“My father has always been an advocate for peace in Khyber Pakhtunkhwa. Please help us by raising your voice for him. He was taken from our home by the police and is still missing.”
Mashal Mohmand, the young son of PTI worker @SajjadMomand, appeals to everyone to raise their voice for his father, who was abducted by the regime, along with numerous other PTI workers, and remains a missing person. Families and children like Mashal are suffering under Asim Munir’s vindictive regime that continues to target members of Imran Khan’s party. #PakistanUnderFascism
سوات میں مراد سعید کے گھر کا سامان باہر پھینکنے اور ان کی معذور والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
مراد سعید کی والدہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ طویل عرصے سے بیمار اور کوما کی حالت میں گھر پر موجود ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے نازک اور تکلیف دہ حالات میں ایک پہلے سے متاثرہ اور بیماریوں سے نبردآزما خاندان کو مزید مشکلات میں ڈالنا، ان کے گھر کا سامان باہر پھینکنا اور بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی مبینہ کوشش کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور پختون روایات کے منافی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین پامالی کا معاملہ بھی ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی خاندان، بالخصوص بیمار خواتین اور بزرگوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت کسی بھی انتظامی اقدام کی آڑ میں سیاسی انتقام، قانون سے تجاوز اور شہریوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام فوری طور پر ان اطلاعات کی وضاحت کریں، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندان کے قانونی و انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
11 اکتوبر 2026 کو نیا پاکستان کے اینکر پرسن حسنین رفیق اور ان کے ساتھ فیلڈ پر موجود دیگر ٹیم ممبرز کو غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا گیا۔ 11 اکتوبر سے لے کر آج تک انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ کسی کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حسنین رفیق، شہزاد خان اور صبور کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔
آج دس دن گزر چکے ہیں۔ ان دس دنوں میں ہمارے گھر والوں پر کیا گزری ہے، یہ شاید الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری پریشانی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ہم صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے پیارے کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور کیا وہ خیریت سے ہیں؟ کیا ایک خاندان کو اتنا جاننے کا بھی حق نہیں؟
حسنین رفیق ایک صحافی ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ حسنین رفیق نے ہمیشہ اپنا فرض انجام دیا ہے اور صحافت کی ہے۔ ایک صحافی کا کام صحافت کرنا ہوتا ہے اور حسنین رفیق اپنا وہی فرض سرانجام دے رہا تھا۔ گورنر راج لگنے کے بعد حسنین رفیق سے جب ہمارا آخری رابطہ ہوا تو وہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود تھا۔ کال کے دوران اس کے کمرے میں کچھ لوگوں کے داخل ہونے اور شور شرابے کی آوازیں سنائی دیں۔ کسی نے پوچھا کہ کس سے بات کر رہے ہو، اور اس کے بعد فون بند ہو گیا۔ تب سے آج تک ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
