مجرمانہ غفلت سے پمز میں عام رعایا کے 14 نومولود معصوم اپنی جان کی بازی ہار گئے حکمرانوں نے کمیٹیاں قائم کردیں واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور سخت کاروائی کی یقین دہانی کروادی لیکن ہونا ککھ بھی نہیں اور اس مجرمانہ فعل پر دو چار دن شور مچانے کے بعد آگے بڑھ جائیں گے
مورخ حیران ہے کہ ہمیشہ اسی ہسپتال میں آتشزدگی کیوں ہوتی ہے جہاں غریب مسکین رعایا کے نومولود پیدا ہوتے ہیں
پنجاب دے رہن والا ہر بندہ پنجابی ہے ، ایہ بندہ ارسلان کھوسہ مقتول دا بھائی ہے جو کہ انگور خریدن لئی بلوچستان گیا تے مار دتا گیا
پنجابی دے جنوبی اضلاع دے دوستاں نو سبق لینا چائی دا کہ تسی وی سب پنجابی ہو حقیقت نو سمجھ لو
باقی مریم نواز پنجابیاں نو سوتیلا پتر سمجھدی اے
See how nobody is helping that dying one…
These are your balochar brothers , i hope these balochis di3 slow de@th, i hope no punjabi raise voice for them when these balochi anim@ls get b@mbed and die p@inful de@th
پورے اسلام آباد میں پانچ سرکاری ہسپتال ہیں جن کے لئے پوری ایک وزارت ہزاروں افسران اور ملازمین ہیں مگر حالات آپ کے سامنے بچے زندہ جل جاتے مگر بچا کوئی نہی سکتا ہے
وزیر اعظم نے سیکرٹری ہیلتھ معطل کر دیا ! لوگوں کی یاد دہانی کے لئے بتا دوں کہ پاکستان کے سرکاری بابووں کو معطل کرنا یا سسپینڈ کر دینے کا مطلب یہ نہیں ھوتا کہ انکی تنخواہ رک جائے گی یا وہ جاب لیس ھو جائیں گے ۔ جناب ان افسران کی معطلی کا مطلب ھے کہ اپ کو کہیں اور لگوا دیتے ہیں ! تھوڑا صبر کریں ۔ تب تک اپکی تنخواہ اور سہولتیں گھر میں ہی مل جایا کرے گی !
پنجابی اپنی بات کرے تو ذہنی مریض پناہگیروں کو تکلیف ہوتی
بلوچستان پنجابی مارے جاتے کوئی بولتا تک نہیں
کیا انسانیت ہے
جو زندہ اسکو بھی کوئی پکڑ نہیں رہا ہم پنجابی بلوچستا ن بھکاریوں کی حکومت سے احتجاج کرتے
نمک حرام بلو چی جنکو پنجاب کے وسائل کھلائے جا رہے زور و شور سے کیا انکو کوئی حیا ہے پنجابیوں کا پیسہ کھاتے
بلوچستا ن کے لوگوں کو نکالا جائے پنجاب سے
بلو چی بھکا ری قوم
بھائی چارہ ،پنجاب بڑا بھائی والا چورن اب ختم ہو چکا ریاست کی ہر قو م پنجابی کی د شمن صرف پنجابی کی محنت کا پیسا کھانا چاہتی
اسلام آباد کا تو سائز بھی بڑا نہیں اور نہ ہی آبادی اتنی زیادہ کےسمبھالی نہ جاسکیں.
یہاں اشرافیہ کیا بہانا سناۓ گی؟ اسلام آباد کے بھی مزید صوبےبنا دے؟
مزید صوبےبنا کر بھی ہمارے حصے یہ ہی نااہل آۓ گے. جن کے نزدیک عوام محض کیڑےمکوڑےہیں. بلکہ مزید نااہل لوگوں کےکھانےکا بندوبست کرےگے
کل جس وقت سارا میڈیا سوشل میڈیا ایک ہوائی فائرنگ پر تھیٹر لگا کر بیٹھا تھا عین اس وقت بلوچستان میں 5 مزدور بلوچ دہشت گردوں نے مار دیے اس پر میڈیا پر خبر بنی نا پنجاب کی ماں کہلاتی وزیراعلی محترمہ مریم نواز صاحبہ نے کوئی بیان دیا
پنجابی کا خون اس ملک میں اتنا سستا ہے پنجاب کے بجٹ سے سب کو مال بھی بانٹتے ہیں اس بلوچستان میں دس ارب بھی دیتے ہسپتال بھی بنا کر دیتے اس کے ہزاروں بچوں کو پنجاب میں پڑھنے کے وظیفے بھی ملتے اور بدلے میں پنجاب کو صرف لاشیں ملتی ہیں
10 ارب روپے سالانہ پمز ہسپتال کو بجٹ ملتا ہے!!! دس ارب سالانہ۔۔۔ صرف ایک ہسپتال کو۔۔!!! پچھلے تین سالوں میں 22 ارب روپے پمز ہسپتال کو دیے گئے۔۔ کہاں گئے؟؟؟ آگ پر الرٹ کرنے کا، بجھانے کا نظام ہی نہیں ۔۔۔ شیم !!!
