ساہیوال کول پاور پلانٹ 1320 میگاواٹ۔
یہ پاور پلانٹ بھی پورٹ قاسم اور چائنہ حبکو پاور پلانٹس کی طرز پر لگایا گیا ہے۔ تینوں پاور پلانٹس کو امپورٹیڈ کوئلے پر چلایا جانا تھا۔ ان تینوں پلانٹس کو لگانے کی منظوری میاں نوازشریف کے دور حکومت میں دی گئی۔ اس پلانٹ کی تعمیر 31 جولائی 2015 میں شروع اور بجلی پیداوار 3 جولائی 2017 میں شروع ہوئی۔ اس پلانٹ کو لگانے کی ��اگت 1.91 بلین ڈالرز آئی یعنی 200 ارب روپے آئی جس میں قریبی ریلوے اسٹیشن یوسف والا سے پلانٹ تک ریلوے لائن بچھانا بھی شامل تھی، پلانٹ کو دو چائنی کمپنیوں نے باہمی شراکت سے لگایا. پلانٹ کے لیے 1700 ایکڑ زمین حکومت پنجاب نے مفت دی۔ بجلی خرید کا ایگریمنٹ 8.3601 سنٹس یعنی 8.80 روپے فی یونٹ تیس سال کے لیے مقرر کیا گیا۔ تیس سال کے بعد یہ پلانٹ حکومت پنجاب کے حوالے کیا جائے گا۔ پاکستان ریلوے کے ساتھ روزنہ کی بنیاد پر 12000 ٹن کوئلہ جو کہ انڈونیشیا اور ساوتھ افریقہ سے امپورٹ کیا جانا تھا کراچی پورٹ سے ساہیوال پلانٹ تک پہنچانے کا علیحدہ ایگریمنٹ کیا گیا۔ اس کے لیے پانچ سپیشل ٹرین تیار کرو��ئی گئیں، ہر ٹرین میں 40 ویگن اور ہر ویگن میں 60 ٹن کوئلہ۔ پلانٹ کو روزانہ کی بنیاد پر 22 گھنٹے چلانے کے لیے سالانہ 4.48 ملین ٹن کوئلے کی ضرورت تھی۔ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے روزانہ 12000 ٹن کوئلہ امپورٹ کرنا اور پھر کراچی سے دور ایک ہزار کلومیٹر ساہیوال میں پہنچانا، اسی طرح دوسرے دونوں پلانٹس پورٹ قاسم اور چائئنہ حبکو کو چلانے کے لیے بھی روزانہ اتنا، اتنا ہی کوئلہ درکار تھا یعنی تینوں پاور پلانٹس کو چلانے کے لیے روزانہ 36000 ٹن کوئلہ پہنچنا چاہیے۔ کوئلے کے علاوہ صرف ایک پلانٹ کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 60000 کیوبک میٹر پانی چاہیے تھا جس کا بندوبست ساتھ بہتی نہر لوئر باری دوآب سے کیا گیا۔ دسمبر 2022 میں کوئلہ مہنگا ہونے کی وجہ سے ان تینوں پلانٹس کی پیداوار انتہائی کم سطح پر آ گئی۔ 2022 میں کوئلے کی قیمت 253.83 ڈالرز فی ٹن، 2021 میں 114.24 ڈالرز فی ٹن جبکہ 2020 میں 59.91 ڈالرز فی ٹن تھی۔ مارچ 2024 میں تفتیش سامنے آئی کہ پچھلے کئی مہینوں سے اس پاور پلانٹ کو کوئلہ 20000-30000 روپے فی ٹن زیادہ قیمت پر سپلائی کیا جا رہا ہے۔ باہر پرائیوٹ خرید دار 45000 ہزار فی ٹن کے حساب سے خرید رہے تھے جبکہ یہاں سے وصولی 74000 روپے فی ٹن کے حساب سے کی جا رہی تھی، جس کے مطابق 18 ماہ کے دوران صرف کوئلہ سپلائی میں 40-50 ارب روپے کی اوور چارجنگ سامنے آئی کیونکہ کوئلہ سپلائی کرنے والے دونوں ٹھیکیدار زیادہ پسندیدہ تھے۔ اسی دوران مختلف پاور پلانٹس کو بجلی ٹیرف زیادہ پیمنٹ 483.64 ارب روپے کی کرپشن سامنے آئی جس میں ان تینوں پلانٹس کو 175 ارب روپے کی زید پیمنٹ بھی شامل تھی لیکن اس انکوائری کو بھی جولائی 2023 میں نیب ترمیم کے بعد بند کروا دیا گیا۔ اپریل 2024 میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ ان تینوں پاور پلانٹس کو امپورٹیڈ کوئلے کی بجائے لوکل کوئلے پر شفٹ کیا جائے جس سے سالانہ 800 ملین ڈالرز کی بچت ہو گی۔ تینوں پلانٹس کی ترمیم کے لیے مزید ایک بلین ڈالر یعنی 300 ارب روپے درکار ہیں۔ اس کے علاوہ تھر کول سے موجودہ ریلوے لائن تک 105 کلومیٹر ریلوے لائن کی تعمیر درکار ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 58 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ تھر کول پر کوئلے کی پیداوار کو ضرورت کے مطابق بڑھانا ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ سب بندوبست کے لیے مزید کسی بیرونی قرض کے انتظار میں ہیں۔ قصہ مختصر گزشتہ صرف ایک سال کی اس پلانٹ کی صورتحال درج ذیل ہے۔
پیدا کردہ بجلی 2.08 ارب یونٹ جوکہ مجموعی پیداوار کا 22 فیصد ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ یہ مجموعی پیداوار کا صرف 17.95 فیصد ہے یعنی یہ پلانٹ سال میں صرف 65 دن چلا ہے۔ اس پیداوار پر لاگت 40.983 ارب روپے آئی ہے یعنی 19.75 روپے فی یونٹ جس میں تنخو��ہیں، کوئلہ اور پلانٹ مرمت کے تمام اخراجات شامل ہیں۔ کیپیسٹی چارج 117.285 ارب روپے یعنی 56.52 روپے فی یونٹ۔ تمام اخراجات سے تین گنا زیادہ کیپیسٹی پیمنٹ۔ اس طرح مجموعی پیمنٹ 158.268 ارب روپے یعنی 76.27 روپے فی یونٹ۔ اسی حساب سے ان تینوں پلانٹس ساہیوال، پورٹ قاسم اور چائنہ حبکو کو صرف ایک سال میں 464.47 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی حالانکہ سال کے دوران پلانٹس کو چلانے، کوئلہ کی خریداری اور تنخواہوں کے لیے مجموعی خرچہ صرف 82.52 ارب روپے ہے لیکن پیمنٹ 464.47 ارب روپے یعنی 381.95 ارب کی زید پیمنٹ جسے کیپیسٹی چارج کا نام دیا گیا بلکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق صرف ان تینوں پلانٹس کو سالانہ 700 ارب رو��ے کی کیپیسٹی پیمنٹ کی جا رہی ہے جبکہ تینوں پلانٹس کی تعمیراتی لاگت صرف 5.5 بلین ڈالرز یعنی 605 ارب روپے تھی۔۔۔انجینئر رائے منظور
وہ تصویر جس نے اپنے فوٹوگرافر کو ہی مار دیا
1993 میں فوٹوگرافر کیون کارٹر نے سوڈان کا سفر کیا جہاں وہ جنوبی سوڈان کے گاؤں آیود کے قریب گیا۔ اس سفر کا مقصد اس شدید قحط کو دنیا کے سامنے لانا تھا جو 1990 کی دہائی کے آغاز میں اس علاقے کو متاثر کر رہا تھا۔
اسی دوران کارٹر نے ایک مشہور اور متنازع تصویر کھینچی جس میں ایک گدھ ایک کمزور اور بھوک سے نڈھال بچے کے قریب گھات لگائے بیٹھا ہے۔ اس تصویر نے پوری دنیا کی توجہ اس انسانی المیے کی طرف مبذول کر دی۔
اپنے سفر میں کارٹر کو ایک ننھی بچی ملی جو تھکن کے باعث زمین پر بیٹھی تھی وہ اقوامِ متحدہ کے ایک غذائی مرکز تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی دوران ایک گدھ اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ کارٹر نے احتیاط سے تقریباً 20 منٹ انتظار کیا تاکہ گدھ قریب آئے اور وہ بہترین زاویے سے تصویر لے سکے۔
