@IsraeliPM My guess is the people of Iran don’t want to be ruled by the pedophile Epstein Regime which murdered 170+ of its schoolgirls on Day 1 of this war…
Documented child rapist and genociders are now giving lectures on morality and freedom to the Iranian people — ironically while bombing Iran. What a world we are living in.
پاکستانی جنگ کی باتیں خوشی سے نہیں کر رہے یہ جنگ پاکستان پر مسلط ہوئی ہے طالبان کو گزشتہ کئی سالوں سے کہہ رہے تھے کہ TTP کو لگام دے انہوں نے الٹا بلیک میل کرنا شروع کر دیا جنگ کبھی بھی اچھا آپشن نہیں ہوتا لیکن یہ آخری آپشن ہوتا ہے یہ امن کیلئے لڑی جا رہی ہے امن ترلوں سے نہیں آتا
As a former international cricketer who has played in Bangladesh and in ICC events, I’m deeply disappointed by today's ICC’s inconsistency. It accepted India’s security concerns for not touring Pakistan in 2025, yet appears unwilling to apply the same understanding to Bangladesh. Consistency and fairness are the foundation of global cricket governance. Bangladesh’s players and millions of its fans deserve respect - not mixed standards. The ICC should build bridges, not burn them.
میں نے سالوں تعلقات نبھانے کے بعد... سالوں محبتیں جتانے کے بعد یہ سیکھا ہے کہ کوئی کسی کا نہیں بنتا!!! سب وقتی ہے، ہم ��اکھ کسی کو چاہ لیں اپنی عزت نفس اگلے کے قدموں میں رکھ دیں، وہ ذرا برابر بھی پرواہ نہیں کرے گا۔ کسی کے سامنے مر بھی جائیں، وہ پھر بھی پرواہ نہیں کرے گا۔۔۔ کوئی نہیں بنتا کسی کا، بہتر یہی ہے کہ خود کو عزت دیں۔۔۔ جہاں محبت بھیک کی طرح مانگنی پڑے، وہاں سے دور ہٹ جاؤ۔ منتوں سے بھی محبت نہ ملے تو پھر اس محبت سے بہتر تنہائی ہے۔ خود کو اگلے کی نظروں میں ذلیل نہ کریں۔ اپنا ایک معیار بنائیے جو آپ کے بنا رہ سکتا ہے، آپ بھی اس کے بغیر رہ دکھائیں۔۔۔ عزت نفس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔ جو جہاں ہاتھ چھڑائے، اسے وہاں ہی الوداع کہ دیں۔ زبردستی کے تعلقات سے سکون کی دوریاں بہتر ہیں۔
یہ لوگ نہیں ہیں ہماری وفاؤں کے قابل۔ خود کو دوسروں کے لیے ختم نہ کریں۔ یہاں لوگ منٹوں میں سالوں کے تعلقات توڑ دیتے ہیں۔ اب نہ تعلقات کی قیمت رہی ہے، نہ انسانوں کی۔ یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو دُکھ دے کر، مخلصی کو روند کر، رکھ دیا جاتا ہے۔ اب وفا نام کی چیز نہیں بچی!! خود کو خود چاہیں، دوسروں سے امید نہ لگائیں۔ لوگ آپ کو مخلصی سمیت بیچ کر کھا جائیں گے!!!
برادر ممالک، جنہیں طالبان حکومت مسلسل درخواست کر رہی تھی، کی درخواست پر، پاکستان نے امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش قبول کی۔
تاہم بعض افغان حکام کے زہریلے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان حکومت میں انتشار اور دھوکہ دہی بتدریج موجود ��ے۔
پاکستان واضح کرتاہے کہ اسے طالبان رجیم کو ختم کرنے یا انہیں غاروں میں چھپنے پر مجبور کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ البتہ طالبان رجیم کی اگر خواہش ہو تو تورا بورا میں ماضی کی شکست کے مناظر، جہاں وہ دم دبا کر بھاگے تھے، دوبارہ دیکھنا یقیناً اقوام عالم کے لئے ایک نیا دلچسپ منظر ہوگا۔
افسوس ہوتا ہے کہ طالبان رجیم صرف اپنی قابض حکمرانی برقرار رکھنے اور جنگی معیشت کو بچانے کے لیے افغانستان کو ایک اور تنازعے میں دھکیل رہی ہے۔ اپنی کمزوری اور جنگ کے دعوؤں کی کھوکھلی حقیقت کو بخوبی جاننے کہ باوجود وہ طبل جنگ بجا کر بظاہر افغان عوام م�� اپنی بگڑتی ہوئی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
اگر افغان طالبان پھر بھی دوبارہ افغانستان اور اس کے معصوم عوام کو تباہ کرنے پر مصر ہیں تو پھر جو بھی ہونا ہے وہ ہو۔
جہاں تکgrave yard of empires کے بیانیے کا تعلق ہے، پاکستان خود کو ہرگز empire نہیں کہتا، لیکن افغانستان، طالبان کی وجہ سے اپنے ہی لوگوں کے لیے ایک قبرستان سے کم نہیں۔ یہ کبھی سلطنتوں کا قبرستان تو نہیں رہا البتہ ہمیشہ بڑی طاقتوں کے کھیل کا میدان ضرور رہا ہے۔
پاکستان طالبان کے جنگجوؤں کو خبردار کرتا ہے کہ اپنے ذاتی فائدے کے لئے خطے میں بدامنی کے لیے جو کام وو کررہے ہیں، انہوں نے شاید پاکستانی عزم اور حوصلے کو غلط انداز میں لیا ہے۔
اگر طالبان رجیم لڑنے کی کوشش کرے گی تو دنیا دیکھے گی کہ ان کی دھمکیاں صرف دکھاوا ہیں۔
پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ یا خودکش حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا جواب سخت اور کڑوا ہوگا۔
طالبان رجیم کو چاہیے کہ اپنے انجام کا حساب ضرور رکھیں، کیونکہ پاکستان کے عزم اور صلاحیتوں کو آزمانا ان کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوگا۔
انٹرسٹنگ صورتحال یہ ہے کہ ابھی کچھ گھنٹوں پہلے تک جتنی ایکس پوسٹ افغانستان کے حق میں چیاوں چیاوں کررہی تھیں۔ وہ آوازیں افغانستان کی بغیر سرف اور پانی کے ستھری دھلائی دیکھ کر اپنے اپنے بلوں میں دُبک گئی ہیں۔ یہ آوازیں بلکل ویسے ہی دبک گئی ہیں جیسے انڈیا کی واشگاف دھلائی دیکھ کر بلوں میں گھسی تھیں۔ پٹائی باہر ہوتی ہے طبیعت اندر والوں کی بھی سنبھل جاتی ہے۔ شاباش پاک ��وج۔
زندہ باد۔ پائندہ باد
Here’s the real difference . We have always played with pure sportsmanship, keeping war out of the game. But the world saw it when war hit the scoreboard read 7-0 . #Big_office_small_man
You still have to play us & face us. Come with respect, & you’ll be respected. Bringing “Sindoor” or “Tandoor,” to cricket, you’ll be answered with 6-0. You dragged politics into cricket, now Haris Rauf is giving you a full demo. You may defeat us on ground but not in the air.