It's surprising to see Pakistanis, including supporters of the Pakistani military, acting shocked over BLA terrorists attacking this family while they were camping and vlogging in Balochistan, killing the husband and critically injuring his wife and their two young daughters.
Have you been living under a rock? If you are a Punjabi, a Sindhi, a Muhajir from Karachi, or a Pashtun from KP, you are a walking coffin in Balochistan. Baloch terrorists are rewarded for attacks on non-locals in Balochistan, even if you are a civilian doctor or a nurse who volunteered to go there to treat local people.
Unlike Pashtun jihadists, Baloch terrorists are like zombies. They have no regard for rules of engagement, human rights, Islamic principles governing insurgency, or anything else.
PTI supporters and politicians who act like cheerleaders for Baloch terrorists would return home in body bags if they ever met the very terrorists they cheerlead. Even the self-appointed, low-IQ spokesperson for Baloch terrorists, Adil Raja, would not be spared by his Baloch terrorist friends if met them in Balochistan. Asad Toor, Ayesha Siddiqa, Imran Riaz, Raza Rumi, Hamid Mir, and other military touts and hybrid touts would meet the same fate in Balochistan.
I used to camp throughout Pakistan, but I never got security clearance to visit Balochistan, even when it was considered "peaceful." Now it is going through one of its worst phases, if not the worst phase ever. You would have to have lost your mind to decide to go vlogging through Balochistan today. Even traveling with security escorts is no longer safe.
Pakistan is the world's most dangerous place for Pakistanis for a reason. Value your life. Don't get yourself killed for a few views, likes, and shares.
Imran Khan was abducted by the dictator Asim Munir-led military junta three years ago, tortured in custody, and has lost 85% of the vision in one of his eyes. The military does not allow his family, doctors, or lawyers to meet him. Khan is being denied justice.
Free Imran Khan.
یوں لگتا ہے جیسے
پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے نواز و مریم والا حصہ صاف کرنے کا پلان تیار ہو چکا ہے
اسٹیبلشمنٹ شہباز جیسے فرمانبردار اور صدارت کی کرسی پر تکیہ کرے گی
یہ ہے سہیل آفریدی کی آج کی ویڈیو، اور وہ ہے سہیل آفریدی کی اس وقت کی ویڈیو جب عمران خان کی آنکھ کی بینائی جانے کی خبر آئی تھی، اور عمران خان کی بہنوں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا اور خیبر پختونخوا بند ہو گیا تھا۔
