قرآن و حدیث کا کوئی منکر اگر نبی کے قرابت داروں دوستوں اور افضل ترین مسلمانوں سے بغض رکھتا ہے تو اسکو جواب نا دیں
بلکہ یہ کہیں کہ سلام قرآن میں انکو بس اتنا ہی جواب دینے کا حکم آیا
بہت صحیح مشورہ ہے۔۔۔وہ اکاؤنٹ جو صحابہ کو گالیاں لکھتے ہیں انکو جواب مت دیں۔
قرآن و حدیث کی دلیلیں ٹوئٹر پر کچھ کار گر ثابت نہیں ہوتی۔
پی ٹی اے میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو ان فرقہ پرستوں کی سرپرستی کرتی ہیں۔ میں نے اپنے ذرائع سے #PTA کے کچھ لوگوں کی نشاندہی کی ہے‘ انشا اللہ جلد ہم اس موضوع پر حکومت کا مثبت ردِ عمل دیکھیں گے۔
@TararAttaullah@OfficialDGISPR@PTAofficialpk
بیٹے پر پہلا حق ماں کا ہے اور شوہر پر بیوی کا ، دونوں کے اپنے اپنے حقوق ہیں اور دونوں میں کوئی دوسری کے حق کو نہیں چھین سکتی نہ بیوی ماں بیٹے کے بیچ آئے نہ ماں بیٹے کو بیوی سے دور کرے
@ScienceKiDuniy اس بات کا فیصلہ کس نے کیا کے کچھ بندر تو ارتقا کر کے انسان بن جائیں مگر زمین سے بندروں کی نسل معدوم نہ ہوں اور باقی بندر ہمیشہ بندر ہی رہیں وہ ارتقاء سے دور رہیں
@ScienceKiDuniy تو تم نے ارتقا پر بہت زیادہ ریسرچ کی ہے نہ تو تم کچھ سوالوں کے جواب دو ارتقا ایک خاص حد پر پہنچ کر کیوں روک گیا ، صدیاں گزر گئی بندر کو انسان بنے مگر انسان آج تک موت پر قابو نہ پا سکا نہ ہی وہ اتنا ارتقا کر سکا کہ جو بیماریاں اسے صدیوں سے مار رہی ہیں وہ اس پر بے اثر ہو جائیں ⬇️
@MariaBalochPK ہیجان زدہ معاشرے میں کوئی محفوظ نہیں کچھ محفوظ نہیں کسی کو پیسے کی طلب ہے وہ اس لے ہر حد پار کر جاتا ہے کوئی جنسی بھوک میں مبتلا ہے اس سے کوئی محفوظ نہیں
@MariaBalochPK گریز نہیں کرتے جس طرح جانوروں میں آدم خور وہ بنتا ہے جو طاقت ور جانور کو شکار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اس طرح جنسی درندے جب اپنی بھوک نہیں مٹا پاتے تو پھر وہ نہیں دیکھتے کہ شکار پردہ دار خاتون ہے کوئی فرشتہ صفت معصوم بچی یا بچہ ہے حتی وہ تو ہاتھ لگے مردوں تک کو نہیں چھوڑتے
@yasminkhalid1 میں عورت آزاد ہوئی ہے یا عیاش مرد، آج عورت آزاد کم بے لباس زیادہ ہوئی ہے لیکن خیر شیطان پرستی میں شیطان کو ہی خوش کرے گا نہ تو ظاہر ہے تم تو مذہب کو پی برا بھلا کہو گئی نہ اپنے آقا کو ناراض کرو گی
@yasminkhalid1 یہ تم اپنا مخصوص رونا بعد میں رونا پہلے تھوڑا واضح کرو کہ پورن انڈسٹری اسٹرئپ کلب، ایسکورث سروس دسکوز کیسینوز اور نائٹ لائف میں خواتین کو وہ کونسا مقام و عزت حاصل ہوئے ہیں جس سے مذہب نے انہیں دور رکھا ہوا تھا ؟ ماڈل گرل کال گرل اور ٹیشو پیپرز میں کیا فرق ہے ون نائٹ ایسٹنڈ⬇️
ہی بل بوتے پر جان پائی ہے اور بھی
نامکمل و ادھوری تو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے ہی اس کا انکشاف کردیا تھا یہ بات کا کامل ثبوت ہے کہ قرآن مجید بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور ہر غلطی سے پاک ہے
قرآن مجید ہرگز ہرگز کوئی سائنسی یا معلومات عامہ کی کتاب نہیں مگر جو گمراہ اور بھٹکے ہوئے شیطان اسے نعوذ باللہ انسانی تحریر کردہ کتاب قرار دینے بدترین جسارت کرتے ہیں ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس کتاب میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیان کی ہے جس کو آج کی دنیا سائنس ⬇️
