یہ فراڈ الزامات ہیں۔۔۔ناکامی کا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کا پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے،ایمرجنسی/گورنر راج لگانے کی پہلے سے ترتیب شدہ سکرپٹ ہے۔۔۔دہشتگردی کیخلاف سب سے زیادہ قربانیاں خیبر پختون خوا کے عوام،پولیس اور حکومت نے دی ہیںاور ابھی تک دے رہی ہیں،خیر پختون خوا حکومت/پولیس دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن میں ہے اور فرسٹ ڈیفنس لائن کا کردار ادا کررہی ہے ۔۔۔گزشتہ 24 سالوں میں 24 ملٹری آپریشنز اور 7 معاہدے کیوں ناکام ہوئےوفاق پہلے خیبر پختون خوا کے عوام کو اس کو جواب دے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں پی ٹی آئی کی طرف سے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مارچ کی تاریخیں مؤخر کرنے اور مارچ کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت کے لیے صرف دو شرائط رکھی گئی ہیں: اول، عمران خان سے ملاقات؛ اور دوم، عمران خان کی بہنوں کی رہائی۔ عمران خان سے ملاقات ان کا قانونی حق ہے، جو گزشتہ ایک طویل عرصے سے بلاجواز غیر قانونی طور پر معطل ہے۔ اسی طرح عمران خان کی بہنوں کو نوآبادیاتی دور کے قانون MPO کے تحت چادر اور چاردیواری کا تحفظ پامال کرکےگرفتار کیا گیا ہے، جو ایک غیر قانونی اور بلاجواز اقدام ہے۔ اس کے باوجود اگر حکومت ان دو انتہائی ابتدائی، معمولی اور جائز مطالبات کو بھی پورا نہیں کر سکتی تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی مذاکرات ایک ڈھونگ اور فراڈ ہے، جنہیں حکومت تاخیری حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ مزید برآں، حکومت اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ایمرجنسی لگانے،جمہوری مارچ کو کچلنے کی اپنی غیر قانونی اقدامات کے لیے جواز تراشے۔
عاصم منیر کے اقتدار کو جڑوں سے کاٹ کر پھینکنے تک اس ملک میں نہ امن آسکتا ہے نہ استحکام نہ خوشحالی ۔ چار سال سے جاری اس ملک کی بدحالی نے یہ بات ہر دن ثابت کی ہے۔
@SdqJaan انتہائی افسوسناک۔ اس چینل نے اپنا ایک ہونہار صحافی گنوا دیا اس حق کو باطل کے جنگ میں اور یہ آج اس ملک کے دشمنوں کے گود میں کھیل رہے ہیں۔ افسوس، صد افسوس۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
چند دن پہلے شفیع جان میرے شو پر کہہ رہے تھے سہیل آفریدی unpredictable ہیں۔ لگتا ہے ٹھیک ہی کہہ رہے تھے۔ ساری دنیا کچھ بات کر رہی ہے اور وزیر اعلی نے لانگ مارچ کے آغاز کا ٹویٹ داغ دیا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں “آیا جے غوری”
یہ جو اسٹیبلشمنٹ اپنے آپ کو بہت طاقتور کہتی ہے، کیوں نہ عمران خان کو باہر نکال کے اس سے مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کی طاقت کا بھی اندازہ ہو جائے پاکستان کو۔
آئرن لیڈی یاسمین راشد
ایک سبق تو ہمیں بچپن سے سیکھایا ہے۔
جب ظلم اور زیادتی ہو اس کے سامنے کھڑے ہو جاؤ
ظلم جبر کے اس موسم میں یاسمین راشد صاحبہ کے لیے آواز اٹھانا نہ بھولیں