بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
آیت: سورۃ البقرہ (2:286)
اللّهُ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔
ترجمہ:
"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ جو کچھ اُس نے کمایا وہ اُس کے لیے ہے اور جو کچھ اُس نے غلط کیا وہ اُس کے اوپر ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑنا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ ہمیں معاف فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے، کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما۔"
1. برداشت کی حد:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یقین دلاتا ہے کہ وہ ان پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا جو ان کی استطاعت سے بڑھ کر ہو۔ ہر مشکل اور آزمائش انسان کی طاقت اور صبر کے مطابق ہوتی ہے۔
2. معافی اور رحم کی دعا:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو اللہ سے معافی طلب کریں۔ وہ نہایت رحم کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
3. پچھلی امتوں کی مثال:
پچھلی امتوں پر سخت قوانین اور ذمہ داریاں تھیں، مگر اللہ نے ہماری امت کے لیے آسانیاں رکھی ہیں۔ اسی لیے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں ویسے سخت بوجھ نہ ڈالے۔
4. مدد کی درخواست:
آخر میں اللہ سے کافروں کے خلاف مدد مانگی گئی ہے تاکہ وہ ہمیں دین کی راہ پر قائم رہنے میں مدد کرے۔