اپنے پیاروں کے جنازے دفنا کر واپس گھروں کو نہیں گئے، انہوں نے"عسکری جرگہ" میں بیٹھ کر اپنے پیاروں کی لاشوں کی قیمت وصول نہیں کی
سوشل میڈیا پر #گولی_کیوں_چلائی کا ماتم نہیں کیا
یہ کشمیری ہیں، پہاڑوں کی مانند ہیں یہ اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے
تم ایسے کیوں نہ بن سکے پاکستانیو؟
رپورٹر: علیمہ خان صاحبہ بتائیے گا، سات سے اوپر کا ٹائم ہو چکا ہے، اب کیا پلان ہے؟
علیمہ خان: پی ٹی آئی کا وقت چار سے سات بجے تک کا تھا تو میری بہنیں کہہ رہی ہیں پی ٹی آئی جا سکتی ہے۔
ہماری ڈیل PTI کے لیے تھی اپنے لیے نہیں تھی 🔥
برقعے میں لپٹی چہرے پر نقاب لیے ایک مسلمان عورت فرانس کی ایک سپر مارکیٹ میں خریداری کر رہی تھی، ٹرالی میں مطلوبہ سامان ڈالنے کے بعد وہ کیش کاونٹر کی طرف ادائیگی کیلئے بڑهی.
ایک چست لباس پہنے ہوئے سیلز گرل جو اپنےنقش ونگار سے عرب لگ رہی تھی.
اس نے حجاب میں لپٹی اس عورت کو ایک حقارت کی نظر سے دیکھا اور بڑبڑاتے ہوئے اس کا حساب بنانے لگی. حجاب عورت خاموش کهڑی تهی، لیکن اس کی خاموشی سیلز گرل کیلئے مزید جنجھلاہٹ کا باعث بنی.
بولی. پہلے کیا کم مسائل ہیں فرانس میں ہم مسلمانوں کیلئے، روز ایک نئی مصیبت کهڑی ہوتی ہے، تمہارا یہ نقاب ہی تو ان مسائل کی جڑ ہے.
ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم یہاں تجارت یا سیاحت کیلئے آتے ہیں، دین کی اشاعت اور اسلاف کی تاریخ بیان کرنے نہیں.
اگر تم اتنی ہی دیندار ہو تو واپس جاو اپنے وطن اور جیسے چاہو رہو. ہماری جان چهوڑو.
پردہ دار خاتون نے اپنا پرس کاونٹر پر رکھا اور اپنے چہرے سے نقاب ہٹادیا. نیلی آنکھیں، سنہرےبال.
.یورپی نقوش.
کہنے لگی، میں خاندانی فرانسیسی ہوں، یہ فرانس تمہارا نہیں، میرا وطن ہے، پر میرا دین اسلام ہے. بات اور کچھ نہیں ہے، بات صرف یہ ہے کہ تم نے اپنے دین کو بیچ دیا ہے..اور میں نے اسے خرید لیا ہے_
جناب اعلی ایران نے اپنی تباہی بربادی کے بعد اپنی کامیابی کی خبر سنا کر ثابت کیا ہے کہ آپ لڑے بغیر امریکہ کے سامنے لیٹ کر بھی تباہ برباد ہو چکے ہیں ۔نہ آپ کی خوش آمد کام ائی،نہ دوست ملکوں کی سفارت کاری کام آئی ،نہ آپ کی پیش کش کامیاب ہوئی ۔آپ خود دیکھ سکتے ہیں ایران کو جکانے کے لیے کیا کچھ دنیا نے نہیں کیا؟
پاکستان ایران کی حکومت فوج میں فرق ۔
امریکہ نے ایران میں سائفر سے رجیم چینج کی کوشش کی لیکن اس وقت کی فوجی قیادت نے شہادت کا رتبہ لے لیا ،لیکن سائفر پر عمل نہیں کیا، امریکہ نے دوست ممالک کی انفارمیشن غداریوں کی بنیاد پر جرنل سرفراز کی طرح سب کو باری باری بمباری میں شہید کردیا ، لیکن امریکہ سائفرپر عمل کرانے میں ناکام ہوا ۔
امریکہ نے ایران میں پرائیوٹ این جی اوز ،دوست ممالک کی ایجنسیوں کی انفارمیشن کی بنیاد پر عوامی خانہ جنگی بغاوت کرنے کی کوشش کی لیکن امریکہ اس میں بھی ناکام ہوا ۔
امریکہ نے اردگرد ممالک اسرائیل ،امارت ،اردن ،مصر ،پاکستان سے حملے ،سعودیہ سے دھمکیاں لگوائی لیکن اس سےبھی ناکام ہوا ۔
