یہ کہانی ہے **میگی ڈکسن (Maggie Dickson)** کی، جو 1724ء میں سکاٹ لینڈ کی تاریخ کا ایک ایسا معجزہ بن گئیں جس نے قانون کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ ایڈنبرا کے لوگ آج بھی انہیں **"Half-hangit Maggie" (آدھی لٹکی ہوئی میگی)** کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
---
### محبت، چھپائی گئی حمل اور عبرتناک سزا
22 سالہ میگی اپنے شوہر سے الگ ہونے کے بعد ایک دوسرے شہر منتقل ہو گئیں، جہاں ایک ہوٹل کے مالک کے بیٹے سے ان کا افیئر ہو گیا۔ اس زمانے کے سخت قوانین اور ملازمت چھن جانے کے ڈر سے میگی نے اپنے حمل کو سب سے چھپا کر رکھا۔ بدقسمتی سے، بچہ وقت سے پہلے پیدا ہوا اور فوراً ہی فوت ہو گیا۔
خوفزدہ میگی نے بچے کی لاش کو ایک دریا کے کنارے چھوڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ پکڑی گئیں اور سخت قانون کے تحت انہیں **موت کی سزا** سنا دی گئی۔
### پھانسی، تابوت اور زندہ لاش!
ستمبر 1724ء میں میگی کو سرِعام پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کیا، انہیں باقاعدہ مردہ قرار دیا اور ان کی لاش کو لکڑی کے تابوت میں بند کر کے کیل ٹھونک دیے گئے تاکہ انہیں ان کے آبائی شہر واپس لے جایا جا سکے۔
سفر کے دوران، جب لاش لے جانے والے ڈرائیور ایک ہوٹل پر چائے پانی کے لیے رکے، تو اچانک ایک خوفناک منظر سامنے آیا:
* تابوت زور زور سے ہل رہا تھا۔
* اندر سے کسی کے ہاتھ مارنے اور چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
ڈرائیوروں نے ڈرتے ڈرتے جب تابوت کا ڈھکن توڑا، تو معلوم ہوا کہ راستے کے جھٹکوں نے میگی کے دل کی دھڑکن کو دوبارہ بحال کر دیا تھا—**میگی زندہ تھیں!**
---
### قانون کی مجبوری اور "آدھی لٹکی ہوئی میگی"
جب یہ معاملہ دوبارہ عدالت پہنچا تو ججز سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ اس وقت کے سکاٹش قانون (Scots Law) کے مطابق، میگی کو پھانسی پر لٹکانے کی سزا دی جا چکی تھی اور سزا پر عمل ہو چکا تھا۔ قانون میں یہ کہیں نہیں لکھا تھا کہ اگر کوئی خوش قسمتی سے زندہ بچ جائے تو اسے دوبارہ پھانسی دی جائے۔
> **عدالت کا فیصلہ:** ایک ہی جرم کی سزا کسی انسان کو دو بار نہیں دی جا سکتی۔
چنانچہ، قانوناً مردہ قرار پانے کے بعد میگی کو آزاد کر دیا گیا اور ��اہی معافی مل گئی۔ اس واقعے کے بعد وہ راتوں رات ایک سلیبریٹی بن گئیں اور پھانسی کے بعد مزید **40 سال** تک ایک عام اور خوشگوار زندگی گزاری۔
#دلچسپ_حقائق
#حیرت_انگیز
#تاریخی_حقائق
#کہانی
#معجزہ
#MaggieDickson
#HalfHangitMaggie
#HistoricalFacts
#UnbelievableStories
#StrangeHistory
#MiracleSurvival
#EdinburghHistory
#ScotsLaw
#TrueStories
Pakistan cannot claim to value women while countless women continue to face violence in their own homes. The killing of a wife for refusing sexual relations exposes a dangerous mentality: that a husband's desires outweigh a woman's autonomy. 1/2 @Dr_AyeshaNavid@valekhan
