چھ سال بعد مولانا فضل الرحمان صاحب کی ایوان قومی اسمبلی میں واپسی
2018 کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مفتی اسعد محمود جیت کر اسمبلی پہنچے تھے ۔ جبکہ 2024 کے انتخابات میں مولانا کے دو بیٹے اسعد محمود ، اسجد محمود بھی قومی اسمبلی کے امیدوار تھے لیکن اسمبلی میں صرف مولانا فضل الرحمان پہنچ سکے۔
ہمارا درجہ ثانیہ کا سال تھا۔ ہمارے ایک شریک درس تھے جن کا نام عمر تھا۔ دورہ حدیث کے سال دستار فضیلت سر پر سجا کر افغانستان چلے گئے اور جام شہادت نوش کرگئے۔
عمر نے اپنے ذمے لگایا تھا کہ جب فاروقی صاحب، عثمانی صاحب یا پنجاب کا کوئی خطیب کراچی میں کسی جگہ خطاب کرنے آتا تو عمر تیاری پکڑ لیتا۔ درسگاہ کے شرکاء سے چندہ اکٹھا کرتا کہ فلاں تاریخ جلسہ ہے۔ سب نے جانا ہے اس کے لیے کرائے کی مد میں ابھی سے پیسے جمع کروا دو۔
علامہ مسعود الرحمان عثمانی ایک جلسے میں آنے والے تھے۔ جمعرات کا دن تھا۔ جلسہ مغرب کے بعد شروع ہونا تھا اور عمر ہم سب کو عصر کے وقت ہی لے گیا۔ پہلی والی نشستیں ہم نے پکڑ لیں۔ جلسہ شروع ہونے لگا تو علاقے کے مشران ایک ایک کرکے ہمیں کرسیوں سے اتارنے لگے۔ ہم نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ پچھلی نشستوں پر نہیں بیٹھنا۔ اسٹیج سے متصل زمین پر بیٹھ گئے۔
جب علامہ مسعود الرحمان عثمانی صاحب خطاب کر رہے تھے اس وقت اسٹیج والوں کی جوتیوں کا ڈھیر ہمارے سامنے لگ چکا تھا ۔
علامہ نے ہماری حالت پر ایک جملہ اچھالا۔ بیشمار جلسوں میں شرکت کرنے کا معاوضہ تھا وہ جملہ ہمارے لیے۔
علامہ اپنے مخصوص انداز خطابت میں لفظوں کو پھروتے ہوئے فرمانے لگے: یہ بچے جس اخلاص کے ساتھ اصحاب رسول کی محبت میں جوتیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اے رب اصحاب محمد! اس اخلاص کی برکت سے ہمیں اصحاب رسول کی جوتیوں میں بیٹھنا نصیب فرما دے!
میرا وجدان کہتا ہے کہ آج علامہ مسعود الرحمان عثمانی اصحاب رسول کی مجلس میں شرکت فرمائیں گے۔
تحریر @Miskeen_jee
مفتی اعظم پاکستان و شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی اعلی قیادت خالد مشعل ، اسماعیل ہنیہ سے ملاقات ، مفتی تقی عثمانی نے 7 اکتوبر کے بعد نہ صرف حماس کی بڑے پیمانے پہ مالی امداد کا اعلان کیا بلکہ کئی مرتبہ امت مسلمہ کے حکمرانوں سے اجتماعی طور پہ اسرائیل کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کا فتویٰ بھی جاری کیا ہے۔
فلسطینی بچہ اسرائیلی بمباری اور دھماکوں کی تاب نہ لا پایا۔
اور اپنے باپ کے گریبان کو ابدی نیند میں جکڑ لیتا ہے۔
یہ گریبان اصل میں مسلم ممالک کے حکمرانوں اور افواج کا گریبان ہے۔
کبھی مت بھولنا ، کبھی معاف نہ کرنا۔
قیامت کے دن ایسے ہزاروں بچوں کا ہاتھ ہوگا اور ہمارا گریبان۔
A Palestinian child could not bear the Israeli bombardment and explosions & binds his father's collar in eternal sleep.
This collar is actually the collar of the rulers and forces of Muslim countries.
Never forget, never forgive.
On the Judgment Day, thousands of such children will have their hands on our necks.
Allahu Akbar
#GazaGenocide
#Palestine #Blast #حزب_الله #غزه_مقبرة_الغزاة #3rdNovemberBlackDay #غزہ_غزہ_اے_افواج
#ابو_عبيدة #GazaBleedingWorldSleeping
#Hamas
@GovtofPakistan@OfficialDGISPR@OIC_OCI
افغان وزیر اعظم ملا محمد حسن کا پاکستان حکومت کو جواب:
آپ کی حکومت تو چلی جائے گی لیکن یہ آپ کا یہ ظالمانہ رویہ پاکستانی قوم کے ماتھے پر تاریخی داغ ہوگا۔
اے ایمان والو۔۔!!! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔۔۔!!!
چیف جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کا فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے آخر میں سورة توبہ کی آئت کا حوالہ۔۔۔
امیر المومنین حفظہ اللہ کے حکم کے مطابق کوئی بھی عہدے دار اپنے ماتحت ادارے میں اپنے چاچا ،بھائی، بیٹے ،بھیتجے ،بھانجے ،ماموں ،سسر ،داماد کو کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں دے سکتا