کراچی:چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ اور ممبر صوبائی اسمبلی امداد حسین پتافی کی سومرو ہاؤس کراچی آمد
تینوں رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کی کراچی آمد پر خوش آمدید کہا اور چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔
رہنماؤں کے درمیان ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال ہوا۔
آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر دونوں جماعتوں کے مؤقف میں یکسانیت پائی جاتی ہے، رہنماؤں کی گفتگو
آئین اور جمہوریت کو بے معنی بنانے کی کوششیں ملک کے لیے خطرناک ہیں، مولانا فضل الرحمان
پارلیمنٹ کو مضبوط اور عوامی رائے کا حقیقی ترجمان بنانا ہوگا، مولانا فضل الرحمان
آئین پاکستان قومی میثاق ہے، اس کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے، مولانا فضل الرحمان
سیاسی قوتوں کو آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ہوگا، مولانا فضل الرحمان
شورائیت اسلام کا بنیادی اصول ہے، فیصلے عوامی نمائندوں کے ذریعے ہونے چاہئیں، مولانا فضل الرحمان
ملاقات میں علامہ راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان، علامہ ناصر محمود سومرو و دیگر بھی شریک تھے۔
میڈیا سیل جےیوآئی پاکستان
صحافی:جس دن مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری ایک میز پر بیٹھے تو اٹھارویں ترمیم وجود میں آئی اور 1973 کا چہرہ بحال ہو گیا۔ آج میں آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو دائیں اور بائیں کی سیاست کو پاکستان کے مفادات سے لاتعلق دیکھ رہا ہوں۔ ایسا کیا ہوا کہ جو یہ دو شخص مل کر اس ملک میں دائیں اور بائیں بازو کے مل کر اس ملک میں خلائی بالادستی کو روکنے کا ایک سامان پیدا کر رہے تھے، آج وہ آپ کی یکجہتی کہاں گئی؟
مولانا:میں آج بھی آصف علی زرداری کو دعوت دیتا ہوں، میں آج بھی اس کی پارٹی کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ آئیں اس آئین کو بچائیں جو ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں بنا، جس پر میرے والد نے دستخط کیے۔ میں آج بھی انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ آئیں اس اٹھارویں ترمیم کو محفوظ کریں جس پر آپ نے اور ہم نے بیٹھ کر دستخط کئے ہیں۔
اور آپ کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم پاس ہونے کے بعد اس کمیٹی میں شریک تمام پارلیمنٹرینز کو آصف علی زرداری صاحب نے ستارہ امتیاز عطا کیا تھا، جسے صرف میں نے واپس کیا ہے، باقی سب نے قبول کیا تھا۔
تو میں ان کو دعوت دے رہا ہ��ں کہ آپ اپنا کردار اس وقت ادا کریں گے،
اور ایوانِ صدر کی بلند عمارت میں بیٹھ کر تو میرے خیال میں شاید وہ تحفظ نہیں کر سکیں گے، اور وہاں سے اگر وہ نظام چلائیں گے تو اس طرح نظام نہیں چلے گا۔
اتر کر قصرِ عالی سے ہمارے روبرو آؤ
بلندی سے ہمارے قد کا اندازہ نہیں ہوگا۔
آمرانہ اور جمہوری حکومتوں کا موازنہ
زیادہ خرابیاں جمہوری دور حکومت کی پیداوار یا آمرانہ طرز حکومت کی ۔
صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا دلچسپ موازنہ
آئین ایک میثاق ملی ہے، ہمارے ملک کے اندر چار صوبے ہیں اگر گلگت بلتستان کو صوبے کی حیثیت دی جائے تو پانچ صوبے ہیں اور ہر صوبہ کثیر القومیت ہے، پورا ملک کثیر القومیت ہے، ہم لوگوں کے حقوق، اس کے آئینی حقوق، اس کے معاشی حقوق، اس کے سیاسی اور جمہوری حقوق، اس کے انسانی حقوق، وہ ہماری ترجیح نہیں ہے، بلکہ قوم کو کمزور کرو، قوم کو تقسیم کرو حتیٰ کہ وہ جبر کے تحت اطاعت پر مجبور ہوجائے۔