احتجاج میں شامل ہونے کے بجائے، سہیل آفریدی خیبر پختونخوا ہاؤس میں زندہ لاش بن کے بیٹھ گیا تب تک جب تک فوج نے خیبر پختونخوا کھول دیا، اور پی ٹی آئی سے احتجاج منسوخ کروا دیا گیا۔
اس بے غیرت نے فوج کے ساتھ ڈیل کی ہے کہ جلسے کرے، روڈ شوز کرے، فلمی ڈائیلاگ بولے، لوگوں کو مشغول رکھے، فوج کے لیے وقت خریدتا رہے، سہولت کاری کرتا رہے، جب تک فوج عمران خان کو قتل کرے۔
اسلام آباد میں رہائشی مکان کی خواہش رکھنے والے شہریوں کے لیے سی ڈی اے کی حالیہ جاری کردہ فہرست محض ایک انتباہ نہیں بلکہ ان اداروں کی کارکردگی اور دیانتداری پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ھے۔ سی ڈی اے آرڈیننس 1960 اور آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشنز 1992 کا حوالہ دے کر جن درجنوں سکیموں کو آج غیر قانونی قرار دیا جا رھا ھے، ان میں سے بیشتر برسوں سے غریب عوام کی آنکھوں کے سامنے آباد ھو رھی تھیں۔ سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ جب ان بنجر زمینوں پر سڑکیں بن رھی تھیں، بجلی کے کھمبے لگ رھے تھے اور بڑے بڑے اشتہاری بورڈز کے ذریعے سادہ لوح عوام کو لوٹا جا رھا تھا، تو یہ مقتدر ادارے اور ان کے ذمہ دار افسران کہاں سوئے ھوئے تھے؟
حیرت کی انتہا تو یہ ھے کہ حکومت انھی سکیموں سے کروڑوں روپے کے ٹیکسز وصول کرتی رھی، ان کی تمام پراپرٹی سیل (Sale) کروا کر غریبوں سے پلاٹ نام کروانے پر بھاری ٹیکسز بٹورے گئے، مگر اب اچانک انہیں 1960 اور 1992 کے قوانین یاد آ گئے ھیں۔ کیا اب یہ زمینیں غریب سے چھین کر مقتدر حلقے کھربوں میں فروخت کریں گے؟ اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ھے کہ سی ڈی اے نے ان علاقوں کے متعلقہ اداروں کو گیس اور بجلی کے نئے میٹر لگانے سے سختی سے روک دیا ھے اور ان علاقوں میں پلاٹ یا مکان کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی ھے۔ کیا یہ ملی بھگت نہیں کہ پہلے غریب کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکسز لیے جائیں اور پھر اسے 'غیر قانونی' قرار دے کر دربدر کر دیا جائے؟
سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر موجود فہرست کے مطابق درج ذیل سکیمیں فی الوقت غیر قانونی قرار دی گئی ھیں:
عبداللہ گارڈن/گارڈنز (کڑی روڈ)، ابو بکر ٹاؤن، عادل فارمز و ویلی، الھدیٰ ٹاؤن، الریان سوسائٹی، الرحمن سٹی ویو و ولاز، الیسید ایونیو، علی ماڈل ٹاؤن، علی ٹاؤن، امیر خان انکلیو، آرکیڈیا سٹی، ارسلان ٹاؤن، آرین انکلیو، ایشیئن رانچز ولاز، بابر انکلیو، بدر فارمز، بنی گالہ ہل ویو، بارہ کہو انکلیو، بلیو انکلیو، برما ٹاؤن، بائلی ٹاؤن، کیپیٹل گارڈنز، سینٹربری انکلیو، سٹی ٹاؤن، سٹی ویو، کامنرز سکائی گارڈن، دانیال ٹاؤن، ڈریم لینڈ سٹی، دھنیال ٹاؤن، ڈاکٹرز انکلیو، فیصل ٹاؤن (اسلام آباد ھائی وے)، گھکڑ ٹاؤن، غوری گارڈنز، غوری ٹاؤن (تمام فیز)، گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو سکیم، گرین ایونیو (I و ایونیو II)، گرین فیلڈ، گرین ھلز، گرین میڈوز، گرین ریزیڈنشیا، گرین ویلی، گرین ویو ولاز، گلبرگ ٹاؤن، گلف ریزیڈنشیا، حماد ٹاؤن، ہل ویو ھاؤسز، آئیڈیل ریزیڈنشیا، اقبال ٹاؤن، اسلام آباد سیف گارڈن، اتفاق ٹاؤن، جے اینڈ کے فارم ہاؤسنگ، جاپان ویلی، کارساز ولاز، کیانی ٹاؤن، کوہسار انکلیو، لینڈ سب ڈویژن (نزد بنی گالہ)، لینڈ سب ڈویژن (سنجانیہ روڈ)، مدینہ انکلیو و ٹاؤن، میجر مخدوم سوسائٹی، مکہ ٹاؤن، مارگلہ گارڈنز، مروہ ٹاؤن، میڈیا سٹی-1، مفتی محمود انکلیو، مسلم ٹاؤن، مظفر آباد ٹاؤن، نیو یونیورسٹی ٹاؤن، او جی ڈی سی ایل ٹاؤن، اولیو وڈ فارمز، پیراڈائز پوائنٹ، پارک لین ویلی، پی ٹی وی کالونی، قرطبہ ٹاؤن، راول انکلیو (کڑی روڈ و فیز III)، رائل سٹی، رائل ھومز، سیف گارڈنز، سما ٹاؤن، ستی ٹاؤن، شاھین فارمز، شاھین ٹاؤن (1 تا 4)، سملی ویلی، اسپرنگ ویلی، اسٹار ولاز، دی انکلیو ہاؤسنگ، ٹرائیکون ایگرو فارمز، اسامہ ٹاؤن اور یار محمد سوسائٹی۔
روات سے چھتر اور نیلور سے ترنول تک پھیلی اس پٹی میں بسنے والی غریب عوام، اب جاگ جاؤ اور بیدار ھو جاؤ ورنہ مٹ جاؤ گے۔ اگر آج ایک دوسرے کا تماشا دیکھو گے تو سب ایک دن روتے اور پچھتاوے کے ساتھ کھڑے ھو گے۔ جن مقتدر حلقوں کی نسلیں امریکہ، کینیڈا، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا، دبئی، سعودی عرب اور یو کے میں سیٹ ھیں، ان کا مقصد صرف اس سرزمین سے ڈالر کمانا ھے، انہیں آپ کی یا آپ کی نسلوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ اس لیے یوتھیا، پٹواری اور جیالہ کے کھیل وقتی طور پر چھوڑ کر اپنے حق کے لیے ایک ھو جاؤ، ورنہ آپ کی بستیاں بھی سید پور اور بری امام کی طرح کھنڈرات بنا دی جائیں گی اور ادارے کوئی نہ کوئی جواز بنا کر آپ کو آپریشن کے نیچے لائیں گے
اس تحریر کو اتنا شیئر کریں کہ یہ پیغام اسلام آباد کے ہر گھر، ہر گلی اور ہر بچے بچے تک پہنچ جائے تاکہ کوئی بھی غریب دوبارہ ان لٹیروں اور بے حس مقتدر حلقوں کے ہتھے نہ چڑھے۔ یہ صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ نہیں بلکہ ان قوتوں کے خلاف ایک بھرپور عوامی پکار ھے جو غریب کی چھت چھین کر اپنے کھربوں کے منصوبے مکمل کرنا چاھتے ھیں۔ آپ کا ایک شیئر کسی مجبور بیوہ کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور کسی محنت کش باپ کی طرف سے بیٹی کے جہیز کے لیے پائی پائی جوڑ کر خریدے گئے پلاٹ کو ڈوبنے سے بچا سکتا ھے۔
آج اگر آپ خاموش رھے تو کل جب بلڈوزر آپ کی دہلیز پر ھوگا، تو آپ کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ھو گا۔ یہ وقت مصلحت پسندی کا نہیں بلکہ بیداری کا ھے۔
نہ تو عمران خان کوئی قانونی مجرم ہیں، نہ ہی وہ جیل میں کوئی قانونی سزا بھگت رہے ہیں۔ عمران خان بے قصور ہیں۔ فوج نے طاقت کے بل پر اغوا کرکے انہیں جبراً قید میں رکھا ہوا ہے۔ عمران خان کو ان اغواکاروں سے صرف اور صرف طاقت کے بل پر ہی چھڑایا جا سکتا ہے۔
