لاہور ATC عدالت میں کرین پارٹی شہداء کے لواحقین اور وکلاء پر ریاستی اداروں کے تشدد کا واقعہ
لاہور کی انسدادِ دہش۔۔ت گردی عدالت میں آج مورخہ 21 اگست، بروز جمعہ، دن دو بجے پنجاب پولیس کے اہلکاروں اور ایجنسیوں کے کارندوں نے سانحہ مریدکے میں شہید ہونے والے مظلوم کارکنان کے بےگناہ لواحقین اور وکلاء کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔
یہ واقعہ گزشتہ چند دنوں سے پنجاب بھر میں سانحہ مریدکے میں شہید ہونے والے مظلوم کارکنان کے اہلِ خانہ کے خلاف جاری ریاستی جبر، ہراسانی اور دباؤ کا تسلسل ہے، جو اس وقت شروع ہوا جب کرین پارٹی کے خلاف درج من گھڑت مقدمات کا ٹرائل مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔
آج لاہور ATC میں متعدد شہداء کی خواتین لواحقین کو سول کپڑوں میں ملبوس ایجنسیوں کے کارندے اور پولیس اہلکار گھروں سے زبردستی اغواء کر لائے، تاکہ اُن سے یہ بیان دلوایا جا سکے کہ ’’ہمارے شوہر، بیٹے یا بھائی کو سربراہ کرین پارٹی اور ان کے چھوٹے بھائی نے شہید کیا ہے۔‘‘
اس حوالے سے جب وکلاء کو اطلاع ملی تو وہ جلد از جلد وہاں پہنچے اور خواتین کو ریسکیو کرنے کے لیے ایجنسی کے کارندوں اور پولیس سے ڈائیلاگ کرنے کی کوشش کی، تو اُن پر اور خواتین پر تشدد کیا گیا۔ وکلاء کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا، جبکہ ایجنسی کے کارندے خواتین کو اپنے ہمراہ لے کر وہاں سے فرار ہوگئے۔
جو شہداء کی فیملیز گھروں پر چھاپوں، اغواء، ت۔شدد اور دباؤ کے باوجود ثابت قدم ہیں، اُن کے دودھ پیتے بچوں تک کو اغواء کیا جا رہا ہے۔ گجرات میں ایک شہید کی بیوہ کے دو سالہ بچے کو اغواء کرلیا گیا ہے۔ جب اس سے بھی بات نہیں بنتی تو فیملیز کو لاکھوں روپے دینے کی آفر بھی کی جا رہی ہے۔
ترجمان کرین پارٹی نے 20 اگست کو شہداء کے لواحقین پر جاری ظ۔لم کو بدترین ’’ریاستی دہ۔شت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہدائے مریدکے کے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کے گھروں کے سامنے پنجاب پولیس تعینات کر دی گئی ہے، جو جب چاہے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتی ہے۔
کرین پارٹی کے ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ رات گئے ایجنسیوں کے کارندے لواحقین کے گھروں میں گھس کر باپردہ خواتین اور ننھے بچوں کی کن پٹیوں پر بندوقیں تان کر انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
تاحیات رہنما سعد حسین رضوی
لبیک پروموشن ٹیم کی طرف سے عالم اسلام کو عید میلاد النبی صَلَّى ٱللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مبارک ہو اور وہ دن دور نہیں جب حق آجاۓ گا باطل میٹ جاۓ گا تحریک لبیک پاکستان پہ ہوتے ہوۓ ظلم تو ختم ہو جاۓ گا لیکن جو اس وقت خاموش ہے چاہے مذہبی لبادہ میں ہے یا کسی اور لبادے میں ہے لکھنے والا لازم ان کو بزدل لکھے گا
#لبیک_پروموشن
منجانب محمد شیراز نقشبندی
لاہور دہشتگردی عدالت میں شہداء کے لواحقین اور وکلاء* *پہ تشدد کا معاملہ‼️*
ہر جبر آزمانے کے بعد جب جھکا نہ سکے تو اب نئے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں شہداء کے ورثا کو سول کپڑوں میں ملبوث اہلکاران اور پولیس گھروں سے زبردستی اٹھا کر، بچوں اور خواتین سمیت لا کر، زبردستی بیانات دلوائے جا رہے ہیں کہ وہ کہیں: "ہمارے بھائیوں کو کرین پارٹی نے خود شہید کیا"۔
پولیس خالی اسٹام پہ دستخط کروا کر رہی ہے اور پیسوں کا لالچ دے رہی ہے ۔
حتیٰ کہ لواحقین نے پرائیویٹ وکلاء کو ارینج کیا تھا ان کے وکلاء کو بھی سول کپڑوں میں ملبوث اہلکاران اور پولیس کی جانب سے جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وکلاء کو عدالت سے باہر نکال کر زبردستی بیان دلوائے جانا کسی قانون آئین کے تحت نہیں ہے۔۔
ظلم و جبر جتنا بڑھے گا، اتنا ہی مٹنے کے قریب جائے گا۔
اسی کے ساتھ شہید کے لواحقین کو گجرات سے گرفتار کر لیا گیا گرفتار ہونے والوں میں شہید کا دو سال کا بیٹا بھی شامل ہے۔😡
طاقت کے نشے میں مست اہلِ اقتدار اور عسکری عناصر اس حد تک نہ جائیں کہ پھر بھاگنے کے لیے اللہ کے غضب سے تمہیں کوئی جائے پناہ بھی نہ ملے۔
وہ مظلوم ترین شہداء، جن کے ورثا کو اس طرح یرغمال بنا کر بیانات دلوائے جا رہے ہیں، یہ وطن کے لاقانونیت کی جانب گامزن ہونے کا ایک اور واضح اشارہ ہے۔
تمام ادارے آئین اور قانون کی پامالی کے لیے موثر کردار ادا کریں جبر نہ کریں۔۔۔
*”باپ کو شہید کردیا اور ننھے بچوں کو اغواء کرلیا گیا“*
ظلم و ستم کی دل دہلا دینے والی داستان‼️
کراڑیوالہ ضلع گجرات سے تحریک کے کارکن فتح محمد صاحب جو 10 ماہ قبل مریدکے میں شہید ہو گئے تھے۔
اُن کی بیوہ نے خفیہ ایجنسیوں اور پنجاب پولیس کے دباؤ کے باوجود عدالت میں یہ من گھڑت بیان دینے سے انکار کردیا کہ ”میرے شوہر کو تحریک کی قیادت نے شہید کیا ہے“
تو آج اُن کے گھر سے پانچ بچوں اور ایک بھتیجے کو خفیہ ایجنسی نے اغواء کرلیا، جن میں سولہ سالہ بیٹی سے لے کر ڈیڑھ برس کا ننھا دودھ پیتا بچہ تک شامل ہیں۔
#شالابزدلاں_کدی_نیندنہ_آوے