بعض دفعہ ہم ایسی اداسی میں ہوتے..!!
جو سوئی ہوئی اداسی کہلاتی ہے.
جو بیکار ہوتی
جس میں نہ غصہ ہوتا نہ کچھ آگ.
نہ کچھ لکھتے
نہ باغی ہوتے
چپ رہتے.
بس لیٹ کر غروب و سحر کا انتظار کرتے
مسکراتے
اپنا کام کرتے
پر اندر سے اداس.
یہ وہ اداسی ہے جس میں ہنسی گم جاتی اور
جاتا رویا بھی نہیں.
ریستوران کے کونے والی نشست!
جس پر میں آج براجمان تھا
اسکے پیچھے
رات رانی مہک رہی تھی۔
ذرا فاصلے پر
ایک جوڑا کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا
مگر
انکے چہرے پر اطمینان اور مسکراہٹ تھی
اور
میں یہ راز جان گیا کہ
جو محبت میں خالص ہوتے ہیں
وہ نہیں اکتاتے
خواہ انکے بیچ خاموشی چھائی ہو-
اور پھر تمہیں احساس ہوتا ہے..!!
کہ
تمہیں تو تھکا دیا گیا.
تم بہت زیادہ بولے
ضرورت سے بڑھ کر وضاحتیں دیتے رہے
اپنی طرف سے پورا انصاف کیا
ہر طرح سے بڑھ چڑھ کر یقین دہانیاں دی
مگر بے سود.
الٹا تمہاری توانائیاں ختم کر دی گئیں.
تب
تم خاموش
ان سے پرے
اور
اپنی ذات تک محدود ہو جاتے ہو
کسی سے مت جُڑو۔۔!!
جبتک ہر معاملے میں
اب وہ مذہبی خیالات
سیاسی نظریات
کھانا
پینا
محبت اور غصے کے اظہار کا طریقہ
اسکا رویہ
سوچ
افکار
اسکا نقطہ نظر نہ جان لو۔
یہ بات سمجھ رکھو
کہ
اپنے ساتھی بارے سب جاننا
تمہارا حق ہے
تاکہ تم مطمئن رہو
کہ
تمہاری محبت کا پنچھی محفوظ باغ میں اڑ رہا
اپنی مضبوطی تخلیق کرو۔۔!!
اور
بنا کسی پر ظاہر کیے
کہ
تم کس قدر مضبوط ہو
اسے اپنے اندر سمو کر رکھو۔
اپنی تمام ناکامیوں اور مایوسیوں سے
باہر نکلنے کی کوشش کرو۔
اپنے خوابوں کو پالو
اور
بلا جھجھک انکے محل تعمیر کرو۔
تم جینے کے لیے بناۓ گئے تھے۔
نہ کہ سانس لے لے کر سانس ختم کرنے کو
آج تک جتنا بھی دیکھا، سنا، سہا یا پڑھا۔۔!!
بس یہی سمجھ میں آیا
کہ
خوشی کبھی بھی طویل عرصے کے لیے
نہیں آتی۔
یہ آتی جاتی رہتی ہے۔
کبھی لمحوں
دنوں
ہفتوں
اور
کبھی کچھ مہینوں کے لیے۔
مگر
ہم اسے گنوا دیتے ہیں۔
کیونکہ
ہم اسے تاحیات کے لیے چاہ رہے ہوتے
خوشی دور نہیں دورانیے کا نام ہے۔
عرصہ دراز تک میں یہی سمجھتا رہا۔۔!!
کہ
ہمیں اس بارے احتیاط کرنی چاہیے
کہ جس سے ہمیں محبت ہے
اس کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔
اسکے بعد مجھ پر یہ کُھلا کہ نہیں۔
ایسا نہیں۔
بلکہ
اگر چُننا پڑے تو
ہمارے اپنے جذبات اس بات کے
زیادہ مستحق ہیں
کہ
ہمیشہ سب سے پہلے انکا خیال رکھا جاۓ۔
ہمیشہ۔
یہ بھی عجیب ہی ہے۔۔!
سب کے اندر چاہے جانے کی
حد درجہ خواہش ہوتی ہے۔
مگر
اک انسان دوسرے کو تنگ کرتا
شک کرتا
جھنجھلاتا
مذاق اڑاتا ہے
محض اس وجہ سے
کہ وہ اسے سب سے اہم رکھتا ہے۔
اور
اگر کوئی اہم نہ سمجھے تو پھر رونا رویا جاتا
کہ کوئی محبت نہیں کرتا۔
انسان بہت بےاعتباری مخلوق ہے۔
جو چھوڑ کر جاتا اسے جانے دو۔۔!!
روکو مت۔
اگر
وہ آپکا ہوتا تو رکا رہتا۔
ضد کا فائدہ نہیں
کیونکہ
ایسی ضد صرف اپنے ساتھ ہوتی ہے
اور
آج نہیں تو کل تمہیں خود کو
کوئی نہ کوئی وجہ دیکر ہر صورت آگے
بڑھانا ہی ہوتا۔
تو بہتر ہے
زندگی کا بہترین وقت ضائع کرنے کی بجاۓ
وقت پر خود کو سمجھا لو۔
زندگی بہت سادہ ہے۔۔!!
کچھ لوگ آپکا ذہن خراب کر دیتے ہیں۔
یہ جتلا کر
کہ
زندگی ریس ہے.
