روحِ من اے ماہ پیکر آب نقرہ اے حسیں اپسرا
تمہارے لب
وہ نرمی وہ نزاکت گویا تتلی کے پر پہ محبت لکھ دی گئی ہو
نہایت نرمی سے کہے بغیر کہہ دینے والے جن پر ہر بات خواب لگتی ہے اور ہر خواب حقیقت جیسا
جن پر ہر حرف ہر دعا ہر گلہ سجتا ہے
کبھی ہنسی میں مہک کبھی چپ میں درد کا رس
اف وہ بہکے ہوئے ہونٹوں کے لرزتے ہوئے جام
ہائے وہ پیاس تیرے ہجر کی بھڑکائی ہوئی
اک فتنہ تری سوئی ہوئی آنکھوں میں ادھر
اک قیامت ترے قامت نے ادھر ڈھائی ہوئی
اِس ہجر کی پیلی بارش میں ہیں روح پر اُبھرے نیل بہت
سانسوں کی تھکاوٹ کافی ہے یہ درد ضروری تھا مولا
یہ سرد رُتوں کی شامیں اور یہ ساتھ نبھاتی تنہائی
تھک ہار کے دھڑکن بول اُٹھی اِک فرد ضروری تھا مولا
یہ آٹھ پہروں شمار کرنا
کہ سات رنگوں کے اس نگر میں
جہات چھ ہیں
حواس، خمسہ، چہار، موسم
زماں، ثلاثہ، جہاں دو ہیں
خدائے واحد !
یہ ترے بےانت وسعتوں کے
سفر پہ نکلے ہوئے مسافر
عجیب گنتی میں کھو گئے ہیں
سید مبارک شاہ