حسنین رفیق کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنا صحافتی فرض نبھایا، اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے کوریج کی اور سچ دکھایا۔ سیاست کے ساتھ ساتھ ملک میں کوئی دل خراش واقعہ ہو، جیسا کہ حال ہی میں پمز میں نومولود بچوں کا واقعہ، یا پھر سیلاب جیسی ناگہانی آفات ہوں، اس نے ہر چیز کی کوریج کی۔ یہ ایک آزاد ملک ہے اور ایک آزاد ملک میں رہنے والے ہر شہری کو اظہارِ رائے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کا حق ہونا چاہیے۔
حسنین نہ تو کوئی صوبائی وزیر ہے اور نہ ہی کسی پارٹی کا ٹکٹ ہولڈر۔ اس نے ہمیشہ صرف اور صرف کوریج کی ہے اور سچ دکھایا ہے۔ لیکن کوئی صحافی ہو، سیاسی کارکن ہو یا عام شہری، کسی کو بھی اس طرح اٹھا کر لاپتہ کر دینا اور اس کے گھر والوں کو بے خبر رکھنا انتہائی افسوسناک امر ہے۔
اگر حسنین رفیق یا اس کے ساتھیوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کے گھر والوں اور وکیل کو ان سے ملنے دیا جائے۔ اور اگر کوئی الزام نہیں تو پھر انہیں کس بنیاد پر اتنے دنوں سے ان کے خاندانوں سے دور رکھا گیا ہے؟ آخر وہ کون سا قانون ہے جو کسی شہری کو اس طرح لاپتہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے؟
ہم صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور تمام ذمہ دار حکام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں۔ آج سوال صرف حسنین رفیق اور اس کے ساتھیوں کا نہیں بلکہ ہر اس صحافی کے تحفظ کا ہے جو اپنے فرائض انجام دینے کے لیے فیلڈ میں جاتا ہے۔
ہماری التجا ہے کہ حسنین رفیق، شہزاد خان اور صبور کے بارے میں فوری طور پر بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، انہیں ان کے اہلِ خانہ سے رابطے کی اجازت دی جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔
ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے، صرف اپنے پیاروں کی خیریت، ان کی سلامتی اور ان کے قانونی حقوق مانگ رہے ہیں۔
#ReleaseHusnainRafique
قبائلی علاقوں کو 70 سال تک FCR جیسے کالےقوانین کےتحت “FATA Secretariat” سے چلایا گیا- 2018 سے FATA کو KP میں ضم کر کے کئی سال کی محنت سے وہاں ادارے قائم کیےگئے
اب ایمرجنسی کےنام پر فاٹا سیکرٹریٹ کی طرز پر ARDC نامی بلا کو مسلط کر دیاگیاہے
پہلی میٹنگ بھی فوجی جرنل چئیر کر رہاہے
فاٹا اور KP کے انضمام کے سب سے بڑے مخالف TTP والے تھے- وہ یہ دیکھ کر سب سے ذیادہ خوش ہوں گے- کیونکہ وہ تو ایسی ہی روز بروز بدلتی ہوئی ناکام فوجی پالیسیوں، فوجی تجربوں، اور معاشرے میں پھیلی ناانصافی اور سسٹم کی تباہ حالی کی پیداوار ہیں- اور انہیں ایسے ماحول میں ہی مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بار پھر صرف ایک عقل کل شخص اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے قبائلی علاقوں کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور پورے صوبے کی اکثریتی سیاسی جماعتوں اور عوام کے منتخب نمائندوں کی 8 سالہ محنت پر پانی پھیر رہا ہے-
آج ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق بورے والا کے چک 187/EB میں رہائیشیوں نے الزام لگایا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص بلال کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا۔
مطلوب شخص تو نہ ملا مگر سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکار ایک سترہ سالہ لڑکی کو گھر سے اٹھا کے لے گئے
ون فائیو پہ کال کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ لوکل پولیس کو ریڈ کا کوئی علم نہیں، نہ انہیں لوپ میں لیا گیا ہے۔
بعد میں وہاڑی پولیس نے تصدیق کی بورے والا سی سی ڈی ٹیم نے بلال نامی ملزم کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ لڑکی کو لے کر نہیں گئے
