کیا کسی نے غور کیا کہ ایک بھی آدمی پیسوں کی طرف نہیں لپکا؟ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لوگ کسی لالچ یا مفاد کے تحت نہیں، بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت یہاں آئے ہیں۔ یہ لوگ ایک جذبے، جوش اور جنون کے تحت نکلے ہیں۔ یہ ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ان کی آواز سنی جائے اور ان کی امنگوں کا احترام کیا جائے۔
کیا کسی نے غور کیا کہ ایک بھی آدمی پیسوں کی طرف نہیں لپکا؟ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لوگ کسی لالچ یا مفاد کے تحت نہیں، بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت یہاں آئے ہیں۔ یہ لوگ ایک جذبے، جوش اور جنون کے تحت نکلے ہیں۔ یہ ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ان کی آواز سنی جائے اور ان کی امنگوں کا احترام کیا جائے۔
جادس دى دلبر مابى نوى..
ميتهون يار بهُلايا جاندا نئى..
سررکھ كي يار دے قدماں وچ..
سر فير اٹهايا جاندا نئى..
ميرا دل اک اے، ميرى جان اک اے..
ميرا دين اک اے، ايمان اک اے
جد رب، رسُول، قرآن اک اے..
دوجا يار بنايا جاندا نئى..
عين، عشق دا سنكل پايا اے..
جو لبهيا سو او گوايا اے..
ايس عشق تون بچ کے رے بنديا..
ايس عشق دا ڈاڈها سايا اے..
ايس موسا طُور بُلايا اے.. ايس بُلها خوب نچايا اے..
ايس عشق نى بلدے كربل وِچ.. ديوانے نوں وى
آزمايا اے..
دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہماری امن فورسز بھی جانتی ہیں، ہماری سول فورسز اور سول آرمڈ فورسز بھی جانتی ہیں۔ اگر کوئی نہیں جانتا تو وہ تمہارے جیسے ٹھگ ہیں، جو اپنی بیوی کے بھائی کے زور پر آ کر انٹیریئر منسٹر بن گئے ہیں۔ پہلے تم نے پی سی بی کو تباہ کیا، اب انٹیریئر منسٹری کو تباہ کر دیا ہے، اور اس ملک کو دہشت گردی میں پہلے نمبر پر لے آئے ہو۔
@SRehmanOffice Kpk government is against the terrorism, tell the Fake field Marshal to step down because of his wrong policies pakistan is on number 1 in ranking of terrorism.
یہ فراڈ الزامات ہیں۔۔۔ناکامی کا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کا پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے،ایمرجنسی/گورنر راج لگانے کی پہلے سے ترتیب شدہ سکرپٹ ہے۔۔۔دہشتگردی کیخلاف سب سے زیادہ قربانیاں خیبر پختون خوا کے عوام،پولیس اور حکومت نے دی ہیںاور ابھی تک دے رہی ہیں،خیر پختون خوا حکومت/پولیس دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن میں ہے اور فرسٹ ڈیفنس لائن کا کردار ادا کررہی ہے ۔۔۔گزشتہ 24 سالوں میں 24 ملٹری آپریشنز اور 7 معاہدے کیوں ناکام ہوئےوفاق پہلے خیبر پختون خوا کے عوام کو اس کو جواب دے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں پی ٹی آئی کی طرف سے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مارچ کی تاریخیں مؤخر کرنے اور مارچ کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت کے لیے صرف دو شرائط رکھی گئی ہیں: اول، عمران خان سے ملاقات؛ اور دوم، عمران خان کی بہنوں کی رہائی۔ عمران خان سے ملاقات ان کا قانونی حق ہے، جو گزشتہ ایک طویل عرصے سے بلاجواز غیر قانونی طور پر معطل ہے۔ اسی طرح عمران خان کی بہنوں کو نوآبادیاتی دور کے قانون MPO کے تحت چادر اور چاردیواری کا تحفظ پامال کرکےگرفتار کیا گیا ہے، جو ایک غیر قانونی اور بلاجواز اقدام ہے۔ اس کے باوجود اگر حکومت ان دو انتہائی ابتدائی، معمولی اور جائز مطالبات کو بھی پورا نہیں کر سکتی تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی مذاکرات ایک ڈھونگ اور فراڈ ہے، جنہیں حکومت تاخیری حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ مزید برآں، حکومت اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ایمرجنسی لگانے،جمہوری مارچ کو کچلنے کی اپنی غیر قانونی اقدامات کے لیے جواز تراشے۔