پھر پورے خاندان کی چیخیں نکل گئیں
اتنی جوان موت تھی اتنی جوان موت
اتنی کہ ہر جوان کی چیخیں نکل گئیں
بس تیر کا اترنا تھا اصغر کے حلق میں
پھر یوں ہوا کمان کی چیخیں نکل گئیں
@_: اس بدگماں جہان کی چیخیں نکل گئیں
ٹوٹا تو آسمان کی چیخیں نکل گئیں
مدت کے بعد آئینہ دیکھا تو دفعتاً
منہ پر جمی تھکان کی چیخیں نکل گئیں
رازوں سے ایک راز بتایا تھا اس کو بس
ایسا کہ رازدان کی چیخیں نکل گئیں
پہلے بڑوں نے جبر میں اک فیصلہ کیا
پھر بھی اگر اُسے کہیں دور سے میری ایک آہٹ سنائی دے، یا میری کوئی خبر مل جائے، تو مجھے یقین ہے وہ سب کچھ بھلا کر میری طرف چل پڑے گی۔ بغیر کچھ پوچھے مجھے اپنے سینے سے لگا لے گی، میرے ماتھے کو چومے گی، میرے بالوں میں اپنے ضعیف ھاتھ پہیر کر میرے حال کو سنوارنے کی کوشش کرے گی
گر میں دنیا کے کسی سنسان جنگل میں گم ہو جاؤں، کسی بےآباد صحرا میں بھٹک جاؤں، کسی بلند پہاڑ کی چوٹی پر اکیلا رہ جاؤں، کسی گھنے اندھیرے میں کھو جاؤں، کسی ویران بستی میں رہ جاؤں، کسی اجنبی شہر کی گلیوں میں راستہ بھول جاؤں، کسی برف سے ڈھکی وادی میں پھنس جاؤں، کسی
#fypppp#motherslove
محسوس کرنے لگوں. مجھے یقین ہے کہ میری ماں مجھے ڈھونڈنے ضرور آۓ گی چاہے اُس کے ہاتھوں میں چھالے پڑ جائیں، پاؤں سفر کرتے کرتے تھک جائیں، آنکھیں روتے روتے دھندلا جائیں، عمر اُس کے جسم سے طاقت چھین لے، سانسیں بھاری ہو جائیں، اور قدم لڑکھڑانے لگیں.
پھر بھی اگر اُسے کہیں دور سے میری
چلتا رہ جاؤں، کسی طوفانی ساحل پر اکیلا کھڑا رہ جاؤں، کسی دور دراز جزیرے میں رہ جاؤں، کسی شور بھرے شہر میں بھی تنہا ہو جاؤں، یا سات سمندر پار چلا جاؤں.کسی پرانے ریلوے اسٹیشن پر گھنٹوں انتظار کرتا رہوں، کسی ٹوٹی ہوئی جھونپڑی کو اپنا ٹھکانہ بنا لوں، یا دنیا کی بھیڑ میں خود کو تنہا
کیا فائدہ ہے کہ
تم مجھے بہت محبت کرو…
مگر مجھے سمجھ نہ پاؤ۔
کیا فائدہ ہے کہ
تم مجھے یاد تو کرو…
مگر میرے بارے میں تلاش نہ کرو۔
کیا فائدہ ہے کہ
میں تمہاری زندگی کی چیزوں میں شامل تو ہوں…
مگر سب سے اہم نہیں ہوں۔