں پی چکا تھا )
نہیں کچھ بھی نہیں ہے !
جتنا کہا ہے اتنا کرو (میرا لہجہ موسم کی طرح سرد ہوچکا تھا )
تمہارے پاس حقیقت بھی ہے تخیل بھی ہے اور بھی ہزار لوگ ہیں میرے پاس صرف یہ تخیل ہے اور ایک تم ہو اور کوئی بھی نہیں ہے حتی کہ میں بھی نہیں ہوں ، انتظار اذیت ناک ہوتا ہے چاند نما شخص لیکن میں اتنی کمزور بھی تو نہیں ہوں کہ انتظار کی وحشت سے ڈر کر محبت چھوڑ دوں ہاں میں بہادر نہیں ہوں لیکن۔۔۔۔ (لیکن کے آگے وہ بول نہیں پائی وہ ہچکیاں لے کر ایک چھوٹے بچے کی طرح رو رہی تھی اور میں بےبسی اسکو دیکھ رہا تھا )
سنو پگلی ہر وقت حاضر رہن�� ایک ساتھ رہنا بات کرنا محبت نہیں ہوتا ہے محبت کو تولنے کا یہ پیمانہ غلط ہے پگلی (میں اب اسکو پیار سے سمجھانے لگا )
بات نہ کرو کم از کم سامنے تو رہو کہ ۔۔۔(وہ بولتے بولتے پھر چپ کر گئی )
کہ ۔۔ کے آگے کیا بولنا چاہتی ہو ؟
کہ تمہاری آواز میرا رزق ہے میں نہیں جانتی کہ کب تمہاری آواز میرا رزق بن گئی تم ہوتے ہو نا اور جب پاس ہوتے ہو تمہاری آواز سن رہی ہوتی ہوں تب میں اس دنیا میں نہیں رہتی ہوں تب الگ دنیا ہوتی ہے جہاں فقط تم ہوتے ہو (وہ اب بھیگی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی )
تم کتابی باتیں کرتی ہو پگلی یہ سب کتابوں کی کہانیوں میں ہوتا ہے !(سچ یہ ہی تھا کہ اس وقت اسکی ہر بات ایک گہری وحشت پیدا کر رہی تھی )
میری باتیں کتابی ہیں تم بتاؤ زرا مجھے دیکھو میری آنکھیں دیکھو کیا یہ سب بھی کتابی ہے چاند نما شخص ؟ میں تم سے محبت کرتی ہوں آئی رئیلی لو یو (وہ جذبات میں بول رہی تھی اور میں سن رہا تھا)
ہمممم محبت بار بار اظہار نہیں مانگتی ہے تمہیں بہت کچھ سیکھنا ہے ابھی ، میں اگر کبھی تم سے یہ نہ کہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب محبت نہیں ہے !
میں کب کہہ رہی کہ تمہیں محبت نہیں ہے مجھے تو یہ محبت تمہارے توسط سے نصیب ہوئی ہے جو میرا رزق ہے اور میں جانتی ہوں کہ محبت میں کچھ نہیں مانگا جاتا میں تو خدا سے مانگ رہی تھی کہ وہ میرا تبرک بھیج د�� وہ میرے رزق کی برکت بھیج دے !(اب وہ آسمان کی طرف بےبسی سے دیکھتے ہوئے بولی )
تبرک جانتی ہو نا کیا ہوتا ہے ؟
ہاں تبرک چاند نما شخص ہے اور مجھے اس تبرک کی ہر لمحہ ہر وقت ضروت ہے یہ میری بنیادی ضرورت ہے !
اگر تبرک نہ ملا تو کیا کرو گی؟
خدا سے التجا کرتی رہونگی !
اگر تب بھی نہ ملا تو ؟
ان سیڑھیوں پر بیٹھ کر تبرک کا بیس سال تک بھی انتظار کر سکتی ہوں !
جانتا ہوں پگلی اور میں حقیقت میں ہوں یا تخیل میں ایک بات یاد رکھنا یہ تبرک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے یہ برکت ہی تمہارا وجود ہے پگلی !