فرعون نے بھی تو یہی کیا تھا کہ روئے زمین پر پہلے اپنی حاکمیت مسلط کی، پھر لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کیا، لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کیا اور کمزور کر دیا، تاکہ وہ اس پر اپنی حاکمیت مسلط کرسکے۔ یہ پاکستان کو بدامنی سے بچانے کا راستہ نہیں ہے، یہ پاکستان میں بغاوتوں کے اُبھرنے کے راستے ہیں، کوئی احتجاج کرتا ہے ��و ��ہ ملک کا دشمن، کوئی چیختا پکارتا ہے وہ ملک کا دشمن اور ایک دماغ پوری قوم کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
اسلام میں تو شورائیت ہے، وحی کا دروازہ بند ہے لیکن شورائیت کا دروازہ تو قیامت تک کھلا ہے، ہم نے اپنی آئین میں عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل شوریٰ بنائی ہے، ہم اپنے پارلیمنٹ کو مجلس شوریٰ کہتے ہیں، لیکن کیا واقعتاً آج کی پارلیمنٹ وہ قوم کی نمائندہ ہے؟ تو یہ زبردستی کب تک چلے گی؟ اور یہ زبردستی کیوں چلے گی؟ اس زبردستی کے لیے دلیل کیا ہے؟
آج مسلح گروہ نکلتے ہیں فوج کے قلعوں کو اڑا رہے ہیں، پولیس کے تھانوں کو اڑا رہے ہیں، اور اس طرح ہماری دفاعی قوت کا مورال گر رہا ہے، باغیانہ ذہنیت رکھنے والوں کا مورال اوپر کی طرف جا رہا ہے، ہمیں اُس کی فکر نہیں، لیکن آئین میں تبدیلی کرو تاکہ میرے اختیارات مضبوط ہو جائیں، میری گرفت مضبوط ہو جائیں، میری اتھارٹی مظبوط ہو جائے، تو اس وقت پوری جنگ وہ اتھارٹی کو مضبوط بنانے میں لگی ہوئی ہے۔
حکومت کی تمام صلاحیتیں وہاں صرف ہو رہی ہیں اور اقتصادی لحاظ سے جو مہنگائی ہے تو ظاہر ہے کہ اس مہنگائی میں آج وقت ہے کہ ہم اپنی پبلک کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ جمعیۃ علماء اسلام نے پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا لیکن جب عین انہی دنوں بلکہ اسی روز ایران امریکہ تنازعہ کی بنیاد پر عالمی سطح کے مہمان آنے لگے اور پاکستان کی سرزمین پر اُترنے لگے، تو ہم نے مناسب سمجھا کہ اس کو مؤخر کرتے ہیں، ہم وہ لوگ نہیں ہیں کہ صرف اپنی ضد پر اڑے رہنا یہی سبق ہم نے سیکھا ہے، ہم ملک کو بھی جانتے ہیں، اسٹیٹ کی عزت و وقار کو بھی سمجھتے ہیں، حکومتی ذمہ داریوں اور اسٹیٹ کے مقام، اعتبار میں ہم فرق بھی کر سکتے ہیں، لیکن عوام کے بھی حقوق ہیں، ��وام ہی سے اسٹیٹ بنتی ہے، عوام ہی سے ریاست بنتی ہے، اگر ہم اس پہلو کو نظر انداز کرے اور قوم کو ہم سمجھے کہ وہ غلام ہیں اور صرف یوم آزادی پر ان کو آزادی کا پرچم اٹھانے کا اعزاز ملتا ہے اور بس، 365 دنوں میں ہمیں صرف ایک دن ملتا ہے، ایک آزادی کا دن، 364 غلامی کے دن۔
تو اس لحاظ سے جمعیۃ علماء اسلام یہ جچھی تلی رائے رکھتی ہے کہ آئین کا تحفظ کرنا عوام کی ذمہ داری ہے، ملک ایک ہے اس میثاق کی وجہ سے، ہماری اگر کمٹمنٹ ہے اس پاکستان کے ساتھ تو اس کی بنیاد یہی ہمارا میثاقِ ملی ہے۔ اگر یہ نہیں رہتا تو پھر کیا حالات بنتے ہیں؟ ہر صوبہ کس طرح سوچتا ہے؟ ہر قوم کس طرف اپنے مستقبل کا تعین کرتا ہے؟ ہمیں وہاں تک پہنچنے سے پہلے اپنے آپ کو سنبھالنا ہوگا اور ملک کو مستحکم کرنا ہیں۔ آئیں ملک کو اقتصادی لحاظ سے مستحکم کریں، پبلک کو خوشحال کریں، سیاسی اداروں کو مضبوط کریں، عوام کو احساس دلائے کہ اصل طاقت آپ ہیں، فیصلے آپ نے کرنے ہیں، جمہوری اداروں کو مضبوط کریں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا کراچی میں خطاب
اس وقت ہمارا ملک جس گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے اسے ہمیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بد امنی عروج پر ہے، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صورت حال بغاوت کی ہے، ریاست کے خلاف محدود سطح پر لیکن بہرحال بندوق اٹھائی گئی ہے، کوئی علیحدگی کی باتیں کر رہا ہے، کوئی بزور شمشیر شریعت کی باتیں کر رہا ہے۔
