@enkidureborn منظر پر جتنے لوگ ھیں ان سب کے پروفائل عمران خان کے مقابل دکھاۓ جائیں تعلیم سے لے کر زندگی بھر کا حاصل جیسے کوئ ھے جو بریڈ چورڈ یونیورسٹی کا چانسلر رھا ھو سب کے پروفائل دیکھے جائیں
نواز شریف صاحب کو اپنی perstige اپنی lagacy محترم رکھنی چاھئے تھی شکست تسلیم کر لیتے تو سیاسی قد بہت اونچا ھو جاتا دو چار سال میں عمران حکومت غیر مقبول ھو جاتی تو پھر آپ ھی ھوتے لیکن نہ جانے کیوں عارضی حکومت کو دائمی عزت پر ترجیح دی
اسٹیبلشمنٹ کو ایک بات کا کریڈٹ دینا پڑے گا کہ انہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے بہت سے بت توڑے ہیں۔ اگر اسٹیبلشمنٹ نہ ہوتی اور نواز شریف کو دانا نہ ڈالتی اور نواز شریف وہ دانا نہ چگتا اور یہ ڈیل نہ کرتا کہ پاکستانی عوام، انسانی حقوق، آئین پاکستان کی پیٹھ پر چھرا نہ کھوپتا، یاسمین راشد سے سیٹ ہار کر فارم 47 کی لاسٹک کی شلوار نہ پہنتا تو کیا ہم ساری عمر اس دھوکہ میں رہتے کہ نواز شریف تو ووٹ کر عزت دو والا ، بڑا جمہوریت پسند ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دیکھایا کہ جس کو آپ بڑا سینئر کہہ رہے ہو، یہ (زمین پر) پڑا ہے نواز شریف۔ اسد طور
@AsadAToor
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
سپریم کورٹ کےبعد اسلام آبادہائیکورٹ بھی مان گیاکہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا ہوا،ہائیکورٹ کا فیصلہ،عمران خان کی فیملی سےملاقاتیں کروائی جائیں اور روزانہ پڑھنےکیلئےاخبارات اور کتابیں دی جائیں،یاد رہےعمران خان نےیہ درخواست کبھی نہیں کی کہ رحم مالک رحم،میرے پلیٹلٹس گر چکے،مجھے بیرونِ ملک بجھوایا جائے بلکہ عمران خان وہ مانگ رہےجو بحثیت قیدی انکا حق۔۔
عدالت عالیہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اہلِ خانہ سے ملاقات، بچوں سے ٹیلی فونک گفتگو، روزانہ ایک گھنٹے کی واک اور مطالعے کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے جیل حکام کو 15 روز میں تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
تاخیر کے شکار نظام میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان احکامات پر روح کے مطابق عملدرآمد ہو سکے گا؟ ماضی کا ریکارڈ مایوس کن ہے؛ 17 جون 2026 کو وکالت نامے کے معاملے اور اگست 2026 میں ہسپتال منتقلی کے حکم پر عدم عملدرآمد کے باعث توہینِ عدالت کی کارروائیاں اس رویے کی واضح مثالیں ہیں۔
عدالتی احکامات کو مسلسل پسِ پشت ڈالنا نہ صرف نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو شدید ٹھوکر پہنچاتا ہے، بلکہ معاشرے میں بے چینی اور انتشار کو بھی جنم دیتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ خود عدلیہ اپنے قرطاسِ ابیض پر درج احکامات کی پاسداری کو یقینی بنا کر اس روش کا سدِباب کرے۔۔
ایک طرف ملک مہنگائی،بےروزگاری،غربت اور قرضوں میں جکڑا ہوا،نوجوان ڈنکیاں مار مار سمندروں میں ڈوب رہے،نومولود بچے جل جل کر مر رہے اور دوسری طرف صدر آصف زرداری آسٹریا دورے پر،وزیراعظم شہبازشریف کرغستان روانہ،ڈپٹی وزیراعظم اسحٰق ڈار ترکی میں،وزیراعلٰی مریم نواز چین کا دورہ مکمل کر کے آئیں تو نوازشریف صاحب بیٹوں کے ہمراہ سنگاپور،جنیوا اور برطانیہ کے دورے پر روانہ ہوگئے،کیا موجیں لگی ہوئی ہیں انکی،نجانے اس ملک چوس اشرافیہ سے کب جان چھوٹے گی۔۔
اب اس جعلی اور خیراتی حکومت کی آنیاں جانیاں دیکھتے جائیے،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا،آصف زردای نے کہا میرا دل دکھی ہے،مصطفٰے کمال کراچی سے چل پڑے،فلاں فلاں نے تعزیت کی،فلاں فلاں ہسپتال پہنچا،فلاں نے فلاں کو گلے لگا لیا،فلاں نےانکوئری کا حکم دیدیا،فلاں نے کہا ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا،یہ سب جھوٹے اور مکار،یہ سب مجرم ہیں ان ماؤں کےجن کے بچے چھن گئے،ہم سب کو معلوم ان سب کو یہاں کچھ نہیں ہوگا اور یہ سب یہاں سب کچھ کر کے بھی بچ جائیں گے مگر ان سب کو حساب دینا پڑے گا یومِ حساب کے دن اور اُس دن یہ بچ نہیں پائیں گے۔۔
@fawadchaudhry کیا بڑے افسران کو بروقت تنخواھیں مل رھی ھیں بجلی پٹرول علاج تعلیم گھر سب مفت مل رھا ھے تو بس پھر سب ٹھیک ھے خوشحالی ھی خوشحالی ھے باقی سب لوگ کچرا ھیں کمائیں اور ان کی عیاشی ہوری کریں