وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو لاہور سے گرفتار کیا جانا انتہائی شرمناک، افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ ایک صوبے کے سربراہ کے ساتھ ایسا سلوک جمہوری اور آئینی اقدار پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔
حکمران یاد رکھیں، طاقت اور اقتدار ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتے۔ سیاسی انتقام، گرفتاریاں اور دباؤ عمران خان کے نظریے اور عوام کے دلوں میں موجود محبت کو ختم نہیں کر سکتے۔
جس حد تک گرنا چاہتے ہو، گر جاؤ، لیکن یہ بات یاد رکھو: عوام سب دیکھ رہے ہیں، سب یاد رکھ رہے ہیں، اور وقت آنے پر فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے۔
پان�� کروڑ پاکستانیوں کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلی کے ساتھ ظلم کی انتہا ملاحظہ ہو۔
کیا مریم نواز کے ساتھ کسی اور صوبے میں یہ سلوک کیا جا سکتا ہے؟
لاہور - بیغیرتی کی انتہا ، جیل میں ناحق قید میاں محمود الرشید کے گھر پر پولیس کا چھاپہ، 25 کے قریب نقاب پوش اہلکار گھر میں داخل ہوگئے۔
اہلِ محلہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور میاں محمود الرشید کی زوجہ کے ساتھ مبینہ طور پر تضحیک آمیز سلوک کیا۔ اس دوران ان کی آنکھ پر بھی زخم آیا اور طبیعت بگڑنے کے باعث وہ نیم بے ہوش ہوگئیں۔
انکی زوجہ پہلے ہی علیل اور شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر انہیں ��یم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔
رمیز راجہ نے بالآخر کھل کر وہ بات کہہ دی جو ہم پچھلے ساڑھے چار سال سے کہہ رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہر شخص یہ بات کھل کر کہے اور اپنے ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے خود عملی طور پر کردار ادا کرے، انشاءﷲ۔
ہمارے بزدل ہونے کی وجہ سے ہمارے یہ حالات ہیں۔ بڑی سیدھی سی بات ہے۔