خدا کی ذات کو سائنسی پیمانے پہ ثابت کرنے کی کوشش درحقیقت اس مقدس ہستی کی توہین کے مترادف ہے اسی طرح قران کو سائینسی کتاب ثابت کرنے کی کوشش قران کی اہمیت کو کم کرنے کرنا ہے ۔جذباتی مسلمانوں کو اس حماقت کا اندازہ 40 50 سال بعد ہونا ہے
میں نے جب سے اسرائیلی کتوں کو ان کی اصلیت کو دنیا کے سامنے ایکسپوز کرنے کی جو ایک کمپین شروع کی ہے
اس کے بعد ٹویٹر نے نہ صرف میرے فالوور ڈراپ کر رہے ہیں روزانہ اسی سے سو فالوور کم ہو رہے ہیں جبکہ میری ریچ بھی ختم کر دی ہے اور اب میرے کمنٹس بھی بلاک کر دیے ہیں
لیکن فلسطینیوں کے لیے انشاء اللہ آواز اٹھتی رہے گی کیونکہ ان سوروں سے نفرت ہماری رگوں میں رچی بسی ہے دنیا کا ہر زی شعور انسان ان کتوں سے نفرت کرے گا
ایسے ہزار اکاؤنٹ فلسطینیوں کے لیے قربان ہوں لیکن فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھانا نہیں چھوڑیں گے
میں پھر دہرا رہا ہوں کہ یہ کتے اس دنیا کی امن کے لیے ناسور ہیں 🖐🏿🖐🏿🖐🏿
@MariaBalochPK لیلی خالد آج بھی حیات ہے اور غالباً کسی افریقی ملک میں رہائش پزیر ہے کچھ عرصے قبل کسی یورپین ملک میں اسے ملک میں آنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جبکہ وہ کسی این جی او کے ساتھ منسلک ہے
رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے سایہ تلے پنپتے فتنے !
(حصہ اول)
پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مذہب، عقیدہ اور دینی شعائر جیسے نہایت حساس موضوعات بھی ایسے افراد کی دست برد سے محفوظ نہیں رہے جن کا نہ تو علومِ دینیہ سے کوئی گہرا تعلق ہوتا ہے، نہ علمی روایت سے کوئی نسبت اور نہ ہی امتِ مسلمہ کے مسلمہ عقائد کے ساتھ کوئی حقیقی وابستگی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک ایسا ماحول تشکیل دیا گیا ہے جس میں ہر شخص خود کو مذہبی معاملات پر رائے زنی کا مجاز سمجھتا ہے، خواہ اس کے پاس اس میدان کی بنیادی اہلیت بھی موجود نہ ہو۔ مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے افراد کو باقاعدہ سرکاری، نیم سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر سرپرستی، حوصلہ افزائی اور مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو بعض مخصوص افراد کو اسلامی عقائد، ختمِ نبوت، تقدسِ رسالت اور دیگر حساس مذہبی موضوعات پر بلا خوف و تردد گفتگو کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں؟ اگر اس سوال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو ہر صاحبِ شعور کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ عصرِ حاضر میں ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، عالمی اداروں اور بین الاقوامی فنڈنگ کے پیچیدہ نیٹ ورک نے فکری و نظریاتی اثراندازی کی نئی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ اب جنگیں عقائد، تہذیبوں اور نظریات کے میدان میں لڑی جا رہی ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ مغربی دنیا کے بعض ادارے اور تنظیمیں مسلم معاشروں میں مذہبی تصورات کی تشکیلِ نو (Reconstruction) اور دینی حساسیتوں کو کمزور کرنے کے منصوبوں پر طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف عنوانات اختیار کیے جاتے ہیں؛ کہیں "مذہبی آزادی" کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے، کہیں "رواداری" کے نام پر مسلمہ عقائد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہیں "مکالمہ" اور "تنقیدی فکر" کی آڑ میں ایسے نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے جو براہِ راست اسلامی تشخص اور امت کے اجماعی عقائد سے متصادم ہوتے ہیں۔
