آپ یقین کریں، جب ہم نے مولانا صاحب کو جمعے کی نماز کے لئے اٹھایا کہ وہ تیار ہو جائیں جمعے کے لئے، تو ہم نے ساتھ میں یہ بتایا کہ دس کالیں آچکی ہیں جنرل فیض حامد کی، اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ مولانا صاحب کے ہاتھ کا اشارہ بھی مجھے یاد ہے، اس طرح کیا... اور جب دوبارہ کال آئی تو راشد سومرو صاحب نے اس کو اسپیکر پر ڈالا ہوا تھا۔ اور جنرل فیض حامد کے وہ الفاظ مجھے یاد ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں، میں آپ کے فخر کے لئے یہ بات ریکارڈ پر لا رہا ہوں کہ آپ کا سینہ فخر سے چوڑا ہو۔ جنرل فیض نے کہا کہ جی مولانا صاحب... ہم نے کہا جی وہ تو جمعے کی نماز کے لئے چلے گئے، تو مجھے وہ الفاظ یاد ہیں، اس نے کہا کہ مولانا صاحب کو کہو کہ آپ کو اس مسجد کا واسطہ ہے، آپ کو اس جمعے کا واسطہ ہے، مجھ سے بات کرو۔ @ziaurrehman76
#مولانا_سے_معافی_مانگو #حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے
#مولانا_شان_پاکستان
جو لوگ مولانا فضل الرحمٰن کو گالیاں دیتے ہیں، وہ بدقسمت ہے جو ایک عالم کو گالی دیتے ہیں۔ اور اصول یہ ہے کہ آدمی کسی پر لعنت بھیجے اور وہ مستحق نہ ہو، تو بھیجنے والے پر لوٹ آتی ہے۔ یہ گالیاں انہی کو ملیں گی جو دیتے ہیں۔
#مولانا_سے_معافی_مانگو#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے
#مولانا_شان_پاکستان
کل کہتے تھے کہ لال مسجد میں جو ظلم ہوا ہے، یہ مولانا فضل الرحمٰن دیکھو، یہ جمعیت علماء دیکھو ! (حالانکہ) جب لال مسجد کا واقعہ ہوا تو جمعیت علماء تو نہیں تھی، مولانا صاحب تو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن چلے گئے تھے۔ اس دور کے آپ ان کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں، ان کا میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں، صبح شام جو انہوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب اور جمعیت علمائے اسلام کے خلاف باتیں کی ہیں وہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔ آج وہی سر پر چادر رکھ کر کہتے ہیں کہ جی لال مسجد میں تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا، میں نے تو تحقیق کی ہے وہاں تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ تو آپ کو تحقیق کرنے میں بیس سال لگ گئے؟ تو سیدھی طرح کہو نا کہ 2005-06 میں جمعیت علمائے اسلام کے خلاف یہ سب کچھ کرنا بھی آپ کو ڈیوٹی کے طور پر سونپا گیا تھا اور آج بھی یہ کہنا تمہیں ڈیوٹی کے طور پر سونپا گیا ہے۔
آج تکرار ہو جائے گی، لیکن تابش نے ان کے لیے بڑا خوبصورت شعر کہا ہے اور بالکل ان پر فٹ ہے۔ اپنے آپ کو اہل مدرسہ کہتے ہیں نا، لیکن ڈیوٹی کس کی کرتے ہیں؟ اسٹیبلشمنٹ کی۔ دفاع کس کا کرتے ہیں؟ اسٹیبلشمنٹ کا۔ تو اسی پر تابش نے کہا تھا نا :
منسوب چراغوں سے، طرفدار ہوا کے
تم لوگ منافق ہو، منافق بھی بلا کے !
اپنے کردار کو تو دیکھو ذرا! کہتے ہیں جمعیت علمائے اسلام تو کوئی اور تھی، جمعیت علمائے ہند تو کچھ اور تھی۔ سوات کے لوگو! آپ مجھے بتاؤ، دو بھائیوں کے بیچ میں، اگر جس طرح کل مولانا صاحب نے کہا کہ جائیداد کی تقسیم ہو جائے، اور کوئی ڈیرہ اسماعیل خان سے اٹھ کر آپ کے پاس آ کر کہے کہ جی تم دونوں تو سرے سے بھائی ہی نہیں تھے، تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ کیا کام؟ اس کو جوتے مارو گے کہ نہیں مارو گے؟ مارو گے نا !
