🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
افغانستان کی پالیسی پر بولو تو کہتے ہیں افغانستان چلے جاؤ۔
ایران کے معاملے پر بولو تو کہتے ہیں ایران چلے جاؤ۔
کیوں یہ تمہارے باپ کا ملک ہے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی 🔥
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
Three years on, The Siege of Zaman Park remains a turning point when Pakistan's political, social, and moral norms were uprooted and discarded by a military dictator.
From brutal and disproportionate violence against unarmed citizens, deliberate destruction of property, the breach of private sanctuary, and the invasion of homes has been made the new normal by a fascist regime.
#AsimLaw #DDA #PakistanUnderFascism
عظیم عدالت کا عظیم فیصلہ
ڈاکٹر شہباز گل نے نو مئی 2023 کو امریکہ سے روڑا مار کر پاکستان میں جی ایچ کیو کا شیشہ توڑ دیا لہذا 10 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے -
جی ایچ کیو حملہ کیس میں سزاؤں پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل
جی ایچ کیو حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سنائی جانے والی سزائیں نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں بلکہ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انتقامی کارروائیوں کی ایک اور افسوسناک مثال ہیں۔
9 مئی کے واقعات کو ایک منظم بیانیے کے تحت پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت کے خلاف استعمال کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان واقعات کو بنیاد بنا کر ایک پوری سیاسی جماعت کو کچلنے، اس کی قیادت کو جیلوں میں ڈالنے اور کارکنان کو خوفزدہ کرنے کی منظم کوشش کی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف بارہا واضح کر چکی ہے کہ پارٹی کا مؤقف ہمیشہ آئین، قانون اور پرامن سیاسی جدوجہد پر مبنی رہا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ فیصلے نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ ملک میں انصاف کے نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
قائد تحریک انصاف عمران خان کو طویل عرصے سے قید میں رکھا گیا ہے، پارٹی کے مرکزی رہنماؤں اور کارکنان کو مختلف مقدمات میں الجھا کر سیاسی عمل کو محدود کیا جا رہا ہے، اور اب جی ایچ کیو کیس میں دی جانے والی سزائیں اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہیں۔
اس کیس میں کل 47 رہنماؤں و کارکنان کو سزا دی گئی، جن میں اہم نام درج ذیل ہیں:
عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب، شیخ راشد شفیق، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ،بلال اعجاز، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ اور دیگر۔
قابل ذکر ہے کہ ان میں سے متعدد رہنماؤں کو غیر حاضری میں سزا سنائی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف واضح کرتی ہے کہ یہ فیصلے نہ تو عوام کی آواز کو دباسکتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کی جمہوری جدوجہد کو روک سکتے ہیں۔ ہم اس فیصلے کے خلاف تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کریں گے اور ہر فورم پر انصاف کے لیے آواز بلند کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ سیاسی انتقام کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، ملک میں آئین و قانون کی حقیقی بالادستی قائم کی جائے اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ملک میں جاری یہ کارروائیاں دراصل سیاسی انجینئرنگ کا تسلسل ہیں۔ تحریک انصاف اپنے کارکنان اور عوام کے ساتھ مل کر جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کی جدوجہد جاری رکھے گی۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ، پاکستان تحریک انصاف
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سرکش ہُوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
Statement by Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) on Shahadat of Supreme Leader Imam Ayatollah Ali Khamenei
Pakistan Tehreek-e-Insaf expresses its profound sorrow and unequivocal condemnation of the assassination of Imam Ayatollah Ali Khamenei.
This assassination undermines international law, destabilises the region, and pushes the world further toward chaos and conflict.
We extend our deepest condolences to the people of Iran during this time of grief and uncertainty. The loss of the Supreme Leader of the Iranian people is a moment of profound mourning for Iran and the brotherly people of Pakistan.
PTI urges the United States and Israel to immediately cease any further illegal aggression or escalatory actions.
With civilians gathered in large numbers on roads and in public spaces during this mourning period, the risk of civilian casualties is significantly heightened.
Even in the most difficult and barbaric of times, the sanctity of civilian life must be respected, and restraint must prevail over retaliation.
At the same time, we call upon Iran to exercise responsibility and caution. Reports indicating that drones have struck civilian residences and public places in neighbouring Arab states are deeply concerning. The protection of innocent lives must remain paramount, and any actions that endanger non-combatants must cease immediately. We call upon all states to desist from providing any form of support for the aggression launched by Israel and the US against Iran.
Pakistan Tehreek-e-Insaf reiterates its principled stance in favor of international law, sovereignty, restraint, and the protection of civilian life. The path forward must be guided by diplomacy, accountability, and an urgent commitment to de-escalation.
Released by Central Media Department, Pakistan Tehreek-e-Insaf
The sudden appearance and rapid deterioration of Imran Khan's eye condition is caused by severe neglect over two years of solitary confinement.
Authorities continue to block access to his personal physicians and family. No dental treatment has been made available despite repeated requests. Independent and transparent medical care continues to be denied for a serious eye condition that could potentially lead to loss of vision.