19 اپریل مردان جلسہ میں جانے والوں سے گذارش ہے کہ ہر بینر پر ایک سوال لکھ کر لے جائیں اور تقریریں سننے کی بجائے جواب طلب کریں کہ
1. ڈرون حملوں پر FIR کیوں نہیں کاٹی
2. 135 ارب روپے صوبے میں لگانے کی بجائے خان کی ہدایت کے خلاف سرپلس بجٹ کیوں دیا
3. خان کی قید تنہائی پر صوبہ بند کیوں نہیں کیا
پی ٹی آئی سوشل میڈیا (آفیشل) کے نام
آپ کا کام عمران خان کی ناحق قید اور علاج نہ ہونے پر اس قیادت کا دفاع کرنا ہرگز نہیں جو نہ صرف کمپرومائزڈ ہو چکی بلکہ دانستہ ان کی قید اور طبی سہولیات نہ ملنے کی سہولت کاری کر رہی ہے۔
آپ ان کے نہیں عمران خان اور ہماری نمائندگی کرتے ہیں۔
اس لئے آپ کو آزادانہ پالیسی سے انہیں دباؤ میں لا کر صراط مستقیم پر چلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے
@PTIofficial@InsafPK@agentjay2009
آج کے بعد پی ٹی آئی، عمران خان، فوج، سوشل میڈیا، اور پاکستان میں جو کچھ بھی چل رہا ہے، اس پر میرے پوسٹس سینسر نہیں ہوں گے۔ اب کھل کے بات ہوگی۔ یہ میرا یہاں آخری وقت ہے۔ جانے سے پہلے آگ لگا کے جانا ہے۔
مفتاح اسماعیل کا انکشاف اور حساب کتاب:
امارات سے حساب کتاب کا وقت آ گیا:
متحدہ عرب امارات نے پی ٹی سی ایل کے اکاؤنٹ میں پاکستان کے 800 ملین ڈالر 2006 سے دینے ہیں۔اس پر منافع جمع کیا جائے تو اسے لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں ۔یہ پی ٹی سی ایل کی فروخت کی بقایا رقم ہے۔۔کیا ہمارے حکمران و منسٹری آف آئی ٹی اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اگر معاملات سیٹل نہیں کر سکی تو یہ غفلت کی انتہا ھے-
راجاسعد نے اس پہ کیلکولیشن کی ھے 6.5 فیصد شرح سود کے حساب سے- یہ رقم بڑھ کر اب 2800 ملئین یعنی 2 ارب 800 ملئین ڈالرز بنتی ھے- یعنی 2 ارب ڈالرز کا منافع:
پاکستان اپنی رقم کاٹ کے باقی پیسے دے دے:
مفتاع کی بات پہنچ گئی ہو گی لیکن عوامی مطالبہ بنانے کے لیے اس پوسٹ کو شییر کریں- اتنا ذیادہ کہ بات متعلقہ محکمے تک پہنچ جائے-
@CMShehbaz@MIshaqDar50@MohsinnaqviC42@alimdar82@PTCLOfficial@StateBank_Pak@FinancialTimes
آؤ پاکستانیو اس باپ کی ہم آواز بنیں
یہ شخص بہاولپور کا ہے
یہ باپ پچھلے ڈیڑھ سال سے اپنی نوجوان بیٹی کی تلاش میں رو رہا ہ اسے پتہ بھی ہے کس نے اغوا کیا، پھر بھی کوئی ایکشن نہیں ہوا
آؤ ہم اس کی آواز ہر جگہ پہنچائیں ہم فضولیات کو پھیلاتے ہیں اسکی آواز کو پھیلانا ہمارا مقصد ہے انشااللہ حکام نوٹس لیں گے
جد پاکستان دی ایئر لائن دنیا دی نمبر ون ائیر لائن سی جس وقت پاکستان سپورٹس دا چیمپئن سی اس وقت عرب گوہ کھا کے فخر محسوس کردے سی۔
اج ٹٹی فوج تے ٹٹی خانداناں نے پاکستان نو اینا تو بھیک منگن تے مجبور کر دتا۔
