آؤ دلیل سے بات کریںآؤ دنیا کو بتا دیں
عمران خان کی تین سالہ دور حکومت اور کارکردگی
1۔احساس کفالت پروگرام
2۔لنگر خانے
3۔شیلٹر ہوم کا قیام
4۔راشن کارڈ
5۔کسان کارڈ
6۔صحت انصاف کارڈ
7۔احساس سکالر شپ پروگرام
8۔انصاف آفٹر نون سکول
9۔انصاف معذور و بزرگ کارڈ
10۔مزدور کارڈ
11۔روشن ڈیجیٹل پروگرام
12۔خدمت ای مراکز کا قیام
13۔نیب کو با اختیار بنانا
14۔راست پروگرام
15۔سیرت یونیورسٹی کا قیام
16۔ٹورازم کا فروغ
17۔بلین سونامی ٹری کا آغاز
18۔ ٹیکس ریفارمز
19۔کرکٹ سے ہی کرکٹ بورڈ کا چیئرمین
20۔پاکستان میں کرکٹ کی بحالی
21۔ پی ایس ایل کی کامیابی
22۔ای ٹرانسفر و پنشن کا قیام
23۔بھاشا، ۔مہمند اور واسو ڈیم پر کام کا آغاز
24۔اپنا گھر سکیم کا قیام
25۔بلا سود قرضے کی سکیم
26۔21 نئی یونیورسٹیوں پر کام کا آغاز
27۔اور 23 نئے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں پر کام
28۔پاکستان سٹیزن پورٹل کا قیام
29۔رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی کا قیام
30۔ہر فورم پر حرمت رسولؐ پر آواز اٹھانا
31۔پی آئی اے، پی ٹی وی اور این ایچ اے کو منافع بخش ادارہ بنانا
32۔زمینوں کی ڈیجیٹلائزیش
33۔دنیا کی 11ویں بڑی آئل ریفائنری کا قیام
34۔خیبر پی کے میں یتیم خانے اور اولڈ ہوم کا قیام
35- کرونا میں سری لنکا کے مسلمانوں کو مرنے کے بعد جلائے جانے کے خلاف آواز اٹھائی اور رکوایا
36۔کشمیر اور فلسطین کی آواز اٹھائی
37۔سکولوں میں صبح درود شریف اور قرآن پاک کی تعلیم کا آغاز
38۔قرآن کی تعلیم کے بغیر ڈگری دینے کا قانون ختم کرنا
39۔یکسان نظام تعلیم لاگو کرنے کی کوشش
40۔ریکوڈک منصوبے بر کام
41۔سعودی عرب سے مزدوروں کی رہائی
42۔پوری دنیا کی حاکمیت صرف اللہ کے پاس ہے اس چیز کو پوری دنیا میں باور کرانا
43۔قوم کے اندر خوداری پیدا کرنا
44. ملک کی گرتی معشیت کو دوبارہ پاؤں پہ کھڑا کرنا
45. تجارتی خسارے کا خاتمہ
زرع مبادلہ کے ذخائر میں _اضافہ
46. غیر ملکی قرضوں کی واپسی
47. سی پیک اتھارٹی کا قیام
48. گوادر پورٹ کو فنکشنل کرنا
49. انفراسٹرکچر نواز کے پانچ سالہ دور سے ڈبل اور کم لاگت پہ کرنا
50. ملکی خزانے کو 9 ارب ڈالر سے 22 ارب ڈالر تک لے جانا
51. اسلامو فوبیہ کی قرارداد یو این سے منظور کروانا
52. کشمیر کا کیس پوری دنیا میں لڑنا
53. پاکستان کا کیس یو این میں اچھے طریقے سے پیش کرنا
54. امریکہ کو اڈے نا دینا ایبسلوٹلی ناٹ
55. بند صنعتوں کو دوبارہ چلانا
56. رشیا کے ساتھ ملکی مفاد تجارتی معاہدہ کی کوشش
57. چوروں سے 397 ارب روپے کی ریکوری
58. کار کے کمپنی کیساتھ مذاکرات کر کے جرمانہ معاف کروانا
59. ایل این جی کے دوبارہ سستے معاہدے کرنا
60. احساس پروگرام کی شفافیت اور بلا تفریق تقسیم
61ْْْ اپنے دور حکومت میں او آئ سی اجلاس دو بار
اسلام آباد بلانا اور 57 اسلامی ممالک کی سربراہی پاکستان کو دلانا
62۔کرونا وائرس میں بہترین حکمت عملی
63 سکھوں کے دل میں پاکستان کی عزت کرانا كرتار پور باڈر کھول کر
*عمران خان پاکستان اور قوم کی ترقی دیکھ کہ سب تمہارے خلاف ہو گئے میں پہلے سے بھی زیادہ جذبے کے ساتھ عمران خان کے ساتھ ہوں کیونکہ عمران خان تم عزم شجاعت بہادری اور خودداری کی علامت ہو پاکستان میں تم واقعی مسلم امہ کے لیڈر ہو ہار،جیت, اٹھنا گرنا، یہ وقتی باتیں ہیں یہ دنیا داری ہے تم دنیا کی عظیم فکر کے وارث ہو اصل جیت ہی فکر اور نظریہ کی جیت ہوتی ہے اور وہ تم جیت چکے ہو تم نے قوم کو یہ بتا دیا ہے کہ یہ نظام کتنا گندا نظام ہے۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲
عمران خان کو تنہا کر کے فیملی، ڈاکٹرز اور وکلاء سے دور رکھنا طاقت نہیں، یہ کھلا خوف اور بزدلی ہے۔ ناحق قید تنہائی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی صرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ ظالم انصاف اور سچ سے کتنا خوفزدہ ہے۔ یہ انسانیت کے ساتھ کھلواڑ ہے، اور پاکستانی قوم کے لیے یہ سلوک اپنے لیڈر کے ساتھ ناقابل قبول ہے۔
#ReleaseImranKhan
#ShiftKhanToShifaInternational
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
پہلے میرے بطور وزیراعلیٰ انتخاب میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی گئی، پھر منشیات اور سمگلنگ کے جھوٹے الزامات لگانے کی کوشش کی، پھر دہشتگردوں سے جوڑنے کی کوشش کی، اس کے بعد میرے آبائی علاقے کی عوام کو زبردستی انخلا پر مجبور کیا گیا تاکہ مجھے سیاسی طور پر نقصان پہنچائے۔
9 مئی کے کسی کیس میں میرا نام تک نہیں لیکن اب جب کہ باقی سارے وار خالی گئے ہیں تو 9 مئی کے کیسز میں میرا نام ڈلوانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔
پوری قوم کو یہ بات پتہ ہے کہ “جس نے CCTV فوٹیج چرائی، اسی نے 9 مئی کرایا”-
لہذا میرے یا تحریک انصاف کے خلاف اتنی محنت اور سازشیں کرنے کی بجائے ان لوگوں کو پاکستانی قوم کے اصل نمائندے عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر بات کر لینی چاہییے تاکہ ان کے اپنے پیدا کردہ بحرانوں اور مسائل سے پاکستان آگے بڑھ سکے اور یہاں دیرپا امن قائم ہو-