جنہوں نے خاص طور پر مسلمانوں نے ارتقاء پر ایک کتاب بھی نہیں پڑھی ہوتی مگر ان کے سوالات نیچے یہ والے ہوتے ہیں
اگر انسان بندر سے بنا ہے تو بندر انسان کیوں نہیں بنا
اگر بندر انسان کی نسل سے ہے تو بندر انسان کیوں نہیں بنا
اگر انسان اور بندر کا ڈی این اے %98 سے ملتا ہے تو بندر اتنا چوتیا کیوں ہے
اتقا انکاریوں کو نہ ڈی این اے کا نظام پتا ہے نہ مولیکیولر بائیولوجی پتہ ہے نہ ان کو نیچرل سلیکشن کے بارے میں پتا ہے صرف یہ پتہ ہے کہ قران کے لکھنے والے نے انسانوں کو بہترین شکل میں بنایا جبکہ کینسر سے انسان مر بھی جاتے ہیں
"You can beat 40 scholars with one fact, but you cannot beat one idiot with 40 facts". - Rumi
اب دو طرح کے اسپیشیز بن چکے ہیں ایک عام اسپیشیز جو کہ انسان ہیں اور دوسرا سوشل میڈیا اسپیسیز
social media species
والے اگر اصل میں اپ سے ملے تو ان کے پاس وہ جذبات ہوں گے اور اپ کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور حل کرنے کی بھی لیکن سوشل میڈیا اسپیشیز کو بالکل ارٹیفیشل انٹیلیجنس کی طرح اپ کی کوئی فکر نہیں جس کو کہا جائے کہ جاؤ وہاں پر ابادی کا خاتمہ کرو اور اس روبوٹ کو کچھ اثر نہیں ہوگا
اسی طرح کے احساسات جو کہ نہ ہونے کے برابر ہیں اب سوشل میڈیا اسپیشیز کے اندر بھی ا چکے ہیں اس لئے سوشل میڈیا سے دور رہیے تاکہ اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیے شکریہ
عون بھائی اور ڈرائیور نے مجھے بار بار زیا۔دتی کا نشانہ بنایا ۔۔ سب سے زیادہ ظلم میرے ساتھ رمضان شریف میں ہوا ، باجی کو سب کچھ بتایا لیکن وہ بولیں ،میرے بیٹے نے تمہارے ساتھ کچھ کیا بھی ہے تو بچہ اسکا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ ماڈل ٹاؤن کی ایک کوٹھی میں مسلسل ظل�� کا شکار ہونے کے بعد اسقا۔ط حمل کے دوران جان بحق ہونے والی گھریلو ملازمہ کا آخری بیان ۔۔۔۔۔لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں اس 17 سترہ سالہ گھریلو ملازمہ کو عون بھائی یعنی کوٹھی مالکن کا بڑا اور شادی شدہ بیٹا ظلم کا نشانہ بناتا رہا ، گھر کے ڈرائیور نے بھی مفت کا مال سمجھ کر اور سب کو بتانے کا کہہ کر لڑکی کو نشانہ بنایا ، لڑکی بدنامی، معصومیت اور نوکری جانے کے ڈر سے چپ رہی ۔ مگر کچھ ہفتے بعد اسکی طبیعت خراب رہنے لگی ، باجی کو بتایا تو انہوں نے حمل ٹیسٹ والی سٹک لاکردی ، جس میں تصدیق ہو گئی مگر مالکن نے کچھ نہ کیا بس ڈرائیور کو نوکری سے نکال دیا ، جب بچی مسلسل بیمار رہنے لگی تو مالکن باجی نے اسے گھر بھجوا دیا بچی نے ماں کو حالات بتائے تو وہ پریشان ہو گئیں علاج کروایا مگر کچھ فرق نہ پڑا ۔۔۔ غلط ادویات کے استعمال سے بچہ پیٹ میں ہی فوت ہو گیا تو ماں اپنی بیٹی کو لے کر مالکن باجی کے پاس آگئی یہاں لاہور کے نواح میں ایک ڈاکٹر سے اسقا۔ط حمل کا آپریشن کروانے کے چند گھنٹوں بعد بچی کی وفات ہو گئی ۔۔۔۔ مذکورہ بالا بیان بچی نے انتقال سے چند گھنٹے پہلے دیا ۔۔۔۔یہ بچی اللہ کی عدالت میں جاکر پوچھے گی تو ضرور کہ اسکو مرنے پر کس نے مجبور کیا اور اسکا مجرم کون کون ہے ؟ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے مقدمے میں ق۔ت۔ل کی دفعات بھی شامل کر لی ہیں۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے تحریری اور ویڈیو بیانات کی روشنی میں اجتماعی زیا۔دتی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔۔ دعا ہے اس بچی کو ظلم کا نشانہ بنانے والے عبرت کا نشان بنیں ۔۔۔۔ #fblifestyle
