جس شہر (ہنگو) میں ایک پختون بچے اعتزاز احسن نے حب الوطنی کے جس سربلند تاریخ کی بنیاد رکھی تھی اسی روایت کا علم آج پنجاب سے تعلق رکھنے والے کیپٹن ابوذر فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر نے اپنے ساتھیوں سمیت ایک دلربا شجاعت کے ساتھ مزید بلندی پر اٹھائے رکھا!
رہے پختونخوا اور پنجاب میں احساس کمتری کے شکار نفرتوں کے چند مریض ! تو ان کا کیا ذکرکہ وہ تو اب صدیوں پرانے جذام زدہ مجرموں کی مانند ہیں ۔ قابل نفرت بدبودار اور الگ تھلگ
ہم وہ ایران نہیں ہیں جو امریکی ٹینکوں پر سوار ہو کر عراق میں داخل ہوا تھا۔ اور نہ ہی ہم قاسم سلیمانی ہیں جو شام میں خواتین اور بچوں پر بمباری کے لیے پیوٹن کو ساتھ لانے کی غرض سے ماسکو گئے تھے۔ شامی صدر احمد الشراع کا بیان
اسد قیصر صاحب آپ تو ہمیں کم از کم اس بات کا بھاشن نا دیں
عبدالحفیظ شیخ
شوکت ترین
بابر اعوان
شہباز گل
شہزاد اکبر
ملک امین اسلم
عبدالرازق داود
ڈاکٹر عشرت حسین
شہزاد ارباب
ثانیہ نشتر
عاصم سلیم باجوہ
معید یوسف
فردوس عاشق اعوان
زلفی بخاری
ندیم بابر
ڈاکٹر ظفر مرزا
یہ سب آپ کے لیڈر کی کابینہ کا حصہ تھا اور ان میں سے کوئی ایک بھی منتخب نہیں تھا !
ورلڈ کپ جیتا تو میں عمران کی فین ہو گئی میں اس سے ملنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ایک دن کام سے واپس آئی تو دیکھا عمران بیٹھا تھا میرے گھر، میں شاک میں میں نے پوچھا ادھر کدھر تو کہتا دوست نے کہا شبنم کا گھر ہے تو میں نے کہا چلو مل آتے اور کھانا کھاتے جاتے،
اس دوران کھانا لگا تو اس نے ماں کو فون کیا بولا ماں میرا کھانا نا بنانا میں کھا کہ آؤں گا،
کتنا اسے ماں کا خیال تھا کہ 1985 میں فوت ہوئی ماں کو 1993 میں فون کر کہ بتا رہا تھا کہ کھانا نا بنانا....!!
میاں صاحب یہ وہ لوگ ھیں جو وقت آنے پر وعدہ معاف گواہ بنتے ھیں ۔ ایک دو بیان دے کر وفاداروں میں شامل ھو رہے ھیں۔ میں نے انکو اسمبلی میں بھی اور اسمبلی کے بعد بھی دیکھا ھے۔ اس گناہ گار نے انکو راۓ ونڈ میں اور موجودہ وزیر اعظم کو اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے دیکھا ھے۔ بقول راوی انکے خیال میں ن لیگ کی قیادت میں میں ھجوم تھاvacancy نہیں تھی اسلئے pti کا رخ کیا۔