مقامی رہائشیوں کے مطابق ون فائیو پہ کال کرنے اور ایشو کے سوشل میڈیا پہ ہائی لائیٹ ہو جانے کے باعث سی سی ڈی والے چند گھنٹوں بعد لڑکی کو واپس چھوڑ گئے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیا اندھیر نگری ہے
خواتین تو مریم نواز کی ریڈ لائین ہیں، پھر یہ کیا تماشا ہو رہا ہے؟
وزیر اعلی پختونخواہ سہیل آفریدی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ؛
درخواست گزار (محمد عامر، بھائی سہیل آفریدی) کو دستاب معلومات کے مطابق مورخہ 11-10-2026 کو، تقریباً دوپہر 02:00 بجے، وزیر اعلیٰ پختونخواہ کو پہلے صوبے کے سب سے بڑے آئینی ادارے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں غیر قانونی طور پر نظر بند کیا گیا اور بعد ازاں نامعلوم مسلح اور نقاب پوش افراد کی طرف سے سی سی پی او پشاور کی موجودگی میں، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے احاطے سے اغوا کر لیا گیا۔ درخواست گزار کی پاس یہ ماننے کی معقول وجوہات ہیں کہ وزیراعلی کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہو گا اور اسے وہاں اس کی مرضی کے خلاف رکھا جا رہا ہو گا۔ قانونی ذرائع سے ان کے مقام اور موجودہ حالت کا فوری طور پر پتہ لگایا جانا ضروری ہے۔ وزیرعلی کے اہل خانہ ان کی سلامتی، جسمانی تحفظ/حرمت اور آزادی کے بارے میں انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں، اور کسی بھی مزید نقصان کو روکنے کے لیے اس معزز عدالت کی فوری مداخلت کے خواہاں ہیں۔
There is no legal basis for a protective custody of @SohailAfridiISF or @BabarSaleemSwat. They are under illegal and criminal detention.
Similarly @JunaidAkbarMNA and @DrAmjadAliMNA are also held under habeas corpus.
There are precedents that will soon bite the other parties, especially the ones on treasury benches.
Islamabad suspended KP’s elected government on October 11. A week later the military governor invited foreign firms to extract and sell its minerals. The province’s mining register shows 20,900 km² of metal, lithium and gold reserved for auction, and the army’s copper mine in Waziristan paying the province 10% of profits. Here is how the emergency hands locals’ land to the army and foreign buyers.
https://t.co/41CQP4kxA5
آج مجھے ہاؤس اریسٹ سے رہا کر دیا ہے۔ اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوا ہے؟ کیا تم مجھے روک سکے ہو؟
میں فوج اور فوجیوں کی عزت کرتا ہوں، لیکن نہ عاصم منیر کو فوجی مانتا ہوں اور نہ انہیں فوج۔
میرے ساتھ چلنے والے غریب لوگوں پر ٹارچر کیوں کیا؟ اپنا زور انڈیا پر دکھاؤ! بلوچستان میں دکھاؤ! طالبان کے خلاف دکھاؤ! غریب کو مارنے سے طاقتور نہیں ہوجاؤ گے۔
ہمارے محسنوں پر انہوں نے ظلم کیے ہیں۔ قائدِاعظم سے لے کر مشرقی پاکستان تک، ایک ایک کا حساب تم سے لوں گا۔ جب تک میری سانس ہے اور جب تک تمہاری سانس ہے، یہ جنگ جاری ہے۔
Do not get involved or fall into the trap of blaming and attacking the likes of Murad Saeed, Sohail Afridi or anyone else for that matter. This narrative is being pushed by the regime, with the aim of picking us off one by one.
Instead, stand by your party, its leaders and your colleagues with grace, dignity and unity.
Take careful note of those pushing the regime’s agenda by creating further divisions and chaos under the guise of blame games.
Dividing us is their strategy. Standing united MUST be ours!
