ایک امریکی ماں اور ان کی دو بیٹیوں نے اسلام کی نعمت قبول کر لی۔ ☪️🤍
اللہ تعالیٰ انہیں ایمان پر ثابت قدم رکھے اور دنیا و آخرت میں کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲
🚨🚨🚨ایران نے 9 لاکھ کے قریب اس طرح کے ڈمی ٹینک جہاز راکٹ لانچر وغیرہ چین سے منگوائے تاکہ امریکا اسرائیل کو دھوکا دے سکیں- اب امریکا جن جہازوں یا راکٹ لانچرز تباہ کرنے کا اعلان کررہا ہے وہ اسی طرح کے جہاز ہیں
قبرِ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ — جنت البقیع
سیدنا عثمان بن عفانؓ، خلیفۂ سوم، دامادِ رسول ﷺ اور ذوالنورین کے لقب سے مشہور جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپؓ کی شہادت اور تدفین اسلامی تاریخ میں نہایت دردناک مگر عظمت بھرا واقعہ ہے۔
تدفین اور مقام
ابتدائی طور پر آپؓ کو "حَشّ کوکب" نامی مقام پر دفن کیا گیا، جو اُس وقت جنت البقیع کے ��یرونی حصے میں ایک باغ نما جگہ تھی۔ بعد میں یہ حصہ جنت البقیع میں شامل کر لیا گیا، اور آج آپؓ کی قبر مبارک جنت البقیع میں موجود ہے۔
شہادت
تاریخ: 18 ذوالحجہ 35ھ، بروز جمعہ
حالات: آپؓ روزے کی حال�� میں قرآنِ مجید کی تلاوت فرما رہے تھے، جب باغیوں نے آپؓ کے گھر کو محاصرہ کیا۔
آپؓ نے مسلمانوں کے خون سے بچنے کے لیے مدافعت کی اجازت نہیں دی۔
نبی کریم ﷺ نے آپؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا:
"ألا أستحيي من رجلٍ تستحيي منه الملائكة"
“کیا میں اُس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟” — صحیح مسلم
نمازِ جنازہ اور تدفین
فساد اور حالات کی وجہ سے آپؓ کی نمازِ جنازہ محدود صحابہؓ نے ادا کی، اور تدفین رات کے وقت عمل میں آئی۔ چند جلیل القدر صحابہؓ جنہوں نے اس میں شرکت کی، ان میں شامل ہیں:
حضرت علیؓ
حضرت زبیرؓ
حضرت طلحہؓ
حضرت مروان بن حکمؓ (بعض روایات میں)
شخصیت و اوصاف
تاریخی کتب میں آپؓ کی شخصیت یوں بیان کی گئی ہے:
درمیانہ قد، خوبصورت چہرہ
گھنی داڑھی، نہایت حلیم و نرم مز��ج
باحیا اور بے مثال سخی
مالی وسائل سے اسلام و مسلمانوں کی خدمت میں کثیر تعاون
غزوۂ تبوک میں نمایاں مالی امداد
قرآنِ مجید کی سرکاری تدوین اور مصاحف کی اشاعت آپؓ کے دور میں ہوئی
نبوی ﷺ کی بشارت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ما ضرّ عثمان ما عمل بعد اليوم"
“آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کرے، اسے نقصان نہ ہوگا” — ترمذی
یہ بشارت آپؓ کی عظیم خدماتِ دین اور قرآن کے ساتھ آپ کے قریبی تعلق کی تصدیق کرتی ہے۔
حوالہ جات:
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
صحیح مسلم، ترمذی
یہ قبر مبارک نہ صرف ایک تاریخی مقام ہے بلکہ ایک یادگار ہے جس میں حضور ﷺ کے داماد اور خلیفۂ ثالثؓ کی عظیم قربانی، تقویٰ اور خدمتِ دین کی یاد زندہ ہے۔
ایکــــ مرتبہ سردارانِ جنت، امـام حسن اور امـام حسین علیہما السلام بیمـار ہو گئـے۔ حضور نبی کریم ﷺ ان کی عیـادت کـے لیـے تشریف لائـے اور فرمــایا کہ ان کی صحت یابی کـے لیـے کوئی نذر مـانی جائـے۔
چنانچہ علی بن ابی طالب، فاطمہ الزہرا اور ان کی خادمہ فضہ رضی اللّٰه عنہم نـے اللّٰه تعالیٰ سـے عہد کیا کہ اگر شہزادے شفـایاب ہو گئـے تو وہ تین دن کـے ��وزے رکھیں گـے۔
اللّٰه تعالیٰ نـے شفـا عطـا فرمــائی اور سب نـے روزے رکھنـے شروع کر دیـے۔ گھر میں کھـانے کو کچھ نہ تھـا، لہٰذا سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ نـے “شمعون” نامی ایکــــ یہودی سـے اون کاتنـے کـے بدلـے کچھ جو حاصل کیـے۔
ایثـار اور قربانی کـے تین دن
سیدہ فاطمہ رضی اللّٰه عنہا نـے ان جَو سـے روٹیـاں تیـار کیں، مگر تینوں دن افطـار کـے وقت آزمـائش سـامنـے آ گئی۔
پہلا دن:
افطـار کا وقت ہوا ہی تھـا کہ ایکــــ مسـکین نـے دروازہ کھٹکھٹـایا اور عرض کیا:
“اے محمد ﷺ کـے اہل بیت! میں محتـاج ہوں، مجھـے کھانا دیجئـے۔”