سندھ میں بھی اور بالخصوص اندرونی سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے اور ہمارے حکمران ہے کہ نہ امن و امان کے حوالے سے سنجیدہ نظر آرہے ہیں اور نہ ہی اقتصاد کی بہتری میں کوئی سنجیدگی ظاہر کر رہے ہیں۔ نت نئی قانون سازیاں ہو رہی ہیں اور ہماری اسٹیبلشمنٹ وہ اپنی اتھارٹی کو مضبوط کرنے اور ملک کی سیاسی نظام پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی فکر میں ہے۔ پارلیمنٹ پر وہ اثرانداز ہیں، حکومت پر وہ اثرانداز ہے۔
اگر ایک ہی ادارہ اتنا طاقتور ہو کہ وہ جب چاہیں آئین میں ردوبدل کردیں، آئین کا حلی�� بگاڑ دیں، ملک کا مستقبل جو بھی ہو، عوام جس حالت سے بھی دوچار ہوں، عام آدمی آج اپنی محنت کے نتیجے میں جو اس کی آمدن ہے اس میں نہ وہ بچوں کو تعلیم دلا سکتا ہے، نہ اپنے گھر کا کرایا دے سکتا ہے، نہ بچوں کو صبح و شام کی روزی دے سکتا ہے، کچھ بین الاقوامی حالات کو بنیاد بنا کر اپنے ہی قوم پر اور اپنے ہی عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دیئے جاتے ہیں، اب ظاہر ہے کہ ہم خیر خواہانہ انداز کے ساتھ یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ خدارا اس روش سے باز آجائیں، اپنی اتھارٹی کو اب اتنا مضبوط کر دینا کہ جمہوریت بے معنی ہو جائے، کہ پارلیمنٹ بے معنی ہو جائے اور ہماری آئینی ترامیم ہو یا ہماری قانون سازی ہو، وہ ایک محل سے آئے ہوئے ہدایات کے تحت ہوتی ہیں۔ سو ہم اپنی تاریخ کا جب تذکرہ کرتے ہیں تو پڑھے لکھے لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ کتنا عرصہ یہ پاکستان محلاتی سازشوں کے ضد میں رہا اور محلاتی سازشوں کے تحت حکومتیں روزانہ بنتی تھی اور گرتی تھی، آج بظاہر عوام کو ووٹ کا حق حاصل ہے اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، لیکن 2018 کا الیکشن ہو یا 2024 کا الیکشن، آپ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ کس طرح عوام کے فیصلے کو اور عوام کے رائے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے، اپنی مرضی کی حکومتیں تشکیل دینے کے لیے عوامی رائے کے نتائج مختلف سامنے آجاتے ہیں۔
کراچی پریس کلب کے ’’میٹ دی پریس‘‘ سے قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا خطاب
کراچی: قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ جمعیت علماءاسلام کراچی کے رہنماء مولانا سلیم اللہ خان ترک مرحوم کی وفات پر انکے صاحبزادگان سے تعزیت کر رہے ہیں۔
اس موق�� پر علامہ راشد محمود سومرو، علامہ ناصر محمود سومرو، قاری عثمان، مولانا غیاث ،رشیداحمدخاکسار و دیگر بھی موجود تھے۔
کراچی: قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ اپنے خادم شرف الدین انڈھڑ سے اُن کے والد کی وفات پر تعزیت کر رہے ہیں۔
اس موقع پر علامہ راشد محمود سومرو، علامہ ناصر محمود سومرو، قاری عثمان، مولانا غیاث و دیگر بھی ہمراہ تھے۔
کراچی:قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی سابق ایم پی اے مولانا عمر صادق کی طبع پرسی کے لئے ان رہائش گاہ آمد
علامہ راشد محمود سومرو،علامہ ناصر سومرو و دیگر عہدیداران ہمراہ تھے
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ جمعیت علماء اسلام کی دینی و سیاسی ذمہ داری ہے، مولانا فضل الرحمان
کراچی میں جے یو آئی مینارٹی ونگ سندھ کے زیرِ اہتمام تقریب سے خطاب