آخری حل امریکہ نے اسرائیل کو اتحادی بنا کر جنگ چھڑی ،جس میں ایشیا کے تمام امریکہ کےاتحادی پردے پیچھے اپنی اپنی ناجائز حرکتیں اپنی زمہ داریاں انجام دیتے رہے ،ہر ممالک نےاپنی قوم معشیت سے بڑھ کر امریکہ کا ساتھ دیا لیکن امریکہ جنگ ہار گیا ناکام ہوا ۔
امریکہ نے پاکستان میں ایک سائفر بھیجا ،مسٹر خان ،نے قوم کو بتایا اور کہا کیا قوم اور ادارہ لڑنے کو تیار ہے قوم نے کہا تیار ہے جب پیچھے موڑ کر دیکھا پورا ادارہ امریکہ کے سامنے لیٹ چکا تھا ؟ صرف ایک ادارہ جس پر قوم کو سب سے زیادہ اعتماد تھا ۔
پھر آپ کہتے ہیں ہم اللہ کی فوج ہیں کیسے ؟ہمُ تو امریکہ کی فوج ہیں جو اس خطے میں اس کے فرائض انجام دے رہی ہے۔
آج یہ حال ہے امریکہ کے آگے لیٹ کر بھی پورا ملک تباہ وبرباد ہو چکا ہے ۔اور ایران تباہ وبرباد ہو کربھی جیت کر دنیا کے آگے کھڑا ہے۔
جناب اعلی اگر مسٹر خان قوم اور ادارے کو لڑنے کا کہ رہا تھا تو آئینی ،قانونی ،اخلاقی ،مہذبی ،معاشرتی سب کی زمہ داری تھی کہ ایک عوامی لیڈر وزیراعظم کی آواز پر لبیک کہتے ؟لیکن جناب اعلی ادارہ اس زمہ داری سے بھاگ گیا ،ادارہ نے وہ کام کیے جو ایک سیاسی پارٹی کے ٹھگوں کے کام ہوتے ہیں ۔
جناب اعلی قوم کی نفرت کا پیدا ہونا زمہ داری کی بجائے غیر قانونی ،غیر اخلاقی ،غیر آئینی سرگرمیوں کی وجہ سے ہے ۔کیا ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم کسی بھی زمانے میں اللہ فوج تھے ہی نہیں ،کیونکہ 1971 کے معاہدے کے تحت سو سالہ امریکہ کے پاس اپنے ادارے کو گروی رکھوانا آج پوری قوم پوری ملک کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔اس کی کیا گارنٹی ہے ترکی کے سو سالہ معاہدہ کے بعد آج بھی ترکی وہ کچھ نہیں کرسکا جو اس کو کرنا چاہیے تھے اسی طرح 2071 تک کیا ہمارا ملک ہمارے ادارے اسی طرح تباہ برباد تھوڑی سی آکسیجن تھوڑی سے ترقی کے ساتھ پھر ریورس گیئر لگاتے رہیں گے ؟
باہر کی طاقتوں نے جب جب ترکی اور دوسرے اسلامی ممالک سے خفیہ معاہدے کیے ہیں وہ دورانیہ پورا ہونے کے باجود ان کو اٹھنے نہیں دے رہے ،آپ کب تک کرسی پر قاقبض رہ سکتے ہیں یہ آپ بھی جانتے ہیں اور خفیہ والے بھی جانتے ہیں کہ ہر کوئی اس کھیل کے حصہ بن کر ریٹائر ہو جاتا ہے ،کب تک ملک پیچھے رہے گا کب تک عوام اورسیاسی پارٹیوں سے بہت کچھ چھپانا ہے ،ہمارے سینئر یہ سمجھتے ہیں وہ جو کر گے کیا وہ اچھا کرگے ہیں ؟
کیوں ہمارے ہر چیف اور آئی ایس آئی کے چیف کی سیلکشن کے لیے امریکہ جانا پڑتا ہے کیوں ریٹائرمنٹ کےبعد اگلے چیف کو پرانا چیف امریکہ کے کر جاتا ہے ،کون سی قسمیں وعدے معائدہ دیکھائے جاتے ہیں کون سے ایسے راز ہیں جو اب بھی چھپا کر صرف چند کو پتہ ہوتے ہیں وہی پوری قوم ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ہم آج بھی یہ کہتے ہیں میسن دنیا سے گی نہیں ہے نہ میسن کبھی ختم ہو گی میسن آج بھی یو این او ،اور اس کے ماتحت اداروں کی شکل اختیار کرچکی ہے ،جس کے اندر مجھے بھی بھیجا گیا ۔کب تک ہم ایسے ہی مر کر سب کو ساتھ لے جائیں گے ۔
جناب اعلی آج یا کل
