“دیکھیں ISPR صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو!
جب war on terror ہوئی اور پاکستان کی مٹی پلیت ہوئی دنیا میں اور کہا گیا کہ فوج دوغلی ہے، جھوٹی ہے، تو دیکھیں کس نے اپنی فوج کی سب سے زیادہ حفاظت کی، کون انٹرنیشنل میڈیا پر فوج کے ساتھ کھڑا ہوا!
آپ بیٹھ کر فرعون کی طرح فرمان پاس کر رہے ہیں، اور یہ کہنا کہ عمران خان جھوٹ بول رہا ہے، آپ کو شرم آنی چاہئیے! عمران خان کو پچاس سال سے یہ قوم جانتی ہے!”
- عمران خان
#ذہنی_مریض_نامنظور
پاکستان کا پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ منسٹر امریکہ کے دورے پر ہے۔ قبل اس کے کہ آپ کو اسکے دورہ امریکہ کی کچھ مضحکہ خیز تفصیلات بتائی جائیں کچھ عرصہ قبل یہی آدمی آکسفورڈ یونین کی ایک تقریب میں مدعو تھا جہاں اس کی ناجائز حکومت اور مینڈیٹ کا تذکرہ کرکے اسکا تعارف کروایا گیا تو اسکی شکل ایسے تھی جیسے چوک میں کھڑے ہوکر کوئی بدتمیز آدمی اپنے اعضائے مخصوصہ پر خارش کرتا پکڑا جائے تو بناتا ہے۔
جس ویڈیو میں یہ امریکی ائیرپورٹ پر اتر رہا ہے اس میں یہ فرط جذبات میں وہاں کھڑے سیکیورٹی گارڈ سے بھی بس بغل گیر ہوا چاہتا ہے تبصرہ پاڑ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سیکیورٹی گارڈ نہیں سینٹ کام کا چیف تھا۔ ایک اور ویڈیو میں جو بظاہر کوئی بہت شاندار بریفنگ معلوم ہوتی ہے اسی ویڈیو میں بریفنگ دینے والا آدمی جو سر کے اوپر بالوں سے فارغ ہے اندر دماغ سے فارغ وہ شخص اردو میں آکر منسٹر صاحب کو کہتا ہے آپ دیکھنے میں بہت ہینڈسم لگتے ہیں آپ تصویروں سے بھی زیادہ ہینڈسم ہیں اس سے آپ اس بریفننگ کی سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ایک اور ویڈیو کے کیپشن میں لکھا تاثر ہے کہ یہ کوئی نہایت اعلی سطح میٹنگ ہے جس میں پاکستان و امریکہ کے ذہین ترین دماغ شاید ویژن 2090 کا بلیو پرنٹ تیار کررہے ہیں۔ تھوڑا سا آگے چل کر دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ میٹنگ ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کی ٹیبل پر چل رہی ہے اور شرکاء صرف کھانے کا انتظار کررہے ہیں۔ اسی طرح ایک پاکستانی اوریجن پروفیسر کے ساتھ ایک یونیورسٹی میں ملاقات ، ایک جگہ تیس ڈالر کا ٹکٹ لیکر انٹری ، ایک اور ریسٹورنٹ میں کچھ افراد کیساتھ کھانے کی دعوت اور ایک کانفرنس روم میں کچھ دیسی لوگ جمع ہیں اور منسٹر صاحب لمبی لمبی پھینک رہے ہیں۔ کتنی ہی “ اعلی سطح میٹنگز “ کسی شاپنگ مال ، کسی ریسٹورنٹ یا کسی پاکستانی کے گھر میں جاری ہیں۔
یہ سب تو وہ تماشے ہیں جو اس منسٹر کو پاکستان میں موجود ذہنی معذوروں کو متاثر کرنے کے لیے کرنا پڑتے ہیں کہ میں نہایت اہم دورے پر ہوں۔ اس کے بیک گراونڈ میں جو چل رہا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ پاکستانی سیاستدان ، بیوروکریٹ ، اراکین اسمبلی مغربی ممالک میں جب پاکستانی لوگوں سے ملتے ملاتے ہیں ان سے تعلقات بناتے ہیں تو ان سے موبائلز ، پروفیومز ، گھڑیوں ، عینکوں اور برانڈڈ کپڑوں کے تحفے لینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
احسن اقبال کی ویڈیوز میں کتنے ہی شناسا چہرے ہیں جو کئی کئی سال بتاتے رہیں گے کہ وہ کس سیاستدان اور بیوروکریٹ اور فوجی افسر کو کیا کچھ لے کر دے چکے ہیں۔ زیادہ بدتمیز تو یہ بتانے سے بھی نہیں چوکتے کہ صاحب کی بیوی کیا کیا فرمائشیں کرچکی ہے اور کس قدر اصرار کے ساتھ کرچکی ہے۔ ایک پاکستانی بھائی صاحب کے کافی سارے سٹورز اور کنٹرول شیڈز ہیں۔ فرمانے لگے فلاں فلاں بیوروکریٹ تو اپنے ابا جی کی طرح میری عزت کرتا ہے۔ پتہ چلا انکے ہر سیزن کے کپڑے جوتے بابو کے یہی “ ابا جی “ بھجواتے ہیں۔