تم واقعی تبرک ہو جس کی میں التجائی ہوں (بیس گھنٹوں کے قحط کی تکلیف اب بھی اس کے لہجے سے واض�� تھی )
عباس
السلام علیکم
صبح بخیر
تصادم سے گریز کیجیے، صاحب۔
ہماری عاجزی کو کمزوری نہ سمجھیے؛
تہہِ خاک پڑے گُلوں کے بیج ہی ایک دن بہار کا عنوان بنتے ہیں۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا غرور ہی پاش پاش ہو جائے۔
تو جانتا ہے پتر میرے امام عید والے دن بھی نہیں مسکراتے تھے کسی نے پوچھا کہ کیا عید والے دن بھی نہیں مسکراؤ گے تو کہنے لگے کہ یعقوب نے صرف اس شک پر کہ یوسف زندہ ہے یا نہیں اپنی بینائی کھو دی تھی اور میں نے تو اپنے سارے یوسف اپنے سامنے زبح ہوتے دیکھے ہیں میں بھلا کیسے مسکرا سکتا ہوں ! اماں اب دبی دبی آواز میں رو رہی تھیں ایسے جیسے کسی کی پوری دنیا اجڑ گئی ہو !
اماں نے اپنے دل کو تھام کر کہنا شروع کیا کہ پتر جب مختیار ثقفی سب قاتلوں کو پکڑ پکڑ کر مار رہا تھا تو وہ ہی مروان جو اہل بیت پر پانی بند کرنے والوں میں شامل تھا بھاگتا ہوا امام کے خیمے میں داخل ہوا اور اسکی زبان پیاس سے سوکھی ہوئی تھی اس نے امام سے پانی مانگا امام جو عبادت میں مشغول تھے اٹھے پانی بھر کر دیا اور پوچھا کیا اور پانی چاہیے تو مروان نے کہا ہاں چاہیے اس طرح امام اسکو پانی پلاتے رہے اور وہ پانی پی کر جب باہر نکلا تو سوچنے لگا کہ شاید امام نے مجھے پہچانا نہیں دوبارہ خیمے میں گیا اور کہنے لگا کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں اگر پہچان لیتے تو پانی نہ دیتے ، پتر میرے امام کی آنکھوں میں آنسو آگئے امام کہنے لگے کہ جب تو اندر آیا تھا میرے زخم تب ہی تازہ ہو کر خون رسنے لگے تھے لیکن پانی نہ دینا تیری عادت تھی اور پیاسوں کو پانی پلانا میرے نانا کی سنت ہے یعنی کہ سنت ِ محمدی !
میرا دل اب تیز رفتار ہوچکا تھا کربلا کا دکھ اب مجھ میں ابلتے پانی کی طرح شامل ہوچکا تھا جس نے مجھے پورے کا پورا تکلیف میں مبتلا کردیا تھا !
اماں مجھے اکثر اس تڑپ میں دیکھ کر سمجھاتی ہیں کہ پتر اس تڑپ کو ہر گز کم نہ ہونے دینا اس تڑپ میں اضافہ کر ، کہ یہ ہی تیری زندگی کا واحد مقصد ہے ،اس رات اماں مجھے اپنے پاس بیٹھا کر کربلا کی کیفیات محسوس کروا رہی تھیں اماں کہنے لگی پتر آج تجھے ایک بڑی شہادت سناؤں گی جس کے بعد مدینہ کا غریب لاوارث ہوا تھا ایک کفیل تھا جو رات کے اندھیرے میں غریب کے گھر کے باہر کھانا رکھ کر آتا تھا وہ پردہ نشین نقاب ہوش کفیل جس کے بارے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے کہاں سے آتا ہے بس اس کفیل نے سینکڑوں گھروں کی زمہ داری لے رکھی تھی کچھ دن جب کھانا آنا بند ہوا تو لوگ فکر میں مبتلا ہوئے کہ اب کھانا کیوں نہیں آتا جب معلوم پڑا تو یہ معلوم پڑا کہ مدینہ لاوارث ہوگیا ہے کہ ان کے اس وارث کو شہید کر دیا زہر دے دیا گیا اور سن پتر یہ زہر دینے والے وہ ہی کافر تھے جو کربلا میں موجود تھے جنہوں نے فقط دو دن کی بادشاہت کیلئے امام کو مار ڈالا ، اب اماں رو رہی تھیں میرے لیے اماں کو چپ کروانا مشکل کام تھا کیونکہ اماں کو دیکھ کر میں خود اس محبت میں تڑپ پڑتا جس تڑپ کا وہ شکار تھیں اب ایک ماتم تھا جہاں فقط دکھ تھا اور دکھ بھی اماں کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کا !
