Update now and experience the latest BelNet V1.4.1
Now available for Android with a revamped design & improved performance.
stay connected with BelNet.
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
وہ لوگ جو بن دیکھے ایمان لے آئیں گے –
قرآن نے اپنے آغاز میں ہی ایک بات واضح کردی کہ یہ سارا امتحان غیب کا ہے –خدا انسانوں کے سامنے نہیں آئے گا ، پردے نہیں اٹھائے جائیں گے ، انسان کے حواس خمسہ خدا کی ہستی کا ادراک کرنے میں ناکام ہوجائیں گے – جو شعور ہمیں باقی جانوروں سے ممتاز کرتا ہے ہمیں اسی شعور سے خدا کی ہستی کو پہچاننا ہے –
خدا کو پہچاننے کا یہ سفر ہر شخص کا الگ ہوتا ہے –اسی کو ہدایت سے تعبیر کیا جاتا ہے –ہدایت یعنی صحیح بات کا پتہ لگ جائے –
مکمل سچ جان لینا تو شاید ممکن نہیں مگر اہم یہ ہے کہ ہم سچ جاننے کیلئے اور ہدایت پانے کیلئے کتنے سنجیدہ ہیں
—خدا نے تو بتادیا ہے کہ وہ سامنے نہیں آئے گا –اب انسان نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بزدل بن کر زندگی خواہشوں کے تابع کردے یا بہادر بن کر اس امتحان کا مقابلہ کرے –
خدا نے ہماری ہدایت کے پیشِ نظر بہت ساری نشانیاں گردوپیش میں رکھ دیں اور اسکے بعد وہ ہماری زندگی میں بھی اتار ، چڑھاؤ ، خوشیاں اور مصیبتیں لاتا رہتا ہے تاکہ ہم ہر موقع پر چونک اٹھیں اور سوال اٹھائیں !
سوال اٹھائیں تاکہ ہمیں جواب دیا جاسکے –اب یہ انسان کے رویے پر منحصر ہے کہ وہ کتنے سچے دل سے اور کتنی سنجیدگی سے ہدایت کی طلب کرتا ہے –
وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ:
خدانے پیغمبر مرسل محمد ﷺ کو سورۃ القلم میں کہا کہ آپ اخلاق کے اعلی درجے پر فائز ہیں –
خدا چونکہ دلوں کے بھید جانتا ہے ، ہم کیا چھپاتے ہیں ، لوگوں سے کیسے برتاؤ کرتے ہیں ، ہمارے اچھے برتاؤ میں کیا مفادات چھپے ہوتے ہیں ، ہماری مٹھاس میں کیا غرض ہوتی ہے یا وقت ، حالات اور جگہوں کے پیشِ نظر ہم اپنے رویوں میں کیسے تبدیلی کرلیتے ہیں ، گھر میں کیسے ہوتے ہیں ،باہر کیسے نقاب اوڑھ لیتے ہیں- ان تمام کیفیات سے اللہ پروردگار عالم واقف ہوتا ہے –
پیغمبر آخرالزمان ﷺ اس دنیا پر خدا کے رابطہ کا آخری ذریعہ تھے –آپ کے بعد کسی پیغمبر نے نہیں آنا تھا ، خدا کا انسانوں سے رابطہ منقطع ہونے والا تھا ، اسی لیے ایک بھرپور اہتمام کیا گیا کہ قیامت تک کے انسانوں کیلئے ہدایت کا بندوبست کیا جائے اسی سکیم کے پیش نظر قرآن مجید فرقان حمید اتارا گیا- جسکو نبی مکرم ﷺ نے ایمانداری سے پہنچایا –
نبوت کے اس عرصہ میں جو تکالیف ، مشکلات پیش آئیں اس ساری جدوجہد سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں –اپنوں نے اور غیروں نے کس کس طرح تکالیف پہنچائیں –اگر آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین اور منافقین نے کس حد تک پستی میں گر کر نبی محمد ﷺ کی مخالفت کی ، کبھی سحر زدہ کہا، کبھی مجنون کہا ، جھٹلایا ، مجلسوں میں منہ بگاڑ کر راعنا کہتے –عجیب وغریب سوال اور فرمائشیں کرتے ، کبھی کہتے اے محمد ﷺ آپ اگر رسول ہو تو آپ کے تو اپنے باغات ہونے چاہیئں ، فرشتہ آپ کے ساتھ ساتھ کیوں نہیں رہتا، آپ کو قرآن کوئی عجمی سکھا جاتا ہے –
اگر سچے ہیں تو لاؤ عذاب ، آپ کیسے رسول ہیں بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ، اگر رسول ہیں تو پانی کا چشمہ جاری کرکے دکھائیں غیرہ وغیرہ --
الغرض قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین اور منافقین جتنی پستی میں گر سکتے تھے انہوں نے اس حد تک جا کر نبی مکرم ﷺ کی مخالفت کی مگر آپ ﷺ نے ان سب کیلئے خیر مانگی –بس خیر !
اتنی خیر کہ خدائے رب العالمین نے مہر ثبت کردی کہ اے پیغمبر آپ تو اخلاق کے انتہائی اعلی درجہ پر فائز ہیں –یعنی وہ خدا جو دل کے بھید جانچ رہا ہوتا ہے اس نے یہ جانچا کہ مشرکین اور منافقین کے اس رویے کے باوجود آپ سراپا ئے رحمت بنے رہے –
اتنے صدیق کہ نہ ماننے والے بھی یہ کہنے پر مجبور تھے کہ محمد ﷺ جھوٹ نہیں بول سکتے –
آج ہم ان کی یاد میں ایک دن منا کر گویا ان پر احسان جتاتے ہیں –مگر آپ ﷺ کس مقصد کیلئے آئے تھے ، کیا تعلیمات دے کر گئے ہیں اس سب سے ہمیں غرض نہیں ہے،ہم ان کے جیسا اخلاق اپنانے کیلئے تیار نہیں ، کیونکہ اسمیں محنت زیادہ ہے ، اسمیں قربانی ہے ، اس میں ہمیں اپنے اندر کچھ تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں اور وہ ہمیں منظور نہیں ہیں –
We're excited to announce that Beldex has secured a new round of funding, led by @Sigma_VC and supported by leading venture capital firms.
This investment will accelerate product development, ecosystem growth, and our vision of building privacy infrastructure for Web3.