اس سوال کی بنیاد ہی ایک عام سائنسی غلط فہمی پر رکھی گئی ہے۔
یہ مفروضہ غلط ہے کہ ڈائنوسارز کے دور میں آکسیجن بہت زیادہ تھی۔ آج ہماری فضا میں آکسیجن کا تناسب تقریباً 21 فیصد ہے۔ جبکہ ڈائنوسارز کے دور کے کچھ ادوار میں آکسیجن آج سے بھی کافی کم تھی، اور بسا اوقات یہ گر کر 10 فیصد تک آ گئی تھی۔ اس لیے ڈائنوسارز کی دیوہیکل جسامت کا تعلق زیادہ آکسیجن سے نہیں بلکہ ان کی ہڈیوں کی مخصوص ساخت، نظامِ انہضام اور ماحولیاتی ضرورتوں سے تھا۔
زیادہ آکسیجن جانوروں کا نہیں، بلکہ کیڑے مکوڑوں کا سائز ضرور بڑھا سکتی ہے۔ اس کی وجہ ان کا نظامِ تنفس ہے۔ پھیپھڑوں سے سانس لینے والے جانوروں کے برخلاف، حشرات کے پھیپھڑے نہیں ہوتے۔ وہ اپنی جلد میں موجود باریک سوراخوں کے ذریعے براہِ راست آکسیجن جذب کرتے ہیں۔ آج سے تقریباً 30 کروڑ سال پہلے زمین پر آکسیجن کا تناسب 30 سے 35 فیصد تک تھا۔ اس زیادہ آکسیجن کی وجہ سے حشرات کو ان کے سطحی رقبے اور حجم کے تناسب (Surface Area to Volume Ratio) کے کم ہونے کے باوجود باآسانی آکسیجن مل جاتی تھی۔ اسی کے نتیجے میں اس دور میں انتہائی بڑے اور دیوہیکل سائز کے حشرات پیدا ہوئے تھے۔
چونکہ آج کے تمام بڑے جانور پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں، ان پر جلد سے آکسیجن جذب کرنے والا حشرات کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔ اس لیے کسی بھی عام جانور کو مصنوعی طور پر زیادہ آکسیجن دینے سے وہ ڈائنوسار جتنا بڑا نہیں ہو جائے گا، بلکہ حد سے زیادہ آکسیجن ان کے پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
میرا ایک دوست جو “fear of psychosis “ میں مبتلا ہے ۔کہتا ہے کہ “اگر خدا واقعی ہوا تو ریشنل لوگ مارے جائیں گے اور وجد میں سر پیٹنے والے اور ڈر کے مارے سوال نہ کرنے والے بچ جائیں گے۔ اس لئے اگر وہ ڈارون کے اندھے چانس والی بات پہ یقین کر لے گا تو وہ جہنم کی آگ میں جل سکتا ہے”۔
پھر میں نے دوست کو جواب دیا کہ “کسی نے کہا کہ خدا کو بھی سوال کرو۔ اگر خدا ہے تو وہ ریزن کو ڈر سے زیادہ پسند کرے گا”۔
ہاں نا اگر خدا ہوا تو وہ آئن سٹائن ، نیوٹن، ڈارون، کانٹ، کیوری ، لامار کو ایک بورنگ سی مزیدار کھانوں اور مشروبات والی لوکیلٹی نہیں دے گا بلکہ پھر سے کھوج کے لئےایک بڑا اضطراب دے گا ۔
اس لئے اے عقل والو! میں پرویز ہود بھائی جیسے دماغوں کی قدر کرتی ہوں ۔
اصباح نومینا