اس نے آہستہ آہستہ قریب جا کر تقریباً 10 میٹر کے فاصلے سے تصویر کھینچی تاکہ بچی اور گدھ دونوں واضح نظر آئیں۔ اس وقت بچی انتہائی کمزور حالت میں زمین پر تھی اور گدھ اس کے پیچھے کھڑا تھا۔
کارٹر کو اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ وہ صحافتی تاریخ کی سب سے متنازع تصاویر میں سے ایک کھینچ رہا ہے۔
بعد میں یہ تصویر نیویارک ٹائمز کو فروخت کی گئی اور شائع ہوتے ہی دنیا بھر میں ہلچل مچ گئی۔ اخبار کو سینکڑوں فون کالز موصول ہوئیں لوگ جاننا چاہتے تھے کہ کیا وہ بچی زندہ بچ گئی یا نہیں۔ اخبار نے وضاحت دی کہ بچی میں اتنی طاقت تھی کہ وہ گدھ ��ے دور جا سکے لیکن اس کا آخری انجام معلوم نہ ہو سکا۔
اس تصویر کے بعد کارٹر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اس نے بچی کی مدد کیوں نہیں کی اور اسے صرف تصویر کے لیے استعمال کیا۔ ایک اخبار نے سخت الفاظ میں لکھا کہ جو شخص ایک بچی کی تکلیف کی تصویر لینے کے لیے کیمرہ سیٹ کر رہا ہو وہ بھی کسی گدھ سے کم نہیں
تنقید صرف گدھ کو نہ بھگانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس بات پر بھی ہوئی کہ اس نے بعد میں بھی بچی کی مدد نہیں کی۔ کارٹر نے کہا کہ صحافیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ متاثرین کو ہاتھ نہ لگائیں تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے اور یہ بھی کہا کہ وہاں ہر گھنٹے میں بیس افراد بھوک سے مر رہے تھے اس لیے یہ منظر عام تھا
اس سب کے باوجود کارٹر کو اپنی اس حرکت پر گہرا پچھتاوا رہا
1994 میں اسے اسی تصویر پر پلٹزر انعام دیا گیا یہ وہ تصویر تھی جس نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی
چند ماہ بعد کارٹر ایک ایسی جگہ گیا جو اس کی بچپن کی یادوں سے جڑی ہوئی تھی۔ ��ہاں اس نے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر ایک خوفناک قدم اٹھایا—اس نے گاڑی کے دھوئیں کا پائپ اندر کر کے خود کو کاربن مونو آکسائیڈ سے ہلاک کر لیا۔ اس وقت اس کی عمر صرف 33 سال تھی
اس کے خودکشی نوٹ سے معلوم ہوا کہ وہ کسی وقتی کمزوری کا شکار نہیں تھا بلکہ ایک تصویر سے بھاگ رہا تھا وہی تصویر جس میں وہ بچہ تھا۔
وہ تصویر جسے اس نے اپنے کیمرے میں قید کیا درحقیقت اسی نے اسے قید کر لیا تھا۔ وہ ہر وقت اس کے ذہن میں زندہ رہتی دن بدن بھاری ہوتی گئی یہاں تک کہ وہ اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکا۔
وہ دنیا سے نہیں بھاگا… بلکہ اس لمحے سے بھاگا جو کبھی ختم نہیں ہوا—اس بچے سے اور اس گدھ سے جو صرف تصویر م��ں نہیں بلکہ اس کی یادوں میں بھی ہمیشہ کے لیے بس گیا🙂🙃
Just as I was addressing the American people, the head of our Strategic Council on Foreign Policy was targeted in an assassination attempt, leading to the martyrdom of his innocent wife. Let the world judge; which side engages in dialogue and negotiation, and which in terrorism?
