Full interview of Imran Khan’s sons @Kasim_Khan_1999 and #SulaimanKhan with Former England Captain Michael Atherton. They shared latest health updates on Imran Khan and raised urgency on required medical treatment.
#StopRiskingImranKhansLife
Pakistan’s pride Senator Mushtaq Ahmed appears on Al Jazeera live, safe for now but the flotilla is under siege by Israeli forces. #GlobalSumudFilotilla
Our father lived in Pakistan - away from us - for most of our lives. Not because he had to, but because he chose to stand up against a corrupt regime. While he wasn’t there every day as a father, Pakistan had him as a leader. He gave his country everything: hospitals, universities, and a movement for justice.
He’s been offered the chance to spend the rest of his days in comfort - going on walks or playing cricket with us in England. Instead, he chooses to remain locked away in a dark prison cell.
His sacrifice is for Pakistan.
His strength comes from its people.
My father, former Prime Minister Imran Khan, has now spent over 700 days in prison - held in solitary confinement. He is denied access to his lawyers, not allowed visits from his family, fully cut off from us (his children), and even his personal doctor is refused entry. This is not justice. It is a deliberate attempt to isolate and break a man who stood for rule of law, democracy, and Pakistan.
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھ��ا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن ��جھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری ک�� جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید ساب�� وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
“Loss of human life in Pahlgam incident is deeply disturbing and tragic. I extend my deepest condolences to the victims and their families.
When the False Flag Palwama Operation incident happened, we offered to extend all-out cooperation to India but India failed to produce any concrete evidence. As I predicted in 2019, the same is happening again after Pahlgam incident. Instead of introspection and investigation, Modi Sarkar is again placing the blame on Pakistan.
Being a country of 1.5 billion people, India needs to act responsibly instead of messing with a region already known as “nuclear flashpoint.” Peace is our priority but it should not be mistaken as cowardice. Pakistan has got all the capabilities to give a befitting response to any Indian misadventure, as My Government, backed by whole nation, did in 2019.
I have always emphasized the importance of the Kashmiris’ right to self-determination, as guaranteed by United Nations resolutions.
I have also been highlighting the fact that India led by RSS ideology is a grave threat, not only to the region but beyond it. Indian oppression in Kashmir, intensified after the illegal abrogation of Article 370, has further fueled the Kashmiri people’s desire for freedom.
Sadly, the nation has been divided by an illegitimate government imposed through fraudulent Form-47 results. And yet, ironically, Narendra Modi’s aggression has united the people of Pakistan in one voice against Indian hostility. While we reject this fake regime, we stand firmly as one Pakistani nation and strongly condemn Modi's war-mongering and his dangerous ambitions that threaten regional peace.
Needless to say, to win the war against an external enemy, the nation must first be united. It is high time to put a halt to all actions that are further polarizing the nation. The state’s excessive focus on political victimisation at this critical time is deepening internal divisions and undermining the nation’s collective ability to confront external threats.
It is naive to expect any strong stance from self-serving figures like Nawaz Sharif and Asif Zardari. They will never speak out against India because their illegal wealth and business interests lie abroad. They profit from foreign investments, and to protect those financial interests, they remain silent in the face of foreign aggression and baseless allegations against Pakistan. Their fear is simple: that Indian lobbies might freeze their offshore assets if they dare to speak the truth.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s discussion with the lawyers in Adiala Jail Rawalpindi (29-04-2025)
Thread: #IslamabadMassacre
26th November 2024 – a black day in the history of Pakistan where brute force and war-grade weapons were employed against unarmed peaceful citzens exercising their right to protest.
The exact number of casualties and injuries remain uncertain, as the area of the “operation clean up against civilians” was wiped out overnight, and hospital records have been tampered/blanketed to cover up and obfuscate the truth about the horrifying incident. For the last three days, families, lawyers, local and international Journalists are being denied access to the hospitals.
We are drawing the world’s attention by starting this thread to share video evidence of those who have been pronounced dead so far.