ایک بار استاد قمر جلالوی کی ہم عصر شاعرہ وحیدہ نسیم صاحبہ (جو غربت کی وجہ سےاستاد کو کسی حد تک کمتر سمجھتی تھیں)، نے طنزاً استاد سے کہا کہ قمر شاعر تو میں تمھیں تب مانوں جب تم مشاعرے میں ایک ہی شعر پڑھو اور محفل لوٹ لو۔ استاد نے چیلنج قبول کرلیا۔ کچھ ہی دنوں بعد ایک مشاعرہ ہوا جس میں یہ دونوں بھی مدعو تھے۔ وحیدہ نسیم اگلی صفوں میں بیٹھی تھیں۔
استاد کی باری آئی تو استاد نے مائیک پر کہا:
"خواتین وحضرات ! آج کسی کے چیلنج پر صرف ایک ہی شعر پڑھونگا آگے فیصلہ آپ لوگوں پر۔ یہ کہہ کر استاد نے پہلا مصرع پڑھا:
پچھتا رہا ہوں نبض دکھا کر حکیم کو
(بڑی واہ وا شاوا ہوئی)
استاد نے پہلا مصرع مکرر کیا لوگوں نے کہا
"پھر کیا کیا ہوا استاد۔ آگے تو بتائیے"
اب استاد نے مک��ل شعر پڑھا
*پچھتا رہا ہوں نبض دکھا کر حکیم کو*
*نسخے میں لکھ دیا ہے وحیدہ نسیم کو*
محفل میں دس منٹ تک تالیاں بجتی رہیں اور قہقہے لگتے رہے
جب کچھ شور کم ہوا تو بے ساختہ لوگوں کی نظریں وحیدہ نسیم کی طرف گئیں مگر وہ تو جانے کب کی غائب ہو چکی تھیں. 🤷��️🥴
———
❗️Canadian pro$titute bans Indians and Pakistanis because they ask for a discount
...and they often refuse to shower before services
... are also "very aggressive" because of their "r@pe culture"
ہمارے معاشرے میں ایک عام تصور ہے کہ کچھ کھانوں کی تاثیر “گرم” ہوتی ہے اور کچھ کی “سرد”۔ اسی وجہ سے گرمیوں میں آم، انڈا، مچھلی، گوشت، خشک میوہ یا مصالحے دار کھانوں سے ڈرایا جاتا ہے، جبکہ دہی، کھیرا، تربوز یا لسی کو “سرد” کہا جاتا ہے۔ اصل میں یہ ایک پرانا روایتی طریقۂ وضاحت ہے، جو اس زمانے سے آیا جب digestion، metabolism، allergies، reflux، diabetes اور hormones کے بارے میں سائنسی علم اتنا واضح نہیں تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا جسم اپنا temperature خود regulate کرتا ہے۔ دماغ کا ایک حصہ، hypothalamus، جسم کا درجہ حرارت قابو میں رکھتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد جسم اسے ہضم کرتا ہے، جس سے metabolism تھوڑا بڑھتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھانا جسم کے اندر “گرمی” بھر دیتا ہے۔ مرچ یا مصالحہ کھانے سے منہ جلتا محسوس ہو سکتا ہے، پسینہ آ سکتا ہے، یا ناک بہہ سکتی ہے، لیکن یہ زیادہ تر nerves اور heat receptors کا اثر ہے، نہ کہ جسم کے اندر خطرناک گرمی پیدا ہونا۔
اکثر جن کھانوں کو “گرم” کہا جاتا ہے، وہ اصل میں protein، fat، calories یا مصالحے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ مثلاً انڈا، گوشت، مچھلی، خشک میوہ یا آم غذائیت دیتے ہیں، مگر اگر انہیں بہت زیادہ مقدار میں کھایا جائے، پانی کم پیا جائے، دھوپ میں زیادہ وقت گزارا جائے یا پہلے سے acidity، diabetes، IBS یا allergy ہو تو طبیعت خراب محسوس ہو سکتی ہے۔ مسئلہ “گرم تاثیر” نہیں، بلکہ مقدار، hydration، medical condition اور overall diet ہے۔