ایران کی طرح لڑ کر قوم کو ساتھ ملا کر ہی ہم دنیا میں اصل مقام اور اس سائیکل سے نکل سکتے ہیں ،ورنہ یہ سسٹم خانہ جنگی ،بربادی تباہی دیتا رہے گا اوردنیا صرف اپنے مفادات دیکھے گی ،اس کے لیے ایک لیڈر مسٹر خان کی رہائی اور ایک پیج پر سب کا ہونا ادارے کا ساتھ ہونا لازمی ہے ۔ایسا کر کے تو دیکھیں جیت کی گارنٹی اللہ دے گا ،لیکن سوال پھر وہی ہے کون رکھتا ہے ایسی حمت کیونکہ ہر کوئی جرنل سرفراز نہیں ہو سکتا ۔ 🥷🏽🪐🥷🏽🪐۶۳۸۳۶/۷۲۸🥷🏽🪐🥷🏽🪐۹۸۲:۷۲🥷🏽🪐🥷🏽🥷🏽🛑🛑🥷🏽✍️۷۲۸۰)۹۲۹(/۵🪐🥷🏽🪐🛑🛑🥷🏽🪐@OfficialDGISPR@ImranKhanPTI
ایران امریکہ معاہدے پر چمچوں سے واہ واہ کروانے کی بجائے اس سارے معاملے میں ایران سے یہ سیکھ لیتے کہ سائفر پر کیسے react کرنا چاہیئے تھا تو پورا پاکستان سکھ کا سانس لیتا
سانحہ ساہیوال آئی ایس آئی کا انٹیلی جنس فیلئیر تھا۔ عاصم منیر اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھا۔ تب بھی آئی ایس آئی کی پالیسی یہی دیکھے بغیر بھون دو تھی۔ سی سی ڈی بھی اسی ذہنیت اور شہباز شریف کے پولیس مقابلوں والی سوچ کا تسلسل ہے۔ نیفے میں پستول چلنے کی خوشیاں منانے والے بھی چکوال میں معصوم بچی کے شہادت میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ کسی کا جرم کتنا ہی گھناونا کیوں نہ ہو ، بغیر ٹرائل کے سزا دینا اس سے بڑا جرم ہے اور معاشرے میں تباہی کا سبب ہے۔
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
کیا فوج واپس برطانوی ماتحتی میں جائے گی ؟ لیکن برطانیہ تو خود معاشی مشکلات کا شکار ہے اور برطانیہ اسرائیل امارات انڈیا کے مقامی اتحاد کی بھی ایران ہرمز پہ قبضہ سے توڑ چکا ہے ؟ چالاک شریف خاندان اسی کو بھانپتے اپنا سرمایہ دور دراز ممالک میں منتقل کر چکا تھا لیکن جرنیل کیا کرینگے ؟ یہ وہی بدلتے ہوئے عالمی حقائق ہیں جو جرنیلی فاشزم کے لیے انکے پرانے ٹیکسٹ بک فارمولے ناکام بنا دینگے۔
جرنیلی فاشزم کے لئے صورت حال کی مزید خطرناکی یہ ہے کہ عمران حکومت کا تختہ الٹتے وقت وہ اپنے عوام دوست ، اینٹی کرپشن بیانیہ کو ننگا ہوکر اس کے ترک کر گئی کہ اسے امید تھی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے عوض اسے اتنی بھرپور غیر ملکی امداد ملے گی کہ وہ ان سب مسائل کے قابو پاکر زبردستی عوام پہ حکومت بھی کرتے رہیں گے اور خود کو سیانا اور سمجھدار بھی ثابت کر سکیں گے کہ خطرناک حالات میں بھی ملک تو عراق شام یا لیبیا نہیں بننے دیا۔ لیکن وہ سب پروگرام ایران نے ناکام کردیا سعودیہ بھی بدل چکا ہے۔
جنرل عاصم منیر کے پاس دوسرا راستہ افغانستان سے جنگ کا تھا لیکن وہ روس افغانستان سے دفاعی معاہدہ کرکے ناکام بنا چکا ہے۔ ان حالات میں جنرل عاصم منیر کے پاس کم سے کم برطانیہ کو ہی خوش رکھنے کا راستہ یہ تھا کہ کشمیر کی کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنا دے اور آزاد کشمیر کو پاکستان میں ضم کردے جس طرح مودی انڈیا مین کر رہاہے۔ لیکن اسکا یہ منصوبہ خود آزاد کشمیری ہی ناکام بنا رہے ہیں۔ کشمیری فوج کی گولیاں کھا کے بھی پاکستان کے ساتھ ہی ڈٹے ہوئے ہیں وہاں کوئی مکتی باہنی جیسی تنظیم بھی برآمد نہ ہوئی۔
