Web developer & SEO enthusiast passionate about crafting engaging websites. Expert in Google Ads & design, driving digital success. Let's innovate together!
My sons Sulaiman & @kasim_khan_1999 applied for visas in January (again… ) to allow them to visit their father @ImranKhanPTI in Pakistan. The Pakistan consulate states that online visa processing normally takes 7–10 working days. It has now been 60 days. This despite the public promise that they could safely travel there to see their father after 4 years, made by both Defence Minister @khawajaMAsif to @mehdirhasan & PM spokesperson @mosharrafzaidi to @SkyYaldaHakim
Meanwhile, they are not allowed to speak to him on the phone, nor send him a letter. They haven’t seen him since 2022 after he was shot in an assassination attempt.
This is an appeal directly to Pakisan’s PM @CMShehbaz to please allow Imran Khan’s two sons to see their father asap, particularly since, by all accounts, his health is in decline.
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، ��یل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم ��ود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہت�� آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
@SHaiderRMehdi@grok For clarity, considering the recent 27th amendment in Pakistan, does the clause imply whether the retiring Army Chief requires a notification from the PM or any other authority for an extension or appointment as Chief of Army Defence?
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو دوسرا کھلا خط:
”میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کے نام کھلا خط لکھا، تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے مگر اس کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں- میں نے اپنی ساری زندگی عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں گزاری ہے۔ 1970 سے اب تک میری 55 سال کی پبلک لائف اور 30 سال کی کمائی سب کے سامنے ہے- میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان میں ہے۔
مجھے صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے، جس کی وجہ سے میں نے یہ خط لکھا۔
میں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرے گی-
ایجینسیز کے ذریعے پری پول دھاندلی اور الیکشن کے نتائج تبدیل کر کے اردلی حکومت قائم کرنا، عدلیہ پر قبض�� کے لیے پارلیمینٹ سے گن پوائنٹ پرچھبیسویں آئینی ترمیم کروانا اور پاکٹ ججز بھرتی کرنا، ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا جیسے کالے قانون کا اطلاق کرنا، سیاسی عدم استحکام اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی ریت ڈال کر ملک کی معیشت کی تباہی، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو مسلسل ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنانا اور تمام ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا ناصرف عوامی جذبات کو مجروح کر رہا ہے بلکہ عوام اور فوج میں خلیج کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے-
فوج ملک کا ایک اہم ادارہ ہے مگر اس میں بیٹھی چند کالی بھیڑیں پورے ادارے کا نقصان کر رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک شخص اڈیالہ جیل میں بیٹھا کرنل بھی ہے جو جیل کے سٹاف کو کنٹرول کرتے ہوئے ناصرف آئین، قانون اور جیل مینول کی دھجیاں بکھیر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق بھی پامال کر رہا ہے۔ وہ عدالتی احکامات کو ج��تے کی نوک پر رکھتے ہوئے ایسے عمل کرتا ہے جیسے “قابض فوج” کرتی ہے۔ پہلے اڈیالہ جیل کے فرض شناس سپرنٹنڈنٹ اکرم کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ قانون کی پاسداری کرتا تھا اور جیل قوانین پر عمل درآمد کرتا تھا، اب بھی تمام عملے کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پامال کرتے ہوئے مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کرنل کی ماتحت جیل انتظامیہ نے مجھ پر ہر ظلم کیا ہے۔ مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے۔20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔ پانچ روز تک میرے سیل کی بجلی بند رکھی گئی اور میں مکمل اندھیرے میں رہا۔ میرا ورزش کرنے والا سامان اور ٹی وی تک لے لیا گیا اور مجھ تک اخبار بھی پہنچنے نہیں دیا گیا۔جب چاہتے ہیں کتابیں تک روک لیتے ہیں۔ ان 20 دنوں کے علاوہ مجھے دوبارہ بھی 40 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا۔ میرے بیٹوں سے پچھلے چھ ماہ میں صرف تین مرتبہ میری بات کروائی گئی ہے۔ اس معاملے میں بھی عدالت کا حکم نہ مانتے ہوئے مجھے بچوں سے بات کرنے نہیں دی جاتی جو میرا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ میری جماعت کے افراد دور دراز علاقوں سے مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر ان کو بھی عدالتی آرڈز کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملتی۔ پچھلے چھ ماہ میں گنتی کے چند افراد کو ہی مجھ سے ملوایا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود میری اہلیہ سے میری ملاقات نہیں کروائی جاتی۔میری اہلیہ کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