کراچی( پریس ریلیز ) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صرف آئینی تقاضا نہیں بلکہ ہماری دینی، اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے، جمعیت علماء اسلا�� ملک کی تمام برادریوں کو ساتھ لے کر ��لنے کے نظریے پر یقین رکھتی ہے اور اسی سوچ کے تحت پارٹی میں مستقل طور پر مینارٹی ونگ قائم کیا گیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں جمعیت علماء اسلام مینارٹی ونگ سندھ کے زیرِ اہتمام ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے جےیوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو ، مینارٹی ویلنگ سندھ کے صدر روی کمار کھتری ، سیکریٹری جنرل اکشے کمار بٹرا ودیگر نے خطاب کیا اس موقع پر جےیوآئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد اسلم غوری ، انجینئر عبد الرزاق عابد لاکھو ، قاری محمد عثمان ، حاجی عبدلمالک ٹالپر ، مولانا اسحاق لغاری ، مولانا محمد غیاث ، مولانا نور سومرو ، مولانا سمیع الحق سواتی سمیت مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی و سماجی شخصیات
نے شرکت کی۔
جے یوآئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام انسانیت، رواداری، امن اور عالمگیریت کا درس دیتا ہے۔ ہمارے اکابر اور اسلاف نے ہمیشہ تنگ نظری کے بجائے پوری ��نسانیت کو ساتھ لے کر چلنے کی تعلیم دی اور جمعیت علماء اسلام آج بھی اسی فکر کی امین ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب اس بات کا واضح مظہر ہے کہ پاکستان میں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ باہمی احترام اور اخوت کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنے والد مفتی محمودؒ کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں صوبہ سرحد میں جب تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا جا رہا تھا تو مفتی محمودؒ نے واضح اعلان کیا تھا کہ اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کو ان کی مرضی کے بغیر سرکاری تحویل میں نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے تعلیمی اداروں اور اسپتالو�� کے بہتر معیار کو دیکھتے ہوئے مفتی محمودؒ نے اپنے حکام کو ہدایت کی تھی کہ سرکاری اداروں کا معیار بھی اسی سطح تک لے جایا جائے۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انسانی حقوق دراصل امن کے تصور کے گرد گھومتے ہیں اور امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب انسان کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو بلا تفریق مذہب و نسل تحفظ فراہم کرے اور اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے فوری انصاف دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بدامنی اور دہشت گردی کے باوجود جمعیت علماء اسلام اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور خونریزی کی سیاست کا حصہ بننے کے بجائے امن، انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ قربانیاں دے کر بھی پاکستان کو امن، انصاف اور بھائی چارے کا گہوارہ بنائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کا مینارٹی ونگ ملک بھر میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور سندھ سمیت چاروں صوبوں میں مختلف برادریوں کو قریب لانے کیلئے کام جاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام پاکستانی، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا مکتب فکر سے ہو، ملک کی ترقی اور استحکام کیلئے متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، امن و استحکام اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
جاری کردہ ؛ مولانا سمیع الحق سواتی
ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات جےیوآئی سندھ
بتاریخ 2025-05-17
کراچی:جےیوآئی اقلیتی ونگ سندھ کے زیرِ اہتمام استقبالیہ تقریب سے قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ خطاب کر رہے ہیں۔
خطاب میں ملکی بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی، امن اور رواداری پر اظہارِ خیال۔
Karachi: JUI Chief Fazl ur Rehman meets renowned businessman Arif Habib; detailed discussion held on Pakistan’s economy, investment climate, and support for the business community.