ہرمز کے ایرانی قبضہ میں آتے ہی وارننگ دے دی تھی کہ اب یہ جنگ بہت جلد سپلائی لائنز اور معاشی جنگ میں بدل جائے گی اور وہ بدل چکی ہے۔ ادھر سعودیہ جنگ سے پہلے کی نسبت اب زیادہ پیسہ کما رہا ہے۔ جنگ سے قبل وہ تیل کی ایکسپورٹ سے ماہانہ دو بلین ڈالر سے کم کماتا تھا اب سو دو بلین ڈالر کما رہا ہے سو اس کی بلا جانے اس کے امریکی بیس پہ امریکی مرتے رہیں انکے جہاز تباہ ہوتے رہیں سعودیہ کم تیل بیچ کے زیادہ پیسے کما رہا ہے تو سب ٹھیک ہے۔
جی سی سی ٹوٹ چکی ہے اب عرب ممالک کی اصطلاح غلط ہے ، ہر ملک کا اپنا زاویہ نظر ہے۔ قطر نے جنگ بندی کا مطالبہ کرکے امریکیوں کو نکل جانے کا کہا ہے اس کے بعد اس نے دو ایل این جی ٹینکر ہرمز سے پاکستانی اور چینی جھنڈوں سے نکالنے کی کوشش کی جنہیں فی الوقت ایران نے واپس بھیج دیا۔ کیا مطلب ؟ کہ باقی امریکیوں کو نکال دو ادھر بحرین میں امریکی نیول ہیڈکوارٹر خالی ہوچکا ہے۔ اب صرف امارات ہی ہے جو امریکہ کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے۔
اس کا مطلب کیا ہے ؟ یہی کہ اب امریکہ ایران کے انفراسٹرکچر پہ جو بھی حملہ کرے گا اس کا جوابی بوجھ امارت کو ہی سب سے زیادہ سہنا پڑے گا لیکن امارات کی سکت کیا ہے ؟ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان تو وہی اٹھا رہا ہے۔
آخر میں یہ خبر کہ پاکستان ، ترکیہ ، چین اور بھارت کے ساتھ فرانس کے جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے ایران نے۔
عمیر فاروق
آج کی اہم خبرون پہ تبصرہ
پہلی بات ، امریکی پائلٹ کو ریسکیو کرنے والی کہانی غلط ہے پائلٹ کا اللہ بہتر جانے کیا ہوا لیکن جہاں امریکیوں نے آپریشن کی کوشش کی وہ پائلٹ کے گرنے کی جگہ سے کئی سو کلومیٹر دور ہے۔ یہاں دوسری جنگ عظیم کا ایک متروک شدہ ایئر سٹرپ تھا جہاں سی ون تھرٹی ڈکوٹا جہازوں نے لینڈ کیا۔ سی ون تھرٹی اگرچہ بہت پرانا ہے لیکن امریکی انجنیئرنگ کا شاہکار ہے یہ سٹیبل ترین جہاز ہے جو چار میں سے تین انجن تباہ ہونے پہ بھی اڑتا رہتا ہے اور چاروں انجن تباہ ہونے کی صورت میں بہت لمبی گلائیڈ کر سکتا ہے باڈی بھی بہت جاندار ہے۔ شاید اسی وجہ سے انکو استعمال کیا گیا۔
لیکن جس جگہ پہ لینڈ ہوئے وہاں سے ایک ایرانی نیوکلیئر سائٹ بہت قریب تھی دونوں جہاز لینڈنگ سٹرپ پہ ہی قریب قریب کھڑے تباہ ہوئے اسی لیے ملبہ دور نہ پھیلا جسکا مطلب ہے کہ ایرانی دفاعی فورسز کے حملہ سے تباہ ہوئے نہ کہ کسی خرابی یا ہوا میں۔ جس سے لگتا ہے کہ یہ کوشش ناکام ہوئی۔
دوسری اہم خبر ایران کی طرف سے پاکستان کی توسط بھیجی گئی صلح کی شرائط کو مسترد کرنا ہے۔ پاکستان میں موجود پاکستانی صحافی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ صلح نامہ جنرل ماچھی کی اپنی کوشش یا آفر تھی۔ مشکل یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں موجود پاکستانی صحافیوں کی خبروں کو pinch of salt سے ہی لینا پڑتا ہے ان بیچاروں کو کرنل کا حکم ہوتا ہے کہ ہمارا بابا اوپر رکھو۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ رات گئے تک جنرل ماچھی سے ٹرمپ کی بات چیت ہوئی اور پھر ماچھی نے یہ صلح نامہ بھیجا تھا۔
