پاکستانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات تک نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں: امریکی اراکینِ کانگرس کا صدر بائیڈن کو خط۔۔۔
تفصیلات: https://t.co/4ELmDuEi8j
آج کے کامیاب احتجاج کے بعد پی ٹی آئی نے اگلے ہفتے اس سے بھی بھرپور احتجاج کا اعلان کر دیا۔۔۔
یہ عوام اپنا مینڈیٹ لے کر اور شیر پاکستان کو وزیراعظم بنا کر ہی دم لے گی اب۔ ان شاءاللہ
وہ جو میری ہر خبر بڑے صاحب کو پہنچاتے ہیں وہ آج میری خبر بڑے صاحب تک پہنچانے سے پہلے دس دفعہ سوچیں گے۔ کیونکہ یہ خبر بڑے صاحب کی ہوائیاں اڑانے والی ہے۔ کہ میری رسائی کہاں تک ہے۔
یہ ریاست کیلا کی کہانی ہے۔ وہاں ایک یزید تعینات ہے۔ جس کا نام قاسم بشیر ہے۔ شاید کچھ اور نام ہو۔ ہوسکتا ہے اس کا نام جاسم صغیر ہو۔ ناموں میں کیا رکھا ہے چھوڑیں ناموں کو۔ اصل تو انسان کے کرتوت ہوتے ہیں۔
فرض کرلیتے ہیں اس ��ا نام یزید ہے۔ لیکن ہر بات فرض کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یزید کا ماموں بابر برطانیہ میں ہے۔ وہ یزید کےلیے دو ہزار ایکڑ اسٹیٹ خرید رہا ہے۔ یہ وسیع و عریض قطعہ اراضی سکاٹ لینڈ میں خریدا جارہا ہے۔ یہ اراضی کی مالیت قریب ساڑھے تین سو کروڑ روپے ہے۔
ان ممالک میں کوئی چیز چھپائی تو جا نہیں سکتی۔ جلد ہر چیز بمعہ کاغذات کے منظر عام پر ہوگی۔ میرا خیال تھا کہ یزید مصروف ہے اسکو تشریف کھجانے کی فرصت نہیں بیچارہ مال پانی نہیں بنا پا رہا ہوگا۔ لیکن مجھے بھی حیرت ہوئی کہ اس مشکل میں بھی مال بنانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
اگر یزید یا اسکے تعلقات عامہ یا مالشی ، یا اسکے غلام یا اسکے ایجنٹ کوئی وضاحت دینا چاہیں تو ہمت کرلیں
سوشل میڈیا پر پابندی یا اسے گالی دینے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ اب ایک بہت بڑی طاقت بن گئی ہے۔ تحریک انصاف کے نوجوانوں نے بغیر بڑی سرمایہ کاری کے واقعی اسے سب سے مؤثر استعمال کیا ہے۔
پڑھے لکھے پاکستانیوں میں عمران خان کی پی ٹی آئی نواز شریف کی پی ایم ایل این سے دوگنا سے زیادہ مقبول ہے 8 فروری انتخابات سے تقریباً 2 ہفتے قبل میرے ٹوئٹر ہینڈل پر وسیع سروے کے نتائج واضح طور عمران خان کی پی ٹی آئی کے حق میں دکھا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے قریبی حریف نواز شریف کی ن لیگ سے ناقابل عبور اکثریت سے آگے نظر آرہی ہے ٹوئٹر پر اس رائے شماری میں متاثر کن 330343 افراد نے ووٹ ڈالے اس کے نتائج سے ملک کے موجودہ سیاسی درجہ حرارت جانچنے کے کافی اشارے موجود ہیں
سروے سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 66 فیصد جواب دہندگان نے عمران خان اور پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے پر مجبور ہیں، سپریم کورٹ پی ٹی آئی کو بلے کے انتخابی نشان سے محروم کرچکی ہے۔ یہ عجیب غریب صورتحال فروری 8 الیکشن کے پہلے ہی دھاندلی زدہ امیج کو مزید ٹھوس بنا چکی ہے
دوسری جانب ہماری رائے شماری کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ سروے کے مطابق صرف 32 فیصد شرکاء نواز شریف کی پی ایم ایل این کو ووٹ دینے پر مائل ہیں۔ ۔
اس ٹویئٹر سروے میں تین لاکھ 33ہزار سے زائد ووٹ کی تعداد اس جائزے کے مستند ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے گویا کسی صاف شفاف الیکشن میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار انتخابی معرکہ جیت جانا قطعی ناممکن نہی ہے الیکشن کیسے ہونے ہیں ویسے ہی ہوں جیسے ہونے ہوں کوئی خدائی معجزہ ہوجائے پی ٹی آئی کے حمایتی ووٹرز آخری وقت میں اپنا ووٹ ن لیگ کو دے دیں تو الگ بات ہے وللہ عالم بالصواب ہاں ائیندہ الیکشن نتائج کے بعد حکومت کون بنائے گا کہنا ناممکن نہیں ہے کیونکہ مثال کے طور پر اکثریتی ووٹ پی ٹی آئی کو مل بھی جائیں مگر پی ٹی آئی کو حکومتی اتحادی نہیں ملیں گے جانے پہچانے نامور حکومتی اتحادی ایم ک��وایم باپ پارٹی آئی پی پی اور درجنوں آزاد امیدوار ن لیگ کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنا لیں گے بیچاری پی ٹی آئی منہ دیکھتی رہ جائے گی باقی فیصلہ تاریخ لکھے گی