اس پورے عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے مقامی سطح پر ایسے افراد تیار کیے جاتے ہیں جو بظاہر مسلمان، دانشور، محقق یا سماجی کارکن دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی فکری سمت اور ترجیحات رفتہ رفتہ انہی بین الاقوامی ایجنڈوں کی ترجمان بن جاتی ہیں۔ انہیں مختلف پروگراموں، تربیتی نشستوں، بیرونی دوروں، تحقیقی گرانٹس اور پرکشش اسکالرشپس کے ذریعے اس فکری دھارے کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہی افراد کو تعلیمی اداروں، پالیسی ساز حلقوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور ریاستی اداروں تک رسائی دلائی جاتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں مطلوبہ بیانیے کو فروغ دے سکیں۔
پاکستان میں بھی متعدد بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں "انسانی حقوق"، "مذہبی آزادی" اور "شہری مساوات" جیسے خوشنما عنوانات کے تحت سرگرمِ عمل ہیں۔ ان میں سے بعض اداروں کی رپورٹس، سفارشات اور عملی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ ان کی توجہ کا ایک مستقل مرکز مسئلۂ ختمِ نبوت کی حساسیت کو کم کرنا، قادیانی جماعت کے بارے میں عوامی رویوں میں تبدیلی پیدا کرنا اور اس حوالے سے موجود آئینی و قانونی اتفاقِ رائے کو متنازع بنانا ہے۔ یہ کام براہِ راست بھی کیا جاتا ہے اور بالواسطہ بھی؛ کبھی علمی مباحث کے نام پر، کبھی مذہبی ہم آہنگی کے عنوان سے اور کبھی آزادیِ اظہار کے پردے میں۔
تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس فکری یلغار کے بعض نمائندے ہمارے قومی اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز اور پالیسی ساز حلقوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ان میں سے بعض افراد انتہائی معمولی مفادات، محدود مراعات یا وقتی شہرت کے عوض ایسے منصوبوں کا حصہ بن جاتے ہیں جن کے طویل المدت اثرات قومی نظریے اور مذہبی شناخت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام صرف نعروں اور خوشنما اصطلاحات سے متاثر ہونے کے بجائے ان فکری تحریکوں، مالی وسائل اور بین الاقوامی روابط کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیں جو پس منظر میں کارفرما ہوتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ اختلافِ رائے کا حق موجود ہے یا نہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی آزادی کے نام پر مسلمہ عقائد کو متنازع بنانے، ختمِ نبوت کے اجماعی تصور کو کمزور کرنے اور دینی حساسیتوں کو مشکوک بنانے کی کوششوں کو بھی صرف فکری تنوع قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب تلاش کیے بغیر اس پورے منظرنامے کو سمجھنا ممکن نہیں۔
تحریر : ابو عاطف رحمانی