اب جس کا جمعیت علمائے اسلام سے نہ کوئی تعلق ہے، نہ اس کا جمعیت علمائے ہند سے کوئی تعلق ہے، وہ بھی کہتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند کوئی اور تھی، جمعیت علمائے اسلام کوئی اور ہے۔ یہ وہ مذہبی لبادے میں کھڑے منافق ہیں، یہ آپ کا مقابلہ کریں گے؟ ان کا کردار تو دیکھو ذرا !
اب جمہوریت کی اس جنگ میں بھی، آپ کے کردار کا مقابلہ کوئی بہت بڑا جمہوریت پسند نہیں کر سکتا۔ آئین کی سربلندی کی جنگ میں بھی کوئی بہت بڑا آئین کا علمبردار آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر اسلام، شعائر اسلام، مذہبی ادارے، ہمارے عقیدے، ہمارے نظریے کے تحفظ کی جنگ میں بھی کوئی آپ کے کردار کا مقابلہ نہیں کر سکتا... تو جمعیت علمائے اسلام کے کارکنو! پھر یہ بتاؤ، پھر آپ کو سوشل میڈیا کے میدان پہ کوئی کیسے شکست دے گا؟ بتاؤ تو سہی ! @ziaurrehman76
#مولانا_سے_معافی_مانگو #حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے
#مولانا_شان_پاکستان
اس ملک پر اس طرح کے قابض حکومتیں ہم آگے نہیں چلنے دیں گے، ہم اپنی قیادت کے ایک حکم اور ایک اشارہ کے منتظر ہے، اور انشاء اللہ العزیز پھر آپ دیکھیں گے کہ ہم کس طرح اس قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کو امن دلواتے ہیں۔
#مولانا_سے_معافی_مانگو#سلیکشن_مافیا_نامنظور#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، ہم اسٹیبلشمنٹ کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمارے سامنے ایک آئین بھی ہے، ہمارے سامنے ایک قانون بھی ہے، جو ہمارے دائرہ کار کا تعین کرتا ہے، ہمارے اختیارات کے دائرے کو متعین کرتا ہے، اگر وہ اپنے دائرے میں رہے ہمارے سروں کے تاج ہیں۔
لیکن اگر وہ سیاست میں فریق بن کر سامنے آتے ہیں، انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرتے ہیں اور بلوچستان میں اور گلگت میں حال ہی میں جو کارنامے دکھائے گئے ہیں اور جس طرح نتائج تبدیل کیے گئے ہیں میرے خیال میں اگر وہ سیاست میں آئیں گے تو پھر سیاست میں ہم ہیں اور سیاست میں ان کو جواب بھی دیا جائے گا۔
اگر وہ اپنے فرائض تک محدود رہتے ہیں ہم نے جب انڈیا کے ساتھ لڑائی ہوئی سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور ہم نے کہا ہم ایک قوم ہیں، اگر آپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور میں اچھے کاموں کا اچھی بات کہوں گا۔
لیکن اگر آپ غلط راہ پہ چلیں گے تو ہم گونگے نہیں ہیں کہ ہم گونگے شیطان کی طرح خاموش رہیں، پھر ہم پارلیمنٹ میں بھی بات کریں گے اور پارلیمنٹ آباو ہے، پارلیمنٹ سپیرئیر ہے، پارلیمنٹ میں ہر ایک بات کی جا سکتی ہے، دفاع کی قوت ہو وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، یہاں پر کوئی بھی ادارہ ہو اسٹیبلیشمنٹ ہو، بیوروکریسی ہو، وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، اگر پارلیمنٹ آج بجٹ پاس کر رہی ہے اور بجٹ میں ہم اپنے اداروں کو جو یہاں سے پیسہ جائے گا، یہاں سے بجٹ جائے گا اور اس بجٹ سے اس کو غلط طور پر استعمال کریں گے تو اس پر تنقید پارلیمنٹ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ لہذا پارلیمنٹ کو آزاد رہنے دیجیے، پارلیمنٹ کو سپیرئیر رہنے دیجیے، اس کو سپریم رہنے دیجیے اور کسی کو بالاتر ہونے کا تصور نہیں ہے، ہم کوئی ایسی تنقید نہیں کر رہے ہیں خدا نخواستہ کہ ہم ان کا کوئی مزاق اڑا رہے ہیں، کوئی برے الفاظ سے ان کو یاد کر رہے ہیں، ہم ان کے کردار، ان کے ایٹیچیوڈ، ان کے موقف، ان کے رویوں پر اپنی شکایت ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، تو وہ ہم ریکارڈ پر لا رہے ہیں۔
میاں شہباز شریف صاحب وزیراعظم ہے، تشریف فرما ہے، کیا جب ہم اکٹھے ایک سٹیج پر ہوتے تھے تو انہوں نے اس زمانے میں فوج کے سربراہ کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اس وقت جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا اس وقت انہوں نے فوج کی ادارہ کو محکمہ زراعت نہیں کہا تھا؟
تو یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ ذرا اپنی ماضی کو بھی پہلے دیکھ لیا کریں اس کے بعد آپ ہماری تنقید کو اتنا سخت ردعمل دیں۔
قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
#مولانا_سے_معافی_مانگو #حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#آئین_شکن_مقدس_گائے #سلیکشن_مافیا_نامنظور
لگتا ہے حکومت اور ان کے پیچھے پشت پناہی کرنے والوں میں اب مردانگی ختم ہوگئی ہے۔
عورتوں کو استعمال کرکے مولانا صاحب کے خلاف بکواسات کررہے ہیں۔
مرد کے بچے ہو ، مردانگی دیکھانی ہے تو سامنے آؤ !
#مولانا_سے_معافی_مانگو#مولانا_شان_پاکستان
اس ملک میں عوام کے مرضی کے مطابق یہاں پر حکومتیں چلے گی، اس ملک پر اس طرح کے قابض حکومتیں ہم آگے نہیں چلنے دیں گے، ہم اپنی قیادت کے ایک حکم اور ایک اشارہ کے منتظر ہے، اور انشاء اللہ العزیز پھر آپ دیکھیں گے کہ ہم کس طرح اس قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کو امن دلواتے ہیں۔
#مولانا_سے_معافی_مانگو
#سلیکشن_مافیا_نامنظور #حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#مولانا_شان_پاکستان #آئین_شکن_مقدس_گائے
سب بتاؤ، تم نے بلوچستان میں کوئی ترقی کی؟ اگر ترقی کی تو وہاں کوئی اثر ہوا؟ وہاں پر جتھے بنے، مسلح جتھے بنے۔ تمہارا مغرب بھی روکا ہوا ہے، تمہارا مشرق بھی روکا ہوا ہے، ہر طرف سے تم محصور ہو۔
پشتون علاقے کے پہاڑوں پر وہ چھا گئے ہیں، خیبر پختونخوا کے پہاڑوں پر اور اس کے صحراؤں پر یہی لوگ چھائے ہوئے ہیں۔ آپ کدھر ہیں؟ سوائے اس کے کہ ایک ایوانِ صدر میں بیٹھا ہوا عیاشی کر رہا ہے اور دوسرا وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر عیاشی کر رہا ہے۔ #حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ #معافی_مائی_فٹ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے
ہم نے خیبر پختونخوا میں، ہم نے بلوچستان میں، بڑے بڑے خوانین، بڑے بڑے نواب، جو اپنے آپ کو خدا کہا کرتے تھے، ان کی خدائی کو اگر زمین بوس کیا ہے، تو پنجاب کا چوہدری اور نواب کی خدائی کو بھی ہم ہی زمین بوس کر سکتے ہیں۔
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ#سلیکشن_مافیا_نامنظور#آئین_شکن_مقدس_گائے