قرآن میں اچھے کام کرنے کا کہا جاتا ہے ، برے کاموں سے روکا جاتا ہے- اچھے کاموں کا بھی ہمیں پتہ ہے اور برے کاموں سے بھی ہم واقف ہیں –اور کچھ گزری قوموں کے قصے ہیں وہ ہم بیسیوں بار سن چکے ہیں –ازبر یاد ہیں
--پھر قرآن میں ایسا کیا ہے جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے تاکہ وہ قرآن کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں --؟
جب انسان پہلی بار قرآن کو پڑھتا ہے تو اسکے محسوسات کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں –اسکی مثال ایسے ہے جیسے بنجر زمین جو پتھر بن چکی ہو اس پر بارش برسے تو وہ زیادہ ردعمل ظاہر نہیں کرتی –بلکہ پانی فورا سے پہلے خشک ہوجاتا ہے اور زمین بنجر کی بنجر رہتی ہے –
انسان کا دل بھی دنیا کے معاملات میں الجھ الجھ کر سخت اور بنجر بن چکا ہوتا ہے – جب وہ قرآن کو اٹھاتا ہے تو وہ اس میں زیادہ کشش نہیں پاتا –کیونکہ قرآن دل میں اترنے سے پہلے انسان کے اندر موجود میل کچیل سے ٹکراتا ہے اور واپس لوٹ جاتا ہے --
ہوسکتا ہے کسی کیلئے یہ صرف کتابیں باتیں ہوں لیکن یہ سچ ہے کہ جب انسان اپنا آپ دنیا کو وقف کردیتا ہے –آخرت کی یاد ، خدا کی باتوں کو بس عقیدے کی چیز سمجھ کر کونے میں رکھ دیتا ہے تو یہ نور اندر داخل نہیں ہوتا بلکہ اسکا ذائقہ بھی پھیکا لگتا ہے—
اس کیلئے کوشش کرنا پڑتی ہے –فارمولا سادہ ہے ، برسوں کا میل کچیل دنوں میں نہیں دھلتا –لیکن جب دھل جاتا ہے پھر قرآن کی مٹھاس محسوس ہوتی ہے—پھر یہی دنیا جس کے پیچھے انسان ہلکان ہوا پھرتا ہے ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں رہتی --!
مدینہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کو ایک طرح سے سیاسی اقتدار حاصل ہوچکا تھا—آس پاس کے قبائل کے مابین معاہدات ہورہے تھے –اس دوران قبیلہ بنی نضیر معاہدہ توڑدیتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملہ کرتےہیں-- قبائلی تمدن میں معاہدہ توڑنے کی سزا کے تحت قبیلہ بنی نضیر کو علاقہ بدر کردیاجاتا ہے –
اس سارے سیاسی پس منظر کا نقشہ سورۃ الحشر میں کھینچا گیا ہے –
دوسری طرف مسلمانوں کی بڑھتی طاقت دیکھ کر قریش مکہ بھی غصے سے آگ بگولا ہورہے تھے اور جلتی پر تیل کا کام اردگرد کے یہودی قبیلے کر رہے تھے –سنہ 05 ہجری میں ایک منظم بھرپور حملہ کی نیت سے قریبا دس ہزار کی نفری کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیلئے نکل کھڑے ہوئے –مشرکین مکہ اور اہل کتاب کے قبائل بھی ساتھ تھے –
اس جنگ کو جنگ احزاب یا غزوہ خندق کہا جاتا ہے جسکی تصویر کشی سورۃ احزاب میں کی گئی ہے –
اب خدا کیسے معاملات کرتا ہے یہ دیکھتے ہیں –ایک منظم ، مسلح لشکر نے آپکو مدینہ کے اطراف سے گھیر لیا ہے –مسلمان محصور ہوچکے ہیں –وہ یہ جانتے ہیں کہ دشمن کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہم ان سے لڑ نہیں سکتے –خدا کا رسول بھی مدینہ میں موجود ہے –
مسلمانوں میں ہر طرح کی کیٹگری موجود ہے –کچھ مومنین ہیں ، کچھ کچے پکے ہیں کچھ منافق ہیں جو دل سے خدا کے پیغام کے قائل تو نہیں ہیں بس دنیاوی مفادات کے تحت خود کو مسلمان کہلوانے کا دعوی کرتے ہیں –مشورے مشاورت ہورہی ہے –
کسی نے کہا ہمیں باہر جا کر لڑنا چاہیے ورنہ ہم کمزور سمجھے جائیں گے –کسی نے کہا انصار کے حفاظتی قلعوں(آطام) میں عورتوں اور بچوں کو محصور کردیا جائے اور مرد باہر لڑیں گے –ایک صحابی نے کہا کہ مدینہ کے شمالی سمت جہاں سے دشمن گھوڑوں سمیت مدینہ داخل ہوسکتا ہے خندق کھود دی جائے اور یوں اس فیصلہ کو پسند کرلیا گیا –
خندق کھودی جارہی ہے –دشمن کے لشکر نے مدینہ کے اطراف میں پڑاؤ ڈال لیاہے –محاصرہ 27 سے 30 دن جاری رہا مگر وہ خندق پار کرنےمیں ناکام رہے –دشمن کی خوراک کم پڑنے لگی –نفری تھکنے لگی –ادھر مسلمانوں کو زور زور سے ہلا دیا گیا –
قرآن کہتا ہے کلیجے منہ کو آرہے تھے اور مسلمان شدید ترین آزمائے گئے ، زور زور سے ہلا دیئے گئے –کمزور لوگ پیغمبر کے پاس آکے کہتے ہمیں گھر جانے دیجیئے بچوں کی خبر لے آئیں –خندق پر جنکی ڈیوٹی لگائی گئی تھی وہ بھی تھکنے لگے –بس ایک جماعت تھی جو خدا پر بھروسہ کرکے مضبوط ایمان سے کھڑی تھی –
یہود کے ایک قبیلہ نے اس دوران اپنا معاہدہ توڑ دیا اور بغاوت کردی اور یوں مسلمانوں کو مزید مضطرب کردیا –منافقین کہنے لگے کہ خدا اور اسکے رسول نے ہمیں جھوٹا وعدہ کیا ہے کہاں ہے اللہ کی مدد --؟
جب خدا کی آزمائش کی چھلنی لگ گئی تب خدا کی مدد آگئی –آندھی چلی اور مہینہ بھر سے حصار باندھے دشمنوں کے خیمے ٹوٹ گئے –انکے دلوں میں دہشت بیٹھنے لگی اور ایک ہی رات میں وہ واپس پلٹ گئے –یوں چند چھڑپوں کے بعد مسلمانوں کو فتح ہوگئی--
مگر اس ساری محاز آرائی میں ایک طویل ، تھکا دینے والی آزمائش برپا ہوئی –خدا نے کسی جگہ یہ نہیں کہا کہ بس بیٹھ جاؤ اور فتح ہوجائے گی –نہیں –ایمان والوں نے بھرپور جنگ لڑی –تمام تر حکمت علی کو بروئے کار لایا گیا --خندق کھود کر مسلح افواج کی ڈیوٹی لگائی گئی –
کمزور لوگ ، منافقین اور مومنین سب کے دل جانچے گئے ، خدا نے کسی جگہ کسی پر کوئی کشف طاری نہیں کیا بلکہ مکمل طور پر آزمائش کی گئی –پھر خدا نے اپنی مدد بھیجی اور مدد بھی کیسے بھیجی –کسی ظاہری سبب کو نہیں اپنایا بلکہ دل پھیر دیئے –دشمن دہشت زدہ ہو کر واپس لوٹ گئے --!
