کاڈ صرف ایک تنظیمی نام نہیں بلکہ ایک ایسے کردار کی یاد اور علامت ہے جس نے اپنے سیاسی جدو جہد سے خواتین کو شعور سے آراستہ کرکے مزاحمت کے اصل معنی سمجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
Monitoring: The BLF has released another photograph of its female fighters, “Kaad.
Caption:
We will unleash war with an intensity that shakes the enemy to its core.
کاڈ صرف ایک نام نہیں بلکہ صدیوں کی مسافت اور قربانیوں کا نام ہے جس کو بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ایک نئی شکل دی ہے۔
تمپ سے جو سیاسی شمعیں اور شعور کی کونپلیں پھوٹیں وہ دالبندین اور تربت میں تناآور درخت کی شکل میں پورے بلوچستان کو سیراب کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔
لمہ! جب کاڈ کے سپاہیوں نے دشمن کے جسم پر گولیاں پیوست کی تو دشمن کو یاد آیا ہوگا کہ جس کریمہ کو ہم نے ماردیا، آج وہ کریمہ ترانگ ماہو بن کر دشمن کے قلعے میں قہر برساتی ہے اور کبھی کاڈ کی شکل میں تربت اور تمپ میں شعلے برسا کر گواہی دیتی ہے کہ کریمہ زندہ ہے، بلوچوں کی لمہ زندہ ہے۔
لمہ! آپ نے بلوچستان سمیت مکران میں جو سیاسی شعور کی شمع جلائی آج وہ شمع ایک آتش فشاں بن کر دشمن پر قہر برسا رہے ہیں۔ اور آپ جانتی ہے کہ بی ایل ایف نے آپ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس یونٹ کا نام کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن رکھا ہے۔
آپ آج بھی دلوں پر حکمرانی کرتی ہے۔
The Balochistan liberation front is the only armed organization in Balochistan to have formally established and deployed a women,s wing name after martyred Baloch leader, Banuk Karima Baloch,demonstrating it's widespread support across the region.
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے نو شکیل شدہ فیمیل یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن(کاڈ) کی تربت جوسک میں پہلی کاروائی جس میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔
میجر گہرام بلوچ
اس شعر میں شاعر عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں گھر میں فاقہ چل رہا ہے۔فوج کے کہنے پر پی ٹی آئی کو چھوڑ کر بھگوڑا ہوگیا ہوں اب مجھے یا حبا چوہدری عرف کاکڑ کو نوکری پہ رکھ دوں۔
بلوچ علیحدگی پسند ان تمام لوگوں کے دشمن ہیں جو بلوچستان میں عام آدمی کی زندگی بہتر کر سکتے ہیں، پہلے پنجابی اساتذہ کو بلوچستان سے نکلنے پر مجبور کیا گیا اس کے نتیجے میں بلوچستان کا پورا تعلیمی بیٹھ گیا اب ان چند لوگوں کو بھی ٹارگٹ کیاا جا رہا ہے جو زراعت اور صنعت کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں، اتنے بڑے علاقے کو جنگلی درندوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا جو پاگل کتوں کی طرح ہر ایک کو کاٹنا چاھتے ہیں، حکومت اور سیکیورٹی فورسز صرف منہ نہ دیکھیں سیاسی اور معاشی حکمت عملی بھی بنائیں!!
یہ صرف ایک عکس نہیں بلکہ بلوچ قومی تحریک آزادی کی مسافت کے چھبیس سالوں کی کہانی ہے جو بانک کریمہ سے شروع ہو کر ترانگ ماہو تک پہنچی اور یہ قافلہ یوں ہی رواں دواں رہیں گا جب تک آزاد بلوچستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