نورین نیازی پر تنقید کرنے سے پہلے، ذرا نواز شریف، ان کی دخترِ اعلیٰ اور نون لیگ کی قیادت کے پاک فوج سے متعلق ماضی کے بیانات اور مؤقف پر بھی نظر ڈال لیجیے۔
حاضر سروس وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا بیان: جاوید ہاشمی صاحب کی چادر چار دیواری پر حملہ ایک نیچ حرکت ہے اور گھٹیا سوچ اور ذہنیت کی عکاس ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ جو چاہے کر لو، وقت بدل رہا ہے۔ اس وقت سے ڈرو جب اپنے بچاو کے لیے تمھارے پاس حکومت اور حکومتی طاقت نہیں رہے گی۔
نہ مجھے اچھوت سمجھو ، نہ خود کو برہمن ،
تم بھی آدم کی اولاد ہو ، میں بھی آدم کی اولاد ہوں
انسان سے انسان کی طرح عزت اور احترام کے ساتھ بات کرو۔ کیونکہ تاریخ اور قرآن کا فیصلہ ہے کہ تکبر کبھی نہیں جیتا۔شیطان ہارا، فرعون ہارا ، قارون ہارا ،
فوج کے خلاف ن لیگ کے نفرت انگیز بیانیہ کے آرکیٹیکٹ راجہ کبیر جیسے بدنامِ زمانہ شخص کا فوج کا دفاع کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہیرا منڈی کی کوئی طوائف عورتوں کو دنیا میں اپنی عصمت کی حفاظت کرنے پر آخرت میں جنت کی بشارت پر لیکچر دے۔
زمین ملی تو بنجر، شہداء کا دفاع کرنے والے ملے تو کنجر۔۔
@AnsarAAbbasi@MusawarAbbasi01@FarhanKVirk@fake_burster
یہ اسلحہ جو ہم نے اپنی دفاعی افواج کو دیا ہوا ہے یہ ہم نے ہندوستان کے آگے ان کو لڑنے کے لیے دیا تھا یہ آج جو F-16 مانگے جا رہے ہیں پانچ ارب ڈالر کے عوض کیا اس سے بلوجستان پر بمباری ہو گی وزیرستان پر بمباری ہو گی یا سندھ پر بمباری ہو گی یا پنجاب پر بمباری ہو گی؟ کیونکہ آج تک تاریخ میں ہمارے حکمرانوں نے کوئی جنگ نہیں جیتی اور جو بھی جنگ لڑی اس کی ابتداء ہمارے حکمرانوں نے کی۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف
#PakistanUnderMartialLaw
مولانا فضل الرحمن کی تقریر سے کئی سال پہلے موجودہ حکومتی جماعت مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ "فوج کا چیف آف دی آرمی سٹاف عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے آپ کو بادشاہ یا سپر پرائم منسٹر سمجھنے لگتا ہے۔۔۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ جس طرح فوج کے کئی جرنیل اقتدار پر قبضے کے لئے بے چین ہوتے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف کے لئے بھی الیکشن ہونا چاہیے تاکہ اگر انہوں نے اقتدار سنبھالنا ہی ہے تو کم از کم انہیں کچھ نہ کچھ ووٹ تو ملے ہوں۔"
کتاب: غدار کون
مریم نواز کو کچھ ہوا تو پاکستان کھپے کا نعرہ نہں لگے گا،مشرقی پاکستان بنے گا۔
اندازہ کریں نہ تو مریم نواز اتنی بڑی لیڈر تھی اور ہے کہ اسے کچھ ہونا تھا لیکن سوچ دیکھیں ان لوگوں کی اس وقت جنہوں ںے برصغیر کے رہنما کو اغوا کیا ہوا ہے۔
ملک میں تو سیاست ہو ہی نہیں رہی تو موروثی سیاست کہاں سے آ گئی؟
روز علی محمد خان نئی شیروانی پہن کر بالوں کو جل لگا کر اسٹبلشمنٹ کی کھڑکی پر حاضری دینے پہنچ جاتے ہیں،
پارٹی توڑی جا رہی ہے لیکن خونی رشتے نہیں خریدے جا سکتے،
عمران خان کی بہنیں ہی اسٹبلشمنٹ کے سامنے دیوار بن کر مزاحمت کر سکتی ہیں، مطیع اللہ جان