ن لیگ کو ایسی صحافت ہی پسند ہے کہ جہاں ن لیگ کسی سوال میں پھنس جاۓ تو فوراً اینکر کو بریک لینے کا حکم دے دیا جاۓ۔۔
اور اینکر بھی غریدہ فاروقی جنہوں نے کمال فرمانبرداری سے فٹافٹ بریک لے لی۔ 😂😂
ہمیں یہ رپورٹ ملی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو بنیادی قانونی حقوق نہیں دیے جا رہے، اور ایک طویل مدت سے عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے،
عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز، وکلاء اور فیملی افراد تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے، اقوامِ متحدہ کا بیان
اپنی بے ایمانی اور کرپشن کا ذمہ دار سسٹم کو ٹھہرانا ایک طرف تو بیغیرتی اور بے ضمیری ہے، اور دوسری طرف فوج کے سیاسی کردار کی پردہ پوشی۔
قاضی فراڈ پر تاریخ ہمیشہ جرنیلوں کی طرح لعنت ہی بیجھے گی۔
اے کسی اور کے اجڑے چمن، ۲۰۱۹ والی رقم آپکے مالکوں نے لا منسٹری سی دلوائے اور ۲۰۲۲ میں وفاقی حکومت جا چکی تھی اور عمران خان کی حکومت میں اگر سارے خان کیطرح کے ہوتے تو شاید بدلاؤ آ ہی جاتا افسوس کافی لوگوں کا ایمان تمہاری طرح کافی کمزور تھا
جب آپ تسموں کے ساتھ لٹکے ہوں تو بازو درد کرنا شروع ہو جاتے ہیں انہوں نے دانتوں کے ساتھ تسمے پکڑے ہوئے ہیں اور لٹک رہے ہیں مریم نواز نے سارا ہنر سہیلیوں میں منتقل کر رکھا ہے
عمران ریاض خان
ڈاکٹر یاسمین راشد کی دل دکھا
دینے والی وصیت💔
ہو سکتا ہے مجھے جیل میں موت آ جائے، حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔ اس لیے میں اپنی عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے وصیت کرتی ہوں کہ عمران خان کو کبھی اکیلا نہ چھوڑنا۔ 😢
یہ چیز ۔۔۔اسی طرح اکڑ کے جواب دینا چاہئے۔ عوام کو دو ہزار روپے بھی ہاتھ گھما گھما کر احسان جتلا کر دینے چاہئیں ۔اور عوام کے پیسوں سے پر تعیش جہاز بھی اکڑ کر خریدنا چاہئے۔ کیڑے مکوڑے جہاز پر سوال کیوں اٹھائیں!
1996 سے لیکر آج تک۔۔۔
جس جماعت کو ہم نے اپنا خون، پسینہ، وقت اور سرمایہ دیا، بلکہ اپنی جوانی تک اس کی جدوجہد پر قربان کی، کیا کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ میں جان بوجھ کر ایسا کوئی قدم اٹھاؤں گا جس سے اپنی ہی پارٹی کو نقصان پہنچے؟
اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میری ہر کوشش، ہر قدم اور ہر نیت کا مقصد صرف اور صرف عمران خان کی رہائی اور اپنی جماعت کے ساتھ وفاداری ہے۔
اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، غلط فہمیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں، مگر میری وفاداری نہ کبھی بدلی ہے اور نہ بدلے گی۔
میرا ضمیر گواہ ہے کہ میں نے ہمیشہ پارٹی، قائد اور کارکنوں کے مفاد کو اپنی ذات سے مقدم رکھا ہے
کل کا دن انتہائی اہم ہے۔
کل کے دن صبح نو بجے عمران خان اور بشری بی بی کو قید تنہائی میں رکھے جانے پر سماعت ہونی ہے
جبکہ 11:30 پر القادر کیس کی سماعت ہے۔
ممبران اسمبلی کو بھرپور تعداد میں پہنچنا چاہیے۔