🚨🚨
تو اب ہماری 8 سال کی بیٹی اور 5 سال کا بیٹا بھی محفوظ نہیں؟ جبر کی ہی نہیں بے غیرتی کی بھی نئی تاریخ رقم ہورہی ہے۔ شرم آنی چاہئے ایسی بیوروکریسی کو جو آج اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اپنے کولیگ سے ایسے بھیانک اور شرمناک واقعہ پر غیرت نہیں دکھا رہے۔
آج ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے،ایک صوبہ ہے آدھے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی ہے،دو ہزار سترہ میں جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم نے ایک اختلاف رائے کیا تھا کہ فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے، لیکن فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا،میاں نواز شریف صاحب کے ذہن میں انضمام فاٹا عوام کے فائدہ میں تھا، آخرکار وہ صوبہ بن گیا اس صوبہ کے پہاڑ اور اس پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر زخائر وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ملکیت بن گئے، انضمام کے بعد ان تمام ذخائر اور وسائل پر صوبہ کے عوام کا حق ثابت ہو گیا، آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا اور صرف قبائلی علاقہ سابق فاٹا اور چار ضلعے صرف یہ بتانے کے لیے،یہ دھوکہ دینے کے لیے قوم کو کہ یہاں تو بدامنی ہے، اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو آج کل تو آپ کو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں زبردست مار پڑ رہی ہے اس کو کیوں باہر رکھا ہے؟
آپ کی چوری ہم جانتے ہیں، بدامنی کی بات کرتے ہو، دہشت گردی کی بات کرتے ہو، اگر بات بدامنی کی ہے تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، اگر گورنر راج اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ بدامنی ہے، اگر ایمرجنسی اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ بدامنی ہے تو پھر اس کا زیادہ حقدار صوبہ بلوچستان ہے،جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو آپ وہاں پر ان کی حکومت کو اڑانے اور وہ فاٹا جس کے ذخائر و وسائل صوبے کا حصہ بن چکے تھے آپ نے ایمرجنسی لگا کر ان کے تمام وسائل کو وفاق کے تابع بنا دیا ہے، کل جس ہاتھ سے آپ نے ان کو کچھ دیا تھا آج دوسرے ہاتھ سے آپ نے واپس چھین لیا ہے۔ یہ ملک تمہاری ملکیت ہے؟ تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ یہ عوام تمہارے نوکر ہیں؟ عوام تمہیں جانور نظر آتے ہیں؟ جیسا چارہ چاہو ان کے سامنے ڈال دو، یاد رکھو! آپ کے اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
Raiding Ikramullah’s official residence is one thing, taking away his 8 yr and 5 yr old children is the worst thing possible. Files and official vehicles were taken away but why his children. This is unprecedented and unacceptable.
Police did great filing a roznamcha, they could have not done anything at all. Those who are doing this are treading a dangerous path.
“شہباز شریف صاحب سے پوچھا کہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ مسلئہ کیا ہے؟ اس بات پر وہ اپنے لیڈر سے ملاقات چاہتے ہیں اور انکو علاج کے لیے اسپتال لانا چاہتے ہیں، اس مطالبے پر آپ لاشیں بچھائیں گے؟ میں صبح سات بجے آپکے پاس گیا، آپ دو گھنٹے کے اندر اندر گِر گئے؟ اتنے مجبور حکمران ہو تم؟ آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں۔ جو لوگ دھاندلی کے ذریعے آپکو اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی انہی کی مرہونِ منت ہے اور حقِ نمک ادا کررہے ہیں”۔
مولانا فضل الرحمان کا ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
صرف ایک ماہ کے دوران ایک سیشن جج، ایک ڈپٹی کمشنر اور ایک کمشنر بلوچستان سے اغوا ہو چکے ہیں۔ یہ ہے بلوچستان میں طرزِ حکمرانی کی صورتِ حال مگر ایمرجنسی خیبرپختونخواہ میں۔
🚨🔴 بریکنگ نیوز | انتہائی اہم
⚖️ حماد اظہر کا آج لاہور کی عدالت میں جج کے سامنے انتہائی اہم بیان!