سب نـے اپنی روٹیـاں اس مسـکین کو دے دیں اور خود پانی سـے افطـار کیا۔
دوسرا دن:
افطـار کـے وقت ایکــــ یتیم آیا اور بھوکــــ کی فریاد کی۔ اہل بیت نـے دوبارہ اپنـا کھـانا اس کـے حوالـے کر دیا اور خود فـاقہ کیا۔
تیسرا دن:
تیسرے دن ایکــــ قیدی دروازے پر آیا۔ اللّٰه کی رضـا کـے لیـے اس دن کا کھـانا بھی اسـے دے دیا گیا اور خود بھو��ـے رہـے۔
سورۂ دہر کا نزول
مسلسل تین دن کـے فـاقوں سـے چہرے کمزور ہو چکـے تھـے۔ جب رسول اللّٰه ﷺ نـے اپنی لختِ جگــر سیدہ فاطمہ اور اپنـے نواسوں کی یہ حالت دیکھی تو آپ ﷺ کا دل بھر آیا۔
اسی موقع پر
سورۃ الانسان
(سورۂ دہر) کی آیات نازل ہوئیں، جن میں ارشـاد ہوا:
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
“اور وہ اللّٰه کی محبت میں مسـکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتـے ہیں۔”
خلاصہ
یہ واقعہ ہمیں سکھـاتا ہـے کہ اہل بیت کی زندگی ایثـار، خدمت اور اللّٰه کی رضـا کـے لیـے تھی۔ انہوں نـے اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دی، اور اللّٰه تعالیٰ نـے ان کـے اس عمل کو قرآنِ کریم میں قیامت تکــــ کـے لیـے محفوظ فرمـا دیا۔
یہ سبق ہـے کہ اصل عظمت مـال میں نہیں بلکہ قربـانی میں ہـے، اور اصل کامیـابی اپنی خواہش کو پیچھـے رکھ کر اللّٰه کی رضـا کو آگـے کرنـے میں ہـے۔
غزوۂ حنین کے بعد نبی کریم ﷺ طائف سے واپس مدینہ کی طرف آ رہے تھے۔ آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، اور ساتھ ساتھ حضرت ابو رہم غفاریؓ بھی اپنی اونٹنی پر تھے۔
حضرت ابو رہمؓ کی اونٹنی بہت تیز اور قابو سے باہر تھی، اور وہ ڈر رہے تھے کہ کہیں ان کی اونٹنی نبی ﷺ کی اونٹنی سے نہ ٹکرا جائے۔ وہ بار بار مہار کھینچتے رہے، مگر ایسا ہوا جو ان کے دل میں ڈر تھا — اونٹنی ٹکرا گئی اور نبی ﷺ کے پاؤں کو ہلکی سی چوٹ لگی۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کی چھڑی سے ہلکا اشارہ کیا اور فرمایا:
"تم نے مجھے تکلیف دی ہے۔"
یہ سن کر ��بو رہمؓ شرم اور خوف سے بھر گئے۔ دل میں خیال آیا کہ شاید انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے، اور اللہ کی ناراضی کا خوف انہیں گھیر گیا۔ وہ کچھ دیر لوگوں سے الگ ہو گئے۔
شام کو واپس آئے تو معلوم ہوا کہ نبی ﷺ خود انہیں تلاش کر رہے تھے۔ دل میں خوف بڑھ گیا، مگر ہمت کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
جیسے ہی نبی ﷺ نے انہیں دیکھا، مسکرا دیے اور محبت بھرے لہجے میں فرمایا:
"شام کو میری چھڑی سے تمہیں تکلیف تو نہیں ہوئی؟"
ابو رہمؓ حیران رہ گئے۔ ڈانٹ کی توقع تھی، مگر یہاں شفقت اور محبت تھی۔ پھر آپ ﷺ نے قریب کھڑے بھیڑوں کے ریوڑ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
"یہ سب تمہارے لیے ہیں۔"
ابو رہمؓ خوشی اور حیرت سے بھر گئے — یہ 80 بھیڑیں تھیں۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نبی ﷺ کا اخلاق کتنا بلند تھا۔
غلطی پر ناراضی یا سختی نہیں، بلکہ محبت، شفقت اور احسان سے دل جیتنا آپ ﷺ کی سنت تھی۔
یہی وہ طریقہ ہے جس سے انسان کے دل نرم اور رشتہ مضبوط بنتا ہے۔
🔴 غزہ کے کراٹے کوچ شگالہ، اسرائیلی حملوں میں جم تباہ ہونے کے بعد بھی ہمت نہیں ہارے۔ وہ فلسطینی بچوں کو خیموں میں کراٹے کی تربیت دے رہے ہیں تاکہ کھیل کے ذریعے ان کے حوصلے بلند رہیں۔
برطانوی صحافی رابرٹ کارٹر نے اسلام قبول کر کے اپنا نام محمد علی رکھ لیا
اسلامی سفر کا آغاز قرآن مجید کے گہرے پیغام سے ہوا، جسے بے حد حیرت انگیز اور روحانی روشنی دینے والا پایا۔ محمد علی
آپ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں جلدی کر رہے ہیں لیکن اسرائیل نے شام لبنان عراق ایک ایرانی قونصل خانے اور غزہ کے اسپتالوں پر بمباری کی اس کے باوجود اسے کسی قسم کی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا
بین الاقوامی قانون سب پر یکساں پر لاگو ہونا چاہیے
یورپی پارلیمنٹ مارک بوٹینگا