گوجرخان کی نادیہ ۔ شیراز آفتاب خودکشی یا قتل
سود ۔ سے جنم لینے والی دل دہلانے والی داستان
اور
اسکا انتہائی کرب ناک اختتام
ضرب ِ ضمیر ✍️ چوہدری افراسیاب کہوٹ
صدر ۔ عوامی پریس کلب چکوال
چند روز قبل اچانک سوشل میڈیا پہ ایک خاتون کی ویڈیو وائرل ہونا شروع ہوتی ہے
مرحومہ نادیہ ۔ رو رو کے مبینہ طور پہ خودکشی سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں گوجرخان کے چند لوگوں(عدیل جیولرز ، موسی جیولرز ) جواد نامی کسی بینک کے اہلکاراور دولتالہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون شبانہ کا نام لیتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ ان سب نے مل کر کس طرح مرحومہ کو ایسے جال میں پھنسایا کہ جس سے نکلنے کا واحد ذریعہ اسکی موت کی صورت ہی تھا
کس طرح اس نے آن لائن ایک ایپلیکیشن سے قرض لیا اور پھر بڑھتے سود کے ہاتھوں وہ پریشان رہی
سود اتارنے کے لئے اس نے گوجرخان کے زرگر سے قرض لیا
اس بینک کو قرض لے کر پہلا قرض واپس کیا
اور
پھر کس طرح دوسرے قرض نے اسکو اس قدر جکڑ لیا کہ نہ صرف وہ سود در سود کے چلتے پیسے واپس کرتی گئی بلکہ ظلم کی حد یہ کہ اسکو مختلف جگہوں پہ بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا
جب یہ سارے معاملات مرحومہ کے بس سے باہر ہوئے تو اس نے مذکورہ بالا بیان جاری کیا اور خود کشی کر لی
خاتون کی خودکشی کے بعد ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پہ مقامی پولیس کا رویہ اس کے شوہر شیراز آفتاب کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رہا
اور
جیسے اکثر اوقات بازاری زبان سے مخاطب کیا جاتا ہے ایسے ہی مرحومہ کے شوہر کے ساتھ کیا گیا
حتیٰ کہ اسکو دلال ہونے کے طعنے بھی دئیے گئے
کہ
اسوقت بیوی کے ساتھ مل کر کھاتے رہے ہو اور اب بیوی کی لاش پہ بھی کاروبار کرو گے
یقیناً یہ الفاظ اور اس طرح کے الزامات ہمارے “باغیرت” معاشرے میں ہضم کرنا ناممکنات میں سے ہوتا ہے
واقعہ وائرل ہوتا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اسکا نوٹس لیا
ایک ASP صاحب کو انکوائری کے لئے مقرر کیا جاتا ہے
وہاں پہ الزامات کے مطابق ملزمان کو کرسی پہ بٹھایا جاتا ہے اور مدعی مقدمہ یعنی شیراز آفتاب کو کھڑا رکھا جاتا ہے
ملزمان کافی اثرورسوخ والے بتائے جاتے ہیں اور پیسہ ویسے بھی ہماری پولیس کو موم کرنے اور حق سے انحراف کرنے میں ہمیشہ سے اہم کردار ادا کرتا آیا ہے
(ملزمان ۔ جن پہ سود دے کر سود در سود پیسے بٹورنے اور مرحومہ سے جسمانی زیادتی کا الزام ہے )
شیراز آفتاب کی بیٹی کو بھی شامل تفتیش کیا جاتا ہے اور اس سے بھی ایسے سوالات کئے جاتے کہ جن کو ایک باپ کا برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوا کرتا ہے
یہ الزامات بعد میں وائرل ہونے والی کی اس ویڈیو میں لگائے جاتے ہیں جو شیراز آفتاب مبینہ طور پہ اپنی خود کشی سے پہلے بنا رہا ہوتا ہے
جی ہاں ۔ اپنی بیگم نادیہ کی خودکشی کے بعد اسکا شوہر شیراز آفتاب بھی خود کشی کر لیتا ہے
جب یہ خبر وائرل ہوئی ، اس ویڈیو کے سامنے آنے اور ویڈیو میں کی گئی شیراز آفتاب کی گفتگوسے جہاں انتہائی کرب کی کیفیت کا شکار ہوا
وہیں ۔ اس نظام ، اس نظام کے چلانے والوں پہ “تھو” کے جذبات بھی ابھر کر سامنے آئے
سود کے بارے میں شریعت کے اخکامات سے کون ناواقف ہے ؟
کیا سب کو نہیں معلوم کہ سودی نظام کو بالواسطہ اللہ کریم سے جنگ سے تشبیعہ دی گئی ہے
رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود لکھنے والے اور سود کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے، اور کہا ہے کہ وہ سب برابر ہیں
کتنے لوگ ہیں جو آئے روز ان استحصالی کمپنیوں کا شکار ہو کر اپنی جان دے رہے ہیں؟
پیچھے رہنے والوں کے لئے جیتے ہوئے بھی مرنے کا مقام ہوا کرتا ہے
آپ تخیل میں لائیں ناں ۔ اس بچی پہ کیا گزر رہی ہوگی؟
کہ جس کی آنکھوں کے سامنے تین دن میں ماں اور باپ دونوں گئے۔۔
اور
کس قدر بے بسی اور کرب کی حالت میں خود کشی پہ مجبور ہوئے؟