اماں نے کہا کہ پتر امام زین العا��دین پڑے پیارے تھے وہ ہر وقت بس خدا کو پکارتے رہتے جب انکو زہر دیا گیا اور زہر رگوں میں پہنچ کر تکلیف پیدا کرنے لگا تو امام سجدے میں چلے گئے ، امام باقر کہنے لگے ابا جان آپ تکلیف میں ایسا کیوں کر رہے ہیں تو کہنے لگے کہ شکر کا سجدہ کر رہا ہوں کہ میں ہر وقت سوچتا رہتا تھا کہ میرے دادا بھی شہید میرے چچا بھی شہید میرے ابا بھی شہید میرے بھائی بھی شہید مجھے بھی شہید ہونا تھا مجھے طبی موت نہیں چاہیے تھی اور پھر امام نے شکر کے سجدے میں شہادت کو گلے لگایا اور امام باقر کو نصیحت کر کے گئے کہ مجھے میرے چچا امام حسن کے پاس دفنانا ، پتر کہتے ہیں تب جنت البقیع میں جگہ نہیں تھی لیکن جب امام کو دفنانے لگے تو وہاں قبروں کے درمیان خود بہ خود جگہ بن گئی !
اماں کہتی ہیں کہ پتر یہ وہ اہل بیت ہیں جن کے ہاں خدا ہر وقت موجود رہتا ہے میں نے اماں سے تڑپ کر پوچھا کہ اماں انکو شہید کیوں کیا گیا تو اماں کہنے لگی پتر بادشاہ کو کوئی بادشاہ نہ مانے اور سب ایک خیمے والے کے ہاں عقیدت میں بیعت کریں تو بادشاہ میں اقتدار کا ڈر اور حسد پیدا ہوجاتا ہے وہ ہی حسد جس نے حسین کو سجدے میں شہید کیا تھا!
تو جانتا ہے پتر سب نے کربلا کے بعد یزید کی بیعت کی لیکن امام نے نہیں کی ، جو بیعت نہیں کرتا تھا یزید اسکا قتل کر دیتا تھا لیکن امام سے کسی نے بیعت کیلئے نہیں کہا کیونکہ سب جانتے تھے ک�� سید الساجدین حسینی ہیں اور اگر وہ کھڑے ہوئے تو کافر ایک ہی وقت میں ختم ہوجائیں گے ، کیسا منظر ہے نا یہ خدا کی خدائی کا کہ فقط ایک نہتا انسان جس کے ساتھ خدا ہے اس سے سب ڈر رہے ہیں اور انکی آخری سانس تک ڈرتے رہے اور یہ کافر اب تک ڈرتے ہیں !
عباس
السلام علیکم
دکھ انسان کو بہت سے دروازوں تک لے جاتا ہے، مگر ہر در سکون نہیں دیتا۔
آخرکار آدمی یہ جان لیتا ہے کہ دل کی وہ گرہ، جسے دنیا کھولنے سے عاجز رہتی ہے، اسے صرف وہی ہستی کھول سکتی ہے جس نے دل کو بنایا ہے۔
ذکر مصطفی (ص) و زکرِ خیرِاہل بیتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
بسلسلہ شہادت س��د الساجدین، جناب امام زین العابدین علیہ السلام،
#ایک_کپ_چائے
کی طرف سے اس خوبصور
بروز : جمعہ
رات :10:00 بجے
شرکت کے درخواست گزار تاکہ ہم سب مل کر اس زکر خیر کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹ سکیں۔
عابدوں کے پیشوا ہیں صابروں کے رہنما
کوئی ثانی ہی نہیں ہے سید سجاد کا
ذکر مصطفی (ص) و زکرِ خیرِاہل بیتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
بسلسلہ شہادت سید الساجدین، جناب امام زین العابدین علیہ السلام،
#ایک_کپ_چائے کی طرف سے اس خوبصورت محفل میں تمام عاشق اہل بیت کو دعوت خاص و عام❤️
بروز : جمعہ
رات :10:00 بجے
شرکت کے درخواست گزار تاکہ ہم سب مل کر اس زکر خیر کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹ سکیں۔
السلام علیکم
ایک کپ چائے کی طرف سےمحفل ذکر محمد مصطفی وذکراہل بیت رسول ص کےسلسلے میں بیان شہادت جناب امام زین العابدین علیہ السلام
آج رات 10 بجے
تمام احباب کو شرکت کی دعوت خاص ہے
السَّلامُ عَلَيْكَ يَا زَيْنَ الْعَابِدِينَ،🌙🖤
السَّلامُ عَلَيْكَ يَا إِمَامَ الْعَابِدِينَ،🌙🖤
حساس لوگ جلدی مرتے ہیں یہ خوامخواہ اپنی آنکھوں میں خواب اور دوسروں کی آنکھوں میں انکی تعبیر ڈھونڈتے ڈھونڈتے وقت اور طبی عمر سے بہت پہلے مر جاتے ہیں یہ ہر گلے لگنے والے سینے کی سسکیاں سن کر اکیلے میں آہ و زاری کرتے اور آنکھیں دید سے خالی کر لیتے ہیں ...