اسی طرح جن چیزوں کو “سرد” کہا جاتا ہے، وہ بھی ہر کسی کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتیں۔ دہی، لسی، کھیرا یا تربوز بہت سے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، خاص طور پر گرمی میں hydration کے لیے۔ لیکن اگر کسی کو lactose intolerance ہو تو دودھ یا لسی سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے۔ یہ “سردی لگنا” نہیں بلکہ digestion کا مسئلہ ہے۔
گرمیوں میں “گرم food” سے بلاوجہ پرہیز کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ healthy ہیں تو مناسب مقدار میں انڈا، مچھلی، گوشت، آم یا مصالحہ کھا سکتے ہیں۔ اصل احتیاط یہ ہے کہ پانی مناسب پئیں، بہت زیادہ oily اور heavy meals نہ کھائیں، دھوپ اور heatwave سے بچیں، caffeine بہت زیادہ نہ لیں، اور اپنی medical condition کے مطابق diet رکھیں۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگ ہر مسئلے کو “گرم سرد تاثیر” سے جوڑ کر اصل وجہ miss کر دیتے ہیں۔ acne، acidity، allergy، diabetes، dehydration یا infection کی اپنی medical وجوہات ہوتی ہیں۔ ہر چیز کو گر�� یا سرد کہہ دینا آسان ہے، مگر ہمیشہ درست نہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ خوراک کو “گرم” یا “سرد” کے بجائے science سے سمجھیں۔ کھانا balanced ہو، مقدار مناسب ہو، پانی کافی ہو، اور جسم کی ضرورت کے مطابق غذا لی جائے۔ گرمیوں میں آم یا انڈا کھانے سے جسم میں آگ نہیں لگتی، اور دہی کھانے سے جسم میں برف نہیں جمتی۔ صحت ڈر سے نہیں، علم اور توازن سے بہتر ہوتی ہے۔
اسلام نے ��ے مسلمانوں کی زندگی اساں کی ہے خاص طور پر مردوں کی
جو مرد چیٹنگ کر رہا ہے وہ مفتی مسعود کو سن کر ارام سے دوسری بیوی لا سکتا ہے
جس مرد کو کوئی عورت لفٹ نہیں کراتی وہ طارق جمیل کو سن کے مزے کی نیند لے کر خواب میں حوروں کو چ** سکتا ہے
جس کو بلیک ہول کوانٹم فزکس وغیرہ وغیرہ سیکھنے کا شوق ہے اور سائنس نہیں سیکھنی وہ ساحل عدیم کو سن سکتا ہے
جس کو انگریزی کے ال��اظ ٹیڑھا بن کے بولنا سیکھنا ہے وہ قیصر راجہ کو سن سکتا ہے
جس کسی کو قادیانی لڑکی نے دھوکا دیا ہے وہ سپاہ صحابہ کی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے
جس نے شراب پی کر مسلمان رہنا ہے وہ غامدی کو سن سکتا ہے
جس نے فنون لطیفہ میں رہنا ہے یعنی اداکاری گیت گانے ہیں وہ حمزہ علی عباسی کو سن سکتا ہے
اس نے قران کی کتاب کو واقعی قران کی کتاب ماننا ہے کہ اتنی خوبصورت ہے تو پرویز کو پڑھ سکتا ہے
جس کو جہاد کا شوق ہے وہ غمدی کو سن سکتا ہے شرط ہے کہ اس کو کشمیر جانا پڑے گا
اسلام نے اتنے سارے ہزاروں مولوی دیے ہیں اپشنز دیے ہیں پھر کیا مسئلہ ہے مسلمان رہنے میں
کینیڈا کا ایک ایسا شہر جہاں لوگ رات کو سونے سے پہلے اپنے گھر اور گاڑیوں کے دروازے لاک نہیں کرتے...
بلکہ جان بوجھ کر کھلے چھوڑ دیتے ہیں!
وجہ چور نہیں...
برفانی ریچھ ہیں۔ 🙂
سوچیے ذرا...رات کے دو بجے ہیں۔
باہر مکمل خاموشی ہے۔ درجہ حرارت منفی 25 یا منفی 30 تک جا چکا ہے۔سڑک پر شاید ہی کوئی انسان نظر آئے۔
اور اچانک اندھیرے میں ایک سفید سایہ حرکت کرتا دکھائی دے...
پہلے آپ کو لگے گا برف اڑ رہی ہے۔
پھر احساس ہوگا کہ یہ برف نہیں...
600 کلو وزنی ایک برفانی ریچھ ہے!
