The attacks resulted in the deaths and injuries of dozens of civilians, including women and children.
We strongly condemn this cowardly act of aggression and consider it a crime and an act of brutality.
@IhsanTipu عوام کو لوٹ رہے ہیں ، عوام کے زریعے ، عوام کو قتل کر رہے ہیں ،عوام کی زریعے ، ان کا رویہ سے پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ اور ح��ومت اس خطے پر نہیں کرنا چاہتی ،
@asheq_rasool12@Anonymous768827 ایک دن میں شریعت نافذ نہیں ہوتا دوسری بات ایک ملک کی سیکیورٹی منظم نہیں تو وہ دوسرے ممالک پر حملے کیسی کریں ؟ اور آپ نے ابھی تک کونسا تیر مارا ہے کہ ان کی پیچهے باتی کروں
ایک خاتون کسی عامل کے پاس گئی۔ عامل نے بڑے اعتماد سے کہا: "اُلو کا خون، کالے بکرے کی سری، زعفران اور گیدڑ سنگی لے آؤ، ہم تمہارا کام فی سبیل اللہ کر دیں گے۔"
خاتون پریشان ہو گئی۔ بولی: "بابا جی! میں یہ چیزیں کہاں سے لاؤں؟"
عامل تو یہی سننا چاہتا تھا۔ فوراً ایک شخص کا نمبر تھما دیا اور کہا: "یہ بندوبست کر دے گا۔"
چند دن بعد خاتون نے وہ تمام چیزیں خرید لیں، پیسے بھی خرچ ہوئے، لیکن کام نہ ہوا۔ جب شکوہ لے کر دوبارہ پہنچی تو عامل نے فوراً پینترا بدلا: "میں نے کہا تھا چیزیں خود لے کر آؤ، لگتا ہے جس نے تمہیں دی ہیں اس نے دو نمبری کی ہے
اب خوف مزید گہرا ہو چکا تھا۔ عامل نے نیا نسخہ دیا: "مؤکلات ناراض ہیں، انہیں خوش کرو۔ چار کلو چاندی عرقِ گلاب میں بھگو کر قبرستان میں دفن کر دو۔"
خاتون نے بے بسی سے کہا: "میں ایک عورت ہوں، رات کو قبرستان کیسے جاؤں؟"
عامل نے کچھ دیر سوچنے کا ڈرامہ کیا، پھر بولا: "چلو، صرف تمہارے لیے میں خود بندوبست کر دیتا ہوں، حالانکہ میں کسی سے ایک پائی نہیں لیتا۔"
اور یوں پیسوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اصل میں ایسے لوگوں کا سب سے بڑا ہتھیار نہ جن ہوتے ہیں، نہ مؤکلات، نہ عملیات۔ ان کا سب سے بڑا ہتھیار "خوف" ہوتا ہے۔ پہلے انسان کے ذہن میں یہ یقین بٹھایا جاتا ہے کہ تم کسی پوشیدہ مصیبت میں گرفتار ہو۔ پھر اسی خوف کا علاج بیچا جاتا ہے۔
جدید نفسیات اور میڈیکل سائنس بتاتی ہیں کہ مسلسل خوف، وہم اور منفی تلقین انسان کے دماغ پر حقیقی اثر ڈالتی ہے۔ جب کسی شخص کو بار بار بتایا جائے کہ اس پر جادو، بندش یا آسیب ہے تو وہ عام واقعات کو بھی انہی چیزوں کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے۔ اسے Confirmation Bias کہا جاتا ہے، یعنی انسان وہی چیزیں دیکھتا ہے جو اس کے ذہن میں پہلے سے بٹھا دی گئی ہوں۔
پھر اگر زندگی میں کوئی اتفاقی واقعہ پیش آ جائے، کوئی بیمار ہو جائے، کوئی فوت ہو جائے یا کوئی مسئلہ خود بخود حل ہو جائے، تو س��را کریڈٹ عامل کی کرامت کو دے دیا جاتا ہے۔ یوں ایک اتفاق عامل کی تشہیر بن جاتا ہے اور کئی نئے شکار اس کے جال میں آ جاتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ جو شخص اپنی ایک سانس تک کا مالک نہیں، وہ دوسروں کو دولت، اولاد، دشمن پر فتح، کاروباری کا��یابی، ویزے، بیرونِ ملک شہریت اور قسمت بدلنے کے خواب بیچتا ہے۔ اور جتنا خوف بڑھتا ہے، اتنا ہی اس کا کاروبار پھلتا پھولتا ہے۔
یقیناً آپکے اردگرد بھی ایسے لوگ ضرور ہونگے خدارا اس پیغام کو آگے پنچائیں تا کہ معصوم لوگ انکے مکرو چہروں سے واقف ہوں اور اپنا اور اپنے گھر کا سکون برباد نہ کریں جزاک اللہ خیرا