بڑھاپے کی کمپنی : --
انسان نے چاہے امیری میں زندگی بسر کی ہو یا غریبی میں جب عمر ڈھلتی ہے تو اپنے ساتھ اکلاپا (اکیلا پن ) لاتی ہے –بچوں اور جوانوں کے پاس دنیا کے نئے چیلنجز موجود ہوتے ہیں - وہ بوڑھے لوگوں کو بس آلہ دعا سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے –آپکی چارپائی گھر کے ایک کونے میں مختص ہوجاتی ہے –بچوں کو لگتا ہے وقت پر روٹی دے دینا ہی بوڑھے لوگوں کی ضرورت ہے –
کچھ کیسز میں اولادیں اپنی شکلیں ہی گم کرلیتی ہیں –وہ باپ اب بچوں کو کیسے کہے کہ تم وہی ہو جن کی قلقاریوں سے میری ہر صبح ہوتی تھی –میں اپنی جوانی تم پر لٹاتا رہا تاکہ تم میرے خواب پورے کرو—
مگر زندگی ایسا نہیں کرتی –دنیا بنائی ہی مفاد کے اصولوں پر گئی ہے بڑھاپا اکیلے ہی گزارنا پڑتا ہے –بچوں کو دیکھ دیکھ کر کڑھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ جنریشن گیپ کی وجہ سے دونوں کی فریکونسی ہی میچ نہیں ہوتی –بچے جتنا بھی کوشش کرلیں وہ بڑھاپے کا اکلاپا دور نہیں کرسکتے –
یہاں تک پہنچ کر وہ شریک سفر جنہوں نے مصلحتوں کے تحت زندگی اکھٹے بسر کی ہو وہ بھی الگ ہوجاتے ہیں –ماں چھوٹے بیٹے کے پاس چلی جاتی ہے تو باپ بڑے بیٹے کے پاس رہ جاتا ہے اور یوں زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوجاتا ہے –
جوانی میں جو کام ہم کرتےہیں بڑھاپا اسی کی پرچھائی بن جاتا ہے اور پھر دماغ کوئی نئی چیز سمجھنا یا سیکھنا بھی نہیں چاہتا—یہی وجہ ہے کہ جوانی کو اتنا آئیڈیل بنانا چاہیےتا کہ بڑھاپے میں روزانہ پچھتاوں کی پوٹلی کھول کر نہ بیٹھناپڑے –انسان کے اندر کا شیطان اسکو طول عمری کا وعدہ دیتا ہےکہ ابھی بہت زندگی پڑی ہے –
یہ کرلو ، وہ کرلو –یوں کرلو پھر ایسے کرلو -- خدا کو راضی کرنا کونسا مشکل کام ہے –ایک نماز کے بعد معافی مانگیں گے خدا راضی ہوجائے گا—
مگر —جب ہم جوانی ایک سراب کے پیچھے بھاگ بھاگ کر گزار دیتے ہیں تو بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں واپس لوٹ سکیں ، کیونکہ اصل امتحان تو جوانی کا ہی ہے جب بازوؤں میں طاقت ہو ، دماغ میں خیالات ہوں ، جذبات میں گرمی ہو –شعوری سطح بلند ہو تب ہم شر اور خیر میں سے اپنے ارادہ سے خیر کا راستہ چن لیں اور اپنے اندر کی شیطنت کو شکست دے دیں!—
بڑھاپے کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کتنا پیسہ کمایا –کتنے بنگلے بنائے یا کتنا بیلنس جمع کیا –جب ہم جوڑوں کے درد سے کراہتے ہیں تو کوئی چیز ہمیں اچھی کمپنی نہیں دیتی ماسوائے ہمارے خیر کےکاموں کے جو ہم نے جوانی میں کیے ..
زمین پر شر نہیں پھیلایا ، خدا کے پیغام کو سنجیدہ لیا –ظلم سے مال نہیں کمایا –بے حیائی اور لغویات میں عمر بسر نہیں کی –قرآن میں ایک جگہ ہے کہ شیطان ہمیں طولِ عمری کا وعدہ دیتا ہے –وہ شیطان کوئی باہر سے نہیں آتا جو ہمیں بتاتا ہےکہ ابھی بہت زندگی پڑی ہے –وہ ہمارے اندر کا شیطان ہے –وہ ہمارا اس دنیا کو دیکھنے کا نظریہ ہے جو ہمیں یہ دھوکہ دیتا ہے کہ یہی اصل ہے جو نقد ملتا ہے اس پر دھیان دو –ہوگی آخرت ، آتی رہے گی، دیکھ لیں گے ابھی بہت عمر پڑی ہے !