ایسا ریچھ جو چند سیکنڈ میں گاڑی کو الٹ سکتا ہے اور دنیا کے خطرناک ترین شکاری جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔
اسی لیے کینیڈا کے صوبہ مینٹوبا کے انتہائی شمال میں واقع چھوٹے سے قصبے چرچل (Churchill) میں لوگ اکثر گاڑیوں کے دروازے لاک نہیں کرتے تاکہ اگر کسی شخص کا اچانک ریچھ سے سامنا ہو جائے تو وہ فوراً قریب کھڑی گاڑی میں گھس کر جان بچا سکے۔
دنیا بھر میں چوروں سے بچنے کے لئیے گاڑیوں کے لوگ دروازے بند کرکے سوتے ہیں اور یہاں چرچل میں لوگوں کو ریچھوں سے بچانے کے لیے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ 🙂
یہ قصبہ ہڈسن بے (Hudson Bay) کے کنارے واقع ہے اور اسے دنیا بھر میں
"Polar Bear Capital of the World"
کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات ی�� ہے کہ اس پورے قصبے کی آبادی صرف تقریباً 870 افراد ہے۔
لیکن برفانی ریچھوں کی تعداد بعض اندازوں کے مطابق 600 سے 1000 کے درمیان سمجھی جاتی ہے، جبکہ مخصوص موسم میں سیکڑوں ریچھ چرچل کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں۔
یعنی بعض اوقات وہاں ریچھ انسانوں کے برابر یا ان سے بھی زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ 🙂
چرچل پہنچنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اگر آپ کراچی، لاہور یا ٹورنٹو کی طرح گاڑی اٹھا کر نکلنے کا سوچ رہے ہیں تو بھول جائیے۔
یہ کینیڈا کے ان چند شہروں میں شامل ہے جہاں کوئی مستقل ہائی وے نہیں جاتی۔ :)
زیادہ تر لوگ پہلے Winnipeg پہنچتے ہیں۔ پھر وہاں سے یا جہاز لیتے ہیں یا تقریباً دو دن کا طویل ٹرین سفر کرتے ہیں جو برفانی میدانوں، جنگلات اور ویران علاقوں سے گزرتا ہوا چرچل پہنچتا ہے۔
اور شاید اسی تنہائی کی وجہ سے وہاں ہر چیز مہنگی بھی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، تعمیراتی سامان، گاڑیاں، حتیٰ کہ روزمرہ کی بہت سی چیزیں بھی جہاز یا ٹرین کے ذریعے پہنچتی ہیں۔
مقامی لوگ اکثر مذاق میں کہتے ہیں کہ
" یہاں اگر دودھ گر جائے تو افسوس صرف دودھ کا نہیں، اس کے کرائے کا بھی ہوتا ہے!" 🙂
ہر سال اکتوبر اور نومبر میں دنیا بھر سے ہزاروں سیاح یہاں آتے ہیں تاکہ برفانی ریچھوں کو قریب سے دیکھ سکیں۔
خصوصی دیوہیکل گاڑیاں جنہیں Tundra Buggies کہا جاتا ہے، سیاحوں کو برفانی میدانوں میں لے جاتی ہیں جہاں کئی کئی سو کلو وزنی ریچھ گاڑیوں کے بالکل قریب آ جاتے ہیں۔
چرچل میں ایک مشہور "پولر بیئر جیل" بھی موجود ہے۔ اگر کوئی ریچھ بار بار شہر میں داخل ہو کر لوگوں کے لیے خطرہ بنے تو اسے بے ہوش کرکے ایک خصوصی مرکز میں رکھا جاتا ہے اور بعد میں دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
لیکن چرچل صرف ریچھوں کا شہر نہیں۔
گرمیوں میں ہزاروں سفید بیلوگا وہیلیں یہاں آتی ہیں اور سردیوں میں آسمان پر شمالی روشنیاں (Northern Lights) ناچتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
شاید اسی لیے چرچل دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل حکمران ہم نہیں...
فطرت ہے۔
اور وہاں کے لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔
طرح جانتے ہیں۔
اسی لیے وہ دروازے بند کرنے کے بجائے کبھی کبھی کھلے چھوڑ دیتے ہیں...
کیا پتہ اگلے موڑ پر کسی انسان کو چور سے نہیں،ایک بھوکے برفانی ریچھ سے بچنے کے لیے پناہ چاہیے ہو۔۔۔ :)
-سہیل بلخی
#Canada
#کینیڈا
کینیڈا کا ایک ایسا شہر جہاں لوگ رات کو سونے سے پہلے اپنے گھر اور گاڑیوں کے دروازے لاک نہیں کرتے...