@MaleehaHashmey اسی لیے منیب کو منیب انڈر ویر کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو نیچ سے بھی نیچے گرا کر بات کرتا ہے puppet of establishment 🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️��🫵🫵🫵🫵🤮🤮🤮🤮🤮🥾🥾🥾🥾🥾🥾
یعنی منیب فاروق نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کی عمران خان پر بےتکی تنقید جس کا نہ کوئی سر ہوتا ہے، نہ پیر۔ وہ مقتدر حلقوں کے کہنے پر کرتے آئے ہیں۔
باقی رہ گئی بات کہ کون لائق ہے اور کون نالائق، اس کا فیصلہ عوام کر چکی ہے اور اپنے ووٹ کی طاقت سے بتا بھی چکی ہے
پُراسرار خاموشی کے 8 ماہ...
��ربراہ TLP حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس رضوی کہاں ہیں؟ سانحہ مریدکے کے بعد کیا کچھ ہوا؟
سعد رضوی صاحب کے وکیل برہان معظم ملک نے تہلکہ خیز انٹرویو میں حقائق سے پردہ اٹھا دیا
Coming Soon
https://t.co/DENpQOc1Qg
کیا عمران خان رہا ہو جائیں گے ؟
مسئلہ مغرب سے ہے عمران خان کو مشکل مغرب سے درپیش ہے کیونکہ عمران خان نے رسول اللہ ﷺ کے خاکوں پر بہت سخت موقف اپنایا تھا وہ اسلامو فوبیا کی بات کرتا تھا اس نے اسلام کی ترویج کے لیے ایک انٹرنیشنل ٹی وی چینل کی بات کی تھی مغرب کو اصل خطرہ خدا پرستی کی فکر سے ہے مسلمانوں سے اسے کوئی خطرہ نہیں ! ��ولانا شیرانی ۔۔
جو بات اس ملک کے صحافی اس ملک کے چوبیس لاکھ علما کرام کو کرنی چاہیے تھے ۔ وہ بات اک ٹی وی اداکارہ نے کر دی ہے ۔ جنکا ہر لفظ سونے کی سیاہی سے لکھنے کے مترادف ہے ۔
حنا خواجہ نے کہا ہے کہ اجکل میں جب بھی نماز پڑھنے کھڑی ہوتی میرے دل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ دل رو پڑتا ہے کیونکہ میں دیکھتی ہو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وہ پاک ملک جو مسلمانو کی خاطر بنا تھا ۔
وہاں مسلمانو کے ساتھ کیا ہورہا ہے ہمارے سیاست دان ہمارے حکمران جو بات بات پر اسلام کا تذکرہ کرتے ہیں ۔اپ تو ہمارے سر براہ ہیں اپ نے تو ہمارے سروں پر ہاتھ رکھنا تھا اپ ہماری چادریں کیوں اتار رہے ہیں ۔۔
اج جب میں دیکھتی ہوں سوشل میڈیا پر ہر جگہ خواتین کے ساتھ پکڑ دھکڑ ہورہی ہے کبھی یونیفارم میں تو کبھی بغیر یونیفارم میں مرد حضرات انہیں گاڑیوں میں دھکیل رہے ہوتے ہیں ۔
کبھی انہیں اغوا کیا جاتا تو کبھی وہ کاروکاری ہورہی ہیں تو کبھی خود ۔ کشی کر رہی ہوتی ہیں کبھی وہ ہراساں ہو رہی ہیں مرد اپنے گھر نہی چلا پارہے ۔
ٹ��کس پہ ٹیکس لگ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سانس لیں گے تو اس پر بھی ٹیکس لگے گا ۔ اگر درخت ہو گا تو اس پر بھی ٹیکس لگے گا کیونکہ وہاں سے اکسجن نکلتی ہے ۔