جس میں وہ جیت گئے
کیونکہ ان میں دم تھا۔
سو انہیں حق ہے کہ کوچ بن کر
آپکے اندر کمیاں نکالیں
حالانکہ
وہ آپکی کوششوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔
تو
ایسوں کو نظرانداز کرو
اور
وہی کرو جو آپکو مناسب لگتا ہے۔
خود تک رسائی آسان نہ رکھو۔۔!!
یہ دنیا ہے۔
اسکے معاملات تمہاری سوچ کی طرح سیدھے نہیں ہیں۔
اس میں الٹے لوگ رہتے ہیں۔
اگر
ٹیڑھے راستے پہ
ناک کی سیدھ میں گاڑی چلاؤ گے
تو کھائی میں جا گرو گے۔
تمہاری اپنائیت ہمیشہ سوالیہ نظر سے
دیکھی جاۓ گی
خود کی دستیابی مشکل رکھو آسانی میں رہو گے۔
جب کوئی انسان۔۔!!
زندگی میں بیتنے والے واقعات
ملنے والی اداسیاں
حاصل شدہ مایوسیاں
لوگوں کے رویے
دکھ
درد
تکلیفیں
بیوفائیاں
دھوکے سنا رہا ہوتا
تو
اس کا ہرگز یہ مدعا نہیں ہوتا کہ
اسے بولنے کی طلب ہے
یا
اسے ہمدردی چاہیے
دراصل وہ تمہیں پیغام دے رہا ہوتا ہے
کہ دیکھو
تم ایسا مت کرنا.
غرض بری چیز نہیں۔۔!!
یہ دنیا ہے۔
یہاں پر کوئی بھی انسان
اب وہ تمہارے ماں باپ
بہن بھائی
یار دوست
رشتہ دار
محبوب یا محبوبہ
کوئی بھی ہو
ہر دو لوگوں کے بیچ غرض ہونی چاہیے۔
غرض دو انسانوں کو جوڑے رکھتی ہے۔
جن دو لوگوں کے بیچ کوئی غرض نہیں ہوتی
وہ لوگ اک دوجے سے بے پرواہ ہی رہتےہیں۔
اور پھر اک دن۔۔!!
زندگی کی شاہراہ پر تم سے کوئی ٹکراتا ہے۔
جبکہ
تم زخمی ہوۓ پڑے ہوتے ہو۔
وہ تمہارے ان زخموں
مایوسیوں
اداسیوں
حادثوں کی دوا کرتا
جنکی وہ وجہ بھی نہیں ہوتا۔
تم پہلے تجربے کی بنا پر
شک
نخرے
اور
دیر کرتے ہو
اور
تہی دست رہ جاتے ہو
زندگی مختصر ہے باقی تم پر منحصر ہے۔
گندم پک کر سنہری ہو چکی ہے۔۔!!
اب اسےجتنا بھی پانی دے لیں
یہ ہری نہیں ہو گی۔
کیونکہ
اسے دھوپ لگ چکی ہے۔
جب بندہ بھی زمانے کی دھوپ لگوا چکا ہو
ٹھوکریں
رویوں
اور
لہجوں کی مار کھا چکا ہو
تو
پک جاتا۔
پھر اسکے دل و دماغ
خاموشی
فیصلوں
یا
نقطہ نظر کو کوئی نئیں بدل سکتا۔
محبت بھی نہیں
جوں جوں وقت گزرتا ہے۔۔!!
ہمارے نقطہ نظر میں تبدیلی آ جاتی ہے۔
ہم روشناس ہوتے ہیں
کہ
حد سے زیادہ صاف گوئی
آگاہی
اور
معلومات بھی نقصان دہ ہیں۔
بعض اوقات ابہام ضروری ہوتا۔
مسکراہٹ کئی طرح کے معنی رکھتی ہے۔
ہمارے گرد کچھ چہرے نقاب اوڑھے ہیں
اور
تعلقات میں آسان رویہ رکھنا بہتر رہتا
خراب لوگ نہیں تمہارا وقت ہوتا۔۔!!
جو تمہیں ان لوگوں سے ملاتا
جو تمہارے گمان تک میں نہیں ہوتے۔
انکے ساتھ تم خیال بدلتے
تفصیلات بتاتے
تلخیاں بھولتے
خوبصورت تخیل میں رہتے
من چاہا جیتے
ہنستے
کھیلتے
سرگوشیاں کرتے ہو
پھر اچانک
وہ جدا ہوکر ایسے اجنبی بن جاتا
جیسے وہ کبھی آیا ہی نہ ہو
دستک کے باوجود کچھ دروازے نہیں کھلتے۔۔!!
کیونکہ
وہ تمہارا پتہ ہی نہیں ہوتے۔
کچھ لوگ
زندگی سے غائب ہو جاتے ہیں
کیونکہ
وہ تمہاری زندگی کی کتاب نہیں
اک صفحہ ہوتے ہیں۔
کچھ مواقع کھو جاتے ہیں
کیونکہ
تمہیں قسمت سے زیادہ تجربہ درکار ہوتا۔
بہترین ہے وہ دل
جو امید کی بجاۓ کوشش میں رہتا
لوگوں سے مت گھبراؤ۔۔!!
اپنی ذات میں مگن وہ سب کرتے رہو
جو تمہیں چاہیے
جو تمہیں پسند
اور
جو تم پر جچتا ہے
لوگوں کا کیا۔
انکا کوئی ایک رنگ تھوڑی ہوتا۔
اول اول یہ تم پر تنقید کرتے ہیں
پھر تمہارے اعتماد سے خاموش ہوتے ہیں
اور
آخر میں تم سے متاثر ہو کر
تمہارا ہی طریقہ اپنا لیتے ہیں۔