🚨"کل پی ٹی آئی کے حلقوں میں یہ تاثر تھا کہ شاید حالات بدل رہے ��یں اور حکومت اور عدالت کے درمیان کوئی دراڑ آ گئی ہے، لیکن آج کے اشاروں سے واضح ہے کہ یہ توقعات کچھ زیادہ تھیں۔ سپریم کورٹ نے درخواست فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کرنے کے بجائے اسے 16 ستمبر تک م��خر کر دیا اور واضح کیا کہ توہینِ عدالت کے 95 مقدمات زیرِ سماعت ہیں، اس لیے کسی ایک کیس کو خصوصی ترجیح نہیں دی جا سکتی۔
فیصلے پر ابھی جزوی عمل درآمد ہوا ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں ہوئیں اور ہفتے میں دو ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی، تاہم بچوں سے ہفتے میں دو مرتبہ فون پر بات کرانے کے حوالے سے ابھی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔ شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز لے جانے کے معاملے پر بھی حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف مختلف ہیں، جس کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ دوسری جانب رانا ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سکیورٹی کا معاملہ وزارتِ داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے عدالت متعلقہ حکام سے جواب لے سکتی ہے۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
@AmirMateen2
🚨"پورے پاکستان میں بیوروکریسی، عدلیہ اور پارلیمنٹیرینز کے درمیان اپنی مراعات اور تنخواہیں بڑھانے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں، پنشن اور مراعات پہلے ہی بہت زیادہ ہیں، جبکہ دوسری طرف پورا ملک عدالتی نظام کی کمزوری اور بڑھتی ہوئی مشکلات کا رونا رو رہا ہے۔ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی خبریں بھی مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں، جبکہ عوام میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ پارلیمان ا�� کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔
اسی طرح انتظامیہ میں بھی مراعات اور اخراجات کا مسئلہ موجود ہے۔ پاکستان کا بنیادی معاشی مسئلہ یہ ہے کہ حکومت عوام سے ٹیکس اور ریونیو تو مسلسل بڑھا رہی ہے، لیکن اپنے اخراجات کم کرنے پر تیار نہیں۔ عوام پر ٹیکس کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ حکمران طبقے اور ریاستی اداروں کی مراعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین صاحب
@AmirMateen2
میاں محمد شریف صاحب نواز شریف کے والد صاحب کے سات بھائی تھے۔ ان میں سے ایک بھائی یعنی میاں شریف صاحب اتنے امیر کیسے ہو گئے؟ کس نے انہیں جنرل ضیاء الحق سے ملوایا؟ سنبے اعتزاز احسن کی زبانی
Full podcast link in the comment
#NawazShareef#MaryamNawaz#PMLN#PTIofficial#imrankhan #imrankhanptiofficial
ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور ہیں۔۔جس طرح انہوں نے بچوں کے خون کے عطیات کیلئے کام کیا ہے۔۔انکی جو سوسائٹی بنی ہوئی ہے، وہ اتنی پیاری چیز ہے۔۔پی ٹی اۤئی کی باقی خواتین بھی ہنستی ہوئی عقوبت خانوں میں جاتی ہیں۔۔۔ انہوں نے تو فیض کے اس شعر کو معنی دیئے ہیں "کہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔۔": اعتزاز احسن
