ماہرہ ہاشمی کے والد گوگا شہیدنے بے نظیر بھٹو کی حفاظت میں جان دی، اس کی بیٹی کا سہاگ مریم نواز کی نااہلی نے چھین @MairaHashmi7 کی بہن اور شہید گوگا کی بیٹی سمیرا صرف 42 سال کی عمر میں بیوہ ہوگئی۔ اس کے شوہر شہزاد کو وزیراعلیٰ مریم نواز کے زیرِانتظام میو ہسپتال میں ایک وینٹی لیٹر دستیاب نہ ہوسکا اور وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔
شہید گوگا وہ بہادر جیالا تھا جو 27 دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی گاڑی کے بمپر پر بطور سکیورٹی گارڈ کھڑا تھا۔ جب حملہ آور نے محترمہ پر فائرنگ کی تو گوگا نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر گاڑی سے چھلانگ لگائی اور اسے دبوچ لیا۔ خودکش حملہ آور نے دھماکا کردیا، جس سے گوگا کا زخمی جسم فضا میں بلند ہوکر کئی میٹر دور جا گرا۔ یوں لاہور کا یہ بے خوف جیالا اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگیا۔
آج اسی شہید کی بیٹی سمیرا کا شوہر ایک وینٹی لیٹر کی عدم دستیابی کے باعث موت کے منہ میں چلا گیا۔ کریم پارک لاہور کے رہائشی شہزاد کو گھر میں اچانک سانس لینے میں دشواری ہوئی تو اس نے اپنی اہلیہ سے کہا: ’’سمیرا، مجھے ہسپتال لے چلو۔‘‘ وہ اپنے قدموں پر چل کر میو ہسپتال پہنچا، مگر وہاں زندگی بچانے والی بنیادی سہولت اس کے لیے دستیاب نہ ہوسکی۔
سمیرا اپنے شوہر کی سانسیں بچانے کے لیے دہائیاں دیتی رہی۔ مائرہ ہاشمی بھی ہسپتال پہنچی اور اپنے بہنوئی کو بچانے کے لیے وارڈ در وارڈ دیوانہ وار بھاگتی رہی۔ لیکن تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں شمار ہونے والے میو ہسپتال میں ایک وینٹی لیٹر بھی دستیاب نہ ہوسکا۔ آخرکار شہزاد نے تڑپتے ہوئے جان دے دی اور شہید گوگا کی بیٹی جوانی ہی میں بیوہ ہوگئی۔
آج شہید گوگا کی بوڑھی بیوہ کشور ایک مرتبہ پھر غم کے پہاڑ تلے دبی ہوئی ہے۔ وہ اپنی بیوہ بیٹی سمیرا اور اس کے چار معصوم بچوں جن میں سب سے چھوٹا بیٹا صرف ڈیڑھ سال کا ہے کے مستقبل کے لیے پریشان ہے۔ وہ شاید سوچ رہی ہوگی کہ گوگا نے اپنی قائد اور جمہوریت کی خاطر جان قربان کردی، لیکن حکومتِ پنجاب اس کے خاندان کے ایک فرد کو وینٹی لیٹر تک فراہم نہ کرسکی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ! بلند بانگ دعوے، مہنگی تشہیری مہمات اور رنگ برنگے منصوبے کسی بیوہ کا سہاگ اور چار معصوم بچوں کا باپ واپس نہیں لاسکتے۔ سوال صرف شہزاد کی موت کا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو بروقت علاج، آکسیجن اور وینٹی لیٹر جیسی بنیادی سہولتیں کب میسر ہوں گی؟ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور کیونکہ شہزاد کی موت حکومت پنجاب کی ناہلی کی وجہ سے ہوئی۔
؎ تخت والوں کی نااہلی نے چھین لی اک اور جان
شہر میں دعوے بہت تھے، پر نہ تھا سانسوں کا سامان
@BBhuttoZardari
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو 38ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، کامیابی اور عوامی خدمت کی توفیق عطا فرمائے
پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب
#HBDBilawalBhuttoZardari
1 شہادت صرف جان کا نذرانہ نہیں، نظریے کی امانت بھی ہوتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے یہ امانت ہر دور میں نبھائی ہے۔ یہ قافلہ کل بھی نہیں رکا تھا، آج بھی نہیں رکے گا۔ شہداء کو سرخ سلام۔ ❤️🖤
2 کچھ جماعتیں اقتدار سے پہچانی جاتی ہیں، پیپلز پارٹی اپنے شہداء سے پہچانی جاتی ہے
1 شہادت صرف جان کا نذرانہ نہیں، نظریے کی امانت بھی ہوتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے یہ امانت ہر دور میں نبھائی ہے۔ یہ قافلہ کل بھی نہیں رکا تھا، آج بھی نہیں رکے گا۔ شہداء کو سرخ سلام۔ ❤️🖤
ہر دلعزیز راجہ مظہر حسین ہستال جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چکوال
کا کشمیر الیکشن کے حوالے سے بھون پولنگ اسٹیشن کا دورہ
انشاءاللہ تیر چلے گا
#ChakwalBhuttoka@BBhuttoZardari@BasharatAliPPP