#PakistanUnderFascism
#UndeclaredMartialLaw
1/n
عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا کہ زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جب اللہ آپ کو ہر رشتے ہر تعلق کی اصلیت دکھا کر پوچھتا ہے کہ بتا اب کون ہے تیرا میرے سوا۔ مجھے خوف آتا ہے یہ سوچتے کہ یہ وقت عمران خان کا اور بحیثیتِ قوم ہمارا وہی وقت نہ ہو۔ مگر اس بات کی تسلی بھی ہے کہ اللہ ہے۔
میں نہیں جانتا کسی نے کسی کو دھوکہ دیا یا کسی کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ وقت سارے راز کھول دے گا۔ میں جنہیں بہت اچھے سے جانتا تھا وقت بدلنے پر ان میں سے بہت سے، بہ�� انجان نکلے۔۔ نیتوں کے حال فقط ایک اللہ جانتا ہے، میں کسی کے حق میں ایسا دعوی نہیں کرسکتا۔ ہاں اتنے عرصے کی رفاقت کی بنیاد پر اپنے لیڈر کے متعلق اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ نہ اس نے کبھی اس قوم کا سودا کیا ہے نہ کرے گا۔ وہ اپنے مجرم معاف کردے گا اپنی قوم کے مجرموں کو معاف کرنے والا ہوتا تو آج کال کوٹھری میں نہیں مسند پر ہوتا۔
۴ اکتوبر کے احتجاج سے قبل بھی خان صاحب سے میدان میں اترنے کی اجازت چاہی جواباً یہی معلوم ہوا کہ آپ کے حوالے سے احکامات میں کوئی ردوبدل نہیں ہے۔ مجھے سیاست میراث میں نہیں ملی، میری سیاسی بقا اپنے لوگوں کے درمیان رہنے میں ہے ان کے ساتھ کھڑے رہنے میں ہے، یہ بھی میرا ایمان ہے کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میری قوم گواہ ہے، خود کو لاحق واضح خطرات کے باجود امن مارچ، جلسوں، عمران خان کی عدالتی پیشیوں، بنی گالہ اور زمان پارک کے کیمپوں میں حاضر رہا ہوں۔ مگر اب جو حکم ہے سو ہے۔ میں اس حکم کی مصلحت سے واقف نہیں نہ ہی میں خود کو اس تحریک کے لیے لازم و ملزوم سمجھتا ہوں۔ مگر ڈسپلن میرے لیڈر سے میری وفاداری کا تقاضہ ہے۔ مجھے جتنا بھی ناگوار ہے، لاکھ جبر سہی مگر میں اپنے عہدِ وفا کا پابند ہوں۔
اسی طرح ایک اور پابندی میں نے خود پر خود لگا رکھی ہے، پارٹی کے اندرونی معاملات پر پبلک فارمز ��ر بات نہ کرنے کی مگر میرا اپنی قوم سے وعدہ ہے میرا کوئی بھی اصول، کسی بھی شخص سے تعلق آپ سے اور عمران خان سے میرے تعلق سے بڑھ کر نہیں ہے۔ مجھ سے منصوب ہر شخص اس بات پر گواہ ہے کہ عمران خان کا نظریہ اور اس کی قوم میری زندگی میں ہر رشتے سے مقدم ہے۔ جس دن مجھے یہ یقین ہوگیا کہ پارٹی قیادت نے عمران خان سے غداری کی ہے آپ مجھے ہر لحاظ ہر مروت سے آزاد پائیں گے مگر اُس دن تک مجھے اور آپ کو اپنا ذہن تمام امکانات کے لیے کھلا رکھنا ہے۔ بدگمانی گھن کیطرح ہوتی ہے۔ اپنی سوچ کو بدگمانی کے سائے سے محفوظ رکھنا ہے۔ اور عین ممکن ہے یہ ہمارے خلاف بطورِ ہتھیار استعمال ہورہی ہو۔ میں جانتا ہوں ��ہ طے شدہ حکمت عملی اور خان صاحب کی واضح ہدایات پر عملدرآمد نہیں ہوا مگر میں فی الوقت اسے غفلت گردانوں گا۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ہم میں سے کوئی بھی عمران خان نہیں ہے، ہم عمران خان بننے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کوشش میں ہم کوتاہیوں کے مرتکب ہوں گے، ان کوتاہیوں کی قیمت کا اندازہ رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ ��ازم ہے، مگر یہ بھی اللہ کی ہی اپنے بندوں کو دی تسلی ہے کہ کیا خبر جس چیز کو تم اپنے لیے برا سمجھو وہی تمہارے حق میں بہتر ہو۔۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ہمیں ہر سہارے، ہر بیساکھی سے آزاد ہوکر، کسی سے اپنی امیدیں وابستہ کیے بغیر اپنے بل بوتے پر لڑنا سکھا رہا ہو۔ اور لڑنا تو ہمیں ہے، بہرطور، بہ ہر صورت۔ کیونکہ یہ مسئلہ کسی اور کا نہیں ہمارا ہے۔ یہ ملک کسی اور کا نہیں ہمارا ہے تو پھر کسی سے گلہ شکوہ کیا۔ ہم اس جنگ میں نہ کسی اور کی خاطر اترے تھے نہ کسی اور کے بھروسے۔ ہمارا اور ہمارے لیڈر کا نظریہ اور رہنما صرف اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور اس بنا پر غلامی سے انکار تھا، ہے اور رہے گا۔ یہی لا الہ ہمارا نظریہ اور یہی لا الہ ہماری مشعل راہ۔
میری قیادت سے بھی درخواست ہے آپ کو خان صاحب نے ڈی چوک احتجاج جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ منگل بدھ کو ملک گیر احتجاج کا پلان دے دیا تھا جس کی تحریری کاپی آفیشلی قوم کے ساتھ شئیر کرکے کال دی جائے۔ اس ضمن میں پارٹی عہدیدار متعلقہ تنظیموں، کارکنان منتخب ممبران سے رابطے کریں۔ خان صاحب کی یہ بھی ہدایت تھی کہ سوشل میڈیا پر پیغام احتجاجی تحریک کے لیے جاری ہوں لیکن عہدیدار، تنظیمیں وغیرہ انفرادی طور پر کارکنان، حلقے کے عوام اور ممبران سے رابطہ کریں۔ سو کارکن اور قیادت ہر سطح پر منظم ہوں۔ اپنا لائحہ عمل طے کریں۔ پلان کریں۔ پر امن رہیں، متحد رہیں، گرفتاریوں سے بچیں۔ گراونڈ کے علاوہ بھی سوشل میڈیا پر اپنا فوکس لامعنی بحثوں پر نہیں اپنے مقاصد پر رکھیں۔ عمران خان، بشری بی بی، دیگر قیادت اور کارکنان کی رہائ۔ آئین و قانون کی بالادستی۔ مینڈیٹ کی واپسی کے علاوہ کوئی اور بحث وقت کا زیاں ہے اور وقت اس وقت ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ وفاداری کا تقاضہ قاعدہ (ڈسپلن) ہے۔ جتنا بھی ناگوار ہو، قائم رکھنا ہے۔ کوئی اور رکھے نہ رکھے، آپ نے رکھنا ہے۔ ۹ مئی کے بعد بھی کوئی مرکزی قیادت منظر عام پر نہیں تھی کیا آپ نے ہار مانی تھی؟ پھر آج مایوسی کا سبب کیا ہے؟ کیا آپ کے لیڈر نے آپ سے غداری کی؟ کیا اس نے آپ کی حمیت کا سودا کیا؟ یا آپ کو اس جدوجہد کے علاوہ اپنی نسلوں کے لیے کوئی اور راستہ سجھائی دے گیا ہے؟