خاندانی بادشاہتیں کم از کم محکمانہ فوجی آمریتوں سے تو بہتر ھوتی ھیں ۔ حکمران کو خاندانی عزت اور prestige کی فکر تو رہتی ھے .. یہاں تو بعد میں کہتے میں نہیں محکمہ تھا ۔۔میرا ضمیر جاگ گیا ۔ اب میں کتاب لکھوں گا
تلمیذ راجہ
بجٹ میں دفاع کی رقم دیکھ کے دادی مرحومہ سے سُنا پنجابی محاورہ یاد آ گیا جس کا سلیس اردو میں ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے
استنجاء فرمانے کو پانی میسر نہیں اور کھیتوں کو گنے کا رس لگایا جا رہا ہے۔
اسد رضا