جب بھی پاکستان میں ٹماٹر، پیاز، آلو یا کوئی اور زرعی چیز مہنگی یا نایاب ہو جائے تو سوشل میڈیا پر ایک جملہ ضرور نظر آتا ہے:
"پاکستان تو زرعی ملک ہے، پھر یہ حال کیوں ہے؟"
یہ سوال اپنی جگہ درست ہے، لیکن ایک سوال میرا بھی ہے...
آخر پاکستان ہے کون؟
کیا پاکستان صرف زمین، پہاڑ، دریا اور نقشے کا نام ہے؟ یا پھر ہم سب مل کر پاکستان بنتے ہیں؟
اگر کسی ملک کو "زرعی ملک" کہا جاتا ہے تو اس کی وجہ صرف زرخیز زمین نہیں ہوتی، بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو زمین سے محبت کرتے ہیں، بیج بوتے ہیں، پودے اگاتے ہیں اور پیداوار بڑھاتے ہیں۔
ہم اکثر حکومت، نظام اور ملک پر تنقید کر دیتے ہیں، لیکن کبھی ایک لمحے کے لیے خود سے بھی پوچھا ہے کہ میں نے زراعت کے لیے کیا کیا؟
اگر کھیت نہیں تو کیا ہوا؟ کیا ایک گملے میں دھنیا، پودینہ، مرچ یا ٹماٹر بھی نہیں لگا سکتے؟ کیا گھر کی چھت یا صحن کے ایک کونے میں چھوٹا سا کچن گارڈن نہیں بنایا جا سکتا؟
بات صرف چند سبزیوں کی نہیں، سوچ کی ہے۔
جس دن ہم دوسروں سے سوال کرنے کے ساتھ ساتھ خود سے بھی سوال ک��نا شروع کر دیں گے، اسی دن بہت سے مسائل کا حل بھی شروع ہو جائے گا۔
یاد رکھیں، کسی ملک کی پہچان صرف اس کی زمین سے نہیں بنتی، بلکہ اس کے باشندوں کی سوچ، محنت اور کردار سے بنتی ہے۔
منقول پوسٹ
فیصل موورز انتظامیہ سے گزارش
فیصل بس کے مالکان سر گزارش ہے کہ
یہ میری ٹکٹ تھی ملتان سے راولپنڈی کی 11 بجے کی، رات 11 بج کر سات منٹ پہ مجھے اطلاع اتی ہے کہ یہاں پر فوتگی ہو گئی ہے، تو میں نے اپنی ٹکٹ فوتگی کی وجہ سے کینسل کرنا چاہی بس ٹرمینل ملتان پر۔
تو ملتان ٹرمینل پر کہا گیا کہ اپ کی ٹکٹ واپس نہیں ہو سکتی۔
میں نے ان کو سب صورتحال سے آگاہ کیا، ہیلپ لائن پر بھی کال کی لیکن ہر جگہ سے یہی جواب ملا کہ ٹکٹ کی قیمت کی واپسی نہیں ہوگی آپ جائیں یا نہ جائیں۔
یہ ہماری کمپنی کا رول ہے۔
کسی بھی انسان کو عین وقت پر کسی بھی قسم ایمرجنسی پیش آسکتی ہے۔
میرے تو پیسے ضائع ہو گئے لیکن فیصل موورز انتظامیہ کو اس پر غور کرنا چاہیے تاکہ مسافروں کے لیے آسانی ہو۔
اس پوسٹ کو فیصل موورز انتظامیہ تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
یہ ویڈیو ایک خاتون صحافی کی جانب سے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی گئی ہے۔ ویڈیو Metro Bus کی ہے، جہاں خواتین کے مخصوص حصے میں مرد حضرات زبردستی موجود ہیں اور خواتین کو ہراساں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو ثبوت سب کے سامنے ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ روزانہ کتنی خواتین اور بچیاں اس طرح کے مسائل کا سامنا کرتی ہوں گی، مگر آواز نہیں اٹھا پاتیں۔
متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ لوکل بسوں اور میٹرو میں مرد و خواتین کے حصے کو مناسب پارٹیشن کے ذریعے مکمل طور پر الگ کیا جائے، تاکہ خواتین اور بچیوں کو ایسے نازیبا رویوں اور ہراسانی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اس نوجوان کا نام مبشر نور ہے۔