2021 میں کرونا کی وجہ سے ایک عالمی مہنگائی کی لہر آئی جس وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور یہ اضافہ مارچ 2022 میں 117 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
لیکن اس وقت پاکستان میں حکومت ایک ایسے شخص کی تھی جو عوام کا حقیقی نمائندہ تھا اس نے عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اور بیوی کی شرح کم کی جی ایس ٹی ٹیکس کی شرح کم کی اور فروری 2022 میں 10 روپے پٹرول پر فی لیٹر سبسڈی دے دی۔
دوسری طرف آج جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان میں پانچ روپے لیٹر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پھر یکم مارچ کو 10 روپے لیٹر اضافہ ہوا اور عالمی منڈی میں 15 فروری کو تیل کی قیمت 68 ڈالر فی بیرل کی اور یکم مارچ کو 71 ڈالر فی بیرل تھی۔
اس وقت حکومت ٹیکس کی مد میں 100 روپے لیٹر لے رہی ہے عمران کے دور میں یہ ٹیکس کی شرح تو 25 30 روپے فی لیٹر تھی جو جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا تو اس کو بھی صفر کر دیا گیا
دوسری طرف آج بجائے ٹیکس کی شرح کم کرنے کے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی 266 اور 280 روپے فی لیٹر ہیں ۔
بجائے عوام کو ریلیف دینے کے سارا بوجھ عوام پہ ڈالا جا رہا ہے کیونکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لگزری جہاز خریدے جا رہے ہیں وزراء کے لیے قیمتی گاڑیاں کیوں دی جا رہی ہیں اور اشرفیہ کو نوازا جا رہا ہے
کہ وہ مرد درویش تھا جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے عوام کو ریلیف دے رہا ہے اور ایک یہ ہے جو خود عیاشیاں کر رہے ہیں
عرب حکمرانوں کی پاکستان آمد: قومی وقار کی نیلامی کی لرزہ خیز داستان;
سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی کتاب میں وہ حقائق بے نقاب کیے ہیں جو برسوں سے طاقتور طبقے کی چادر میں لپٹے رہے۔ عرب شاہی خاندانوں کے شکار کے دورے محض مہمان نوازی نہیں تھے، بلکہ ایک ایسا تماشا تھے جس میں قومی غیرت، ریاستی وقار اور قانون سب کچھ قربان کر دیا جاتا تھا۔
چیمہ لکھتے ہیں کہ شاہی روایت کے نام پر راستوں میں کھڑے گداگروں پر دولت لٹائی جاتی تھی، تو یہاں کے زمیندار اور بااثر لوگ بھی خیرات کے لالچ میں گداگروں کا بھیس بدل کر سڑکوں پر آ کھڑے ہوتے۔ اس سے بھی زیادہ شرمناک حقیقت یہ ہے کہ سرکاری افسران—مجسٹریٹ اور تھانیدار تک—بخشیش کے حصول کے لیے ہسپتالوں کے مریضوں کے بستروں پر لیٹ جاتے، ایم ایس پر دباؤ ڈالتے اور قیمتی تحائف سمیٹ کر واپس لوٹ آتے۔
یہ محض کرپشن نہیں، یہ خود داری کا قتل تھا۔ یہ اس نظام کا عریاں چہرہ ہے جہاں قانون کمزور، طاقتور کے ��دموں میں پڑا نظر آتا ہے، اور ریاست اپنے ہی شہریوں کے سامنے رسوا ہوتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ عرب حکمران آئے کیوں؟
سوال یہ ہے کہ ہم نے خود کو اتنا سستا کیوں کر دیا؟
#Riseandshine786
🇵🇰 پاکستان کے تمام ضروری سروس کوڈز — ایک ہی جگہ پر!