کیا روزِ قیامت اس بچی کا ہاتھ اس نظام کے ، اس نظام کے چلانے والوں کے ، اس استحصالی نظام کا حصہ بننے والوں کے اور ہم سب کے جو اس پہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں
کیا ہم سب کے گریبان اس بچی کے ہاتھوں میں نہ ہوں گے؟
اور
کیوں نہیں ہوں گے ۔ ہم سب مجرم تو بحرحال کسی نہ کسی طور ہیں
ہر ایسے واقعہ پہ ہم خاموش رہیں گے تو کون اس نظام کے خلاف بولے گا؟
نادیہ و شیراز آفتاب کے قاتل دراصل ہیں کون؟؟
❇️وہ ریاست ۔ جسکا سارا نظام ہی اس سودی کاروبار پہ چل رہا؟
❇️ہمارا اپاہج ، بکا ہوا ، مصلحت کا شکار نظام قانون ، جس کے چلانے والے انسانیت سے کہیں دور کیلکولیٹر سے انصاف دینے کے عادی ہیں؟
❇️شریعت سے ہماری دوری یا ایمان کی کمزوری کہ ہم ایسے مالیاتی اداروں کے جھانسے میں آ کر خود کو ہر گزرتے لمحے خودکشی کی طرف لے جاتے ہیں
❇️وہ بے ضمیر ، اخلاقیات سے عاری ، تہذیب سے عدم آشنا انسانی شکل میں موجود درندے کہ جنکو
اگر ہم سب چینی کی بجائےگُڑ کا استعمال شروع کردیں تو نہ صرف چینی جیسےسفید زہر سےجان چھوٹ جائےگی نہ صرف گُڑ کےاستعمال سےصحت بہترہوگی بلکہ
ہمارا پیسہ40 پچاس شوگرمافیا خاندانوں کی بجائے50لاکھ کسانوں کی جیبوں میں جائےگا لہذا آئیےشوگرمافیا کو ہرائیں،کسانوں کو جتائیں،خود انقلاب لائیں۔۔
یہ لو پاکستانیوں۔۔ آگئی ویڈیو۔۔ رینجرز والے خود گاڑیاں توڑ رہے ہیں۔۔ یہ ویڈیو پھیلاتے جائیں۔۔ بتائیں سب کو اصلیت۔۔ رکنے نہیں دیں اس ویڈیو کو۔۔!!!
@SHABAZGIL@balochi5252
⚠️اگر اپ اسے ری ٹویٹ نہیں کریں گے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو عمران خان کے لیے باہر نکلے ہوئے ہیں⚠️
او خیر او خیر او خیر 🔥🔥 https://t.co/YAnrQAS1FO
قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس عمران خان نے نہیں جنرل باجوہ نے دائر کیا تھا ہمیں بلا کر بریفنگ دی تھی عمران خان نے ریفرنس دائر کرنے سے انکار کر دیا تھا عمران خان نے کہا تھا میں معیشت ٹھیک کروں یا ان کے ساتھ محاذ آرائی کروں
حامد میر کا انکشاف
خیبرپختونخوا میں پولیس کے معاملات میں مداخلت اور دہشت گردی کو کچلنے کیلئے اختیارات نہ دینے،پولیس اہلکاروں کے اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کیخلاف لکی مروت پولیس کا دو دن سے انوکھا احتجاج جاری،احتجاجی کیمپ لگادیا گیا۔اور ڈیوٹیوں کا بائیکاٹ شروع کردیا گیا ہے،لکی مروت پولیس کے مطالبات ہیں کہ فوج ضلعی حدود سے نکل جائے اور ضلعی امن و امان کی پوری ذمہ داری پولیس کے حوالے کی جائے،اضلاع میں شام کے بعد پولیس کا کنٹرول نہیں رہتا ہے اور رات کو دہشتگردوں کا راج ہوتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے پولیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔لکی مروت پولیس کی مطالبات کی حمایت کرتا ہوں،سول ملٹری سیکورٹی اداروں میں خلیج انتہائی خطرناک ہے،خیبر پختونخوا پولیس کی امن و امان کیلئے قربانیاں غیر معمولی ہیں،پولیس اہلکاروں کے احتجاج اور ڈیوٹی سے بائیکاٹ کا یہ سلسلہ اگر دوسرے اضلاع تک پھیل گیا تو صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے،خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی اور گورنر اس صورتحال پر وفاق سے بات کرے اور خیبر پختون خوا پولیس کے تحفظات دور کرے۔فوج صرف بارڈرز تک محدود رہے اور اضلاع کی امن و امان کی مکمل ذمہ داری خیبرپختونخوا پولیس کے حوالے کرے۔خیبر پختونخوا میں اس صورتحال کی آڑ لیکر ملٹری آپریشن کو کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔
@GovtofPakistan@GovernmentKP@MohsinnaqviC42@MOIofficialGoP@CSKPOfficial@KPChiefMinister@KP_Police1
پولیس اور عوام نے مل کر پشاور DI خان روڈ بند کر دیا، پولیس اور عوام نے فوج کو لکی مروت سے نکل جانے کا کہا ہے اور نہ نکلنے تک روڈ بند رہے گا
پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ لکی مروت میں جرائم اور قتل و غارت کی وجہ فوج ہے