اگر یہ درست ہے تو بہت ہی شرم اور حماقت کی بات تھی۔ اتنا تو سوچ لیا ہوتا کہ ایران نے عالمی معیشت کی شہہ رگ ہرمز کے ذریعے دبا رکھی ہے اور یہی اسکی بارگیننگ پاور ہے وہ اسے محض پینتالیس دن کی عارضی جنگ بندی کے لیے آزاد کردے اور صرف اس وعدے پہ کہ اسکے نیوکلیئر پروگرام پہ پھر سے مذاکرات شروع ہو جائینگے ؟ جن مذاکرات کے دوران پہلے اس پہ دو بار حملے ہوئے ؟ ایران کو دے کیا رہے ہیں عارضی جنگ بندی ، جس کی اسے ضرورت ہی نہیں ؟
اگر یہ خبر اسی طرح ہے جس طرح پاکستان میں موجود صحافی بتا رہے ہیں کہ جنرل ماچھی کو کوشش تھی تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے طور پہ گھبرا چکا ہے کہ اگر جنگ طوالت پکڑتی ہے تو بیلنس آف پیمنٹ کا کیا بنے گا ؟ کیونکہ امارات نے تو اپنے پیسے واپس مانگ لئے ہیں جس کے لئے سعودیہ سے بات کی جا رہی ہے کہ وہ امارات والا ادھار بھی چکائے اور مزید پیسے بھی دے۔
کیا یہ کوشش اس ضمن میں تھی ؟ کیونکہ اگر واقعی ہماری ڈیل تھی تو وجہ یہی تھی ورنہ اتنی سمجھ جرنیل حضرات کو بھی ہے کہ ایران مانے گا نہیں ، سو یہ کوشش کی گئی کہ ایران کے اچھے رویہ کا فائدہ اٹھا کر بیک وقت ٹرمپ اور سعودیہ کو خوش کیا جائے۔ بہرحال یہ ایک غلطی ہی تھی اگر ہمارے جرنیل نے کی۔ اور اگر صرف پیغام رسانی تھی تو پھر کچھ نہیں پیغام مسترد ہوا
یہ جنگ طوالت پکڑتی نظر آتی ہے جس طرح دوسری جنگ عظیم میں آرڈنیز آئفکز Ardennes et Eifeles کا محاذ تھا جسے تب بھوتوں کا محاذ کہا جاتا تھا ، یا تو یہ بن جائے گا یا اسے توڑنے کی کوشش میں پہلی جنگ عظیم کا سومے Somme کا محاذ جہاں جمود توڑنے کی کوشش میں بے پناہ اتحادی ہلاکتیں ہوئیں۔ امریکہ اسے سومے بنا نہیں سکتا اسرائیل کی جنگ کے لیے اپنے اتنے فوجی مروا نہیں سکتا تو یہ آردینیز آنفلز کا بھوتوں کا محاذ ہی بنے گا جو ایران چاہتا ہے۔
ایران اسی جمود یا stalemate میں حرکت کر رہا ہے یعنی ہرمز پہ اہنے قبضہ کو نارملائز کرتا جا رہا ہے اور یہی امریکی تشویش ہے۔ کیونکہ وہ اس صورت میں losers ہیں۔ آبنائے ہرمز باقی سب کے لئے کھلی ہے ماسوائے جنگ کے متحاربین کے لیے ، یہی وجہ ہے کہ آج فرانس امریکہ کا ساتھ چھوڑ گیا اس نے اقوام متحدہ میں بزور آبنائے ہرمز کھولنے کی امریکی قراداد مسترد کردی اور چین و روس کے ساتھ کھڑا ہوگیا ، وہی روس جس پہ حملہ کرنے کو بھی تیار تھا ، اور صرف یہی نہیں اس نے امریکہ سے اپنا سونا بھی واپس مانگ لیا۔ چہ معنی ؟ کہ فرانس کو امریکہ کی پالیسی ہی نہیں بلکہ ڈالر کے مستقبل پہ بھی اعتماد نہ رہا۔ اب خود یورپ کے اندر دوڑ لگ جائے گی کہ نئے معاشی نظام میں اپنی جگہ بناؤ۔ اور یہی تو ایران چاہتا تھا
جاری ہے 👇
امریکی ایران سے اپنا پائلٹ نکالنے میں کامیاب ہوگیے۔ یہ ٹیکٹیکل کامیابی میڈیا کی سنسنی کا موضوع تو ضرور بن سکتی ہے لیکن جنگی صورت حال پہ اس کا اثر صفر ہے۔