گن پوائنٹ پر کروائی گئی چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضے اور کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اور میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے “پاکٹ ججز” بھرتی کرنا ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔ میرے سارے کیسز کے فیصلے دباؤ کے ذریعے دلوائے جا رہے ہیں۔ مجھےغیر قانونی طور پر 4 سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ میرے خلاف فیصلہ دینے کے لیے جج صاحبان پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ایک جج کا بلڈ پریشر 5 مرتبہ ہائی ہوا اور اسے جیل اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔ اس جج نے میرے وکیل کو بتایا کہ مجھے اور میری اہلیہ کو سزا دینے کے لیے "اوپر" سے شدید ترین دباؤ ہے۔
1/2
یزید نے اپنے دور میں چند منافقین رکھے ہوۓ تھے جو اہل بیعت اور ان کے چاہنے والوں کے بیچ میں جا کر یزید کی طاقت اور بہادری کے من گھڑت اور جھوٹ قصے سنایا کرتے تھے تاکہ لوگ یزید کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر اس کے ہاتھ پر بیعت کر لیں
“When all organs and agencies of the state that are mandated by the law to exercise power in order to safeguard life, liberty and democracy stand subjugated by brute force and are acting in aid of persecution and fraud. It is the duty of the Supreme Court of Pakistan to intervene.”
Writes the Former Prime Minister Imran Khan in his letters to the Chief Justice of Pakistan, Justice Yahya Afridi, and the head of the constitutional bench, Justice Amin Ud Din Khan, urging the Supreme Court to exercise its constitutional authority to safeguard the fundamental rights of the people of Pakistan. In his letter Imran Khan shares pictorial as well as documentary evidence of some of the ongoing murders, injuries, abductions and torture carried out against members and supporters of the Pakistan Tehreek-e-Insaf.
Below is the link to access copies of these letters sent by Imran Khan.
https://t.co/a8CncoDFIr
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو:
“گھریلو خواتین کو سیاست میں گھسیٹ کر ان کا وقار مجروح کرنا ہماری معاشرتی ، اخلاقی اور مذہبی روایات کے منافی ہے۔ بشرٰی بیگم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ محض مجھے دباؤ میں لانے کے لیے انہیں نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔ بشرٰی بیگم نے صرف میری اہلیہ ہونے کی بدولت صعوبتیں برداشت کیں۔ خواتین کو سیاست میں گھسیٹ کر نشانہ بنانا اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے-
میں ایک مرتبہ پھر سے واضح کر دوں کہ مجھ سمیت تحریک انصاف کے تمام کارکنان جیلیں کاٹنے کو یحیٰی خان پارٹ ٹو کی آمریت تسلیم کرنے پر ترجیح دیں گے۔ میں حقیقی آزادی کی جدوجہد پر کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا چاہے یہ مجھ پر کتنا ہی دباؤ بڑھائیں۔ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں واضح درج ہے کہ یحیٰی خان نے اپنی کرسی بچانے کے لیے ملک دو لخت کیا ۔ آج بھی یحیٰی خان ٹو یہی کھیل کھیل رہا ہے-
جمہوریت کے نام پر پس پردہ آمریت میں پاکستان میں انسانی حقوق پامال ہیں ۔ ملٹری حراست میں قید افراد پر بدترین ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا ہے اور اب بھی زیر حراست افراد سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں جو کہ انسانی حقوق اور آئین کے سخت منافی ہے ۔ ہمارے کارکنان اور سپورٹران کے گھروں پر صرف پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد کی تعداد میں چھاپے مارے گئے، ہزاروں بے گناہ کارکنان کو گرفتار کیا گیا ، عورتوں اور ��چوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس کے باوجود تحریک انصاف اپنی جگہ پر قائم ہے۔
اصولوں اور نظریات پر سمجھوتا وہ کرتے ہیں جو خوف کے سائے تلے رہتے ہیں۔ مجھے اللہ کی ذات کے سوا کسی چیز کا خوف نہیں۔ ایمان کی طاقت انسان کو جھکنے نہیں دیتی۔ جھکتے صرف وہ لوگ ہیں جن میں ایمان کی کمی ہو۔ دنیا کے عظیم ترین لیڈر حضرت محمد ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ سے ہمیں عملاً یہ سبق دیا ہے کہ جس قدر ہی مصائب اور مشکلات کیوں نہ آ جائیں، حق اور اپنے مقصد کی ترویج کے لیے ڈٹ جانا چاہیے اور غیر اللہ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جدوجہد کا مقصد جمہوریت کی سربلندی،آئین وقانون کی حکمرانی،آزاد عدلیہ و میڈیااور بنیادی شہری حقوق کا تحفظ ہے اور ہم اس میں کامیاب ہوں گے کیونکہ یہی حق ہے۔ میں آخری سانس تک اس کے لیے جدوجہد کروں گا۔ میری قوم نے بھی پیچھے نہیں ہٹنا!
