الدفاع المدني العراقي يواصل جهوده لإنقاذ طفلة سقطت في بئر بعمق 40 مترًا
تواصل فرق الدفاع المدني في نينوى جهودها لإنقاذ طفلة تبلغ عامين، سقطت في بئر بعمق 40 مترًا بقرية الشرائع جنوب شرقي الموصل.
وأكد مصدر في الدفاع المدني أن الطفلة ما زالت على قيد الحياة، وتمكن المنقذون من التواصل معها صوتيًا، فيما أُنزل حبل إلى داخل البئر لتأمينها.
وتشارك فرق متخصصة من نينوى وإقليم كوردستان في عملية الإنقاذ، وسط صعوبة بالغة بسبب ضيق قطر البئر، بينما تبحث الفرق عن آلية آمنة لإخراجها دون تعريض حياتها للخطر.
#العراق
💔 Hearing your child say, “I’m hungry,” with nothing to give is heartbreaking.
We’re asking for a little help with food, safety, and hope. 🙏😭https://t.co/3rzvGNzWvD
#بڑی#خبر
رحیم یار خان میں خواجہ فرید یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کے مبینہ طور پر اپنی نوجوان طالبہ کو جنسی طور پر حراساں کرنے کے میسجز منظر عام پر آگئے
عقیل الرحمان نامی پروفیسر نے طالبہ کے گریڈز بڑھانے لیے اسکو کھلے عام اپنے ساتھ Sex کی دعوت دے ڈالی
پروفیسر کے ظلم کا شکار نوجوان طالبہ نے یہ سکرین شاٹس سوشل میڈیا پر شیئر کر دیے جس نے شاید خوف کے مارے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی
اس میں ایک استاد اس کو نمبرز/ گریڈز کا خوف لالچ دے کر جنسی تعلق چاہتا ہے
اس کی فی الفور شفاف تحقیقات ہونی چائیے
ایسے واقعات کو خاموشی سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی استاد یا بااختیار شخص پر طالبہ کو ہراساں کرنے جیسے الزامات سامنے آئیں تو معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
تعلیمی ادارے عزت، تحفظ اور اعتماد کی جگہ ہوتے ہیں، کسی کے کردار یا مستقبل کو نقصان پہنچانے کی نہیں۔ ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی اور ایسے عناصر کا احتساب ہی ایک محفوظ اور باوقار معاشرے کی بنیاد ہے۔
آواز اٹھائیں، مگر حقائق کی تصدیق اور قانون کے دائرے میں رہ کر۔
اسلام آباد میں وکیل ایک موٹر سائیکل پر سوار بچے کو تھپڑ مار رہا ہے وہ بھی پولیس والے کے سامنے
ااس وکیل کا لائسنس ہمیشہ کے لئیے کینسل ہونا چاہیے اور اس کا مکروہ چہرہ ہر جگہ پھیلاؤ