ہمارے محلے کے فیروز چاچا جو چاچا فیضو کے نام سے مشہور ہیں پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں اب کافی بوڑھے ہوچکے ہیں –پچھلے دنوں بیوی کا اپریشن تھا تو ڈاکٹر صاحب نے چھوٹے کا گوشت کھلانے کو کہا –
چاچا فیضو غریب آدمی ہیں وہ ہفتہ دس دن بعد بمشکل برائلر مرغی پاؤ بھر لے آئیں تو وہی انکی کل عیاشی ہے اس میں بکرے کا گوشت لینا چاچا کیلئے دیوانے کا خواب تھا—سارے راستہ وہ سوچتے ہی آئے –
ان کے دو بیٹے ہیں، ماشاء اللہ سے دونوں بال بچے دار مگر وہ بھی مزدوری پیشہ ہیں –ایک کسی وڈیرے کا منشی ہے اور دوسرا چھابڑی وغیرہ لگاتا ہے –چھوٹا گوشت تو شاید وہ بقرعید پر بھی نہ کھاتے ہوں گے –خیر چاچا نے سوچا کہ چھوٹے کا نہ سہی بچھڑے کا یا کٹے کا گوشت خرید لاتا ہوں وہ پاؤ بھر لینے کی ہستی تو ہے –
گھر سے جمع پونجی اٹھا کر گوشت کی دکان پر چل پڑے ، راستے میں چائے کے ڈھابے پر اکبر بھائی ملے، حال احوال پوچھنے کے بہانے ذرا بیٹھ گئے –باتوں باتوں میں چاچا نے بتایا کہ گوشت لینے جارہا ہوں تو اکبر بھائی نے چونک کر چاچا کو دیکھا اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگے 'فیضو چاچا ، ادھر حرام گوشت ملتا ہے –'
چاچا تو ایسے اچھلے جیسے کرنٹ لگا ہو اور پھر طنزیہ سا منہ بنا کر کہنے لگے اکبر بھائی جھوٹ مت بولو ، خدا خوفی کرو ہم مسلمان ہیں یار ایسا کیسے ممکن ہے –فیضو چاچا ایک فیصد بھی اسکی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے انکو لگا کہ شاید اکبر بھائی میرا مذاق اڑا رہے ہیں –
اکبر بھائی اپنی با ت پر مصر رہے بلکہ ساتھ بیٹھے شخص کو سارا قصہ سنا ڈالا اور کہنے لگے 'بھائی آپ بتاؤ چاچا کو حرام گوشت کے بارے میں –' پاس بیٹھا شخص بھی نہایت سنجیدگی سے بتانے لگا کہ اکبربھائی سچ کہ رہے ہیں بلکہ اس شخص نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے پولیس بھی پکڑ کر لے گئی تھی حرام گوشت بک رہا تھا –
چاچا فیضو وہاں پر تو چپ ہوگئے وہ زیادہ بحث کے عادی نہیں تھے مگر ان کا دل ابھی بھی نہیں مان رہا تھا چاچا کو لگ رہا تھا یہ مذاق کر رہے ہیں -- بھلا کوئی مسلمان کیسے حرام گوشت اپنے بھائیوں کو بیچ سکتا ہے –نہیں نہیں—ایسا ہو ہی نہیں سکتا—ان کا دل زور زور سے اس کی نفی کررہا تھا –لیکن شک کا بیج پڑ چکا تھا –وہ گوشت لیے بغیر ہی گھر لوٹ گئے –
بیوی نے خالی ہاتھ دیکھ کر آنکھوں سے استفسار کیا تو چاچا فیضو ٹھنڈی سانس بھر کر اسکے پاس بیٹھ گئے اور اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیکر گویا ہوئے ' میں نے تو آج بڑی عجیب بات سنی ہے بھلیئے لوکے-یہاں حرام گوشت ملتا ہے –'
"کیا--؟" چاچا فیضو کی بیوی کا ری ایکشن چاچا کے ری ایکشن سے بھی شدید تھا جیسے وہ اچھل کر چارپائی سے گر نے ہی والی تھی—چاچا فیضو نے ہوٹل والی ساری بات دہرادی مگر چاچا کی بیوی پھر بھی نہ مانی وہ بھی بس ہر بات کے اختتام پر یہی کہنے لگتی " کوئی مسلمان ایسا کیسے کرسکتا ہے؟--"
دونوں میاں بیوی یہ ماننے کیلئے تیار نہیں تھے کہ ایک مسلمان جو یہ سمجھتا ہو کہ اسے خدا کے پیش ہونا ہے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو حرام گوشت کیسے بیچ سکتا ہے –لیکن ایک صورتحال پیش آچکی تھی تو چاچا کی بیوی نے کہا آپ برائلر ہی لے آئیں وہ بھی گوشت ہی ہوتا ہے –بس سامنے رہ کر بنوائیے گا –
چاچا بھی "ہوں –" کہ کر دوبارہ سوچوں میں ڈوب گئے –ذہن میں وہی سوال بار بار آرہا تھا –کیا مسلمان بھی ایسا کرسکتا ہے--:؟
#Urdu #Story
انسان جب بے رحم مادی قوانین کا مشاہدہ کرتا ہے تو خیال کرتا ہے کوئی خدا نہیں ، بس ایک نظام ہے جو چل رہا ہے –لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں زمانے کے حالات انکی موت کا تعین کرتے ہیں –
سائنسی طلباء جو اس نظریے سے متاثر ہوتے ہیں انکو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تھیوری آج کی نہیں ہے بلکہ جب سے انسان اس دنیا میں آیا ہے ایک بڑا طبقہ خدا کے وجود کا انکاری رہا ہے –قرآن بھی صراحت کرتا ہے کہ پیغمبروں کو بھی انہی سوالات کا سامنا کرنا پڑا کہ کہاں ہے خدا ؟ اگر ہے تو دکھایا جائے –کونسا عذاب ،اگر ہے تو لایا جائے –
سورۃ الجاثیہ میں تو باقاعدہ اس تھیوری کی تفصیل کی گئی اور اسکے پیدا ہونے کی وجہ بھی بتا دی: ” اور وہ کہتے ہیں کہ بس ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں بس زمانے کی گردش ہی ہلاک کرتی ہے۔ حالانکہ اس کا انہیں کوئی علم نہیں ہے، وہ محض اٹکل پچو (گمان) سے کام لیتے ہیں۔''
قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ وہ ایک ہی جملے میں علم کا سمندر ڈال دیتا ہے –قرآن کہتا ہے کہ ان لوگوں کو علم نہیں ہے بس یہ انکا گمان ہے—آج بھی سائنس کے پاس اپنی بات ثابت کرنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے –سائنس زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ اتنی بڑی کائنات اور اسکے اندر موجود اتنی حیرت انگیز ریاضی اور فزکس دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سپرانٹیلی جنس نظام موجود ہے اور وہ ایک ہی دماغ ہے جو یہ ڈیزائن بنا رہا ہے –
وہ اسکو فطرت کے قوانین کہتی ہے جبکہ مذہب اسکو خدا کہتا ہے –
قرآن چونکہ علم سے محبت کرتا ہے وہ اندھا دھند تقلید اور پیروی کو مسترد کردیتا ہے اسلیئے وہ خدا کو پہچاننے کیلئے خود غوروفکر کی دعوت دیتا ہے لیکن اسکی بنیاد علم ہونا چاہیے نہ کہ انسان کی نفسانی خواہشات—
یہی بات اس جملہ میں خدا نے سمجھائی ہے کہ اگر انسانوں کےعلم نے اس بات کا احاطہ کرلیا ہے کہ کوئی خدا موجود نہیں ہے تو اپنی دلیل اور برہان پیش کریں –خدا نے تو اپنی موجودگی کی نشانیاں ہر جگہ پھیلا رکھی ہیں ---یہ سوال آخرت میں بھی خدا پوچھے گا کہ تم میرا انکار کس بناء پر کرتے تھے حالانکہ تمہارا علم تو میری باتوں کا احاطہ نہ کرسکا پھر کیا دلیل تھی تمہارے پاس میرے انکار کی --؟
دوسری طرف کمزور لوگ جب دنیا میں ظلم و ستم ، ناانصافی اور گھٹن دیکھتے ہیں تو وہ بے صبرے ہو کر چلا اٹھتےہیں کہ کہاں ہے خدا –یہ جھنجھلاہٹ فطری اور خدائی امتحان کا حصہ ہے اگر انسان کو الارم نہ کیا جائے جھنجھوڑا نہ جائے تو وہ شتر بے مہار سرپٹ دنیا کے پیچھے دوڑتا رہے –
انسان اگر صحیح جگہ پر کھڑے ہو کر تدبر کرے تو ہر ذرے میں خدا اسکو نظر آئے – ایک مذہبی سکالر سے کسی نے سوال پوچھا کہ یہ جو کچھ بتایا جاتا ہے موت کے بعد ان میں سے کچھ بھی آخرت میں نہ ہوا پھر؟ انہوں نے فرمایا کہ –موت کے بعد اگرسب مٹی میں مل گئے تو ہم اور آپ سب برابر ہوگئے –لیکن اگر اٹھ گئےتو پھر تو وہ سب کچھ ہوگا جو بتایا گیا ہے --!
