درخواست
بخدمت جناب چیف جسٹس صاحب،
سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد۔
عنوان : جب مرجائیگی مخلوق توکیا انصاف کروگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب عالی،
گذارش ھے کہ ملک بھر میں تمام الیکٹرک سپلأيز کمپنیز سے درج ذیل 15 نکاتی ٹیکسز کی وضاحت طلب کی جاۓ۔ شکریہ۔
(1). بجلی کی قیمت ادا کر دی، تو اس پر کون سا ٹیکس؟
(2). کون سے فیول پر کونسی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
(3). کس پرائس پہ الیکٹریسٹی پہ کون سی ڈیوٹی؟
(4) . کون سیے فیوئل کی کس پرائس پر ایڈجسٹمنٹ؟
(5). بجلی کے یونٹس کی قیمت "جو ھم ادا کر چکے" پر کونسی ڈیوٹی اور کیوں؟
(6). ٹی وی کی کونسی فیس، جبکہ ھم الگ سے پیسے دے کر کیبل استعمال کرتے ہیں؟
(7). جب بل ماہانہ ادا کیا جاتا ھے، تو یہ بل کی کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ھے؟
(8). کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟
(9). جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کر رھے ہیں، تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟
(10). کس چیز کے اور کون سے further "اگلے" چارجز؟
(11). ود ھولڈنگ چارجز کس شے کی؟
(12). میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا، اسکا کرایہ کیوں؟
(13). بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
(14) جب ہر ماہ بلنگ ہو رہی ہے تو فکس چارجز کس بات کے
(15) اگر گزشتہ چھ ماہ میں ایک دفعہ بھی آپ کی یونٹ 200 کو ٹچ کر جاۓ تو اگلے چھ ماہ آپ کے یونٹ کا ریٹ پہلے 200 یونٹ والا ہی ھو گا جبکہ ہر مہینے ادائیگی کرنے پر بار بار ادائیگیاں!
یہ کون سا ظلم کا فارمولا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
منجانب؛
*عام شہری*
صارفینِ بجلی، آل پاکستان۔.
یہ ملک کیسے چل رھاھے،اس کی ایک جھلک ملاحظہ ھو۔
ٹی کے آر (طاھر خان) کو سی ڈی اے نے شکرپڑیاں میں ریسٹورانٹ کے لئے جگہ دی جس کا ریٹ نیچے درج ھے،یہ شخص 4 کروڑ سے زائد کا سی ڈی اے کا نادہندہ ھے،اس کے ریسٹورانٹ کو جب سیل کیا گیا تب اس نے مسلم لیگ نواز کے لوگوں کے بارے میں بکواس کی جھوٹے الزامات لگائے،پھر کیسے کسی وزیر کی سفارش پر اس کے ریسٹورانٹ کو بغیر 4 کروڑ 62 لاکھ ادائیگی کھولا گیا؟یہ ٹیکس چور یوتھیا کیا نظام سے اوپر ھے؟کیا سی ڈی اے اندرون کھاتا اس سے پیسے پکڑ رھی ھے؟حکومت کا سارا قانون غریب آدمی کے لئے ھے؟غریب کی ریڑھی اٹھاکر توڑ دی جاتی ھے اس کی سبزی فروٹ اٹھاکر لیجایا جاتا ھے تو اس ٹیکس چور کو کھلی چھٹی کیوں؟
جنوبی پنجاب کو پسماندہ پنجاب کہا جاتا تھا۔لیکن پہلی مرتبہ تمام پنجاب کو یکساں منصوبے دئیے جارھے ھیں اگر کلینک آن وہیلز لاھور میں ھے تو ملتان میں بھی ھے،وہ راجن پور،ڈی جی خان اور مظفر گڑھ میں بھی ھیں
،اس ھی طرح رحیم یار خان میں وہیکل فری بازار ھے،بہترین پارکس مظفر گڑھ ،راجن پور ،لیہ سمیت تمام جنوبی پنجاب کے شہروں میں بنائےگئے ھیں،ایئر ایمبولینس کے ذریعے 286 افراد کو شدید بیماری کی حالت میں ریسکیو کرکے بچایا گیا ھے،پورے پنجاب میں ٹیسٹ ،ادویات مفت ھیں،شوگر،ھیپاٹائٹس اور کینسر کی ادویات مفت ھیں،بچوں کی دل کی سرجریز مکمل مفت کی جارھی ھیں۔سلمی بٹ نے دلائل سے یوتھیے کی طبیعت صاف کردی۔
جب اگلی بار یہ فسادی جماعت پی ٹی آئی اپنےلوگوں کو فساد پر اکسائے اور ان لوگوں میں ذرہ برابر غیرت کا مادہ ھو تو ان سے کہنا کہ عیاشی تم لوگ کرو اور مار غریب کا بچہ کھائے
جس سعودی عرب کی آئل ریفائنری پر ایران نے حملہ کیا تھا اُس نے چودہ اپریل سے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے جبکہ ایران میں شہریوں کے لئے سبزیاں فروٹ دال روٹی خریدنے کے لئے ادھار اسکیم متعارف کروا دی ہے
یہاں صدیق جان جیسے ان کے نام پر انقلاب بیچ کر ڈالر کھرے کروا چکے ہیں
یہ شخص رائے ثاقب کھرل ،پی ٹی آئی کی ایما پر بیلٹ پیپرز سے متعلق جھوٹ بولتے ھوئے پکڑا گیا پھر ھفتہ دس دن مفرور رھا،کوئی قانونی کاروائی اس کے خلاف نہیں ھوئی،پھر کرغزستان می پاکستانی طالبات سے متعلق اتنی غلط خبر چلائی کہ کئی والدین کئی گھنٹوں تک جس کرب سے گذرے ،یہ شخص نہیں جانتا،لیکن اس کے خلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔اب یہ شخص عمران خان کا وکیل بن کر ٹاک شو بھی کرتا ھے اور ٹاک شوز میں آتا ھے۔
ہمارے بھائی احسان الحق نے انتہائی اہم نقطہ اٹھایا ہے!
جب ایسے زہریلا قسم کے یوتھیا ائیرپورٹ سکیورٹی پر مامور ہونگے تو وہ ہر مسافر سے جان بوجھ کر بدتمیزی کریں گے تاکہ حکومت پاکستان بدنام ہو۔
گزشتہ ایک سال سے ائیرپورٹ سکیورٹی کی ایسی ویڈیوز باقاعدہ پلاننگ سے وائرل ہو رہی ہیں
اخے یونیفارم والے نے کچھ کہہ دیا تھا تو اقرارالحسن کو برداشت کرنا چاہئے تھا۔۔۔ تو پھر یونیفارم والے آپ کو جو کچھ کہہ رہے ہیں آپ بھی برداشت کریں، چیختے کیوں ہیں؟
صدر زرداری سے گزارش ہے!
اس سال تمغہ شجاعت فوڈ پانڈا کے اس رائیڈر بشارت علی کو دیا جائے جس نے بحریہ فیز 7 میں ایک معصوم بچی کو دو اسلحہ بردار جنسی درندوں سے بروقت بچایا۔
اس غریب کا حق بنتا ہے جو حقیقت میں ایک ہیرو ثابت ہوا ہے، یہ ایک اچھی روایت کو جنم دے گا۔
وردی میں بھی انسانیت زندہ رہ سکتی ہے
ہر درد دل اور احساس انسانیت رکھنے والا ادنی سے ادنی اہلکار اور اعلی سے اعلی آفیسر ملک و قوم کا فخر اور قابل احترام ہے ۔