یہ سب فوجی جرنیلون کی مکمل سیاسی شکست ہے وہ پاکستان کے آئیڈیل سے دستبردار ہوکر اپنی ہی قوم سے جنگ میں ملوث ہوئے لیکن غیر ملکی امداد بھی نہ پہنچی جس کی توقع پہ قوم اور وطن سے غداری کی۔ برطانیہ ، انڈیا، اسرائیل اور امارات کے مقامی اتحاد میں امارات تو جنگ ہار چکا ہے وہ ایران کے پاؤں پڑ رہا ہے لیکن یہ دھوکہ ہے۔ وہ اندرونی اتحاد قائم ہے اور رہے گا اگرچہ بہت بڑا دھچکا لگا ہے ادھر ایران اسرائیل کو لبنان کا قبضہ نہین لینے دے رہا۔
اب ہو گا کیا ؟
لازمی طور پہ انڈیا اسرائیل برطانیہ اماراتی اتحاد اب پاکستان کی دفاعی قوت کو نشانہ بنائے گا کیونکہ ترکیہ اور سعودیہ اس کے بس سے باہر ہیں اور ایران بھی۔ یہ وہ پس منظر ہے جس میں یہ سب ہو رہا ہے۔ فوج کے تعین کردہ وزیرخزانہ نے بجٹ کیوں نہ بنایا اور اسحاق ڈار کو دعوت کیوں دی گئی ؟ اس کا جواب صرف جنرل ماچھی اور ن لیگ کے پاس ہی ہے۔ لیکن اسحاق ڈار کی یہ ہمت کیسے ہوئی کہ وہ فوج کے بجٹ میں ایک ہزار ارب روپیہ کم کرے ؟
ماچھیت یعنی جرنیلی فاشزم کو ایک بالکل نیا اندرونی بحران درپیش ہے جس میں کوئی بھی پرانا ٹیکسٹ بک فارمولا کام نہ کرے گا۔
عمیر فاروق
معیشت کی ماں بہن ایک کر کے جیب کتروں کی ٹوٹل آمدنی قرض سے ہے یا ٹیکس بڑھا بڑھا کر
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل پر آ گئی مگر لیوی کی طرح پاکستانیوں کی قسمت پر چسپاں کیا جانے والا ٹولہ بیغیرتی سے لیوی مسلسل بڑھا کر بیشرمی سے معیشت بہتری کے شبانہ روز دعوے بھی کر رہا ہے
ویسے بھی جو معیشت سالی ایک سال میں ٹھیک ہونا تھی اس کا بھی کچھ پتہ نہیں ۔ اور اب تو اگلا دعوی یا وعدہ بھی کوئی نہیں آتا۔
جب ایک کام آپ لوگوں کے بس کا ہی نہیں تو دفع ہو جاؤ ۔جو اکٹھا کیا ہے انجوائے کرو اور ہمیں بھی ایک سانس آنے دو
پاکستان کے حوالے سے یہی واحد خبر ہے جو اہمیت رکھتی ہے
تقریباً تین سال سے سابق وزیر اعظم عمران خان ڈیتھ سیل میں قید ہیں، اور رپورٹس کے مطابق موجودہ وحشیانہ فوجی ڈکٹیٹرشپ کے ہاتھوں تشدد کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے۔ پچھلے چھ ماہ سے وہ مکمل تنہائی میں نفسیاتی تشدد کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں خاندان سے کوئی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔
یہ وہی سلوک ہے جو دہشت گردوں کے ساتھ جیلوں میں کیا جاتا ہے، جبکہ عمران خان ایک سابق وزیر اعظم، ایک کرکٹ ہیرو، اور ملک کے غریب ترین لوگوں کے لیے کینسر ہسپتال بنانے والے ہیرو ہیں۔ ان کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔
اس وقت ان کی زندگی کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور وہ ایک غیر قانونی فوجی رجیم کی طرف سے مسنگ پرسن بن چکے ہیں۔
یہ غیر مقبول فوجی رجیم صرف غیر ملکی حمایت اور مغربی لبرل جمہوریتوں، عرب بادشاہتوں اور امریکہ کی سپورٹ سے اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔ یہ لوگ پاکستان میں ایک فوجی آمر کو ایک مستحکم اور خودمختار جمہوریت سے زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔
آمریت کی بھاری قیمت ملک کے 25 کروڑ لوگوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
عمران خان کو آزاد کرو!