مبشر لاہور کے نشتر کالونی کا رہائشی ہے۔
مبشر کی بہن نے رابطہ کرکے بتایا کہ: میرے بھائی کو سال دوہزار چوبیس میں رحیم یارخان کے ایک ایجنٹ نے برما میں کال سینٹر کی نوکری دلانے کا کہہ کر ویزہ لگواکر برما بھیجا۔
وہاں پہنچ کر مبشر نے تین ماہ کام کیا اور پیسے بھی گھر بھیجے۔
ایک دن مبشر نے گھر کال کرکے بتایا کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے، جس جگہ ہمیں بھیجا گیا ہے ایک اسک٭یم سینٹر ہے۔ یہاں لو��وں کو کال کرکے فر*اڈ کیا جاتا ہے۔
یہ بارہ پاکستانی لڑکے تھے سب نے وہاں سے بھاگنے کا پلان بنایا۔
چھ لڑکے وہاں سے تھائی لینڈ میں داخل ہوئے اور چھ لڑکے رہ گئے۔
براستہ تھائی لینڈ میں گرفتار ہوکر یہ لڑکے پاکستان ڈی پورٹ ہوگئے۔
مبشر اکلوتا بھائی ہے سات بہنیں ہیں۔
دو سال سے مبشر کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔بہن کا کہنا ہے کہ ہم جائیں تو کہاں جائیں۔
بہنوں نے اپنے طور پر کوشش کی تو میانمار کے کسی سرکاری اہلکار نے تین لاکھ روپے لیکر دھوکا کیا۔
میانمار میں کوئی بھی صاحب ہماری پوسٹ پڑھے اور انکو مبشر کے متعلق معلوم ہو تو برائے مہربانی ہم سے رابطہ کریں۔
حکومت وقت سے اپیل ہے کہ مبشر کو بازیاب کرانے میں سفارتی سطح پر اقدام کیا جائے۔
لاہور کی سات بہنیں اپنے اکلوتے بھائی کے لئے دن رات رورہی ہیں۔خدارا انکی داد رسی کی جائے۔
برائے رابطہ نیچے نمبر درج ہے
+923162529829
#waliullahmaroof
Feasibility E-Taxi:
قیمت 85 لاکھ
ڈاؤن پینٹ 30 فیصد
ٹیکسی ڈرائیور کا حصہ 15 فیصد 12 لاکھ 75 ہزار
بقیہ ادائیگی 59 لاکھ 50 ہزار پانچ سال میں
ماہانہ قسط 100,000
روزانہ قسط 3300 روپے
ڈرائیور کی کم از کم تنخواہ 1500 روزانہ
مینٹینس کم از کم 1000 روزانہ
دن کا خرچہ علاوہ چارچنگ 5800
دن کا اگر 150 کلومیٹر بھی چلائے تو 1000 روپے چارجنگ کے
7000 دن کا خرچہ
سالانہ 15 فیصد ڈیپرئیشین 12 لاکھ 96 ہزار اور ماہانہ 106,000 اور روزانہ 3200
کل دن کو خرچہ 10,200 اور اگر 365 دن گاڑی چلائیں۰ کوئ چھٹی نہیں
50 روپے فی کلو میٹر اگر کرایہ ہو اور سواری کے ساتھ 150 کلومیٹر تو آمدنی 7,500 روپے اور خرچہ 10,200
اس میں ابھی میں نے ٹائر، ایکسیڈینٹ نہیں دالا
میرے نزدیک یہ ٹیکسی feasible نہیں ہے
Link: https://t.co/VN457NfTuH
"حکومتی پالیسیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں نے کاشتکار کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ گزشتہ کئی سال سے کپاس کی فصل مسلسل کمی کی طرف جا رہی ہے۔ اس سال بھی سرکاری تخمینے سراسر غلط جا رہے تھے تاہم سیلاب سے ہونے والی تباہی نے سرکاری تخمینہ جات کی عزت بچانے کیلئے حکومتی اداروں کو بہانہ فراہم کر دیا ہے۔ یہی حال گندم کا ہے۔ گزشتہ سال گندم کے کاشتکار کے ساتھ جو ہوا تھا وہ شاید پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ سرکار نے 3900روپے فی چالیس کلو کے سرکاری ریٹ کا اعلان کیا مگر خریداری کے وقت میدان سے بھاگ گئی۔ پرائیویٹ مافیاز نے یہ گندم 1900روپے سے 2200روپے فی چالیس کلو تک خرید کر لی۔ اب اس کا ریٹ ساڑھے تین ہزار سے اوپر چلا گیا ہے تو سارا نفع ذخیرہ اندوزوں نے سمیٹ لیا ہے۔ کاشتکار کو جو دھچکا لگنا تھا وہ تو لگ گیا۔ اب عالم یہ ہے کہ سارے ذخیرہ اندوز مل کر عوام کو مہنگا آٹا دے رہے ہیں"۔ خالد مسعود خان کا کالم
روس کا انسانیت پر احسانِ عظیم
روس نے کینسر ویکسین تیار کرلی، روس نے کینسر ویکسین کا نام (Enteromix) رکھا ہے
انٹیرومکس نے کلینکل ٹرائلز میں سو فیصد نتائج دیئے ہیں، اس ویکسین کی خاص بات یہ ہے کہ کلینکل ٹرائلز میں کوئی سائیڈ ایفیکٹ دیکھنے کو نہیں ملا اور انٹیرومکس نے کامیابی کے ساتھ کینسر سیلز کو ختم کیا ہے
انٹیرومکس ویکسین کورونا ویکسین کے طرز پر تیار کی گئی ہے، یہ مریض کی قوتِ مدافعت کو طاقتور بنا کر کینسر سیلز کے خلاف لڑنے میں مدد دیتی ہے
روس میں یہ ویکسین بلکل مفت عوام کیلئے دستیاب ہے، روسی میڈیکل سائنس دانوں کا دُنیا پر یہ احسانِ عظیم تاریخ میں لکھا جائے گا 👑
معید پیرزادہ آبدیدہ ہو گئے جب قاس�� سُوری نےکہا کہ
عمران خان نے پاکستانیت پھیلائی ، عمران خان نے " میرے پاکستانیوں " پکارنا شروع کیا ، عمران خان نے اپنے جلسوں میں پاکستانی نغمے بنائے، جب لیڈر پر مشکلات آتی ہیں تو وہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔
پاکستان سے دبئی سعودیہ قطر عمان جا کر دیکھ مانگنے والا بھکاری پکڑ لیا گیا ایسے لوگوں کی وجہ سے پاکستان کا نام بدنام ہے پوری دنیا میں ایسے لوگوں کی پہچان کرے تاکہ ائندہ کوئی بھکاری وہاں جا کر نام مانگ سکے اور پاکستان کا نام بدنام کرنے کا باعث نہ بنے
محترم سیاح کو سیاحتی مقام کی صفائی کرتے ہوئے دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔
ملکِ عزیز پاکستان میں ایسے مناظر شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ واقعی ایک قابلِ ستائش اور شاندار منظر تھا۔۔واہ 😍
یسے مہذب اور باشعور سیاحوں کو ہم گلگت بلتستان، سوات، کشمیر، مری، کمراٹ جہاں بھی جائیں۔ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ واقعی احساس رکھنے والے لوگ ہیں۔ دیکھیں، کس طرح یہ لوگ میڈوز میں پڑی گندگی کو اپنے تھیلوں میں جمع کر کے صفائی کر رہے ہیں، حالانکہ یہ گندگی انہوں نے نہیں کی، نہ ہی ان کے ساتھیوں نے، بلکہ کسی اور نے کی ہے۔ پھر ب��ی وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسے صاف کر رہے ہیں۔
یہ منظر دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان نہیں بلکہ یورپ کا کوئی منظر ہو، جہاں صفائی کو واقعی نصف ایمان سمجھا جاتا ہے۔
اللہ کرے کہ ہمارے تمام سیاح ہی نہیں بلکہ مقامی لوگ بھی اسی جذبے کے ساتھ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ہمارے حسین سیاحتی مقامات کی خوبصورتی کو قائم رکھیں۔