#LetKhanMeetHisPersonalDoctors
جولائی ۲۰۲۱افغانستان سے امریکی انخلاء؛ چیلنجز اینڈ اپرچونٹیز، وزیر اعظم عمران خان میٹنگ بلاتے ہیں، عسکری قیادت کی رائے میں صورت حال خانہ جنگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جس میں اپنے اتحادی دوست افغان طالبان کو بہر طور سپورٹ فراہم کرنی ہے۔
اگست ۲۰۲۱، کابل سے امریکی انخلاء ہوتا ہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے حکومت سازی میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی لعن طعن کا رُخ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کابل میں محصور شہریوں کو سیف ایگزیٹ مہیا کرکے پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۱، عسکری قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کو پاکستانی طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کا پلان پیش کیا گیا۔ جس کی کابینہ اراکین نے بھرپور مخالفت کی اور وزیر اعظم نے ایسے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔
دسمبر ۲۰۲۱، وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کراتے ہیں اور اسلامی ممالک کو افغانستان کو درپیش انسانی المیے سے آگاہ کرتے ہوئے برادرانِ اسلام (یعنی مظلوم افغان عوام) کی مدد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں افغان طالبان قیادت اور پاکستانی حکام کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئیں، وزارت مواصلات اور دیگر محکموں کی جانب سے براستہ افغانستان تجارت اور دیگر منصوبوں کے متعلق شدومد سے پلاننگ کا آغاز ہوا، خود میں نے روس،افغانستان، چین اور دیگر وسطی ایشیاء ممالک کی کنیکٹوٹی کے حوالے سے میٹنگز چئیر کیں۔
مارچ ۲۰۲۲، اسلام آباد میں او آئی سی ممالک کا افغانستان کے مسئلے پر ایک اور اجلاس منعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقوامِ عالم کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بہتری کا ایسا راستہ نکالنے کا کہتے ہیں جس سے افغانستان کے شہریوں کی فلاح اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی دنیا کا امن ممکن ہو۔
جون ۲۰۲۲، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ڈی ایم کی کٹ پُتلی حکومت کے سامنے عسکری حکام کی جانب سے وہی پلان پیش کیا جاتا ہے جس کی نومبر ۲۰۲۱ میں وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، فوری منظوری دے دی جاتی ہے۔
جون ۲۰۲۲، عسکری حکومت کی جانب سے افغانستان وفد بھیج کر طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوتا ہے۔
جولائی ۲۰۲۲، میں اس منصوبے کے خلاف عوام کو متحرک کرتا ہوں۔ مجھ پر غداری کے مقدمے ہوتے ہیں، فساد پھیلانے کے فتوی لگتے ہیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر درون خانہ رابطے کرکے پہلے حجتیں، تاویلیں اور پھر واپس بھیجنے کی گارنٹیز دی جاتی ہیں اور واپس بھیج بھی دیا جاتا ہے۔
اگست ۲۰۲۲، عبوری حکومت کے دوران عسکری سرکردگی میں ان طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی پاکستان میں باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوتا ہے اور عسکری سرکردگی میں اسلحے سمیت خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں آباد کیا جاتا ہے۔
پھر ان ہی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کو بنیاد بنا کر ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۷ تک خیبر پختونخواہ اور باقی پاکستان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔
پھر ٹرمپ کی امریکی اسلحہ کے بیان اور بگرام ائیر بیس دینے سے طالبان کے انکار میں ہمارے جرنیلوں کو وہ سنہری موقع مل جاتا ہے جس کے وہ انتظار میں تھے۔ پاکستان میں پناہ گزین افغان شہریوں کا غیر انسانی انخلاء شروع ہوتا ہے، بارڈر پر تجارت بند کردی جاتی ہے، افغانستان پاکستان کے امن کا اولیں دشمن قرار پاتا ہے، تندو تیز بیانات اور فضائی حملوں سے اس دشمنی کو مزید مستحکم کیا جاتا ہے۔
نتیجہ اس سے کچھ مختلف تو نہیں ہونا تھا جو ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۰ تک ہوا مگر کیا سبب تھا کہ ۲۰۲۲ میں بھی اسی رُول بُک کو فالو کرنا مناسب سمجھا گیا؟ یہ سوال میں تو چار سال سے پوچھ رہا ہوں اب اگر منہ سے جھاگ اڑاتے، جنگ کے طبل بجاتے اور سوال اٹھانے والو کو وطن دشمنی کے فتوی بانٹنے والوں کی گیس لائیٹنگ میں آئے بنا آپ بھی پوچھ لیں کہ کیونکر اپنے جوانوں، اپنے اور پڑوسی ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیوں، اپنے ملک کے امن اور استحکام سے اس بے دردی سے کھیلا گیا تو شاید آپ کا مستقبل گذشتہ سے کچھ مختلف ہوجائے۔
جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے۔
تیراہ میں ایک دفعہ پھر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ۴ معصوم شہری شہید اور ۵ زخمی ہوئے۔ یہ کولیٹرل ڈیمیج وہاں پر معمور سیکورٹی اہلکاروں کی نا اہلی ہے۔ صوبائی حکومت شہداء اور زخمیوں کی فیملی کے ساتھ کھڑی ہے اور اس غم کے وقت اُن کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
”تیراہ میں ایک دفعہ پھر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ۴ معصوم شہری شہید اور ۵ زخمی ہوئے۔ یہ کولیٹرل ڈیمیج وہاں پر معمور سیکورٹی اہلکاروں کی نا اہلی ہے۔ صوبائی حکومت شہداء اور زخمیوں کی فیملی کے ساتھ کھڑی ہے اور اس غم کے وقت اُن کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔“- وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا @SohailAfridiISF