#Urdu
دنیا کا ہر شخص کسی نہ کسی مذہب کو مان رہا ہے ہر شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ ہمارا مذہب امن کا درس دیتا ہے مگر امن کہاں ہے؟ کیا آپکو کسی جگہ امن نظر آتا ہے؟
لوگ برے ہوتے ہیں مذہب برا نہیں ہوتا پھر برے لوگ یہ دعوی کیوں کرتے ہیں کہ وہ مذہب کو مانتے ہیں ؟کیا مذہب کو ماننے سے مراد اسمیں درج کوئی بات نہیں ماننا ہے؟
کیا برے لوگوں کو مذہب سے دستبردار نہیں ہوجانا چاہیے جب اسمیں لکھی کوئی بات ماننی ہی نہیں ؟ کم ازکم معاشرہ خود کو کیٹگرائز تو کرسکے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے پیغام کو کھیل تماشہ سمجھتے ہیں ان کا خدا کی اس دنیا میں رو بہ عمل سکیم سے کوئی لینا دینا نہیں ۔۔
انکا مقصد اس دنیا کا مال و متاع اور عیش و عشرت ہے ، اور اس دنیا کو کمانے کیلئے وہ کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں ،
وہ اپنے اقتدار کے حصول کیلئے قتلِ ناحق کرسکتے ہیں ، اپنی جنسی ہوس کیلئے معصوم بچیوں کا ریپ کرسکتے ہیں ، پیٹ کا جہنم بھرنے کیلئے غریبوں کا استحصال کر سکتے ہیں ، رشوت ستانی ، مال میں ملاوٹ ، ناپ تول میں کمی انکے نزدیک ایک فنکاری سے زیادہ کچھ نہیں ،
انسان کے اندر بیٹھے شیطان نے بھی کیا سبز باغ دکھائے ہیں کہ انسان تو ہے ہی خطا کا پتلا ، انسان کوئی فرشتہ تھوڑی ہے ، بس گناہ تو ہوتے رہیں گے جب تک زندہ ہیں بس خدا مہربان ہے معاف کردے گا ، خدا نے اتنی سنجیدہ کائنات بنا کر ہمیں زمین کا اقتدار دیا اور ہمارا رویہ اتنا غیرسنجیدہ ؟
اللہ الصمد
اللہ بے نیاز ہے ، قرآن خدا کی دو صفاتِ بے نیازی کا ذکر کرتا ہے ، اول یہ کہ اللہ غنی ہے یعنی بے نیاز ہے اور پھر وہ الصمد بھی ہے ، اہل علم نے اسکا ترجمہ بھی بے نیازی کیا ہے مگر ان دونوں میں ایک لطیف سا فرق ہے جس سے ان الفاظ کی معنویت سمجھ میں آتی ہے ۔۔
اللہ غنی ہے سے مراد اسکو کسی کی حاجت نہیں ہے ، وہ زمان و مکان ، زمین و سمان ، جن و بشر ، سورج چاند الغرض وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ، اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ، وہ عدم سے وجود دے سکتا ہے اسلیے اگر یہ ساری کی ساری کائنات اسکی نافرمان ہوجائے یا وہ اس کائنات ہی کو مٹا دے نئی دنیائیں آباد کردے وہ بے نیاز ہے ۔۔
الصمد یعنی خدا بے نیاز ہے اس ساری کائنات کو اس کی حاجت ہے ، ہر چیز جو اس کائنات کے نظم میں شامل ہے وہ اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے کسی نہ کسی چیز کی محتاج ہے ، آگ لکڑی کے بنا نہ جلے تو بارش بادل کے بنا نہیں برسے ، ہم اگر اپنے انسانی ماحول پر نظر ڈالیں تو ہر شئے ہی دوسری سے جڑی ہوئی ہے ، ہماری اپنی زندگی نجانے ہزاروں کروڑوں عوامل کی محتاج ہے ۔۔اور یہ تمام عوامل الٹی میٹ خدا کی توجہ سے ہی کام کررہے ہیں ، یہ سب کچھ اسکا محتاج ہے ۔۔
یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے ، یہ خدا کی دونوں صفات بتاتی ہیں کہ وہ کامل ہستی ہے ، وہ غنی ہے یعنی وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے وہ الصمد ہے کہ ساری کائنات اسکی محتاج ہے ۔۔
#Urdu #Adab 🌱
جسم کو فٹنس کی ضرورت رہتی ہے –سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کونسے وٹامن کونسے کیلشئیم اور سبزیاں پھل کھانے چاہیئں اور کس طرح صبح اٹھ کر جاگنگ ، واک کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنے جسم کو لمبے عرصے تک تندرست رکھ سکیں –اسی طرح روح بھی تندرست غذا کی محتاج رہتی ہے –ہم چونکہ سائنسی زمانے میں پیدا ہوئے ہیں جہاں ہم ان نفسی علوم سے ناآشنا ہیں لیکن اسی دنیا میں ایک دور نفسی علوم کا تھا جبکہ ایک دور ریاضیاتی اور فزکس کے علوم کا بھی رہا ہے –خوابوں کی تعبیر کا علم ہاتھوں کی لکیروں کا علم یہ سب علم کسی نہ کسی دور میں اپنے انتہائے کمال تک رہے ہیں –ہمیں قرآن بھی کچھ مثالیں دیتا ہے جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو خوابوں کی تعبیر سکھائی گئی –ہاروت ماروت کے قصے –سلیمان علیہ السلام کی دربار میں تخت اٹھانے کا واقعہ یا پھر اہرام مصر جیسے شاہکار جو آج بھی دنیا کیلئے ایک معمہ ہیں یہ سب علوم اسی دنیا میں رہے –لوگوں نے نفسی علوم بھی دریافت کیے آج بھی جو لوگ یوگا –میڈیٹیشن اور دھیان لگانا جیسی مشقیں کرتے ہیں اسکے پیچھے نفس کی دریافت ہے –ہم روح کی فٹنس جیسی لذت سے آشنا نہیں ہیں کیونکہ ہم مادہ پرستی میں الجھ گئے اور اس فن کے عالم بھی اب نہ رہے –قرآن جیسی پاکیزہ الہامی کتاب ہمارے پاس موجود ہے لیکن ہمیں اسکی تعلیم و تربیت سے آشنا اس طریقہ سے کیا نہیں گیا –حالانکہ قرآن یہ دعوی کرتا ہے کہ دلوں کی بیماریوں کی پاکیزگی اور شفا ء اس میں ہے –روح کی پاکیزگی –نفس کا اطمینان پانا یا دل کی بیماری یہ سب جسم سے متعلق نہیں ہیں یہ وہی نفس اور روح کو فٹنس دینے کیلئے دوا ہے جسکو ہم اختیار نہیں کرتے – ہمارے نفوس بیمار ہیں ہمارے گھر میں دوا بھی پڑی ہے !
