نوشکی: انام بوستان روڈ پر واقع ہندو تاجر راکیش ولد دیس راج کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ واقعے کے بعد تاجر برادری اور ہندو برادری میں شدید تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی۔
مستونگ: بلوچ نوجوان کی لاش برآمد
کھڈکوچہ، گیت سے بلوچ نوجوان شکیل ولد قیصر کی لاش برآمد ہوئی۔ شکیل ڈیرہ مراد جمالی کا رہائشی اور پٹرول کا کام کرتا تھا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق شکیل کو مبینہ طور پر دہشتگرد بشیر زیب کے گروہ نے شہید کیا۔
You claim the people invited to the Balochistan National Workshop do not truly represent the Baloch, yet they are elected leaders, local sardars and residents who actually live and work in the province, not people speaking from far away. You say the story of Balochistan joining Pakistan is a lie and that it was forced in, but the facts show British Balochistan voted to join through the Shahi Jirga in 1947 and the Khan of Kalat himself signed the official accession paper on 27 March 1948 after the other states had already joined, as recorded in the Jinnah Papers and other historical documents. You talk about endless exploitation of gas, gold, copper and the coast with almost no benefit for the Baloch people, yet federal money, the NFC Award, thousands of solar tube-wells, big road projects and clear statements that the minerals belong first to the people of Balochistan prove real efforts are being made even while the land is hard and security problems continue. You say today’s Baloch youth, especially Gen Z, refuse repression and fake history and that workshops and selected voices cannot change the reality on the ground. But open talks and development plans are exactly the peaceful way to solve problems instead of pushing endless conflict. Your call to pull out the forces and give full self-determination ignores the violence that has already killed hundreds of ordinary people and soldiers; the better path remains honest dialogue and a chance for those who put down arms to return, not more demands from outside that keep the wounds open.
Sindh High Court has ordered OGDC to pay Rs 78.91 crore (Rs 789 million) in gas royalty to grandson of Nawab Akbar Bugti , Nawab Aali Bugti. This is only his personal royalty. Other grandsons of Akbar Bugti Shahzain, Gohram and Chakar Bugti also keep taking yearly royalties from OGDC , yet have done nothing for their native town Dera Bugti.
It is Sarfraz Bugti who has actually changed the fate of Dera Bugti with development and infrastructure. When you blame the State, first know your real enemy.
توہین عدالت یا جوڈیشل ایکٹوزم- عدالتی این آر او کی مانگ اور حقائق‼️‼️
🔺سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سزا یافتہ مجرم کو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ذاتی معالج اور خاندان کی نگرانی میں ڈاکٹرز کی ماہر ٹیم سے معائنہ کرایا جائے۔ حکم میں صاف لکھا گیا کہ قیدی کی سکیورٹی اور تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ عدالت نے سلمان اکرم راجہ اور ڈاکٹر عظمی سے تحریری گارنٹی بھی لی کے ہسپتال کو جلسہ گاہ نہیں بنایا جائے گا اور اس کے گرد لا اینڈ آرڈر نہیں بننے دیا جائے گا۔
🔺اگرچہ عدالت کا حکم آئین کے خلاف تھا، حکومت نے اپیل کی جو نہ مانی گئی اسلیے حکومت نے ہیجان پیدا کرنے کے بجائے بردباری دیکھائی اور شفا انٹرنیشنل جسے عدالت نے مخصوص کیا میں تمام سکیورٹی اور انتظامی کام شروع کر دیے تاکہ قیدی کو وہاں لایا جا سکے۔
🔺اس کے برعکس تحریک انصاف کے لیڈران اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر ماحول بنایا اور کارکنان کو ہسپتال کے اردگرد اکھٹا کر دیا۔ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اس کا شاہد ہے کہ ہسپتال جلسہ گاہ رات سے بن گیا تھا۔
