📢 Announcement | Final List of Candidates
The final list of candidates for the #SSME Board of Directors (Seventh Term) has been approved.
🗓️ Voting Date: Thursday, June 25, 2026
⏰ Open for 24 hours (via electronic voting link sent to eligible members)
Each eligible member may select up to (9) candidates from the approved list.
We wish all candidates the best of luck and encourage all active #SSME members to participate in the voting process.
جب تک جنگ ہے۔ عمران خان کا کوئی فالور اپنی فوج یا کسی بھی پاکستانی پر کوئی مزاق اور ناراضگی پر مبنی بات نہ کرے
اس وقت اکٹھے ہو کر انڈیا سے نمٹ لیں۔ پھر اپنے نظام دین سے لڑیں گے۔ سارا فوکس انڈیا پر۔ پوری قوم فوج شانہ بشانہ۔
عمران خان کو فوری رہا کرو
نکی نے سمجھا ہو گا مولوی لوگ ہیں، ٹوٹی پھوٹی انگلش بولتے ہوں گے، باآسانی گھیرے میں آ سکتے ہیں لیکن مولوی صاحب پورے نکلے
سوال اب یہ ہے کیا ہمارا کوئیُ وزیر یا رینٹ اے ملاُ ایسے دلیل سے جواب دے سکتا ہے یا پھر خواجہ آصف جیسوں والی منافقت ہوتی کہ امریکہ میں بیٹھ کر عمران خان کو زیادہ مزہبی اور خود کوُجدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق جب کہ پاکستان میں عمران خان کوُیہودی ایجنٹ اور خود کو بہترین اسلامی جماعت کہتے
تدعوكم كلية الطب بجامعة جازان بالتعاون مع الجمعية السعودية للتعليم الطبي لحضور
المؤتمر السعودي الدولي للتعليم الطبي ٢٠٢٤
Saudi International Medical Education Conference 2024
🗓️December 3-5, 2024
For Registration https://t.co/qyVeGfSHCc
#جامعة_جازان#SIMEC2024
The #AbbaForChancellor campaign for Imran Khan's candidacy for Chancellor of Oxford University, inspired by his son Kasim's Instagram post, is in full swing.
This video showcases why Khan is the perfect candidate for the role.
#ImranKhanForChancellor
#المقام_السامي يوافق على منح الجنسية السعودية لعميد كلية الهندسة في #جامعة_الفيصل الدكتور محمد تقي الدين عنان، داعين الله له بالتوفيق في خدمة دينه ووطنه في ظل قيادتنا الرشيدة حفظها الله.
ٹھیک 266 سال پہلے 22 جون کی شام بنگال کے محل میں ایک میٹنگ ہوئی تھی ۔
یہ میٹنگ محل مالک کے پرسنل بیڈ روم میں ہوئی تھی اور اس میٹنگ میں تین لوگ موجود تھے ۔
ایک انگریز ، محل کا مالک اور اس کا بیٹا ۔
انگریز فراوانی سے ہندی ، فارسی اور بنگالی بول سکتا تھا لہٰذا اس نے
محل مالک کے سر پر قرآن اور اس کے بیٹے کے سر پر اس کا ایک ہاتھ رکھا اور قسم اٹھوائی کہ وہ وہی کرے گا جو انگریز اسے کہیں گے اور اگر وہ ویسا ہی کرے گا تو انعام میں اسے طاقت اور حکومت دی جائے گی ۔
لیکن میٹنگ کے آخر میں انگریز کے سامنے ایک شرط بھی رکھ دی گئی جو انگریز نے مان لی ...
چونکہ میٹنگ کامیاب ہو گئی تھی اس لیے اگلے دن انگریزوں نے ایک لڑائی کا فیصلہ کیا حالانکہ جیتنے کا کوئی چانس ہی نہیں تھا کیوں کہ انگریز بمشکل 3,100 تھے جبکہ ان کا مقابلہ پچاس ہزار کے ساتھ تھا ۔
اور پچاس ہزار بھی ایسے کہ جن کے پاس اتنی بڑی بڑی توپیں تھیں کہ انہیں سفید رنگ کے ...
بڑے بڑے پچاس بیل کھینچ رہے تھے ۔
ان بیلوں کو بہار میں breed ہی اس مقصد کے لیے کیا گیا تھا کہ وہ لوہے کی توپیں کھینچ سکیں اور ہر توپ کے پیچھے ایک بڑا ہاتھی اسے دھکا دے رہا تھا ۔
اگر آپ نے دیکھا ہو تو لارڈ آف دی رنگز فلم کا ایک سین بھی اس منظر سے انسپائرڈ ہو کر فلمایا گیا ہے
لیکن انگریزوں کو ان بیلوں یا توپوں یا ہاتھیوں کی فکر نہیں تھی کیوں کہ وہ ایک کامیاب میٹنگ کر چکے تھے اور ہوا بھی وہی جس کی انہیں امید تھی ۔
جب لڑائی شروع ہوئی تو پچاس میں سے پینتالیس ہزار فوج خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی اور محض گیارہ گھنٹے کے اندر بنگال کا پورا صوبہ انگریزوں کی ..
جھولی میں جا چکا تھا اور ایسا گیا کہ صرف اگلے سو سال میں انگریزوں نے برصغیر سے لے کر برما تک کے علاقے پر اپنا راج قائم کر لیا تھا ۔
لیکن آپ کو یاد ہے کہ میٹنگ میں انگریز کے سامنے ایک شرط بھی رکھی گئی تھی ۔
وہ شرط تھی کہ جیتنے کے بعد انگریز ایک مخصوص شخص کی بے حرمتی کریں گے ...