#Urdu #Today 🌱
وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ:
خوفناک اور تاریک رات کے شر سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں جب کہ وہ ہر طرف چھا جائے یا گہری ہوجائے –
زیادہ تر اہل علم نے غاسق سے مراد تاریک رات لیا ہے جب کہ کچھ علماء اسکو انسانی دماغ پر چھا جانے والی تاریکی بھی کہتے ہیں جس سے عقل اورانسانی تدبیریں سب معطل ہوجاتی ہیں –
تاریک رات کا شر کیا ہوتا ہے--؟
انسانی مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ چور ، ڈاکو ، لٹیرے اور بدکار لوگ رات کی تاریکی میں زیادہ ایکٹو ہوتے ہیں اسکے علاوہ موذی جانور ، کیڑے مکوڑے یا دیگر حشرات الارض بھی رات کی تاریکی میں زمین پر نکلتے ہیں –جب چاند اپنی آخری منازل پر ہوتو رات کی تاریکی بذات خود ایک پراسراریت اور وحشت اپنے ساتھ لاتی ہے --اندھیرے میں ایک انجانا خوف اور واہمہ بھی ہوتا ہے –
سائنس واضح کرتی ہے کہ اندھیرے کی وجہ سے ہمارا دماغ کا وہ حصہ جو خطرے کو بھانپتا ہے زیادہ ایکٹو ہوجاتا ہے –اندھیرا چھانے سے نیند آتی ہے جس سے انسان کی مدافعت اور الرٹنس بھی کم ہوتی ہے –
رات کا نفسیاتی شر بھی انسان کو متاثر کرتا ہے دن کے ہنگاموں سے آزاد ہو کر جب رات کو انسان بستر پر آتا ہے تو تنہائی ، ڈپریشن اور منفی خیالات کا ایک طوفان انسان کو گھیر لیتا ہے –بیمار کیلئے رات پہاڑ جیسی ہوتی ہے --
غاسق اذا وقب حکمت اور نفسیات کا ایک پورا سمندر ہے —خدائے کائنات کہتا ہے رات کے شر سے پناہ مانگا کرو—جب انسان اس شعوری احساس کے ساتھ خدا کی پناہ میں آجاتا ہے تو وہ گویا ایک محفوظ ترین حصار میں آجاتا ہے
–وسوسے اور ڈر جو انسانی دماغ بُنتا ہے وہ چپ ہوجاتا ہے –ذہنی سکون اور روحانی اطمینان کا براہِ راست تعلق انسان کے امیون سسٹم سے ہے ۔ جب خوف اور ٹینشن ختم ہوتی ہےتو جسم کے اندر شفا دینے والے طبعی نظام بہتر طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں--!
نفسیاتی مسائل کو ہمارا معاشرہ ایڈریس نہیں کرتا حالانکہ یہ دن بہ دن بڑھ رہے ہیں –زندگی کی چھوٹی موٹی الجھنیں تو جسم تندرست رکھنے سے بہتر ہوجاتی ہیں لیکن کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جنکی کونسلنگ کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ جب دماغ الجھ جائے یا کوئی ڈر اپنی جڑیں مضبوط کرلے تو اسکو وہاں سے دیکھنا پڑتا ہے جہاں سے ابتداء ہوئی –
ہمارے ہاں ان مسائل کا الٹا مذاق اڑایا جاتا ہے، الجھے ہوئے شخص کو پاگل کہ کر چھیڑا جاتا ہے یا عجیب و غریب مشورے دیئے جاتے ہیں ، لوگوں میں بیٹھا کرو ، تنہائی تمہیں کھا گئی ہے ، فضول مت سوچا کرو ، ہنسا کھیلا کرو وغیرہ وغیرہ –
اگر کوئی الجھا ہے تو ہم اسکو سپیس بھی نہیں دیتے تاکہ وہ اپنی گرہیں خود کھول لے بلکہ ہم کچوکے لگانے کے کام پر لگ جاتے ہیں جس سے مزید الجھنیں جنم لیتی ہیں –کچھ دن پہلے میں فیس بک پوسٹس پڑھ رہا تھا جن میں کچھ خواتین کے نفسیاتی مسائل بیان کیے ہوئے تھے گو کہ ان میں اکثر کہانیاں ہوتی ہیں جن کا مقصد ویوز اور کمنٹس لینا ہوتا ہے مگر ان پوسٹس کے نیچے کمنٹ پڑھ کر محسوس ہوا کہ ہمارے ہاں بلکل بھی نفسیاتی مسائل کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر تمسخر اڑایا جاتا ہے –
جب ایک الجھے ہوئے شخص کو معاشرہ بھی بیمار ملے تو وہ مزید گھٹن محسوس کرتا ہے –اسے لگتا ہے جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ کسی کو سمجھ ہی نہیں آرہی ہے –دنیا بھر کی تمام نعمتیں میسر ہونے کے باوجود ذہن اگر الجھا ہو تو سب کچھ بدذائقہ لگتا ہے—
اسے اگر ہم ایک لفظ سے تعبیر کریں تو وہ سکون قلب کا نہ ہونا ہے –جب اندر کی حالت مطمئن نہ ہو تو باہر کاسب کچھ بے معنی لگتا ہے –ہمارے ہاں جب نفسیاتی مسائل بہت خطرناک ہوجاتے ہیں تو ماہر نفسیات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے مگر شروع میں جب یہ پنپ رہے ہوتے ہیں تب انہیں سنجیدہ نہیں لیا جاتا—
چونکہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں اسطرح کے مسائل کا حل تو نفسیاتی معالج بہتر طور پر دیتےہیں مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نے روح کو غذا دینا بند کی ہوئی ہے –ہمارا محور و مرکز اب یہی مادہ زندگی ہے اور نفسانی خواہشات کی تکمیل ہے—
خواہشات کی اس دوڑ میں مسائل جنم لیتے ہیں کیونکہ یہ دنیا بنائی ہی امتحان کے اصول پر گئی ہے تو یہاں کامل کچھ بھی نہیں مل سکتا –الجھنیں ، آزمائشیں تو بہرصورت چمٹی رہیں گی مگر انکے درمیان رہ کر سکون قلب پانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ جہاں آپ بے بسی محسوس کریں سرنڈر کردیں اور خدا کی رحمت کی چھتری تلے آجائیں –
اپنے اخلاقی وجود کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں –غیبت ، بدگمانی ، ملاوٹ ، جھوٹ ، بددیانتی جیسی اخلاقی برائیوں سے پیچھا چھڑائیں --قرآن کو ترجمہ کے ساتھ اپنی زندگی میں لے آئیں –قرآن نے تقریبا ان ساری نفسیاتی الجھنوں کو ایڈریس کر رکھا ہے جو ہمیں پیش آتی ہیں اور انکے محرکات بھی بتا رکھے ہیں –
پھر قرآن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ خدا بہت طاقتور ہے –یہ احساس کہ خدا واقعی طاقتور ہے جیسے جیسے انسان اپنے اخلاقی وجود کو پاکیزہ کرتا ہے اس کے اندر سمانے لگتا ہے۔۔۔اور جب انسان کے اندر یہ احساس سما جائے کہ سب سے طاقتور ہستی میرے ساتھ ہے تو باہر جتنا بھی شور ہو انسان کا اندر مطمئن رہتا ہے--!