@ArbazRazaBhutta
اعتزاز احسن نے آخر کار پچاس سال بعد پیپلز پارٹی اور بلاول کی سیاست پر ہاتھ ��ھڑے کر دیے۔ ہمیشہ ٹال جاتے تھے چپ کر جاتے تھے مگر اب بول ہی پڑے۔ https://t.co/gwTu1L8V4N
پیپلز پارٹی کی خواتین کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جو خوا��ین کوٹ لکھت پت جیل میں قید ہیں ان کے لیے نکلنا چاہیے تھا۔ یہ پیپلز پارٹی کی بہت بڑی کوتاہی ہے میں نے ایک دو بار اس بارے لکھا بھی ہے۔ اگر آج بینظیر بھٹو یا ذوالفقار علی بھٹو ہوتے تو حکومت سے اس معاملے پر شدید احتجاج کرتے۔ سینئر سیاستدان بیرسٹر اعتزاز احسن
https://t.co/fNHJQMMius
🚨"اگر خلیج کا معاملہ طے نہ پایا تو عالمی معیشت سست روی کی طرف جا سکتی ہے۔ امریکہ میں بھی خسارہ، مہنگائی اور قرضوں کے دباؤ کے اثرات نظر آ رہے ہیں، جن کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سبزیوں او�� پھلوں ک�� قیمتوں میں 100 سے 150 روپے تک اضافہ ہوا، جبکہ خوراک کی درآمدات بھی تقریباً 6 سے 7 ارب ڈالر تک پہنچ رہی ہیں۔ دوسری طرف حکومت کے اخراجات میں کمی نظر نہیں آ رہی۔ موجودہ اخراجات جی ڈی پی کے 16 فیصد اور بجٹ کے 93 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ عامر متین صاحب
حکومت آئی ایم ایف پروگرام پورا کرنے کے لیے زیادہ تر آسان راستہ اختیار کر رہی ہے۔ عام طبقے پر ٹیکس بڑھانا، قانونی طور پر کام کرنے والی کمپنیوں پر کارپوریٹ ٹیکس کا بوجھ بڑھانا، پٹرولیم پر بھاری ٹیکس عائد کرنا اور صوبوں کو اخراجات محدود کرنے پر مجبور کرنا۔ اس سال صوبوں سے 1700 ارب روپے سرپلس لینے کے ساتھ مزید 1000 ارب روپے کا انتظام کی�� گیا ہے، یعنی مجموعی طور پر 2700 ارب روپے، جس سے تعلیم، صحت، صاف پانی، نکاسی آب اور ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جان�� سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے اخراجات بھی 39 فیصد بڑھ کر 22 ارب روپے ہو گئے ہیں، جو حکومتی اخراجات پر مؤثر نگرانی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔" اسد عمر
@AsadUmerT @AmirMateen2
🚨"میرا 45 سال کا صحافتی تجربہ ہے، جن میں سے تقریباً 25 سال میں نے پارلیمانی رپورٹنگ کی ہے۔ پی ٹی آئی کی تو اتنی عمر بھی نہیں جتنی ہماری پارلیمنٹ کی کوریج کا تجربہ ہے، اس لیے ہم یہ بات مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔
جہاں تک Perks and Privileges کا تعلق ہے، اس پر یقیناً بڑے سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وفاق میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر پارلیمانی اداروں میں کئی ایسی مراعات پہلے سے موجود ہیں۔ Blue Passport، Spouse کو اس کی سہولت، بعض مراعات کا تاحیات برقرار رہنا، اور VIP Lounges کا استعمال، یہ سب پہلے سے رائج ہیں اور VIP Culture کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
لیکن جب یہی اقدامات پی ٹی آئی کی جانب سے سامنے آتے ہیں تو سوال اس لیے زیادہ اٹھتے ہیں، کیونکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی سیاست کی بنیاد ہی VIP Culture کے خاتمے، مساوی قانون اور مراعات کے خلاف بیانیے پر رکھی گئی تھی۔ اسی لیے جب وہی جماعت ایسی مراعات میں اضافہ کرتی ہے، بلکہ بعض معاملات میں دوسروں سے بھی آگے بڑھتی نظر آتی ہے، تو تنقید اور سوالات مزید شدت اختیار کر جاتے ہیں۔"
سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
@AmirMateen2
🚨"آپ کی عمر سے زیادہ میرا پارلیمانی رپورٹنگ کا تجربہ ہے، اس لیے میں اصولی اور پارلیمانی طریقۂ کار کی بات کر رہا ہوں۔"
"میں اس دلیل کو نہیں مانتا کہ چونکہ یہ قانون 1988 سے چلا آ رہا تھا، اس لیے اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ پی ٹی آئی نے عوام سے ووٹ ہی اس وعدے پر لیا تھا کہ وہ ایسے تمام پرانے، غلط اور VIP Culture کو فروغ دینے والے قوانین تبدیل کرے گی۔ اس لیے یہ کہنا کہ "یہ تو پہلے سے موجود قانون تھا، ہم نے صرف تھوڑی بہت ترمیم کی ہے"، میرے نزدیک قابلِ قبول دلیل نہیں۔
دوسری بات، جو مجھے زیادہ تشویشناک لگتی ہے، وہ یہ ہے کہ آپ خود کہہ رہے ہیں کہ پہلے Cabinet نے بل کی منظوری دی، پھر بیچ میں کنڈی صاحب کی ایک Amendment شامل ہو گئی۔ اصولی طور پر Cabinet جب کسی بل کی حتمی منظوری دے دے تو بعد میں آنے والی ایسی ترمیم دوبارہ Cabinet کے سامنے جانی چاہیے تاکہ وہ اس کی بھی منظوری دے۔ یہی پارلیمانی طریقۂ کار ہے۔"
سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
@AmirMateen2
لطیفہ سن لیں "ووٹنگ نہیں ہوئی لیکن ہمارے ممبران کی مرضی سے قانون پاس ہوا" شفیع جان 😂
یہی ہوتا ہے جب آپ کی کوئی قابلیت ہی نہ ہو اور آپ صرف عمران خان صاح�� کے نام پر ووٹ لے کر آ جائیں اور انہیں بھلا کر اپنی موج مستی میں لگ جائیں۔ آپ کو پتہ ہی نہ ہو کہ بول کیا رہے ہیں؟
یہ تو اسی محترمہ والی بات ہوئی کہ عمران خان صاحب کے پاس آکسفورڈ کی ڈگری نہیں ہے انہوں نے تو صرف وہاں سے ماسٹرز کیا ہوا ہے 😂😂
🚨"یہ نوٹیفیکیشن 9 مئی کا ہوا ہے اور پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ پبلک کیوں نہیں ہو پایا، اس کی کاپیاں کیوں دستیاب نہیں تھیں۔
بہرحال میں پھر یہ ضرور کہوں گا کہ 1988 کے قانون میں اگر Toll Tax فری تھا بھی، تو یہ بڑی چھوٹی سی حرکت ہے کہ 10، 15 روپے بچانے کے لیے ایسی مراعات لی جائیں۔ عوام آپ لوگوں کو اس لیے اسمبلی نہیں بھیجتی۔
پی ٹی آئی نے ہمیشہ VIP Culture ختم کرنے کا دعویٰ کیا، اس لیے آپ لوگوں پر تنقید زیادہ ہوتی ہے، اور یہ برداشت بھی کرنی چاہیے۔ پہلے تو آپ کہہ رہے تھے کہ یہ ساری خبریں غلط ہیں، اب کم از کم آپ یہ اقرار تو کر رہے ہیں کہ یہ سب موجود ہے اور Exist کرتا ہے۔"
سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
@AmirMateen2
🚨"30 اپریل کو ترمیم آئی اور میں 30 اپریل کو اسمبلی کے اجلاس میں موجود نہیں تھا۔" شفیع جان
"شفیع جان صاحب، میں آپ کی یہ دلیل نہیں مانتا کہ آپ بطور وزیرِ اطلاعات یہ کہیں کہ میں اس دن موجود نہیں تھا، اس لیے میرے علم میں نہیں تھا۔" عامر متین
@AmirMateen2
🚨"30 اپریل کو ترمیم آئی اور میں 30 اپریل کو اسمبلی کے اجلاس میں موجود نہیں تھا۔" شفیع جان
"شفیع جان صاحب، میں آپ کی یہ دلیل نہیں مانتا کہ آپ بطور وزیرِ ا��لاعات یہ کہیں کہ میں اس دن موجود نہیں تھا، اس لیے میرے علم میں نہیں تھا۔" عامر متین