🔺حکومت کے پاس آپشن تھا کہ اس بات کا بہانہ بنا کر قیدی کو جیل میں ہی رکھتی اور کارکنان کو منتشر کرنے کا آپریشن شروع ہوتا، لیکن حکومت نے پھر سپریم کورٹ کے حکم کو عزت دی اور قیدی کو پمز ہسپتال لایا گیا۔
🔺صرف ہسپتال مختلف باقی وہی ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم، ذاتی معالج اور خاندان کے افراد کی زیر نگرانی بہترین علاج۔
🔺وزیر اطلاعات نے اسی لیے پہلا ٹویٹ کر کے بتایا کہ سکیورٹی صورتحال کے باعث صرف ہسپتال بدلا گیا باقی تمام کاروائ عدالت کے حکم کے مطابق ہوئی۔
🔺اب یہ جو توہین عدالت کا رونا ہے اس کا جواز کیا ہے؟ عدالت کا اس بے فضول پٹیشن کو ڈگری نمبر دینا بھی سمجھ و آئین سے قاصر ہے؟
🔺اگر توہین عدالت بنتی ہے تو وہ سلمان راجہ اور ڈاکٹر عظمی پر بنتی ہے۔ جنہوں نے کارکنان کو جمع کر کے عدالتی حکم کی برخلافی کی۔ پھر پریس کانفرنس کر کے عدالت میں تحریری گارنٹی کی دھجیاں بکھیریں۔
🔺ڈاکٹر عظمی اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل نے اسی پریس کانفرنس میں کہا کہ قیدی صحت کے حساب سے سو فیصد تندرست ہے۔ اس کی آنکھ کا علاج بھی بہترین۔ مطلب عدالت کو جو خدشہ تھا وہ غلط ثابت ہوا۔
🚨🚨اب حکم بھی مانا گیا، خدشہ بھی دور ہو گیا تو پھر ایک اور کاروائی کے لیے درخواست منظور کرنے کی کیا ضرورت۔ علاج کروانا مقصود تھا نہ کہ پرائیویٹ ہسپتال میں آرام فرمانا۔
عدالت سے امید ہے کہ وہ اب ماوارئے عدالت نہیں جائے گی۔ اگر ایسا ہے تو پھر ایک ہی دفعہ فیصلہ دیں کے قیدی کو حکومتی خرچ پر نیویارک کے فائیو سٹار ہوٹل منتقل کر دیا جائے تاکہ عوام جان جائے کہ کھیل آیئنی نہیں بلکہ جوڈیشل این آر او کا ہے۔ عدالت کے لیے آئین ترجیح نہیں بلکہ اشرافیہ کی خوشنودی ہی سب کچھ ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ کچھ عقل بانٹ دے ان منصفوں میں تاکہ آخری سانس لیتے انصاف کے ترازو کا جنازہ نہ نکلے
گزشتہ رات سکیورٹی فورسز نے پنجگور کے علاقے سبزاب میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کی چوکی پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ علاقے میں گھیراؤ اور آپریشن جاری ہے۔
Ex-PM Anwar-ul-Haq Kakar, speaking to The Digital Room, challenged Pakistan’s political class: why obsess over new provinces when local governments remain deliberately weak?
He said new administrative units could deliver better governance, stronger representation and new revenue streams, calling those clinging to “Sindh cannot be divided” politics “political dinosaurs.”
On Imran Khan’s hospital visit, Kakar questioned how the claims of political “arm-twisting” or an establishment “deal,” are circulating saying that Khan’s return from the hospital narrowed the explanation to a court decision rather than a political bargain.
پھولوں کی پتیاں یا انتقام؟
پاکستان کی سیاست میں مخالفین سے سیاسی انتقام کی داغ بیل نیازی فتنے نے ہی ڈالی۔
اگست 2018 میں نیازی کے حلف اٹھاتے ہی نواز شریف کی گاڑی پر پھول نچھاور کرنے والے دو کارکنوں پر ایف آئی آر درج کرواٸی گٸی۔ یہ پی ٹی آئی حکومت کا پہلا سیاسی انتقام تھا۔
آج جب پی ٹی آئی موجودہ نظام پر ظلم اور جبر کے ریکارڈ توڑنے کا الزام لگاتی ہے تو مخالفین ماضی کے ان ہی واقعات کا حوالہ دیتے ہیں جہاں پھول پھینکنے جیسے عمل کو بھی مقدمہ بنا دیا گیا تھا۔
جبکہ کل ہسپتال جاتے ہوٸے مجرم نیازی کی گاڑی پہ بھی پھول پھینکے گٸے مگر حکومتی اراکین میں سے کسی نے اس طرف کوٸی توجہ نہیں دی۔
تمام دہرے معیار اور فسطاٸیت نیازی کے دور میں ہوٸی اور اب یہ الزام دوسروں پہ لگاتے ہیں۔
#بلند_عزم_عاصم_منیر #edrtwt
خان صاحب صحت مند اور فٹ ہیں ڈاکٹرز کے پینلز نے بھی ان کی تمام رپورٹس میں ان کے ارگنز کو صحت مند قرار دیا ہے
لیکن انھیں شفاء ہسپتال میں رکھا جانا چاہیے
.... کٹر یوتھیا...
کیوں بھئ؟؟
شوکت خانم ہسپتال میں کینسر سے تڑپتے بزرگ کو داخل کرنے کی اجازت نہیں کہ ایک مرتے بوڑھے پر پیسہ وقت اور بیڈ کیوں ضائع کیا جائے،
تو شفاء ہسپتال کیا شوکت خانم جہیز میں لائی تھی جو ایک صحت مند ہٹے کٹے شخص کو وہاں رکھا جائے اور سکیورٹی کے نام پر پورا ایک فلور مختص کیا جائے؟؟ جس کا تمام خرچ حکومت برداشت کرے؟؟