ٹی ٹی پی کو کہتے ہیں آئین کو مانیں
بلوچوں سے کہتے ہیں جمہوریت کو مانیں
جو آئین کو اور جمہوریت دونوں کو مانتے ان کا مینڈیٹ چھینتے ہیں۔
یہ کسی آئین قانون اصول کی نہیں قبضے کی جنگ ہے ۔
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
کامران یہ مکمل کلپ ہے، جسمین وزیراعلی نے باقاعدہ طور پر مریم نواز اور بلاول کا نام لیا ہے۔ ہماری حکومت سے مراد عمران خان کی حکومت میں اپوزیشن کی طرف سے جو لانگ مارچز ہوئیں ہیں انکا حوالہ دیا جارہا ہے۔ اسلیئے بھائی بات مکمل بتایا کریں۔
نوجوان آئین پاکستان پڑھاتے ہوئے
حق اور سچ یہ ہے کہ جب تک آئین پاکستان پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا جاتا پاکستان نہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ یہاں امن ہو سکتا ہے
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
عمران خان نے کبھی یہ بیان نہیں دیا کہ “آرمی چیف قوم کا باپ ہوتا ہے”
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موصوف کتنی “تیاری” کر کے آتے ہیں پراپیگنڈا پریس کانفرنسز کے لیے
Instead of working to stop terrorism, is he implying support for further attacks on Pakistan’s own people?
Under which law is a government officer authorized to make such reckless statements against Pakistan’s largest political party?
فوج اگر معدنیات کے لیے آپریشن نہیں کر رہی تو آج تک معدنیات لے کر جانے والے ٹرکوں کے راستے پر حملے کیوں نہیں ہوتے؟ وہاں دہشت گرد کیوں نہیں جاتے؟ ٹرک لے کر جانے کے لیے ہر ہفتے اتوار کو کرفیو کیوں لگائی جاتی ہے؟ وزیرستان میں روڈ اور معدنیات دونوں ایف ڈبلیو او کے پاس ہیں، صرف روڈ
ساتھ کیا تعلق؟ ہشت گرد کیو اسکو نشانہ بناتے ہیں ؟ ایسے کئی علماء ہے جو آپ پر تنقید کرتے ہیں آپکے پالیسیوں کے خلاف ہوتے ہیں دہشت گردوں کو تو خوش ہونا چاہیے تھا لیکن الٹا وہ ان علماء کو ہی مار دیتے ہیں؟ ڈی جے ساب اب یہ سارے چیزیں وہاں کے بچے بچے کو پتہ ہیں تب ہی تو آپ سے نفرت کرتے
ڈی جے بابو رہی بات دہشت گردوں کی کہ پی ٹی آئی والوں کیو کچھ نہیں کہتی اسکا مطلب بتا رہے ہیں کہ اب ان پر بھی اپ نے حملے کرانے ہیں! ایک سادہ سی بات تو آپ بھی سمجھا دے جب کے پی میں کوئی عالم یا کوئی بھی عام سا بندہ اپ کے غلط فیصلوں پر تنقید کرے تو دہشت گرد کیو بم لے کے پہنچ جاتے؟
ڈی جے بابو کی پریس کانفرنس نفرت کے علاؤہ کچھ نہیں سب کو پتہ ہے دہشت گرد کون لاتا کس کی سرپرستی میں دندناتے پھر رہے ہوتے ہیں پولیس گرفتار کرے تو اگلے دن یہ چھڑوانے آ جاتے ہیں حقیقت یہی ہے!
پچھلے کچھ عرصے میں ایسے ہزاروں واقعات ہوئے بنوں، لکی مروت سر فہرست ہے
Australia captain Pat Cummins has become the second player in history with more than 150 Test wickets - after the great Pakistan legend Imran Khan ✨️👑
Imran Khan: 187 wickets at an average of 20.27 🏅
Pat Cummins: 151 wickets at an average of 22.54 🥈
Two leaders who always lead from the front! ❤️
#ImranKhan #PatCummins #TestCricket
وزیر اعلٰی سہیل آفریدی کو تو کینٹ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تو 9 مئی کو عوام کو کیسے دروازے کھول کر کور کمانڈر ہاؤس میں گھسایا گیا- یہ ثابت کرتا ہے کہ 9 مئی فالس فلیگ آپریشن تھا،@ShafiJanPTI#May9th_FalseFlag