درحقیقت جنگوں کا فیصلہ ٹیکٹیکل نہین بلکہ سٹریٹجک کامیابیاں کیا کرتی ہیں۔ امریکئ ایئرسپیریارٹی روز اول سے مسلمہ تھی ایران یہاں امریکہ کا پاسنگ بھی نہیں تھا لیکن اس نے اپنی asymmetrical warfare حکمت عملی سے اس فضائی برتری میں کامیابی سے شگاف کرکے دو اہم سٹریٹجک کامیابیاں حاصل کیں ، ایک آبنائے ہرمز پہ قبضہ اور دوسرا خطے سے امریکی بیسز کا صفایا جو مکمل صفایا ہے۔ امریکہ محض ہوائی بمباری سے ان کامیابیوں کو ریورس نہیں کر سکتا اور نہ ایران کو جھکا سکتا ہے۔
دراصل اب ایران تو کیا ہرمز پہ قبضہ بھی اس جنگ کا ہدف رہا ہی نہیں ، آخری امید یہ تھی کہ پاکستان کو ہرمز پہ قبضہ کے لئے اس جنگ میں دھکیلا جاتا لیکن اسحاق ڈار کے دورہ چین پہ یہ امکان بھی ختم ہوگیا ، امارات کا غم و غصہ اسی وجہ سے ہے۔
اب امریکہ کے لیے اس جنگ کے سٹریٹیجک اہداف مختلف ہوچکے ہیں اگلی کشمکش انہی اہداف کے گرد ہوگی لہذا انکو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ اس طرح ہیں
اسرائیل کا تحفظ
پیٹروڈالر کا تحفظ
اور انڈیا۔ مشرق وسطیٰ ۔ یورپ کاریڈور کی کوئی صورت براقرار رکھنا۔ تاکہ یوریشیا میں انڈیا، امارات ، اسرائیل اور برطانیہ اتحاد قائم رہے اور بیلٹ اینڈ روڈ کے مدمقابل مغربی روٹ موجود رہے۔
ایک سنگل سٹروک میں ان تینوں اہداف کو حاصل کرنے کا واحد فوجی حل یہ ہے کہ اسرائیل پہ امریکی فوج اتار کر اسے ایرانی سرحد پہ ایران سے جنگ کے بہانے ڈیپلائے کردیا جائے۔ اور یہ فوج دراصل عرب ممالک پہ امریکی فوجی قبضہ ہی ہوگا جو انکی غلامی کی بیڑیوں کا شکنجہ مزید سختی سے کس دے گا اور انہین امریکی پالیسی کے تابع چلائے گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا عرب ممالک اس دھوکہ میں آتے بھی ہین یا نہیں ؟
قطر اصل نیت بھانپ چکا ہے اسی لئے وہ جنگ کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ امریکیون کو اڈے خالی کرکے گھر چلے جانے کا مطالبہ کررہا ہے۔ سعودیہ کی طرف سے ابھی تک کوئی اشارہ نہین آیا وہ غالباً اومان کی طرف دیکھیں گے۔
درحقیقت یہ اومان ہی ہے جس کے فیصلے پہ ایسے کسی امریکی پلان کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اگر وہ نہ کردیتا ہے تو یہ پروجیکٹ سرے سے شروع ہی نہ ہوگا اور امریکیوں کو کوئی نیا پلان سوچنا پڑے گا۔
دریں اثنا شمالی کوریا کی طرف سے ایران کو ICBM میزائل دے جانے کی خبر بہت گردش کر رہی ہے۔ اس خبر کا سورس ایک غیر معروف امریکی ٹی وی چینل تھا۔ یہ فیک نیوز ہے یا درست خبر ؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن ان حالات میں یہ ہو بھی سکتا ہے جب بھی یہ سوال پوچھا جاتا تھا کہ چین اس جنگ میں شریک ہوگا یا نہین تو بندہ کا یہی جواب ہوا کرتا تھا کہ خود نہین لیکن اگر ضرورت پڑی تو شمالی کوریا کو آگے کر دیا جائے گا۔