لینجڈ محمد یوسف کا کہنا ہے کہ میں نے 2005میں اسلام قبول کرنے کے بعد 2006میں ایک سال میں نو سنچریاں اور مجموعی طور پر سال میں اٹھارہ سو رنز بنائے تھے آج اللہ کے فضل سے بیس سال گزار گئے لیکن یہ ورلڈ ریکارڈ میرے پاس ہے کچھ لوگوں کی جانب سے یہ کہنا کہ تبلیغی جماعت کی وجہ پاکستان کرکٹ خراب ہورہی ہے یہ غلط ہے میں نے تبلیغ میں وقت لگایا ہے آج اگر میں مسلمان ہوں تو تبلیغ کی برکت سے ہوں اگر سعید انور دن رات ایک کرکے مجھے دعوت نہیں دیتے تو مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا اسلام کے بارے میں سعید انور نے میرے اوپر ایک سال سے زاہد عرصہ محنت کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی میں نے تبلیغ میں آنے کے بعد یہ ریکارڈ بنایاہماری کرکٹ تبلیغ کی وجہ سے خراب نہیں ہورہی ہے کرکٹ آپ کی خراب اس وجہ سے ہورہی ہے کہ آپ کے کرکٹ چلانے والے خود کرکٹ نہیں جانتےہے آج پورا سسٹم کرکٹ کو سمجھنے والے کے حوالے کریں اگر ایسی ٹیم نے ورلڈ کپ نہیں جیتا تو پھر کہنا
#PakVsAus #cricket #PakistanCricket
عید پر کراچی آئی ہوں ۔ہر طرف بے بسی ہی بے بسی نظر آتی ہے۔بجلی آتی کم جاتی زیادہ ہے تو کچھ رشتہ داروں نے سولر لگوا لیئے ہیں۔انکے بھی دن تو جیسے تیسے گزر جاتے راتیں حرام ہیں۔کراچی کے 70فیصد ٹیکس پئیر سولر جیسی ذاتی سہولت بھی افورڈ نہیں کرسکتے۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں چھوٹے چھوٹے سلنڈرز رکھے ہوئے ہیں۔البتہ بھاری بلز باقائدگی سے آتے ہیں۔پانی نلکوں میں نہیں آتا ٹینکرز ہزاروں روپے میں کچھ سو گیلن پانی دے جاتے ہیں۔ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گندگی کے ڈھیر نے سونے پہ سہاگا کیا ہوا ہے۔بہت اچھا گاؤں ہے کراچی۔یہاں بڑی بلڈنگز بھی ہیں۔ مہنگی ترین سندھ اسمبلی اور خوبصورت گورنر ہاؤس بھی ہے۔بڑے بڑے شاپنگ مالز بھی ہیں۔ایک بڑے سے گاؤں کراچی کو رہنے کے قابل 173شہروں کی لسٹ میں 170 نمبر پر رکھوانے کے بڑے کارنامے پر سندھ حکومت اور مئیر کراچی کو۔ خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
#Karachi
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ کی قیادت میں صحابہ کرام مسلمہ کزاب سے اسلام لانے یا جزیہ ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ناکہ توبہ کی پیشکش یا سرکوبی کی اعلان
کیا پاکستان میں عدالتیں موجود نہیں ہیں ؟ جہاں پارلیمنٹ کے کئے فیصلے چلینج ہوئے ان پر بحث ہوئی اور ان میں سے کئی واپس بھی ہوئے سن چوہتر سے مرزائیوں نے عدالت میں کیوں یہ فیصلہ چیلنج نہیں کیا ؟ چلو مان لیا پاکستانی ادارے قابل بھروسہ نہیں (ان کی نظر میں ) مگر کیا دنیا میں کہیں ⬇️
جو لوگ یہ کہتے ہیں احمدی آئین کو تسلیم کریں اور یہ مان لیں کہ وہ غیر مسلم ہیں پھر انہیں تمام حقوق ملیں گے
میرا سادہ سا سوال ہے
کیا مذہب کا فیصلہ زمینی عدالتیں کرتی ہیں
اور کیا خود آپ ان ائین بنانے والوں کو تسلیم کرتے ہیں کیا کم از کم ان کی کوئی مذہبی یا روحانی شخصیت ہے؟؟
بلکہ دنیا بھر کے اربوں مسلمان خود کو کافر قرار مان لیں اپنی ماؤں بہنوں کو بازاری فاحشہ مانے یا پھر مرزے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ کا دوسرا جنم تسلیم کر لیں نعوذ باللہ یہ عقائد ہیں یا فتنہ انگیزی ہے اسلام میں حقوق اقلیتوں کے ہیں بر حق ہیں مگر فتنہ پرستوں کے نہیں ورنہ حضرت