بہت حساس ہوتے ہیں بےحس دنیا میں جیتے یہ حساس لوگ جنہیں زیادہ سنائی دیتا ہے زیادہ دکھائی دیتا زیادہ محسوس ہوتا ہے بس برداشت زرا کم ہوتی ہے ان لوگوں میں لہذا وقت سے بہت پہلے اور بڑی عجلت میں مر جاتے ہیں یہ حساس لوگ لہذا ...
میں مرنے میں بھی عجلت سے کام لوں شاید ...
مجھ کو لے کر تو بہت دور تک نہ سوچا کر !!
میں برا ہوں یہ سوچنا تکلیف دیتا ہے. وہ مجھ سے زیادہ برا ہے. یہ سوچ کر سکوں آ جاتا ہے. اسی لیے ہم دوسروں کی فائل کھول دیتے ہیں. "فلاں کنجوس ہے"... تاکہ میری حرام خوری جائز لگے. "فلاں بدزبان ہے"... تاکہ میری بدتمیزی معمولی لگے. "فلاں کی نیت خراب ہے"... تاکہ میری نیت پر کوئی انگلی نہ اٹھائے. ہم دوسروں کو گرا کر خود اونچے ہونے کی کوشش کرتے ہیں. پر یاد رکھو: دوسروں کا گڑھا کھودنے والا خود اس میں گرتا ہے. تصور کریں... صبح اٹھتے ہی آپ کے سامنے ایک شفاف آئینہ آ جائے. وہ آئینہ چہرے کا نہیں، کردار کا ہو. آئینہ بولے: "دیکھو، تم حسد کرتے ہو". "دیکھو، تم وعدہ توڑتے ہو". "دیکھ، تم ریا کرتے ہو. نماز لوگوں کو دکھانے کے لیے پڑھتے ہو". "دیکھو، تمہاری زبان زہر اگلتی ہے".قسم سے، اس دن کے بعد آپ کو فلاں کی نیت کا وقت ہی نہ ملے گا. کیونکہ جس کے گھر شیشے کا ہوں... وہ دوسروں پر پتھر نہیں مارتا. دوسروں کے عیب دیکھیں تو" جراح" بن جاہیں. چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں. ایک ایک خامی نکال کر اپنے عیب دیکھیں تو" وکیل" بن جاتے ہیں." نہیں، میں ایسا نہیں تھا... حالات ایسے تھے". "وہ بھی تو ایسا ہی کرتا ہے" "نیت تو صاف تھی میری" اللہ قرآن میں فرماتا ہے: انسان خود اپنے نفس پر گواہ ہے. مطلب؟ آپ کو اپنے سب سے زیادہ عیب پتا ہیں. پر آپ نے آنکھ بند کر رکھی ہے. کیونکہ آنکھ کھولی تو شرمندگی ہو گی. اور جب تک شرمندگی نہیں ہو گی... اصلاح نہیں ہو گی. شیطان کو پتہ ہے: قتل کراؤ گے تو مشکل ہے. چوری کراؤ گے تو پکڑے جاؤ گے. شراب پلاؤ گے تو بندہ ہوش میں آ کر توبہ کر لے گا. پر غیب؟ یہ مفت ہے. مزے کی ہے. محفل گرم کر دیتی ہے. اور گناہ بھی ایسا کہ ثواب کا ٹرانسفر ہو جاتا ہے. نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت والے دن جسکی غیبت کی ہو گی... اس کی نیکیاں اسے دے دی جاہیں گی نیکیاں ختم؟ تو اس کے گناہ آپ کے کھاتے. سوچیں... آپ دو گھنٹے بیٹھ کر فلاں کی غیبت کریں... اور قیامت والے دن اپنی ساری نمازیں، روزے اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیں. اپ کو فلاں کی دس برائیاں پتا ہیں. فلاں کو آپ کی دس برائیاں پتا ہیں. اللہ کو آپ کی ہزار برائیاں پتا ہیں... پر وہ پردہ ڈالے ہوئے ہے. اگر اللہ وہ پردہ اٹھا دے... تو آپ سے کوئی ہاتھ نہ ملاۂے. تو پھر آپ کو حق کس نے دیا کہ آپ اللہ کا دیا ہوا پردہ چاک کریں
جدائی (پہلا حصہ )
"پہلے وہ خط نہیں بھیجتی
نہ ہی کوئی پیغام
چپکے سے دبے پاؤں جھپٹتی ہے
اس کا جھپٹ��ا عجیب طرز کا ہوتا ہے
ایسے جیسے کوئی نیولہ سانپ کو ایک ہی ڈکار میں ہڑپ کر جائے
لیکن نہ تو وہ نیولہ ہے
اور نہ ہی ہم سانپ ہیں
اس کے پاس سیاہی نہیں ہوتی
اس لیے وہ کچھ لکھ نہیں پاتی
لیکن وہ یہ ضرور جانتی ہے کہ
کس کی زندگی میں کتنی سیاہی بھرنی ہے
خود وہ روشن روشن رہتی ہے
اور جس کو اپنے وش میں کرتی ہے
اسکو گمنام بدنام کر دیتی ہے
اور ہنستے کھیلتے انسان کو اجاڑ کر رکھ دیتی ہے !"
بچپن ��ے یہ کہانی کسی لوک نظم کی طرح سنتا آرہا تھا وقت گزرتا گیا اور دماغ کی گرہیں سلجھتی رہیں جہاں ایک الجھن ختم ہوتی وہاں دس اور الجھنیں پیدا ہوتی گئی
میں سوچتا تھا کہ بھلا یہ کس کی بات ہو رہی ہے یہ کون سا بن بلایا مہمان ہے جو گھر آکر گھر تباہ کر جاتا ہے !
آگے کی نظم لکھنے کا مجھے بڑا شوق تھا لیکن میں اس نظم کے کردار کے بارے نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے کیا ہے کہاں سے آتی ہے یہ بھی نہیں جانتا کہ اسکی جنس کیا ہے بس میں اتنا جانتا تھا کہ وہ اپنے ساتھ ایک اندھیر دنیا لاتی ہے !
میں نے اسکو بغیر دیکھے بغیر سمجھے لکھنا شروع کیا !
" اس نے اپنے پاؤں کاٹ دئیے تھے
تاکہ وہ جب آئے تو ا��کی آہٹ اس سے پہلے نہ پہنچے
کیونکہ وہ اناپسندی میں ڈوبی ہوئی تھی
ڈوبنے کے بعد وہ ایک جھیل بن گئی
اور ہر ایک کو خود کو ڈبو دیتی ہے
لیکن وہ ناکام ہوئی ایک شے کے معاملے میں
وہ اپنی مہک کو نہ روک پائی
اس کے آنے سے پہلے اسکی مہک پہلے پہنچ جاتی ہے
کچھ اسکی مہک کو پہچان لیتے ہیں
اور کچھ کیلئے یہ انجان مہک ہوتی ہے
اسکی مہک بہت ہلکی سی ہے
جیسے گیلی مٹی کی مہک ہوتی ہے نا
بالکل ویسی ہی مہک
میں نے اسکو محسوس کیا
تو یہ جانا کہ
اس کے دل میں کوئی گہرا دکھ ہے
وہ ایسی نہیں تھی
جیسے اسکو بنا دیا گیا ہے
یہ دنیا نا کسی کو نہیں چھوڑتی ہے
لیکن وہ کب سے ایسی ہے میں خود بھی نہیں جانتا !"