روز راتب خور بتاتے وزیراعظم اٹھارہ گھنٹے کام کرتے آخر وہ کام کرتے کیا ہیں وزیراعظم ہاؤس سے دس منٹ دور پمز کی حالت تو آپ نے دیکھ لی ہے باقی بھی ہر جگہ یہی تباہی ہے تو یہ اٹھارہ گھنٹے کرتے کیا ہیں ؟
نا کسی ڈاکٹر کو آگ نے کچھ کہا.... نا کسی نرس کو آگ لگی اور نا کسی صفائی کرنے والے کو.
آگ آئی بچوں کو دیکھا جلایا اور چلی گئی.... اور ہم انکے کہے میں آ جائینگے جیسے.
اسپتال انتظامیہ سے لیکر وزیر صحت تک کو معطل کر کے جیل میں بھیجیں پتا چل جاے گا حقیقت کا کہ آگ لگی یا لگائی.
پمز میں پندرہ بچوں کی ہلاکت پر صبح سات سے لیکر دن کے ایک بجے تک لگاتار میڈیا کوریج کر رہا ہے حکومت کی غفلت انتظامیہ کی غفلت پر سوال کر رہا ہے بہت اچھا کر رہا ہے
بلوچستان سے پانچ کٹی پھٹی لاشیں کل پنجاب آئی کسی ایک نے کوریج کی ہو کسی ایک نے سوال کیا ہوتو بتائیے گا
جہاں “ بڑے صاحب “ کی کارکردگی کی بات آتی ہے وہاں یہ تمام میڈیا والے ان کے اینکر ان کے صحافی و تجزیہ نگاروں کو موت پڑ جاتی ہے
انسانیت کا درس یکطرفہ دینے والے منافقت کے اعلی درجے پر فائز ہیں
جب سرحد یونیورسٹی جیسے اداروں سے نرسیں اور میڈیکل اسسٹنٹ بن کے اداروں میں کوٹے کی بنا پر ٹھونسے جاتے رہی گے تو پھر یہی کچھ ہوتا رہے گا جیسا کل پمز میں ہوا ہے۔ پمز پر بھی سندھی بھولڑو کا قبضہ ہے۔
یا الٰہی جن کی غفلت سے معصوم بچے زندہ جل گے ان سب کے گھروں میں ایسی آگ لگا ان کو اس تکلیف کا مزہ چکھا تاکہ ان کو احساس ہو کہ جب آپ کے ذمے لوگوں کی جان اور مال ہو آپ اس کے لیے تنخواہ اور مراعات لیتے مگر پھر بھی اپنا کام نہی کرتے تو اللہ آپ پر عذاب مسلط کرے آمین
ذمہ داری کا احساس ختم ہو چکا ہے
ذمہ دار اور ایماندار شخص اس ہجوم میں ذہنی مریض بن جاتا ہے۔
چوری اور تکا بازی اور جگاڑ ، اب یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔
ایسا ہی ہونا ہے ایسا ہی چلنا ہے۔۔
ایک باپ کی کہانی سنیں جس کو اللہ نے چار سال بعد بیٹے کی نعمت سے نوازا لیکن اسپتال انتظامیہ یہاں مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے، اللہ پاک ان والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
وہ بگھی میں بادشاہ بن کر پھرنے والا بے شرم چور مین سئ ڈی اے کہاں ہے بلڈنگ سیفٹی چیک کرنا ان میں آگ سے متعلق پروٹوکول دیکھنا اس کا کام تھا سنا ہے فائر برگیڈ بھی دو گھنٹے بعد پہنچی ہے محسن نقوی کے اس لاڈلے کو کون پوچھے گا ؟
شہباز شریف صاحب نے سیکٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹایا ہے وزیر صحت بھی اگر رتی بھر شرم رکھتا تو چودہ بچوں کے مرنے پر استعفی دے اور محسن نقوی کا بھی استعفی بنتا ہے مگر ایک دو لو لیول افسران پر نزلہ گرا کر بزنس ایز نارمل چلتا رہے گا
وزیر اعظم صاحب جواب کون دے گا؟
پمز کے بچوں کے وارڈ میں آگ… اور 14 نومولود زندگیاں جھلس کر ختم ہوگئیں۔ جن بچوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا، وہ ہمارے نظام کی بے حسی کی نذر ہوگئے۔
یہ محض آگ لگنے کا واقعہ نہیں، یہ انتظامی غفلت، ناقص حفاظتی انتظامات اور جوابدہی کے فقدان کا المیہ ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی؟ سوال یہ بھی ہے کہ فائر سیفٹی کہاں تھی، ایمرجنسی انخلا کا نظام کیوں ناکام ہوا اور ان معصوم جانوں کی حفاظت کس کی ذمہ داری تھی؟
تحقیقاتی کمیٹی بنا دینا کافی نہیں۔ 14 نومولود بچوں کی موت 14 خاندانوں کا قیامت خیز دکھ ہے۔ ذمہ داروں کے نام اور ان کی غفلت قوم کے سامنے آنی چاہیے۔
کاش ہمارے ہاں سانحے صرف خبروں اور انکوائری رپورٹوں میں دفن نہ ہوتے۔
https://t.co/B8nlDiruE0