(پروفیسر حسین ندیم)
لاہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
جن شہباز گل ، مرزا شہزاد اکبر پر بدترین جسمانی تشدد ہوا ، تیزاب پھینکا گیا ، اہلخانہ اٹھائے گئے ان پر الزام تراشیاں وہ کررہا ہے جو گنڈاپور حکومت میں بھی تھا سہیل آفریدی کی حکومت میں بھی ہے۔ جو وفاق سے غیر ضروری تعاون کا بھی حامی ہے۔ جو بجٹ سرپلس کا بھی حامی ہے۔ جو عسکری منرلز بل کا بھی داعی تھا۔ جسے عمران خان حکومت میں ٹویٹس کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔
مزمل اسلم جیسے لوگ تحریک حقیقی آزادی پر بوجھ ہیں۔ شہباز گل اور مرزا شہزاد اکبر اس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ شکر خور عسکری اثاثے قربانیاں دینے والے اور مشکلات جھیلنے والے لوگوں کو اوورسیز ، ڈالر خور اور اس طرح کے الزامات لگا کر اپنا آپ چھپانا چاہتے ہیں۔مزمل اسلم اب بیرسٹر سیف جیسے انجام کے لیے تیار رہے۔
اتنا سناٹا کیوں ہے
عمران خان کہاں ہیں: سب خاموش
گلگت بلتستان الیکشن ؟ : سب خاموش
بجٹ ڈرامہ : سب خاموش
سی سی ڈی کا فیملی پر حملہ: سب خاموش
ہم قبرستان میں ہیں کیا ؟
سالانہ 822 ارب روپے فوج کی پنشن میں جارہے ہیں۔ فوج کے باقی دفاعی اخراجات ، موجودہ تنخواہیں اور عیاشیاں اپنی جگہ۔ 822 ارب روپے سالانہ ازخود خطیر رقم ہے۔ اسکے بدلے پاک فوج نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟
چار مارشل لاء لگائے ہیں
ملک توڑ دیا ہے
کشمیر آزاد نہیں کروا سکے
امریکی سائفر کے آگے لیٹ گئے
ملکی معیشت تباہ کردی
کبھی لاپتہ کرتے ہیں کبھی لاشیں مسخ
ڈیڑھ لاکھ لوگ بم دھماکوں میں مر گئے
بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک زوروں پر ہے
پختونخواہ میں دہشتگردی عروج پر ہے
پورا کشمیر احتجاج کررہا ہے
اہم ترین 🚨
اوورسیز پاکستانیوں نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ Where is Imran Khan اس ویڈیو کو ہر طرف پھیلا دیں
#EndKhansIsolationNow
جناب @SohailAfridiISF@salmanAraja@BarristerGohar@MKAchakzaiPKMAP@AllamaRajaNasir@JunaidAkbarMNA اور ممبران پولیٹیکل کمیٹی اور ممبران اسمبلی و سینٹ علیمہ خان نے آپ کو صورتحال سے آگاہ کردیا ہے
جون کا مہینہ یعنی کے بجٹ کا یہ موقع کسی صورت ضائع نا کرنا، اپنے مطالبات پر ڈٹ جانا اور مطالبات منوائے بغیر سرنگوں نا کرنا
اگر کہیں ایسی صورتحال بن جائے کہ آپ کے پاس دو آپشن ہوں " عمران خان بچا لو یا کے پی حکومت بچا لو "
تو حکومت کو ایک سیکنڈ سے قبل قربان کر دینا اور لیڈر اور نظریہ بچانا
علیمہ خان کی اپیل 🚨
میں عوام سے کہتی ہوں کہ اگر عمران خان کی زندگی کو بچانا ہے تو گھروں سے باہر نکل آئیں
اگر سپریم کورٹ انصاف نہیں دیتا تو پارٹی سے اور پورے پاکستان سے کہتے ہیں احتجاج کے لئے باہر نکل آئیں
