@Maryamnsharee میڈم میں اور سیز پاکستانی ہوں اور پچھلے تین مہینوں سے پاکستان میں ہوں میرے پاس کوئی 50ہزار روپوں وآلہ موبائل ہےاور اس پر ٹیکس ہے 26ہزار روپے۔براہ کرم اس پر نظر ثانی فرمائیں۔یہ صرف میرا نہیں بہت سے اور سیز پاکستانیوں کا مشترکہ مسلہ ہے۔شکریہ
پشاور میں ائرپورٹ طرز کا نیا جنرل بس سٹینڈ تقریبا تیار ہو چکا ہے۔ یہ سٹیٹ آف دی آرٹ بس اسٹینڈ ہے جو دنیا کے جدید ترین شہروں کے معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔ جس انداز میں یہ تعمیر ہوا ہے، اس کی مثال پورے پاکستان میں اور کوئی نہیں ملتی۔ یہ بس اسٹینڈ پاکستان کے کئی ائیرپورٹس سے بھی بہتر ہے۔ باقی صوبوں کے وزرائے اعلی کو بھی اسی طرز پر اپنے اپنے صوبوں میں بس اڈے بنانے چاہییں۔ افتتاح میں رکاوٹ یہ ہے کہ جی ٹی روڈ سے کنیکٹیویٹی کے لیے نیشنل ہائی وے سے ابھی تک اپروول نہیں مل رہی۔ آپریشنل ہونے کے بعد قوی امکان کے ہے کہ بی آر ٹی کی طرح یہ پروجیکٹ بھی کئی عالمی ایوارڈ جیت سکتا ہے۔
چلڈرن اسپتال وفاقی پروجیکٹ ہے جسے وفاق مکمل نہیں کر رہی اور تنگ آکر صوبائ کابینہ نے 1.5 ارب روپے قرض دے کر وفاقی منصوبہ مکمل کرانے کی منظوری دی ہے۰ خواجہ صاحب ریکارڈ درست کر لیں ایک زمہ دار پوزیشن پر بیٹھ کر غیر زمہ داری زیب نہیں دیتی۰
وزیر اعلی فرنٹ فٹ پر کھیلنے کیلئے تیار once for all کر دیا
پولیس کو کسی اور کے کنٹرول سے باہر لانے کیلئے وزیر اعلی نے پولیس ایکٹ پیش کردیا خیبرپختونخوا کی پولیس خیبرپختونخوا کی عوام کی تابع ہوگی کسی اور کے اشاروں پر نہیں چلے گی ونس فار آل فیصلہ ہوگیا
چلڈرن اسپتال وفاقی پروجیکٹ ہے جسے وفاق مکمل نہیں کر رہی اور تنگ آکر صوبائ کابینہ نے 1.5 ارب روپے قرض دے کر وفاقی منصوبہ مکمل کرانے کی منظوری دی ہے۰ شامی صاحب ریکارڈ درست کر لیں
پنجاب کا بجٹ اور آبادی خیبر پختوںخواہ سے 300 فیصد زیادہ۰ اس لحاظ سے ہر محکمے میں پنجاب کو خیبر پختونخواہ کے مقابلے میں 3 گنا یا 300 فیصد اضافی خرچ کرنا چاہئیے۰ کیونکہ پنجاب کا دعوہ یہ ہے کہ وہ ایک ترقی یافتہ صوبہ ہے تو پنجاب کو آبادی اور بجٹ کے تناسب سے خیبر پختونخواہ سے زیادہ خرچ کرنا چاہیے۰ مگر یہاں حساب الٹا چل رہا ہے۰
زیر گردش ایک شیٹ جس میں پنجاب کے 26 محکمے ہیں اس میں بتایا گیا ان محکموں کا مجموعی بجٹ 11 ارب کے سے بھی کم ہے جو وزیر اعلی کے جہاز کی قیمت ہے۰ تو ہم نے سوچا دیکھے خیبر پختونخواہ کا بجٹ کا موازنہ پنجاب کے محکموں کے بجٹ سے کریں۰ مندرجہ زیل صورتحال سامنے آئ ہے
اب اس شیٹ سے تو ظاہر ہے ترقی پنجاب میں نہیں اصل خیبر ہختونخواہ میں ہے۰ اور ایسا لگ رہا ہے پنجاب نہیں خیبر پختونخواہ کا بجٹ 300 فیصد زیادہ ہے۰
یعنی اب تک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ؟
غلط فیصلے کرنے والے جج اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم
ویسے اگر کیسز لمبے عرصے تک التوا میں رکھے جائیں اور وقت پر فیصلے نہ ہوں تو اس پر کیا ہوگا ؟؟