🔴 مکمل بیان پڑھیے اور اصل آڈیو سنیے۔
"میں نے پہلے وہ فیٹف (FATF) والا سارا کیس جو ہے، وہ آپ کے سامنے رکھ دیا کہ یہ کل ہمارے لیے جو ہو رہا ہے یہاں پہ، یہ ہمارے لیے اس فورم میں ایک پرابلم کریئیٹ کرے گا، اور جس طرح ہم اس فورم سے نکلے ہیں، میرے سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
اور جو اس کے ہمارے اوپر سنگین نتائج آنے والے تھے، اور جہاں جہاں پہ پریشانی تھی اس چیز کی، وہ بھی میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔
خیر، بہرحال، وہ تو وہ جانیں اور فیٹف کا فورم جانے، لیکن یہ چیزیں جو ہیں، میں ہنڈرڈ پرسنٹ کہتا ہوں کہ یہ ہمارے حق میں نہیں جائیں گی۔
دوسری چیز یہ ہے کہ دیکھیں، میں بھی ایک وکیل ہوں۔ اس عدالت کا، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کل میں یہاں پہ کھڑا ہوں، میری جگہ کوئی اور ملزم ہوگا۔ آپ جج ہیں، آپ کی جگہ کوئی اور جج ہوگا۔
لیکن اس عدالت کا جو وقار ہے، جو نیک نامی ہے اور جو احترام ہے، وہ قائم رہنا چاہیے۔
Institutions are more important than personalities.
اب ہم یہاں پہ کر کیا رہے ہیں؟ اس میں یہ دیکھیے۔
ساڑھے تین سال بعد پراسیکیوشن نے اپنا ورژن بدل لیا۔ پہلے خود مان رہے ہیں ایف آئی آر میں کہ حماد اظہر موقع پہ موجود نہیں۔ ایف آئی آر کے اندر جو لوگ موقع پہ موجود ہیں، ان میں میرا نام ہی نہیں ہے۔
ساڑھے تین سال سے کسی جگہ انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ اُس دن میں گکھڑ منڈی میں موجود تھا، جو کافی سو کلومیٹروں کے فاصلے پر ہے لاہور سے۔
آج انہوں نے میرے سے ڈنڈا اور وہ بھی برآمد کر لیا، پٹرول بم۔
مطلب یہ کہ ہم تھوڑا سا تو احترام کریں اس عدالت کا اور اس کے قانون کا، جس کو ہم اس طرح blatantly misuse and abuse کر رہے ہیں۔
پچھلی دفعہ میں آیا تو یہاں پہ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے کہا کہ جی ابھی کچھ ریکور نہیں ہوا۔
آج کہہ رہے ہیں کہ پچھلی دفعہ ہی ریکور کر لیا تھا ہم نے۔ یعنی اپنی پچھلی دفعہ کی اسٹیٹمنٹ بدل لی اور ایک contemptuous قسم کی حرکت کی انہوں نے۔
چلیں، آخری چیز آ جاتے ہیں۔
سترہ دن سے میں ریمانڈ میں ہوں۔ پولیس کے، نہیں، سترہ دن پچھلے، اس سے پہلے اکیس دن، ٹھیک ہے؟
پچھلے سترہ دن کا میرے سیل کے اوپر لگا ہوا ہے کیمرہ۔ نکال کے دیکھیں، کوئی بندہ میرے پاس آیا ہے تفتیش کرنے؟ میرے سیل کا دروازہ کھول کے مجھے کوئی باہر لے کے گیا ہے؟
ریکارڈ موجود ہے، منگوا لیں۔ ابھی بات سچ کا سچ اور جھوٹ ثابت ہو جائے گا۔
اور اگر میں سچا ثابت ہوتا ہوں تو کیا کل جھوٹی ایف آئی آر کے اوپر جو قوانین ہیں...