میں نے محسوسات کے گھوڑے دوڑائے تو فقط اتنا ہی نقشہ کھینچ پایا ۔۔ آج رات کا پلان بنایا کہ آج اس انجان کردار کو اتنا محسوس کرنا ہے کہ مجھ میں یہ کردار پوری طرح سما جائے !
" کیا تم ایک صحرا کی مانند ہو
ایک ایسا صحرا
جس سے صحرائی باہر نہیں جانا چاہتا
اور نہ ��ی اس صحرا میں رہنا چاہتا ہے
تم کہیں کوئی صحرائی مچھلی تو نہیں
جو صحرا کی گرم تپتی ریت میں
اپنے پر پھیلا کر تیرتی ہے
تمہاری طاقت کیا ہے؟
انسان ؟
یا کوئی احساس ؟
یا کچھ اور ؟
تم میں طاقت ہے بھی یا نہیں
تم کہیں میری طرح کوئی نامکمل شے تو نہیں ؟
لگتا ہے تم کوئی معمہ ہو
جسے الجھانا اب مجھ پر فرض ہے
میں تمہیں تازگی سونپنا چاہتا ہوں
میں تمہیں ��پنے آسمان کا حصہ بنانا چاہتا ہوں
تم ملو مجھے
تاکہ تمہاری کہانی کو بدلا جا سکے
تم ملو مجھے کہ
تمہیں ایک پہچان دی جا سکے"
رات ختم ہوگئی اور فجر کی پکار کے ساتھ میرا تصور ٹوٹا میری آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں جیسے کوئی گہرا درد میرے وجود کی سیر کر کے گیا ہے سورج اڑان بھرتا گیا اور روشنی میرے کمرے میں داخل ہوتی گئیں تخیل اپنا سامان باندھ کر الماری میں قید ہوگیا ۔۔ الماری سے میں نے ایک بلیو شرٹ نکالی اور تیار ہو کر آفس پہنچ گیا پورا دن لوگوں کے مسئلے سنے ، کام کیا ، روتے ہوئے لوگوں کو ہنسایا اور آخر میں جیسے جیسے شام بڑھتی گئی میں تنہائی کی اور جانے لگا تنہائی خوشی سے پاگل ہوئی کیونکہ وہ میرے گلے لگ کر سکون چاہتی تھی !
وہ ہی سوال واپس میری روح کو جلانے لگا کہ وہ کردار کون ہے جسے میں پہچان نہیں پا رہا جس کی کہانی مجھے پیدا ہوتے ساتھ ہی سنائی گئی اور آج تک سنتا آرہا ہوں ۔۔ آج واپس اسکو محسوس کرنے کا منصوبہ بنایا !
دھیان لگایا لیکن کچھ کمی محسوس ہوئی واپس دھیان لگایا تو ایک ساتھ گیارہ خیالوں نے جنم لیا سب خیالات سے میں آشنا تھا لیکن آخری کے دو خیال مکمل ��یاہ تھے وہ خیال جن کو میں محسوس کرنا چاہتا تھا ایک وہ خیال جس کے بارے میں لکھ رہا تھا اور دوسرا خیال اس خیال کے پیچھے چھپ کر مجھے چور نظروں سے دیکھ رہا تھا !
میں نے ایک آواز دی کہ سامنے آؤ میں تم دونوں سے ملنا چاہتا ہوں لیکن وہ دونوں ٹس سے مس نہ ہوئے بس آگے موجود خیال نے اتنا جواب دیا کہ دیکھو میں نے تمہارے خیال کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے اب یہ میری طرح سیاہ ہوچکا ہے ۔۔۔ یعنی کہ اس نے میرے ہی ایک خیال کا شکار کر کے اسکو اپنا جیسا بنا دیا تھا ۔۔۔ یہ وہ ہی چیز تھی جس کی تلاش میں میں روز دھیان لگا کر بیٹھ جاتا تھا !
(جاری ہے )
عباس