اس ریس میں تبصرہ پاڑ نما صحافی بھی پیچھے نہیں۔ لیکن چونکہ یہ اوورسیز کے زیادہ کام نہیں نکلوا سکتے تو انہیں مفت روٹی و رہائش پر ہی رام کرلیا جاتا ہے۔ پراڈا اور لوئی وٹان کی جگہ سکیچرز پر ہی خوش ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ صحافی اپنی لمبی لمبی پوسٹوں میں انکی مہمان نوازی کے گن گاتے رہتے ہیں۔آخری قصہ سن لیجیے جس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے گی ایک دوست کے ساتھ کھانا کھانے گیا۔ واپسی پر تھوڑی دیر کے لیے ایپل سٹور پر رکے نیا آئی فون خریدا پوچھا کس کے لیے ہے فرمانے لگے ہمارے علاقے کا تھانیدار ہے۔ بڑا تابعدار ہے۔ شریکوں کو بُولی کتے کی طرح پڑ جاتا ہے ، اس کے بیٹے کا میسج آیا تھا فون چاہیے۔
بزدار وزیراعلی بنا تو خوشامدی مشیر و کابینہ ایک بل لے آئے کہ ہر سابق وزیراعلی کو یہ یہ مراعات ملیں گی جس کا لاہور میں گھر نہیں ہوگا اسکو بی او آر میں گھر ملے گا اور فلاں فلاں الاونس ملے گا۔ سوشل میڈیا نے بزدار سرکار کی چھترول کی۔ عمران خان نے نوٹس لیکر بل واپس کروا دیا۔
پختونخواہ کے اراکین اسمبلی نے بھی ویسی ہی کمینی اور گری ہوئی حرکت کی ہے۔ سوشل میڈیا انکو ذلیل بھی کرے گا۔ لیکن اب عمران خان کی آواز بند ہے ورنہ پہلی فرصت میں اس قراداد پر تنبیہہ کرتا۔ عمران خان کی قید فوج ، ملک دشمنوں اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہی ہے۔
آپ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لوگوں کو راتوں کو فون کالز پر دھمکیاں آتی ہیں کہ اڈیالہ کے باہر نہیں جانا۔ ہم نے تجویز دی کہ یہ مسئلہ اکٹھے ہو کر اسمبلی میں اٹھائیں اور بتائیں کون دھمکیاں دے رہا ہے۔ یاد کرو، عمران خان نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ اگر یہ آپ کو دھمکیاں دیں تو واپس ان کو دھمکیاں دو۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
”ڈی آئی جی کیلئے شرم کا مقام ہے جو سرکاری ملازم ہو کر مریم نواز اور اس کے میٹرک فیل خاندان کیلئے پریس کانفرنس کر رہا ہے۔ اگر یہاں رضا ڈار کو ضمانت ملی تو سمجھ جائیں کہ پنجاب میں مریم نواز نے اپنی پوری طاقت لگا کر اپنے بہنوئی کے بھانجے کو بچایا ہے۔ جن خواتین کا پاکستان میں ریپ ہوا، ان کے نام پر بھی یہاں حب الوطنی کا چورن بیچنے والوں کو شرم آنی چاہیئے۔ پوری دنیا میں پاکستان کا نام بدنام ہوا اور یہاں پروپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے۔“ عمران ریاض خان
اب بس کر دو ۔۔
یہ غداری کے کارڈ کھیلنا بند کرو ۔۔ اب بس کر دو
تمہاری انا نے ملک کے دو ٹکڑے کر دیے تھے اور کتنے ٹکڑے کرو گے ۔۔ اب بس کر دو
اٹھہتر سال سے ملک کا بیڑا غرق کر رہے ہو اور الزام عمران خان پہ ۔۔ اب بس کر دو
#اب_بس_کردو .
#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے
#PAKWatch🇵🇰: Imran Khan’s sister, Aleema, demands JUSTICE for Imran Khan:
"Feel our pain—our brother is ill. Join us in demanding treatment for Imran Khan"
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
جب ہم چھبیسویں ترمیم کے بعد والی عدالتوں کے ججوں کے پاس کیس لے کر گئے تو ان کی شکلوں پر کیا تھا؟ جج سومرو میں عاجزی نظر آئی اور وہ شرمندہ لگے، لیکن جج ڈوگر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ پورا مینڈیٹ لے کر آیا ہے عمران خان کے خلاف فیصلے دینے کا۔ وہ عہد کر کے آیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں رکھنا ہے۔ جج ڈوگر نے ایک بار بھی انسانیت نہیں دکھائی کہ عمران خان اور بشری بی بی آٹھ ماہ سے قید تنہائی میں ہیں۔
عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے عدالت کی عمارتیں بنی ہیں، ان کے پاس پروٹوکول اور گارڈز ہیں، یہ سب عوام کے پیسے سے ہیں۔ اگر انصاف نہیں دے سکتے تو یہ عدالتیں بند کر دیں اور بتا دیں کہ اوپر سے حکم آیا ہے۔ علیمہ خان