مجھے سپریم کورٹ کے ایک جج نے بڑا عرصہ پہلے کہا تھا۔ وہ مجھے ملے، انہوں نے مجھے کہا کہ حماد بیٹا، جب بھی تم اگلی دفعہ آؤ اقتدار میں، تو سپریم کورٹ کے میرے اس جج کی اس بات کو یاد رکھنا کہ جعلی ایف آئی آر کے اوپر سخت سے سخت سزا ہے، اور جعلی گواہی دینے کے اوپر سخت سے سخت سزا ہے۔
اس کو تم نے ضرور لاگو کرنا ہے، کیونکہ جب تک اس کو تم لاگو نہیں کرو گے، یہ ہمارا سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا۔
یہ ایسے ہی ایف آئی آرز میں نمبر دے دیتے ہیں، ایسے ہی ٹھپے لگا کے آگے، کیا نام ہے، کبھی ایک بیان دے دیا، کبھی دوسرا بیان دے دیا۔
اچھا، آپ بندہ خود لاجکلی سوچیں، چلیں میں ملزم نہیں ہوں۔
ساڑھے تین سال گزر گئے اس واقعے کو، نو مئی کے۔ پٹرول بم اور ڈنڈا، یہ چیزیں اب برآمد ہو سکتی ہیں؟
مطلب وہ ساڑھے تین سال پٹرول بم اور ڈنڈا سنبھال کے رکھے گا؟
مطلب ایک کامن سینسیکل سی بات ہے، لاجیکل بات ہے۔
مجھے ابھی یہاں، میں بیٹھا ہوا تھا کرسی پہ، تو میرے وکیل بتا رہے تھے کہ یہاں پہ جو دوسرے میرے کولیگز آئے ہوئے ہیں، پارٹی کے بھی، وہ مجھے بتا رہے تھے کہ آپ کا جو کیس ہے، اکیس دن کا فزیکل ریمانڈ اور سترہ دن کا فزیکل ریمانڈ، بعد میں اڑتیس دن بنتے ہیں۔
وہ سپریم کورٹ کے بار روم میں بھی ڈسکس ہو رہا تھا کہ ایسے کبھی پہلے ہوا ہی نہیں کہ ایک پرچہ، جو سیاسی پرچہ، جس کا سب کو پتا ہے کہ جعلی تھی، جس کے اندر موقع پہ ملزم بھی موجود نہیں ہے، اس کو ہم نے اکیس دن اور سترہ دن کا فزیکل ریمانڈ دے دیا۔
اور آج اوپر سے اس کے اوپر ایک اور سونے پہ سہاگہ یہ جو contemptuous چیز ہوئی ہے کہ جو برآمدگی اپنی طرف سے شو کر رہے ہیں، جو پچھلی دفعہ شو نہیں کی تھی، یعنی وہ رپورٹیں بھی بدل گئی ہیں۔
میرا فرانزک ٹیسٹ ہوا ہے کافی دن پہلے، ہفتہ دس دن ہو گئے ہیں، وہ جو سارا سوشل میڈیا...
کہاں ہے اس کی رپورٹ؟
نکالیں میرا جیو ٹیگنگ، گکھڑ منڈی کی نکلے گی۔
نکالیں میری اس کے اوپر فرانزک کی رپورٹ۔ کیا میرا کوئی میچنگ ہو رہی ہے وہاں پہ جو لوگ وہاں موجود تھے، ان کے ساتھ؟
نہیں ہو رہی۔
تو پھر ہم کیوں اس عدالت کا بھی وقت ضائع کر رہے ہیں، اس عدالت کا وقار بھی تباہ کر رہے ہیں؟
دیکھیں، کل میں اکثر یہ افسروں کو بھی یہ بات کہتا ہوں کہ کل یہ ایکسکیوز نہیں مانی جائے گی کہ اوپر سے پریشر تھا۔
بھائی، بات یہ ہے کہ اگر آپ اتنے بدنصیب ہیں کہ اپنی چھوٹی سی نوکری بچانے کے لیے آپ جھوٹی گواہیاں دینے کے لیے تیار ہیں، آپ بے گناہوں پہ ناانصافی کرنے کے لیے تیار ہیں، تو آپ سے بدنصیب آدمی کوئی نہیں۔
کل روزِ حشر یہ قلم گواہی دے گا، یہ کاغذ گواہی دیں گے، آپ کا حلق گواہی دے گا۔
یہی ایسی عدالت لگے گی، صرف فرق یہ ہے کہ میرے علاوہ سب کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ میں بھی کٹہرے میں کھڑا ہوں گا، باقی سب بھی۔
اس دن میرا پورا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کہے گا اُس دن، اُس دن اللہ تعالیٰ کہے گا کہ اُس دن جو تم کہتے تھے کہ اپنی نوکری بچانے کے لیے اوپر سے مجھے پریشر تھا، اور میں نے...