القادر ٹرسٹ کے فیصلے نے دنیا میں پاکستان کے نظام عدل کا مذاق بنوایا ہے ۔ بکاؤ میڈیا پر اسے ایک sham ٹرسٹ کا لقب دیا گیا جو کہ حقائق کو بھونڈے اندا�� میں مسخ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ القادر ٹرسٹ نہ تو بلاول ہاؤس ہے اور نہ ایون فیلڈ ہاؤس ہے یہ طلبا کو سیرت النبی ﷺ سے روشناس کروانے کی ایک درسگاہ ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ ملک ریاض کو یہاں پر دھمکایا گیا جس کے پیش نظر ان کے بیٹے نے لندن میں 9 ارب کی پراپرٹی 18 ارب میں خریدی ۔پراسیکیوشن آج تک یہ ثابت نہیں کر سکی کہ یہ منی لانڈرنگ ہے۔ جبکہ میرے اور میری اہلیہ پر فرد جرم عائد کی گئی جنہوں نے ایک روپے کا مالی فائدہ نہیں لیا۔ اگر مجھ پر پبلک آفس ہولڈر ہونے کی بنا پر الزام لگایا گیا تو بشری بی بی جو ایک گھریلو خاتون ہیں انہیں کس کی ایما پر مجرم قرار دیا گیا؟ اس فیصلے کا ایک اور مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ القادر یونیورسٹی کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا۔ کیا فرمائشی احمقوں کے اس ٹولے کو یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ حکومتی پراپرٹی نہیں ہے؟ ٹرسٹ کی پراپرٹی کو حکومت کس قانون کے تحت اپنی تحویل میں لے سکتی ہے؟
نام نہاد “بند لفافے” کو حکومت اور تحقیقاتی ادارے کھول سکتے ہیں اسے کھولیں اس میں کیا لکھا ہے عوام کو بتائیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔ لیکن جب مقدمے کا مقصد محض پروپگنڈا کر کے صبح شام جھوٹ بولنا ہو تو کوئی چیز پبلک نہیں ہو سکتی ۔
آٹھ فروری کو پورے ملک میں یوم سیاہ منائیں گے- اس دن پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ بری طرح کھلواڑ کیا گیا۔ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا مار کر فارم 47 کی جعلی حکومت مسلط کر دی گئی۔ اس حوالے سے علی امین گنڈاپور کو ہدایت کرتا ہوں کہ 8فروری کو پورے کے پی سے قافلے پشاور جمع ہو کر احتجاج کریں۔ اپنی وکلاء برادری بشمول انصاف لائرز فارم اور دیگر ونگز کو بھی اس دن بھرپور احتجاج کی ہدایت دیتا ہوں۔ تمام صوبوں کے اراکین اسمبلی اور پارٹی عہدے داران کے ساتھ ساتھ ہر مکتبہ فکر کے لوگ جمہور کی توہین کے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر بھرپور طریقے سے منائیں-
ہم جوڈیشل کمیشن کے قیام کا ایک جائز مطالبہ کر رہے ہیں ۔ شفاف جوڈیشل کمیشن کا قیام حکومت اس لیے نہیں چاہتی کیونکہ وہ 9 مئی اور 26 نومبر میں خود ملوث ہے ۔ جب تک ان واقعات کے مجرمان کو سزا نہیں مل جاتی ملک میں استحکام آنا نا ممکن ہے-“
نیوز چینل CNBC کے مطابق عمران خان کو ڈیل نہ کرنے کی وجہ سے جیل میں رکھا جا رہا ہے
فوج سمجھ رہی تھی کہ وہ عمران خان سے نواز شریف کی طرح ڈیل کر لیں گے لیکن عمران خان نے کہا ہے میں نواز شریف نہیں ہوں
@KaliwalYam@MaryamNSharif یہ واحد خاندان ہے جس نے ان کی ماں بہن ایک کی یا اسکو ننگی گالیاں دی اس نے اور اس کے باپ نے اسکو اپنے سینے کے ساتھ لگایا۔ رانا ثناءاللہ، سنڈریلا یا میاں داؤد سب کو دیکھ لیں۔
An important message from Former Prime Minister Imran Khan regarding the civil disobedience movement - December 19, 2024
“I had made two demands of the government:
1) Release of under-trial political prisoners.