#Urdu #اردو #Motivation 🌱
نواز شریف کے دورحکومت میں ہر سال محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیاں آیاکرتی تھیں –تمام گریجویٹ بچے بڑے پرجوش ہوا کرتے تھے –ہر سال ایک فضا بن جاتی تھی --اتنا زیادہ کوٹہ ہوتا تھا کہ قریبا سب بچے ہی روزگار کے قابل ہوجاتے تھے
–جو اپنی فیلڈ میں مہارت پا لیتے وہ اپنی فیلڈ میں جگہ بنا لیتے جن بچوں کی اپنی فیلڈ میں گرپ مضبوط نہ ہوپاتی انکو یہ امید ہوتی تھی کہ درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہوجائیں گے جہاں روزگار بھی میسر ہوجائے گا او رجو کمی بیشی دوران تعلیم رہ گئی وہ بھی پوری کرلیں گے اور یوں ہر سال ایک پوری کھیپ برسرِروزگار ہوجایا کرتی تھی –
اب مجھے نہیں معلوم -کیا اساتذہ کی تعداد ملک میں پوری ہوچکی یا تعلیم ہی کو ہم نے بطور ریاست خیرآباد کہ دیا ہے -- کیونکہ میں بھول نہیں رہا تو عرصہ دس سال سے تعلیم کے شعبہ میں نئی بھرتیاں نہیں کی گئی ہیں –
بے روزگاری تو بڑھ ہی رہی اس کے ساتھ ایک اور قباحت نے جنم لیا –چونکہ درس و تدریس کا شعبہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کیلئے بہت موزوں مانا جاتاہے اس کی وجہ ایک تو اسمیں فیلڈ ڈیوٹی کا مسئلہ نہیں ہوتا ، اوقات کار بھی لکھے پڑھے ہوتے ہیں اور دوران ڈیوٹی مردوزن کا اختلاط بھی محدود ہوتا ہے اسلیئے ہر پڑھا لکھا گھرانہ کوشش کرتا ہے کہ ان کی بیٹی لیکچرر بنے یا سکول ٹیچر ہوجائے اسلیئے زیادہ تر گھرانے سائنسی مضامین کی بجائے بچیوں کو آرٹس کی تعلیم دیتے ہیں –
اب یکایک پالیسی بدل گئی اور اساتذہ بھرتی کرنا ہی بند کردیئے –اس سے ان تمام گریجویٹ لڑکیوں کا بھی استحصال ہوا جنہوں نے پچھلے دس سال آرٹس میں ڈگریاں لیں –ریاست کو انہیں بتانا چاہیے تھا کہ ہم شعبہ تدریس کو علی گڑھ کا تالا لگانے جارہے ہیں اب سے آپ کسی ٹیکنیکل یا سائنسی فیلڈ میں داخلہ لیں –
اس میں شبہ نہیں کہ دنیا کے طور طریقے بدل رہے ہیں –اب وہ روایتی تعلیمی نظام کافی نہیں ہے اس میں جدت لانا وقت کی اشد ضرورت ہے لیکن --چونکہ ہم جدت نہیں لاسکتے تو اسکو بند کردیا جائے ؟ --
پھر یہ صرف روزگار کا مسئلہ نہیں ہے تعلیم تو بنیادی اکائی ہے معاشرے کے پروان چڑھنے کی –آپ تو بنیادی تعلیم سے ہی محروم کررہے ہیں –اہل علم کو چاہیے کہ اسے سنجیدہ لیں –جو بچا کھچا نظام تعلیم ہے وہ بھی اتنا مضحکہ خیز بنا دیا گیا ہے کہ اب تو بچے بھی اس پر ہنستے ہیں –پہلے عید کے دن سکول میں چھٹی ہوا کرتی تھی اب جس دن سکول کھلتا ہے وہ عید کا دن ہوتا ہے –
جو اس ملک کے مسئلے ہیں ان کو ڈسکس کیا جانا چاہیے نہ کہ فلاں ٹک ٹاکر نے ناشتے میں کیا کھایا اور فلاں نے کیا پہنا –چلیں آپ یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ آپ کی تو گزر جائے گی کیونکہ ابھی لگ رہا ہے کہ دلی دور ہے مگر آپ کی نئی نسل کا کیا بنے گا ؟ ان کو آپ کیا دے کر جا رہے ہیں ؟ آسائشیں تو جو آپ دے رہے ہیں وہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے ، تعلیم پر تو کوئی اتنا زور نہیں لگتا ؟ بس تھوڑی سی سنجیدگی کی ہی ضرورت ہے –
اس ملک کی دو نسلیں اب سے کچھ سالوں بعد منظر عام پر آجائیں گی ایک جنریشن زی اور دوسری الفا جنریشن –اور یہ تعداد میں کروڑوں ہیں –آپ جانے انجانے میں انکو اپاہج بناتے چلے جارہے ہیں –
اس کائنات میں بڑی سنجیدگی ہے –ہر چیز متانت اور وقار سے آگے بڑھ رہی ہے –دن اور رات کبھی نہیں ٹکراتے –سورج اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے –چاند ستارے سب قوانین فطرت کے مطابق چل رہے ہیں –ہر چیز ایک نظم میں بندھی ہوئی ہے –ہر چیز میں ایک توازن اور ہم آہنگی ہے –ہر چیز جو وجود رکھتی ہے ایک مقصد عظیم رکھتی ہے –ایسا تو نہیں لگتاکہ یونہی ایک مادے کا ڈھیر اٹھا اور اس نے اتنی بڑی کائنات میں ہر طرف خوشبو اور رنگ بکھیر دیئے ہوں –اسکے ہر ذرے میں سنجیدگی ہے اسکو تخلیق کرنے والے نے ہرگز کوئی کھیل کود کی چیز نہیں بنایا –جب ہر چیز ایک مقصد رکھتی ہے تو یہ ساری کائنات بغیر مقصد کیسے ہوسکتی ہے ؟--
وہ تخلیق کار جس نے انسان جیسا شاہکار بنایا اور اسکو پھر شعور جیسی نعمت دے کر ممتاز کیا –پھر اس شعور میں اپنی پہچان رکھی –اب وہ ہمیں نظر تو نہیں آتا مگر ہر طرف نظر آتا ہے –
#Urdu #Motivation
پاکستان کی مہنگائی :
پاکستان بننے کے بعد مستقلا جس چیز نے ترقی کی ہے وہ مہنگائی ہے ، مہنگائی پاکستان کی ایک ایسی بہترین پراڈکٹ ہے جس میں ہر سال دوگنا چوگنا اضافہ ہوتا ہے مہنگائی کو حکومتیں بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، پالیسیاں بدلنے سے کوئی دقت نہیں ہوتی ، موسموں کا سیزنوں کا بارشوں کا فصلوں اور پھلوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے..
