"میری دِقّت یہ ہے کہ میں خلقت کے حافظہ کو محققوں کی تحقیق سے بڑی سچائی جانتا ہوں۔ خلقت کا حافظہ جھوٹ نہیں بولتا، اضافہ اور رنگ آمیزی البتہ کر دیتا ہے۔"
مضمون : گم شدہ امیر خسرو از انتظار حسین
کچھ کریں اپنے یار کی باتیں
کچھ دلِ داغدار کی باتیں
ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں
اب یہ کیا اختیار کی باتیں
میں بھی گزرا ہوں دورِ الفت سے
مت سنا مجھ کو پیار کی باتیں
اہل دل ہی یہاں نہیں کوئی
کیا کریں حالِ زار کی باتیں
مفتی اختر رضا بریلوی
سب سے ہٹ کر ہی منانا ہے اُسے
ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی
دل اُسی وقت سنبھل جائے گا
دل کا احوال وہ پوچھے تو سہی
اس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیں
میری بستی سے وہ گزرے تو سہی
محسن نقوی
کسی کی حادثاتی موت اچانک بے ضمیری کا نتیجہ تھی
بہت سے دب گئے ملبے میں دیوار انا کے آپ ہی اپنی
کچھ ایسے بھی کہ جن کو زندہ رکھنا چاہا میں نے اپنی پلکوں پر
مگر خود کو جنہوں نے میری نظروں سے گرا کر خود کشی کر لی
عبد الاحد ساز کی شاہ کار نظم یہاں پڑھیں ۔
https://t.co/J4MAioCGAx