2) The establishment of judicial commissions for transparent investigations into the incidents of May 9th (2023) and November 26th.
These are both legitimate demands, and if the government does not implement them by Sunday, the first phase of the civil disobedience movement, "boycott of remittances", will be launched. In this regard, we will appeal to Pakistanis living abroad that the situation in Pakistan is evident to you; democracy, the judiciary, and the media has been stifled, and a period of oppression and fascism is ongoing. Therefore, we urge you to start the boycott of remittances.
The courage and bravery with which Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) workers faced oppression on February 8 and November 26 are unparalleled. PTI is the second party after the Awami League in 1971, to face such state oppression. However, despite this, PTI has made history by achieving historic victories in the elections and continuing its struggle until November 26th.
November 26th is the darkest day in Pakistan’s history. On this day, unarmed people were shot at by snipers; young people were injured and martyred, and several individuals have been missing for three weeks. It is the government's responsibility to find the missing people. The government must answer: where are these people? Our people have made sacrifices for democracy. I direct Barrister Gohar and my parliamentary party to raise their voices in the assembly for these individuals. It is unacceptable that while blood is being shed in the country, the Parliament continues to function as usual.
As long as I am alive, I will fight for an investigation into the massacre of these individuals and will not rest until justice is served. Families of the martyrs are grieving. I myself was deeply distressed when I heard about the shootings, and despite taking sleeping pills, I could not sleep due to the agony of knowing that unarmed people were treated so mercilessly. Those who did not even break a window or a leaf were directly shot. Our people were absolutely peaceful, singing the national anthem, they embraced the soldiers and yet were shot and mercilessly killed. This was what Yahya Khan did to the Bengali people on March 25, 1971. No other party in the country has been treated like this. I will not allow the memory of November 26th to fade for as long as I live.
PTI's offer for negotiations was ridiculed, and it was made to look as if we had surrendered. The offer for talks and delaying the civil disobedience movement was made in the broader national interest.
If the government shows no interest, we will not force negotiations upon them. Our offer should never be seen as a sign of our weakness. If the government still wants to prevent the civil disobedience movement, they must contact us regarding our two demands or convince us that these demands are unconstitutional and cannot be addressed.
I have invited a negotiation team for a meeting in jail and provided their names. Now, we will see whether the government allows them to meet with me or not.
The government repeatedly accuses us of targeting the country via our civil disobedience movement. Let them be reminded that it is not the country but the illegitimate Parliament: the (National) Assembly, and the Senate that emerged from electoral fraud, which are being targeted. This government did not come to power through people's votes but through a conspiracy. General Bajwa conspired against our elected government and caused Pakistan a loss of 42 billion Dollars. This government has caused immense damage to the IT industry and other sectors, which is why the public is disillusioned with it. The economy is in ruins, and the business class and capitalists are transferring their money abroad.”
ٹرمپ کے انتہائی قریبی دوست، ٹرمپ کی امریکہ کے اٹارنی جنرل کے لئے فرسٹ چوائس میٹ گیزٹ نے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا
دو ہفتے پہلے ٹرمپ نے گیزٹ کو اپنا اثاثہ کہا تھا