عمران خان کی پالیسی پر عمل کریں تو 100 دن میں امن آسکتا ہے لیکن اس پر عمل کریگا کون؟
وفاقی حکومت اور اداروں کی تمام توجہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے پر مرکوز ہے
ہمیں احتجاج کرنے نہیں دیا جا رہا
عمران خان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگانے دیا جارہا
پی ٹی آئی کا جھنڈا لہرانے نہیں دیا جا رہا
وفاقی ادارے اسی میں لگے ہوئے ہیں
آپ کی فکر کسی کو نہیں ہے
جو ان کے لاڈلے ہیں وہ ہمیں دہشتگرد بول رہے ہیں
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی واقعے کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کے موقع پر گفتگو
2022 سےعوام سے قربانیاں مانگی جا رہی ہیں، مگر اسی دوران حکمرانوں، بیوروکریٹس، ججز اور ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایک طرف مہنگائی، ٹیکس اور بجلی و گیس کے بھاری بل، دوسری طرف شاہانہ سہولتیں۔کیا کفایت شعاری صرف عوام کے لیے ہے؟دیکھیے
جب بھی ہم کے پی حکومت سے دہشتگردی کا سوال کرتے ہیں تو وہ دوٹوک کہتے ہیں کہ کے پی میں دہشتگردی کے حوالے سے پالیسی صوبے کی نہیں وفاق کی چل رہی ہے،اس لیے کسی بھی واقعے پر سوال وفاق سے کیا جائے،وہ کہتے ہیں کہ صوبے کی تمام سیاسی جماعتیں جرگہ کرکے کہہ چکی ہیں کہ صوبے کو اختیار دیا جائے کہ وہ پالیسی بنائیں اور امن و امان کو یقینی بنائیں لیکن صوبے کے پاس اس وقت کوئی اختیار نہیں ہے ، سب فیصلے اسلام آباد سے ہوتے ہیں اور کے پی حکومت کہتی ہے کہ وفاق کی پالیسی سے دہشتگردی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔
Speaker Babar Saleem Swati has been conferred the CPA Diversity & Equity Award 2026 in Cape Town. MPA Ahmad Kundi received the award on his behalf.
A proud milestone reflecting the Speaker’s leadership and the institutional support of Secretary PAKP Syed Wiqar Shah and team.
#CPA
سپیکر بابر سلیم سواتی کا پاکستان کیلئے بڑا اعزاز
وفاقی حکومت کی شرمناک حرکت کے باعث بابر سلیم ایوارڈ وصول نہ کرسکے
کمینٹ میں کچھ ساتھیوں کی تجویز پر تبدیلی کردی گئی ہے
قابلِ فخر اعزاز، مگر تلخ حقیقت🚨🚨
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے جنوبی افریقہ میں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کا Parliamentary Equality & Diversity Award 2026 جیت کر صوبے کا نام روشن کیا۔ خواتین، اقلیتوں، بچوں اور WASH کیلئے پارلیمانی کاکسز کے قیام کو عالمی سطح پر سراہا گیا
مگر افسوس! جس شخص کو دنیا پارلیمانی اصلاحات پر اعزاز دے رہی ہے، اسی بابر سلیم سواتی کا پاسپورٹ عدالتی حکم پر بلاک ہے اور وہ یہ عالمی اعزاز وصول کرنے جنوبی افریقہ نہ جا سکے
ایک طرف دنیا اعتراف کر رہی ہے، دوسری طرف اپنے ہی ملک میں راستے بند ہیں یہ تضاد خود بہت کچھ بیان کرتا ہے