📱 ہر شہری کے لیے نہایت اہم معلومات
کیا آپ جانتے ہیں کہ
آپ اپنے موبائل سے صرف ایک SMS کے ذریعے
اہم سرکاری معلومات حاصل کر سکتے ہیں؟
❌ لمبی لائنیں
❌ دفاتر کے چکر
❌ وقت کا ضیاع
بس موبائل اٹھائیں اور کوڈ استعمال کریں ✅
---
🆔 شناختی کارڈ اور ذاتی معلومات (NADRA)
📩 8000 — شناختی کارڈ کی تصدیق (CNIC Verification)
📩 668 — اپنے نام پر رجسٹرڈ سموں کی تعداد
📩 8300 — ووٹ کی معلومات اور پولنگ اسٹیشن
📩 8001 — فیملی شجرہ کی تصدیق
📩 8008 — شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ
📩 8005 — قریبی نادرا سینٹر کا پتہ
---
🚗 گاڑی کی تصدیق (Excise / Vehicle Verification)
📩 8149 — پنجاب گاڑی رجسٹریشن چیک
📩 8521 — اسلام آباد گاڑی رجسٹریشن
---
🪪 ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق
📩 8147 — پنجاب ڈرائیونگ لائسنس
📩 6040 — سندھ ڈرائیونگ لائسنس
---
🛂 پاسپورٹ کی تصدیق
📩 9988 — پاسپورٹ بننے کی صورتحال
---
💰 مالی امداد اور صحت (Govt Schemes)
📩 8171 — بے نظیر انکم سپورٹ / احساس پروگرام
📩 8500 — صحت کارڈ کی اہلیت اور ہسپتال معلومات
📩 8123 — مفت راشن پروگرام رجسٹریشن
📩 8900 — وزیراعظم یوتھ لون پروگرام
---
📶 موبائل اور انٹرنیٹ (PTA)
📩 8484 — موبائل فون PTA تصدیق
📞 *#06# — موبائل کا IMEI نمبر
📩 667 — سم کس کے نام پر ہے؟
(سم سے MNP لکھ کر بھیجیں)
---
🚨 ہنگامی حالات اور شکایات (Emergency)
📞 15 — پولیس مدد
📞 1122 — ایمبولینس / فائر بریگیڈ
📞 130 — موٹروے پولیس
📞 1991 — سائبر کرائم / آن لائن فراڈ (FIA)
📞 1033 — اینٹی کرپشن ہیلپ لائن
---
✨ یہ معلومات ہر پاکستانی کے لیے ضروری ہیں
📌 اس پوسٹ کو Save کر لیں
📤 اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ Share کریں
💬 Comment میں لکھیں: “Useful” یا “Saved”
ہو سکتا ہے آپ کی ایک Share
کسی کے لیے بہت بڑا مسئلہ حل کر دے 🤝
---
کاپیڈ پوسٹ
@TheRealPCB پوری دنیا میں سرکاری ٹی وی چینلز پر قومی ٹیموں کے مقابلے دکھائے جاتے ہیں اور ایک ہماری ہاں پہلے ہاکی غائب ہوگئ اور اب کرکٹ سکرین سے غائب ہو رہی ہے
بڑی افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی وی اس فہرست میں شامل نہیں ہے
موبائل انٹرنیٹ پیکجزکےنام پرٹیلی کام کمپنیاں جس طرح صارفین کولوٹ رہی ہیں اوراربوں روپےماہانہ سادہ لوح شہریوں سےہڑپ کررہی ہیں اس معاملےکو بھی آج ٹیلی کام کی وزیرصاحبہ کےسامنےرکھ کردرخواست کہ ٹیلی کام کمپنیوں کالگام ڈالی جائے۔
آپ بھی اس لوٹ مارسےپریشان ہیں تو ری ٹوئٹ کریں
@ShazaFK
دنیا کے لگ بھگ 200 ممالک میں سے بعض اندازوں کے مطابق پاکستان چینی پیدا کرنے والا غالبا دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں ہر سال چینی کا بحران آتا ہے اور چینی مالکان جو زیادہ تر بڑے بڑے سیاستدان ہیں اور ہر حکومت کا حصہ بھی اربوں روپے عوام کی جیب سے نکالتے ہیں اور نیب اور ایف آئی اے سمیت کوئی ادارہ انکی اس کرپشن پہ انکو پکڑتا نہیں۔ آج تک اس مافیا کے خلاف انکوائری صرف عمران خان کے دور میں ہوئی لیکن وہ بھی اس مافیا کا کچھ نہ بگاڑ سکے الٹا شہباز شریف جنرل باجوہ سے ڈیل کے نتیجے میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیس سے بچ نکلے اور وزیر اعظم بن گئے۔