کراچی: قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی پاکستان کے معروف بزنس مین اور عارف حبیب گروپ کے چیئرمین سے ملاقات
عارف حبیب کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے اعزاز میں ظہرانہ
کراچی کے معروف تاجر بھی ملاقات میں شریک ہوئے
ملاقات میں پاکستان کے معاشی حالات پر تفصیلی گفتگو
ملاقات میں وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ ، خالد تواب، عبدالصمد حبیب، حاجی عثمان غنی، انجینئر ضیاء الرحمان، علامہ راشد محمود سومرو و دیگر بھی شامل تھے۔
بدامنی کی وجہ سے تاجر برادری خوف کا شکار ہے، مولانا فضل الرحمان
امن ہ��گا تو سرمایہ کاری آئے گی جس سے معیشت مضبوط ہوگی، مولانا فضل الرحمان
آئی ایم ایف کے بجائے مقامی وسائل پر انحصار کیا جائے، مولانا فضل الرحمان
ملک کے تاجروں پر اعتماد کیا جائے، اس سے ہم ملک کا قرض اتار سکتے ہیں،مولانا فضل الرحمان
اسلام نے معیشت کا مکمل نظام دیا ہے،اس کو فالو کیا جائے ، مولانا فضل الرحمان
سودی نظام کے خاتمے سے ملکی معیشت میں واضح برتری آئے گی،مولانا فضل الرحمان
2028 تک سود کا خاتمہ اب آئین بن چکا ہے، اگر عمل نہ ہوا تو آئینی شکنی کی کاروائی ہوگی، مولانا فضل الرحمان
جے یو آئی تاجر برادری کے ساتھ کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جےیوآئی سندھ
کراچی: جے یو آئی سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمان کی سابق وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ خان جتوئی کے گھر آمد
مولانا فضل الرحمان کی غلام مرتضیٰ خان جتوئی سے ملاقات جاری ہے۔
ملاقات میں پیر سید راشد شاہ راشدی، سینیٹر صفدر عباسی، مولانا راشد محمود سومرو، حسینی مرزا، سابق وزیراعلیٰ سندھ لیاقت علی خان جتوئی، انجینئر ضیاء الرحمن، عبدالرزاق عابد لاکھو، محمد اسلم غوری، قاری محمد عثمان، حافظ نصیر احمد، احرار، مسرور احمد خان جتوئی، معظم علی خان جتوئی، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر محمد ابراہیم خان جتوئی، میر عباس حسین خان جتوئی، مولانا ناصر محمود سومرو، مولانا محمد غیاث، مولانا سمیع الحق سواتی، رازی خان جتوئی، زین خان جتوئی اور میر مظفر خان بروہی کے علاوہ بڑی تعداد میں معززین شریک ہیں۔
کراچی: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان سے مختلف قومی سیاسی رہنماؤں کی ملاقات
ملاقات عل��مہ راشد سومرو کی رہائشگاہ پر جاری یے
ملاقات میں ملکی و علاقائی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض جاری
ملاقات میں سینئر سیاستدان محمود مولوی ، محمد علی درانی ، عمران اسماعیل ، فواد چوہدری ، سینیٹر شہزاد وسیم ، عامر کیانی ، عباس جعفری ، بیرسٹر سیف شریک
ملاقات میں اسلم غوری، انجینئر ضیاء الرحمان، علامہ راشد محمود سومرو، حافظ نصیر احمد احرار، قاری محمد عثمان، علامہ ناصر محمود سومرو، انجنئیر عبدالرزاق عابد لاکھو ، مولانا محمد غیاث ، مولانا سمیع الحق سواتی شریک
کراچی: قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمان کی جامعہ دارالعلوم کراچی آمد
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی سے تفصیلی ملاقات
امن وامان ،مدارس رجسٹریشن سمیت اہم امور پر تفصیلی نشست
کراچی: قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی رکن قومی اسمبلی میر اعجاز خان جھکرانی کی رہائش آمد
میر اعجاز خان سے اُن کے بیٹے کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔
وفد میں مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، انجینئر ضیاء الرحمن، اسلم غوری، علامہ راشد محمود سومرو، انجئنیر عبدالرزاق عابد لاکھو، حافظ نصیر احرار، قاری محمد عثمان، علامہ ناصر محمود سومرو اور دیگر شریک تھے۔
کراچی: امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان حضرت مولانا فضل الرحمان کی پیر صاحب پگاڑا کی رہائش گاہ آمد
پیر صاحب پگاڑا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات
ملاقات میں ملکی و علاقائی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا
جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔دونوں رہنماؤں کا اتفاق
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پس رہے ہیں جبکہ حکمران خوابِ غفلت میں ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور مشترکہ جدوجہد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
جے یو آئی مارچ 2027 میں سکھر میں عالمی امن اجتماع منعقد کررھی ھے جس میں پیر صاحب پگاڑا کو شرکت کی دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول کرلی اور انہوں نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
ملاقات میں ملک کے معاشی نظام، بالخصوص آبادگاروں، زمینداروں اور ہاریوں کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر عام آدمی اسی طرح مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہا تو ملک مزید انتشار کا شکار ہو جائے ��ا۔
اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سیاسی کارکنان شائستگی اور اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
ملاقات میں پیر صاحب پگارا کے ہمراہ ان کے بھائی پیر صدرالدین شاہ راشدی ٫ صاحبزادے سید راشد شاہ ٫ جی ڈی اے کے جنرل ��کریٹری ڈاکٹر صفدر علی عباسی ٫ سردار عبد الرحیم حسینین مرزا معظم علی خان عباسی محمد خان جونیجو مظفر حسین بروھی موجود تھے
ملاقات مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، اسلم غوری، انجینئر ضیاء الرحمان، علامہ راشد محمود سومرو،نصیر احمد احرار، قاری محمد عثمان، علامہ ناصر سومرو،انجنئیر عبدالرزاق عابد لاکھو ودیگر بھی شریک تھے۔