اس وقت چین اگرچہ روس کی طرح کھل کے پارٹی نہیں بن رہا لیکن اس نے اپنا جھکاؤ واضح کردیا ہے پاکستان کو اس جنگ میں شرکت سے روک کر۔ مزید برآں پاکستان سے قرضوں کی واپسی کا تقاضا بھی یہ بتا رہا ہے کہ مزید چینی مطالبات بھی ہیں جنکو منوایا جانا مقصود ہے۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان سے یہ مطالبہ ہو کہ ایران کے حق میں مزید جھکاؤ اختیار کیا جائے ، امارات کی فرسٹریشن یہی بتا رہی اور ہماری فوج کی طرف سے امارات کے خلاف سوشل میڈیا محاذ کھول دینا بھی اسی کی نشاندہی کرتا ہے ورنہ محض قرضہ تو پھر چین اور سعودیہ بھی واپس مانگ رہے ہیں۔ انکے خلاف یہ محاذ کیوں نہیں ؟
دراصل امارات خود بہت فرسٹریٹ ہے وہ اپنے سارے انڈے اسرائیل اور انڈیا کی ٹوکری میں رکھ چکا تھا اور اپنے لئے واپسی کا راستہ نہ چھوڑا تھا جس وجہ سے اب امریکہ کو پیچھے ہٹتا دیکھ کر پریشان ہے۔
آنے والے چند دنوں میں اہم ترین خبر سعودیہ کی طرف سے ملنے والا کوئی اشارہ ہی ہوگا اور یہ اشارہ انکی اومان سے اندر خانے بات چیت کے نتیجہ کو ظاہر کرے گا۔ دوسری طرف اومان خلیجی جھگڑوں میں تاریخی طور پہ غیرجانبدار رہا ہے اور فرقہ پرستی کے کھیلوں سے بھی سختی سے الگ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے اومان کو آفر بھی بہت اچھی کر رکھی ہے۔ اس لیے امید نہین کہ اومان اس مجوزہ انڈیا۔ مڈل ایسٹ۔ یورپ کاریڈور کا حصہ بننے کے لیے کسی عالمی کشمکش میں شامل ہو کیونکہ اس کے بغیر بھی اسے آبنائے ہرمز کے ٹول میں وہی کچھ مل سکتا ہے۔
عمیر فاروق
اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں!
رفتار نے عمران خان پر "پروجیکٹ عمران خان" نام سے ڈاکیومنٹری بنائی، جس میں یہ کہنے کی کوشش کی گئی کہ عمران خان کو فوج نے بنایا! عمران خان کے ایک ٹائیگر نے نہایت ہی مؤثر انداز میں @raftardotcom اور اس کے مالک @FarhanGMallick کو اسکول چھوڑ دیا۔ ویڈیو دیکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔
رفتار نے یہ ڈاکیومنٹری یا اپنی نالائقی کی وجہ سے بنائی، یا فوج کو خوش کرنے کے لیے تاکہ مقبوضہ پاکستان میں ان کا کام چلتا رہے۔ رفتار کی یہ بکواس وہی افسانہ ہے جو فوج نے لوگوں کو بیچنے کی کوشش کی، لیکن شرمناک ناکامی کا شکار ہوئی۔
عمران خان پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اسٹار ہے اور پاکستانی فوج کی اتنی اُوقات نہیں کہ وہ عمران خان کو بنائے۔ یہ میں نہیں کہہ رہی، یہ برطانیہ کے اخبار دی گارڈین نے کچھ دن پہلے کہا۔
عمران خان کو عوام نے بنایا ہے۔ الٹا عمران خان نے فوج کو بنایا۔ 2022 تک اگر فوج اتنی مقبول تھی، تو یہ عمران خان کی وجہ سے ہے۔ 2022 میں فوج زلت کے اس گٹر میں گر گئی کہ 4 سال ہو گئے اور ہر دن کے ساتھ اس زلت کے گٹر میں اور گہری ڈوبتی جا رہی ہے۔
اگر فوج نے عمران خان کو بنایا، تو فوج نے پچھلے 4 سالوں سے عمران خان کو کیوں نہیں مٹا دیا؟ فوج نے پچھلے چار سالوں سے خود کو کیوں نہیں بنایا؟
پروجیکٹ عمران خان، عوام کا پروجیکٹ تھا، ہے اور رہے گا!
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)