@AmirMateen2
"یہ PTI والے تو نکلے تھے یہ بتانے کہ وی آئی پی کلچر ختم کریں گے، پروٹوکول ختم کریں گے۔ لیکن ان کا اپنا لیڈر (عمران خان) جیل میں پڑا ہوا ہے، اور انہیں اس کی بھی یاد نہیں۔ یہی لوگ کہتے تھے کہ نئی قیادت آئے گی تو عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور کوشش کرے گی، مگر اب یہ کسی اور ہی چکروں میں پڑ گئے ہیں۔"
سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
@AmirMateen2
🚨 امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں ایران پر طاقتور حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
#Iran#US#Hormuz
🚨"صرف صوبوں کی نہیں، پورے ملک کی ترجیحات سمجھ سے باہر ہیں۔ ایک طرف پاکستان کی معیشت انتہائی خراب حالت میں ہے، سیکیورٹی کے مسائل بھی سنگین ہیں، مگر ہمارے قانون ساز، چاہے وفاق میں ہوں یا صوبوں میں، ان کی ترجیحات اور مفادات جیسے کسی اور ہی دنیا کے نظر آتے ہیں۔
اب خیبر پختونخوا سے جو خبریں آئی ہیں، وہ بھی کم تشویشناک نہیں۔ جن لوگوں کا پہلے سارا زور عمران خان کی رہائی پر تھا، اب وہ اپنے اختیارات، مراعات اور پروٹوکول بڑھانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ بلو پاسپورٹ، سرکاری گاڑ��اں، وی آئی پی لاؤنجز اور دیگر مراعات کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جو نعرہ شفافیت اور تبدیلی کا تھا، وہ اب الٹی سمت میں چل پڑا ہے۔"
سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
@AmirMateen2
🚨"کوئٹہ سے تقریباً 46 سے 50 کلومیٹر دور علاقے میں زیرِ تعمیر مانگی ڈیم کی حفاظت پر مامور ایک چوکی پر تقریباً 200 سے 250 شدت پسندوں نے حملہ کر دیا۔ دونوں جانب سے تقریباً 45 گھنٹے تک شدید لڑائی جاری رہی۔ چوکی پر موجود تقریباً 35 پولیس اہلکاروں کا اسلحہ اور گولہ بارود ختم ہو گیا، جس کے بعد شدت پسندوں نے انہیں گھیر لیا اور اپنے ساتھ پہاڑوں میں لے گئے۔
اطلاعات کے مطابق اغوا کیے گئے اہلکاروں میں سے 9 کو شہید کر دیا گیا، جبکہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 21 پولیس اہلکار اب بھی شدت پسندوں کی تحویل میں ہیں۔ دوسری جانب 8 اہلکار پہاڑی راستوں سے نکل کر بحفاظت دوبارہ زیارت پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔" خلیل احمد
@AmirMateen2
🚨"اب TTP نے خیبرپختونخوا کی بجائے زیادہ تر کاروائیوں کے لیے بلوچستان کا رخ کر لیا ہے۔"
"پہلے TTP کی سرگرمیوں کا زیادہ تر مرکز خیبر پختونخوا ��ھا، لیکن اب اطلاعات یہ ہیں کہ وہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے زیادہ تر بڑے دہشت گرد حملے، جیسے جعفر ایکسپریس پر حملہ اور دیگر واقعات، بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے منسوب کیے جاتے تھے لیکن اب زیارت اور پختون بیلٹ کے علاقوں میں بھی TTP کی سرگرمیاں بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ اداروں کو اس نئی صورتِ حال کا پہلے سے ادراک تھا؟ کیا ان کے پاس ایسی اطلاعات موجود تھیں کہ اس نوعیت کی پیش رفت ہو رہی ہے؟"
. سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
@AmirMateen2