سہیل آفریدی وہ بادام ہے جو فوج نے کچہ ہی توڑ لیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بتایا گیا ہے کہ وفاق سے مکمل تعاون کی صورت میں تحریک انصاف کو “ سپیس “ ملے گی۔ محسن نقوی سے ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں یہی طے پایا ہے۔ سہیل آفریدی کو سبز باغ یہ دکھایا گیا ہے کہ عمران خان “ سپیس “ جیسی نعمت ملنے پر خوشی سے پاگل ہوجائیں گے اور سہیل آفریدی کو اس عظیم کارنامے پر اپنا جانشین نامزد کردیں گے۔ فوج بھی مکمل تعاون کے بدلے عمران خان کو سہیل آفریدی کی سفارش کردے گی۔
اس سلسلے میں محمود اچکزئی , بیرسٹر گوہر وغیرہ بھی ضمانتیں دینے اور سہیل آفریدی کو یقین دہانیاں کروانے میں شامل ہیں۔ صدیق جان بھائی اور ان کا اسلام آبادی صحافتی ٹولہ و آئی ایس پی آر اپنے اثاثوں کی مدد سے اور اندر کی خبر والے نیٹ ورک کے ذریعے عمران خان کی رہائی ، سابق آرمی چیف سے ملاقات ، عمران خان قومی حکومت پر رضا مند اور وغیرہ وغیرہ والی خبریں تواتر سے چلا رہا ہے ، تاکہ سہیل آفریدی کو اور یوتھیوں کو یہ تاثر ملتا رہے کہ واقعی کچھ نا کچھ ہورہا ہے۔
تیسرا فیکٹر یہ ہے کہ سہیل آفریدی کو “ ناراض اراکین “ والی جھلکیاں بھی دکھائی جارہی ہیں ، نومئی اور دیگر کیسز پہلے سے موجود ہیں اور دس بیس سال کی قید ، وزارت اعلی کا چھن جانا وہ خوف ہے جو ساتھ ساتھ دکھایا جارہا ہے۔ وزارت اعلی جاتی دیکھ کر علی امین گنڈاپور علیمہ خانم کو ایم آئی کی ایجنٹ کہنے پر اتر آیا تھا سہیل آفریدی بھی اسی ہی کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے۔
فوج کسی نا کسی بہانے سے وقت لیتی جاتی ہے اور اس امید میں ہے کہ کوئی معجزہ ہوگا اور ملکی معاشی و سیاسی حالات بدل جائیں گے۔ اگر چار دن اچھے لگ جائیں جیسے بھارت سے جھڑپوں اور ٹرمپ کی پوسٹس کے دوران ہوا تو اوقات سے باہر ہوجاتے ہیں ، کوئی مشکل آپڑے ، تیل مہنگا ہوجائے ، نئے ٹیکس لگانے ہوں اور احتجاج شروع ہوجائیں جیسا کہ آجکل ہورہا ہے تو ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
فوج کی موجودہ پالیسیز کے ہوتے ہوئے ملکی حالات بہتر ہونے والے نہیں۔ عمران خان کی رہائی موجودہ نظام اور اسکے بینفشریز کی موت ہے۔ کچھ وقت بعد جب سہیل آفریدی پر سوشل میڈیا اور عوام کا دباؤ زیادہ آئے گا اور فوج حسب سابق ، حسب توقع “ سپیس “ نہیں دے گی تو پھر سہیل آفریدی کو اندازہ ہوگا کہ انکے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی کا ڈنگ مکمل نکل چکا ہے۔ عوامی پذیرائی ختم ہوچکی ہے ۔ فوج سہیل آفریدی کو یوتھیوں کے آگے پھینک دے گی ، ویسے ہی جیسے گنڈاپور کو استعمال کرکے پھینک دیا تھا۔ یوتھیے ا س کچے بادام کو چکھے بغیر پھینک دیں گے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