اور وعدے کے مطابق انہوں نے ایسا کیا بھی ۔
ایک خاص لاش کو ساری رات جعفر گنج دریا پر پڑا رہنے دیا گیا اور اگلی صبح اسے ہاتھی پر ڈال کر پورے شہر میں گھمایا گیا یہاں تک کہ جان بوجھ کر اس کی ماں آمنہ بیگم کے گھر کے سامنے سے بھی کر گزارا گیا ۔
پلاسی کی اس لڑائی میں مرنے والا وہ شخص تھا ...
بنگال کا نواب سراج الدّولہ
اور انگریز william watts کے سامنے یہ شرط رکھنے والا تھا بنگال کی فوج کا سربراہ ... غدار میر جعفر ۔
انگریز جیت تو گئے ، انہوں نے میر جعفر کو بہت کچھ دیا بھی یہاں تک کہ پورے کا پورا بنگال دے دیا ۔
وہ میٹنگ ایک کامیاب میٹنگ تھی ۔
لیکن ...
یاد رکھیں کہ ہمیشہ کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا !
ایک دن ایسا آیا کہ میر جعفر بھی ذلیل ہو کر مر گیا ۔
ایک دن ایسا آیا کہ انگریز بھی ہندوستان سے واپس چلے گئے ۔
لیکن جس محل میں 22 جون کی شام وہ میٹنگ ہوئی تھی ...
آج 266 سال گزرنے کے بعد بھی اس محل کے کھنڈرات اپنی جگہ کھڑے ہیں ۔
اور وہاں سے گزرنے والا ہر شخص نفرت سے ان کھنڈرات کو دیکھ کر انہیں
’’نمک حرام ڈیوڑھی‘‘
کہہ کر بلاتا ہے ۔
اور کھنڈر ہو چکے اس محل کا نام ابد تک ...
’’غدار محل”
ہی رہے گا ۔
تاریخ شاید خود دوبارہ دہرا رہی ہے لیکن رب العالمین کی شان نرالی ہے آج کے میر جعفروں کا انجام بھی ان جد امجد میر جعفر جیسا ہی ہوگا ان شااللہ
الحمدلله
I am truly humbled to receive The جامعة لعلاج Philanthropic Achievement Award for my contributions in improving medical access and promoting preventative healthcare for underprivileged communities in the Kingdom with the support of @Alfaisaluniv
https://t.co/YJq8LYHtdS
We are immensely thankful for Dr. AlHammad, Dr. AlDahesh, Dr. Ikram, Dr. Ansary, & Dr.AlOtaibi to have hosted The Neurosurgery Cadaver Workshop: Skull Base Anatomy at the Otolaryngology & Neuroscience Anatomy Lab at Alfaisal University with MSA’s support!
We are grateful for the collaborative efforts of Ms. Aljahlan, Ms. Khan, Dr. Faisal Ikram, Dr. Volodymyr Mavrych, & Dr. Naif AlOtaibi at the Masters in Speech Pathology Workshop at the Otolaryngology & Neuroscience Anatomy Lab at Alfaisal University with the support of MSA!!
9 April 2024:
𝐋𝐞𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐰𝐨𝐫𝐥𝐝 𝐤𝐧𝐨𝐰 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝟖𝟓 𝐢𝐧𝐧𝐨𝐜𝐞𝐧𝐭 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐞 𝐒𝐓𝐈𝐋𝐋 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐦𝐢𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐮𝐬𝐭𝐨𝐝𝐲, 𝐤𝐞𝐩𝐭 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐞𝐱𝐭𝐫𝐞𝐦𝐞 𝐢𝐧𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧𝐞 𝐜𝐨𝐧𝐝𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬, 𝐰𝐢𝐭𝐡 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭𝐬 𝐨𝐟 𝐬𝐞𝐯𝐞𝐫𝐞 𝐩𝐡𝐲𝐬𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐚𝐧𝐝 𝐩𝐬𝐲𝐜𝐡𝐨𝐥𝐨𝐠𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐭𝐨𝐫𝐭𝐮𝐫𝐞, 𝐚𝐧𝐝 𝐟𝐨𝐫𝐜𝐞𝐟𝐮𝐥 𝐬𝐢𝐠𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐨𝐟 𝐟𝐚𝐤𝐞 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬.
These 85 innocent Pakistanis have suffered illegal, unconstitutional military trials; in the aftermath of #May9th_FalseFlag operation in 2023, which was used as an excuse by the illegitimate, authoritarian, fascist regime to not only dismantle Imran Khan’s PTI, but also spread fear, chaos & panic amongst the nation.
According to Amnesty International:
“Trying civilians in military courts is contrary to international law.
Article 14 of the International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR), which Pakistan has ratified, guarantees the right to a trial before a ‘competent, independent, and impartial tribunal established by law.
Amnesty International has documented a catalogue of human right violations stemming from trying civilians in military courts in Pakistan, including flagrant disregard for due process, lack of transparency, coerced confessions, and executions after grossly unfair trials. Therefore, any indication that the trial of civilians could be held in military courts is incompatible with Pakistan’s obligations under international human rights law.
This is purely an intimidation tactic, designed to crack down on dissent by exercising fear of an institution that has never been held to account for its overreach.
The right to a fair trial, guaranteed by Pakistan’s constitution, is severely undermined by this move and cannot be justified. It must be struck down immediately.”
#EndMilitaryTrials