میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز ش��مل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
خیبر پختونخوا میں آئی ایس آئی نے تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور منتخب نمائندوں کو اغوا کرنے کے لیے مبینہ طور پر ماہانہ تنخواہ پر گڈ طالبان کو بھرتی کیا ہے، لانگ مارچ کو روکنے اور خوف پھیلانے کے لیے مقامی طالبان کی ایک فورس بنائی گئی ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر
ہمارے کچھ ہمسائے دوست ہیں جو ثالث بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے وزیرِ اعظم کے ٹویٹ بھی امریکی لکھتے ہیں، بس میں بات کو زیادہ کھولنا نہيں چاہتا ... چھوڑیں، لیکن ہمیں سب پتہ ہے۔ ڈاکٹر محسن زنگنه رکن ایرانی پارلیمنٹ
اس میں کوئی شک نہیں افغانستان کے مسلمان بھی بہترین اور بہادر لوگ ہیں
اور انہوں نے ایران کا واقعہ ساتھ دیا پاکستان میں بیٹھی ہوئی یہ زائنسٹ ریجیم اپنے لیے خود ہی مذاق بن گئی امریکہ ان کے ٹویٹ بھی خود لکھتا ہے
لانگ مارچ بالقسط کا ساتواں روز، چارسدہ سے روانگی سے پہلے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب!
چارسدہ کے غیور عوام کے جذبے اور جنون کو سلام پیش کرتا ہوں، ہم اسی جذبے اور جنون کے ساتھ ظالم نظام کو درگور کریں گے،
11 تاریخ کو ملک بھر سے لوگ صوابی کی طرف روانہ ہوں گے، 13 تاریخ کو صوابی کے مقام پر ہی آگے کا لائحہ عمل دیں گے،
گورنر راج کی دھمکیاں دینے والے سن لیں اب بات کرسی اور اقتدار سے آگے نکل چکی ہے، میں اپنے قائد اور پختونوں کی زندگی کے لیے یہ کرسی کیا جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، ایک کرسی میری قیمت نہیں، دنیابھر کی دولت بھی جمع کر لیں تو مجھے خرید نہیں سکتے،
پختونوں کی عزت اور غیرت کو للکارنے سے پہلے پختونوں کی تاریخ پڑھ لینی چاہیے، یہ سیاسی جنگ ہے جو پرامن طریقے سے آئین اور قانون کے اندر رہ کر لڑی جاتی ہے،
ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے مگر اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم نے اسی ہزار جانیں دے کر جس امن کو بحال کیا وہ بند کمروں کے فیصلوں کی نذر کر دیا گیا،
ان کے ارادے خطرناک ہیں، ذاتی مفادات کے لیے خودساختہ دہشت گردی کو صوبے پر مسلط کر دیا گیا، یہ وقت ہے باہر نکلنے کا، زندگی، موت، عزت، ذلت اور رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی اور سے ڈرنے کی ضرورت نہیں،
کارکنان اور عوام اپنی منزل پر نظر رکھیں، ڈٹے رہیں، جنون زندہ رکھیں، ان شاءاللہ ہم کامیاب ہوں گے، ظلم پر مبنی نظام اور اپنے لوگوں کے خلاف کسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے۔
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
وزیراعلی سہیل آفریدی کا قافلہ مردان میں۔
عوام کا جوش و خروش دیدنی ہے
جس دن عمران خان انشاءاللہ ہمارے درمیان ہوں گے تو کیا ہی مناظر ہوں گے!
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
اللہ کے نزدیک کوئی بات بغیر عمل کے قبول نہیں ہے، اور ہر بات اور عمل بغیر خالص نیت کے قابل قبول نہیں ہے، اور کوئی بات و عمل اور نیت بغیر مطابق سنت نبوی کے قبول نہیں کی جائے گی۔
امالی شیخ طوسی، ج1، ص 385
“میرے پاس دو راستے ہیں، ایک یہ کہ وہ مجھے ماتھے پر گولی ماریں، اور دوسرا یہ کہ میں ان سے جیت کر دکھاؤں گا-”
وزیر اعلی سہیل افریدی کا لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا ۔
یہ ہے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی خیبر پختونخواہ بریگیڈیئر عمر شریف، جو لانگ مارچ کو ناکام بنانے، سہیل آفریدی کو قابو کرنے، اور ورکرز کو اغواء کروانے کا آپریشن لیڈ کررہا ہے۔ ممبر کے پی اسمبلی کو بھی یہی براہ راست فون کروا کر دھمکا رہا ہے۔
مزید رپورٹ بھی جلد سامنے آجائے گی!
گیارویں امام کی چار سفارشیں
امام حسن عسکری علیه السلام فرماتے ہیں:
اللہ اور موت کو کثرت سے یاد کرو، قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرو، اور محمد و آل محمد پر کثرت سے صلوات بھیجو اس لئے کہ صلوات کے دس حسنات ہیں، جس چیز کی ہم نے سفارش کی ہے اسے پر عمل کرو۔
تحف العقول، ص 890
اب وزیرِ مکرم صاحب، ذرا یہ بتائیے کہ ساڑھے 3 سو کی اسمبلی میں 37 سیٹیں جیت کر اقتدار پر قابض ہونے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے۔۔۔ چور اور ڈاکو کی سزا شریعت میں کیا ہے، جس نے 25 کروڑ عوام کے حقِ حکمرانی پر ڈاکہ ڈالا اور مینڈیٹ چوری کیا؟؟ مشتاق احمد خان
#pakistan@SenatorMushtaq
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کری��۔۔