It's unfortunate that #Twitter seems to have lost its charm recently. It used to be a place for lively discussions and instant updates, but now it's filled with ads, drama, and echo chambers. I miss when tweets were more focused on connecting with others rather than gaining popularity. #LostCharm #SocialMedia #X
@premium @X
@hasnain0099@SECPakistan@foodpanda_pk Bhai bank transfer ka option bhi hota h or os m normal time 14 days ka h tb hi wo phely pandapay m transfer krty hen taky kuch or order krna ho to kr lyn extra pay na kren. Lakin bgyr aqal ky insano ko ya bat kysy smjh ay gi?
@Telegraph I don't understand why people publicly open up about this shit. It's your personal thing, man. Do whatever you want, but why make it public? (Plus, I feel pity for the husband)
@motasim Chlo tyry jysy gandu ko bhi moqa mil gia bat krny ka is ky khilaaf wasy to tyri sari tweet hi against hoti hen is ky, koi personal dusmani h kia?
کاسمیٹک پنجاب نہیں مضبوط پنجاب
دو آدمیوں کی آمدن تقریباً برابر ہے۔ دونوں ہر مہینے اپنی تنخواہ گھر لے جا کر اپنی اپنی بیوی کو دیتے ہیں۔
پہلے گھر کی خاتون بہترین منتظم نظر آتی ہے۔ روز اچھا کھانا، گھر کی نئی تزئین و آرائش، نئی گاڑی یا فرنیچر قسطوں پر، رنگ و روغن، خوبصورت لائٹس اور ہر کچھ عرصے بعد کوئی نئی چیز۔ آمدن کم پڑے تو قرض لے لیا جاتا ہے۔ باہر سے دیکھنے والا رشک کرتا ہے کہ کیا شاندار گھر ہے، کیا معیارِ زندگی ہے اور کیا مینجمنٹ ہے۔
دوسرے گھر میں بظاہر کوئی خاص رونق نہیں۔ خاتون آمدن کے حصے کرتی ہے۔ ضروریات پوری کرتی ہے، کچھ بچاتی ہے، کچھ سرمایہ کاری کرتی ہے، بچوں کی تعلیم اور skills پر خرچ کرتی ہے اور آہستہ آہستہ assets بناتی جاتی ہے۔ پہلے پانچ سال شاید پہلا گھر زیادہ خوشحال نظر آئے۔
اصل فرق دس سال بعد سامنے آتا ہے۔
پہلے گھر میں قسطوں پر قسطیں اور قرض پر قرض چڑھ چکا ہوتا ہے۔ اب آمدن کا بڑا حصہ پچھلی آسائشوں کی قیمت ادا کرنے میں جا رہا ہوتا ہے۔ نئی آسائش تو دور کی بات، بعض اوقات بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی کوئی پرانی چیز بیچنی پڑتی ہے۔
دوسرے گھر میں meanwhile savings assets بن چکی ہوتی ہیں، investments returns دینا شروع کر دیتی ہیں اور اب وہ خاندان اپنی اصل تنخواہ سے نہیں بلکہ اپنی بنائی ہوئی wealth سے آسائشیں خریدنا شروع کرتا ہے۔
میرے نزدیک پنجاب کی development story کا بنیادی سوال بھی یہی ہے: ہم نے پچھلے بیس پچیس سال میں پنجاب کو پہلے گھر کی طرح چلایا یا دوسرے گھر کی طرح؟
اور یہ سوال صرف مریم نواز صاحبہ سے نہیں۔ اس میں پرویز الٰہی صاحب کا دور بھی شامل ہے، شہباز شریف صاحب کے تقریباً دس سال بھی، عثمان بزدار صاحب کا دور بھی اور موجودہ حکومت بھی۔
ہر حکومت نے اپنے اپنے انداز میں visible development کو ترجیح دی۔ سڑکیں، انڈر پاس، فلائی اوور، میٹرو، اورنج لائن، signal-free corridors، شہر کی beautification، بازاروں کے facelifts، decorative lights، ماڈل روڈز اور اب نئے mass-transit corridors۔
میں یہ نہیں کہتا کہ سڑک، بس، میٹرو، صفائی یا شہر کی خوبصورتی غیر ضروری ہے۔ ایک مہذب معاشرے کو یہ سب چاہیے۔ سوال project کا نہیں، priority اور sequencing کا ہے۔
گھر کی بنیاد کمزور ہو تو پہلے بنیاد مضبوط کی جاتی ہے، drawing room میں imported chandelier نہیں لگایا جاتا۔
آج فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں تقریباً 143 ارب روپے کے نئے mass-transit systems شروع کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ depots، feeder networks، operations، maintenance اور آنے والے برسوں کی subsidies الگ ہیں۔ پہلے سے موجود Metro، Orange Line، feeder buses اور دوسرے public-transport operations کو صرف 2025-26 میں تقریباً 37.55 ارب روپے subsidy دی گئی۔
سوال یہ نہیں کہ public transport کیوں دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر شہر میں اربوں روپے کا dedicated mass-transit infrastructure بنانے سے پہلے comparatively inexpensive bus-based solutions، existing road network اور flexible routes کے options پوری طرح exhaust کیے گئے؟
کیونکہ capital cost ایک دفعہ ادا ہوتی ہے، مگر غلط infrastructure decision کی maintenance اور subsidy کئی دہائیاں ادا ہوتی رہتی ہے۔
یہی اصول شہروں کی beautification پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ آپ بازار خوبصورت کر دیں، pillars رنگ دیں، footpaths پر نئی tiles لگا دیں، decorative lights لگا دیں بہت اچھی بات ہے۔ مگر اگر اسی شہر کے نیچے sewerage سو سال پرانا ہو، storm-water drainage ناکافی ہو، بارش میں سڑک دریا بن جائے اور groundwater مسلسل نیچے جا رہا ہو تو ہم شہر develop نہیں کر رہے، اس کا makeup کر رہے ہیں۔
لاہور اس کی بہترین مثال ہے۔
پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کے مطابق لاہور میں groundwater تقریباً 3 فٹ سالانہ نیچے جا رہا ہے۔ شہر میں روزانہ ہزاروں acre-feet زیرِ زمین پانی نکالا جاتا ہے جبکہ بارش کا بہت بڑا حصہ drains کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے۔ جدید research بھی لاہور کے aquifer میں مسلسل depletion کی تصدیق کرتی ہے۔
یعنی اصل investment کہاں چاہیے؟
Rainwater harvesting میں۔
Aquifer recharge میں۔
Ravi کے ساتھ water-retention اور recharge structures میں۔
Storm-water lakes اور urban wetlands میں۔
Sewerage اور drainage میں۔
Urban forests اور green belts میں۔
اور ایسے infrastructure میں جو اگلے پچاس سال لاہور کو رہنے کے قابل رکھ سکے۔
ہمیں ایسے شہر نہیں بنانے جن کی سڑکیں Instagram پر یورپ لگیں لیکن دو گھنٹے کی بارش کے بعد وینس بن جائیں۔
اور یہی فرق cosmetic development اور sustainable development کا ہے۔
1/2
@ikstaaanacc Sb sy bary chutiya to tm ho js ny patriotism ko ek party sy link kr dia h. Agr kal to wo party 2bra govt m a gye boots ki support sy tb to wo thomary abu hun gy