آج بلاؤ اُس اوپر والے کو اور بچاؤ اپنے آپ کو اس عذاب سے جو میں تمہیں دینے لگا ہوں۔ اُس کو بلاؤ۔
تو یہ ایک فیکٹ ہے، فیکٹ ہے۔
تو یہ جناب، یہ ساری چیزیں ہو رہی ہیں۔ بڑے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو آج بے گناہوں پہ ظلم کر رہے ہیں، ناانصافی کر رہے ہیں، صرف اپنی پوسٹیں بچانے کے لیے۔
مجھے بڑا دکھ ہوا، مجھے آج بڑا دکھ ہوا کہ پچھلی دفعہ جب مجھے، میں سمجھا کہ جی ٹھیک ہے، کسی چیز کی ریکوری نہیں ہوئی کیونکہ میں موقع پہ موجود نہیں تھا۔
آج ریکوری انہوں نے کیسے کر لی؟
یہ تو کیس اب بہت آگے جائے گا۔ یہ تو شاید کیس اب ہائی کورٹ تک جائے، سپریم کورٹ تک جائے گا، اور میں اس کیس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کیونکہ میرے پاس ثبوت موجود ہیں کہ میں وہاں پہ موجود نہیں تھا۔
کیسے انہوں نے یہ ریکوری ڈال دی ہے؟
تو جج صاحب، آپ پہ بھی احترام سے یہ ایک چیز، ذمہ داری لاگو ہوتی ہے کہ جہاں پہ اس طرح کا mala fide behaviour شو ہوتا ہے، جہاں پہ اس طرح کا contemptuous behaviour شو ہوتا ہے، جہاں پہ عدالت کے سامنے ایسے جعلی دستاویز رکھے جاتے ہیں، جن کو چینج کیا جاتا ہے ایک کے بعد دوسری جگہ، جہاں پہ اس حد تک فورجری اور جھوٹ پیدا کیا جا رہا ہے کہ کامن سینسیکل بات ہی نہیں ہے کہ ساڑھے تین سال بعد پٹرول بم اور ڈنڈا جو ہے، وہ ریکور ہو سکتا ہے؟
اور کس نے تفتیش کی میرے سے؟
نکالیں ریکارڈنگ، نکالیں اس کی، میرے سیل کی۔
سترہ دن سے مجھے وہاں پہ آپ نے نکالا ہی نہیں دو ہفتے سے، تو آپ نے تفتیش کس نے کی میرے سے آ کے وہاں پہ؟
تو یہ سر ساری چیزیں ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس عدالت کے وقار کو آج مجروح کیا گیا ہے۔ ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کو، جو کہتا ہے کہ بے گناہ کو ایک دن بھی فزیکل ریمانڈ نہیں دینا چاہیے، اس کو بھی مجروح کیا گیا۔
مجھے اڑتیس دن کے، اب الحمدللہ مجھے حوالات کے فرش پہ گھر سے بہتر نیند آتی ہے، وہ مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے۔
لیکن جو اس ملک کے ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ کیا گیا، کیونکہ میں اس انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے ساتھ وابستہ رہا ہوں، میں پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکالنے میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کر چکا ہوں، تو میں ان سارے قوانین کو جانتا ہوں۔
اور میں جانتا ہوں کہ اس کو کس طرح اب abuse کیا جا رہا ہے اور ہماری محنت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
شکریہ۔"
27 bullet-riddled bodies found dumped across Balochistan in less than a week. But you won’t find a single line about it in Pakistan’s mainstream urban media, not a single tweet from prominent journalists, vloggers, or YouTubers. Baloch lives don’t matter in Pakistan proper.