اسکی مستقل مزاجی داد طلب ہے کہ یہ ہر سال اپنے پچھلے سال کا ریکارڈ توڑتی ہے –پاکستان میں مہنگائی کا مزیدار پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں جو چیز ایک دفعہ مہنگی ہوچکی بس ہوچکی دوبارہ وہ سستی ہونے کی غلطی نہیں کرتی اسلیے عوام الناس اس مغالطے میں کبھی نہیں رہی کہ شاید کبھی چیز سستی ہوجائے اسلیئے لوگوں کے پاس جتنا ہوتا ہے اور جو چاہیئے ہوتا ہے وہ اسکو سٹاک کرنے کی جدوجہد کرتا ہے –
مہنگائی خاص و عام کا فرق کیے بغیر ہر اس طبقہ پر اثرانداز ہوتی ہے جو حلال کھانے سے شغف رکھتے ہوں –یہاں چیز سستی ہوجانا ایک بریکنگ نیوز ہوتی ہے اور ہمارے ہاں تقریبا ہر بریکنگ نیوز بعد میں مبینہ خبر کے درجہ سے ہوتی ہوئی غلط خبر ثابت ہوتی ہے –
مہنگائی کی ایک وجہ تو ہماری معصوم اشرافیہ رہی ہے لیکن ہماری ریاست بھی بڑے کھلے دل کی واقع ہوئی ہے –یہاں باہر سے لوگ آکر بزنس کرتے ہیں لیکن وہ پیسہ اکھٹا کرکے باہر لےجاتے ہیں –یہاں پر رہنے والے بھی اگر کسی بڑے بزنس سے تعلق رکھتے ہیں تو وہ بھی پیسہ اکھٹا کرکے باہر لے جاتے ہیں –اگر کوئی سرکاری نوکر بھی کسی بڑے عہدے پر براجمان ہو تو اسکی بھی اولین ترجیح ریٹائرمنٹ کے بعد پیسہ سمیٹ کر باہر چلے جانا ہوتا ہے –
سیاست دانوں کے تو کیا ہی کہنے وہ تو یہاں کے ہوتے ہی نہیں ہیں –تو کل ملا کر آپ یہ کہ لیں کہ مہنگائی کے ثمرات سے اشرافیہ تقریبا محروم رہتی ہے –
مہنگائی کی ترتیب انتہائی دلچسپ ہے یہ درجہ بدرجہ کچھ یوں منازل طے کرتی ہے—ایک دن صبح اٹھتے ہی آپکے علم میں آتا ہے کہ پٹرول مہنگا ہوچکا ہے –آپ سرجھٹک لیتے ہیں کہ میرے پاس تو موٹربائیک ہے مجھے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا –گاڑیوں والے جانیں اور پٹرول جانے ---لیکن یہاں آپکا اندازہ اور سوچنے کا انداز دونوں غلط ہیں –
جیسے ہی بیگم کی آواز اجی سنتے ہو ناشتہ کیلئے انڈے کون لائے گا ہر وقت بستر ملا ہوا ہے تو آپ ہڑبڑا کر باہر جاتے ہیں اور پھر آپکے علم میں اصلا اضافہ ہوتا ہے کہ انڈا جو کل تک 20 روپے کا تھا 30 کا ہولیا –اس وقت آپ کی آنکھ صحیح معنوں میں کھلتی ہے اور آپ دکاندار سے معصومانہ شکل کے ساتھ استفسار کرتے ہیں کہ بھئی راتوں رات یوں مرغیوں سے ایسا کیا ہوگیا –دکاندار ترش لہجے میں آپکی طرف دیکھے بغیر کہ دیتا ہے بھائی رات سے پٹرول مہنگا ہوگیا ہے --
-اور آپ چند لمحے کھڑے رہتے ہیں کہ شاید دکان والا آپ سے مہنگائی اور پھر اس ناانصافی کے مدعا پر کچھ بحث مباحثہ کرے گا لیکن آپکو یہاں سے بھی کچھ انڈوں کے ساتھ مایوس لوٹنا پڑتا ہے --اسی ترتیب کے ساتھ جب رکشہ والا آپکے بچے کو سکول لے جانے کیلئے آتا ہے اور سیدھم سیدھ20 روپے کرایہ بڑھا دیتا ہے تو آپکو اپنے بچے کی تعلیم پر نظرثانی کرنا پڑتی ہے کہ اس بھنڈی کے شکل والے نے پڑھ لکھ کر کونسا بل گیٹس بن جانا ہے
–لیکن اس خیال کو جلد ہی آپ سر سے جھٹک کر بچے کو رکشہ میں بٹھا کر رکشہ والے کی طرف غصیلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وجہ پوچھتے ہیں تو یہاں بھی رات سے پٹرول مہنگا ہوچکا ہوتا ہے—رکشہ بردار سے پوچھنے کی بجائے آپ دل میں ہی سوچتے ہیں کہ پٹرول 5 روپے مہنگا ہوا اور ایک بچے کا کرایہ 20 روپے بڑھا دیا –کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے –
ابھی جب آپ آفس پہنچ کر چائے منگوائیں گے تو وہ بھی آپکو احساس دلائے گا کہ رات سے پٹرول مہنگا ہوچکا ہے –
مہنگائی کس طرح اپنا چمتکار دکھاتی اور درجہ بدرجہ منازل طے کرتی آپ اندریں بالا پیراگراف میں پڑھ چکے ۔لیکن بالفرض محال وہی پٹرول اگر واپس کم ہو بھی جائے تو ہوجائے لیکن یہ چیزیں جو اسکے ساتھ بڑی ہوئی ہوتی ہیں یہ کبھی کم نہیں ہوں گی –
مہنگائی اور ہمارے ملک کی پالیسی بنانے والے لوگ یہ ایک ایسا تلخ موضوع ہے کہ اس کو چا ہ کر بھی انسان مزاح میں نہیں ڈھال سکتا ۔ !
#Urdu #Motivation 🌱