اپ کیوں بھول گے ہیں ہمیں حکم ملا ہے حالت جنگ میں بھی عورتوں بچوں اور بزرگوں کو نقصان نہی پہچانا ۔ یہ کیسا نظام ہے جیلوں میں لوگ بھرے ہوے ہیں جرم ثابت نہی ہوتا ۔ مگر سزائیں چل رہی ہیں ۔
یہ ظلم کا نظام ہے یہ کفر کا نظام ہے دین اسلام کا نہی ہے ۔ یہ اللہ کا نظام نہی ہے خدارا سمجھ جائیں سنبھل جائیں ۔
ابھی بھی وقت ہے بچا لیں اپنے ملک کو بچا لیں اپنے بچوں پر رحم کریں رحم کا صلہ رحم ہوتا ہے اللہ اپ پر بھی رحم فرمائیں گے غلطیوں کو تسلیم کریں ۔
عالمی طاقتوں سے نہُ ڈریں اس طاقت سے ڈریں جو سب مٹاتا ہے سب بناتا ہے ۔ اس دنیا سے خالی ہاتھ جائیں گے ساتھ جاے گا تو صرف اعمال نامہ ۔
پاکستان کی مشہور اداکارہ حنا خواجہ نے یہ بات کر کے ثابت کر دیا کہ چاہے اپ کس فیلڈ سے تعلق رک��تے ہوں جب اپکے سامنے ظلم ہو رہا ہو تو اواز حق بلند کرنا فرض بن جاتا ہے ۔ سلام ہے حنا خواجہ صاحبہ کو جنہوں نے پچیس کڑور گونگے بہروں کی ترجمانی کی ہے ۔
سہیل وڑائچ کو ٹاسک دیا گیا ہے وہ معیشت نہ چلنے اور سیاست نہ کرنے کو بنیاد بنا کرحکومت کے جانے کی بات کر رہے ہیں
معیشت نہیں چل رہی تو کیا حکومت معیشت چلا رہی ہے ؟
سیاست وہ کیسے کریں انہیں سیاسی طریقے سے لایا ہی نہیں گیا یہ سب اسٹبلشمنٹ کی نا��امیاں چھپانے کا طریقہ ہے
مطیع اللہ جان
یہ کُتی ماں کے بچے قوم کے ٹیکس کے پیسوں پہ پلنے والے نہتے، لاچار اور مجبور شخص کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔ لیکن جب سامنا برابر کی طاقت سے ہوتا ہے تو اگلے ٹانگوں کے بیچ مزید چھید کر کے اور اُلٹا لٹکا کے حساب برابر کرتے ہیں۔ یہ وردیوں والے خنزیر حرام موت مرنے کے لائق ہیں اور حرام موت ہی مرتے ہیں، شہادت کے عظیم منصب کو ان خنزیروں سے وابسطہ کر کے توہین کی جاتی ہے۔
اب پنجاب حکومت ایسا بل لا رہی ہے جس سے آپکے بینک اکاؤنٹس بند کر دئیے جائیں گے،اسکے ساتھ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ختم کیا جائے گا اور ساتھ ہی موبائل بھی چھین لیا جائے گا۔
یہ سب کچھ فارم 47 کی ایک انٹیلیجنس ایجینسی کے کہنے پر ہو گا۔
جب بوٹ پالش کر کے کوئی حکومت بنائی جاتی ہے تو وہ عوام پر ایسا ہی ظلم کرتے ہیں۔
جعلی حکومت کے ساتھ اصل قصور وار انکو لانے والے بھی ہیں۔
عمران خان کی حکومت کے 7 ماہ بعد ہی جنرل باجوہ نے حکومت گرانے کی واردات شروع کردی تھی۔
اب تو گواہی ایم ایف نے دی کہ خود انہیں کہا جاتا تھا کہ خان کے خلاف پروپگنڈا کرو۔۔
منیب فاروق ایک بے شرم ڈاکیا ہے، جو ضمیر بیچ کر ٹاؤٹ گیری کرتا ہے۔ عوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہی سب کچھ ہے اور عوامی نمائندے کچھ نہیں۔ ایسے دو ٹکے کے، بے اعتبار لوگوں کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں!مطیع اللہ جان۔