" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج ��ات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر ��لانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف م��امی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از کم 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹ��ں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہو��ی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی ��ھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
پاکستان میں اس وقت ہائبرڈ نظام نہیں بلکہ “مارشل لأ” اور مکمل ڈکٹیٹر شپ نافذ ہے۔ اس کی واضح مثال صدر ٹرمپ کا شہباز شریف اور زرداری کی بجائے عاصم منیر سے ملاقات کرنا ہے کیونکہ انہیں بھی پتہ ہے کہ تمام اختیارات عاصم منیر کے پاس ہی ہیں- اسی لیے میں بھی کہتا ہوں کہ مذاکرات ان سے ہی ہونے چاہییں جن کے پاس اختیارات ہیں۔
خیبرپختونخوا کے علاقوں میں ڈرون حملے اور معصوم جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ میں نے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج اور مارچ کیے اس معاملے پر میرا موقف دنیا کے سامنے ہے۔ بے گناہوں کا جب بھی قتل ہوتا ہے اس سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ڈرون حم��وں کے ذمہ داروں کے خلاف خیبرپختونخوا کی حکومت ایف آئی آرز درج کروائے۔
خیبر پختونخوا کی عوام نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے ووٹ دیا- اسی لیے میں نے کہا تھا کہ بجٹ سے پہلے علی امین، مزمل اسلم، عمر ایوب، شبلی فراز اور تیمور جھگڑا آ کر مجھے بجٹ پر بریفنگ دیں- بجٹ پاس کرنے سے پہلے علی امین اور خبیرپختونخوا حکومت کو سپریم کورٹ جانا چاہیئے تھا اور بتانا چاہیئے تھا کہ خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت کا سربراہ عمران خان ہے اور ہم نے ان سے بجٹ کے حوالے سے ہدایات لینی ہیں جس کے بغیر IMF بھی بجٹ قبول نہیں کرے گا-
اب دوبارہ واضح ہدایت دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔ یہ کوئی حتمی بجٹ نہیں ہے۔ مجھ سے وہی مشاورتی ٹیم ملاقات کرے اور پھر جو ترامیم میں بتاؤں ان کو شامل کر کے بجٹ منظور کیا جائے۔
اس وقت جبکہ باقی صوبائی حکومتیں سرپلس بجٹ نہیں دے رہیں تو خیبرپختونخوا کی عوام کے فنڈز سے سرپلس دینا صرف ناجائز وفاقی حکومت کو فائدہ دینے کے مترادف ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی عوام کا کسی صورت نقصان نہیں ہونے دوں گا۔
اس مشکل دور میں جب مین سٹریم میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے یا انہیں خرید لیا گیا ہے، ایسے میں سوشل میڈیا نے جس طرح حق کا علم بلند کر رکھا ہے میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی عوام کی آواز زندہ ہے“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (24 جون، 2025)
“Pakistan does not have a hybrid system, rather a brutal martial law: a complete dictatorship. A clear manifestation of this was President Trump choosing to meet Asim Munir instead of Shehbaz Sharif or Zardari because he knows that Asim Munir holds all the power. That is also why I have always said that negotiations should be with the ones who hold power.
The loss of innocent lives in drone attacks in areas of Khyber Pakhtunkhwa is extremely tragic. I have protested and marched all over the world against American drone attacks in Pakistan and my stance on this issue is clear and well known. Every time innocent people are killed, terrorism increases. The Khyber Pakhtunkhwa government should register criminal cases (FIRs) against those responsible for these drone attacks.
The people of Khyber Pakhtunkhwa placed their trust in me through their votes. That is why I had instructed that Ali Amin, Muzzammil Aslam, Omar Ayub, Shibli Faraz, and Taimur Jhagra must brief me on the budget before its passage. Prior to approving the budget, Ali Amin and the KP government should have approached the Supreme Court and stated unequivocally that the party leading the province is headed by Imran Khan, and it is from him that guidance on budgetary matters must be sought, without which even the IMF will not accept the budget.
I issue a clear directive once again: the Khyber Pakhtunkhwa government must petition the Supreme Court. This budget is not final. My designated consultative team must meet with me, and the budget should only be passed after incorporating the amendments that I specify.
While other provincial governments are not presenting surplus budgets, offering a surplus from Khyber Pakhtunkhwa's funds serves only to benefit the illegitimate federal government. I will not allow the people of KP to be harmed under any circumstances.
In these difficult times, when mainstream media has either been gagged or bought out, I commend the role of social media for continuing to raise the voice of truth. It is thanks to social media that the voice of the people remains alive.”
Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf, Imran Khan, speaking to family members at Adiala Jail - June 24, 2025
“جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں ��ا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ عاشوراء کے بعد ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے- لیکن پنجاب اسمبلی میں احتجاج کرنے والے ہمارے 26 اراکین اسمبلی کو معطل کر دیا گیا- احمد بھچر اور تحریک انصاف کے ایم پی ایز شاباش کے مستحق ہیں جنہوں نے فرعونوں کو چیلنج کیا- جب تک ہمارے 26 ارکان بحال نہیں ہوتے ہمارے اراکین اپنی اسمبلی باہر لگا لیں- فارم 47 کی دو نمبر اسمبلیاں ویسے بھی عوام کی نمائندہ ہی نہیں ہیں- “
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
“Instead of going through the formality of introducing a 27th constitutional amendment through a sham parliament, it would be better to openly declare a monarchy, because what exists today is outright dictatorship, forcibly imposed on the country.
The very foundation of Pakistan was laid on La Ilaha Illallah (There is no god except Allah), a declaration that liberates mankind from all forms of slavery. Our country was freed from British rule through immense sacrifices to establish a nation where every citizen would enjoy personal liberties. But the situation is completely the opposite. A mafia seeks to keep the entire nation enslaved. I am willing to endure solitary confinement in a dark prison cell, but I will never accept slavery. And that is my message to everyone: it is better to choose imprisonment than to live in such bondage. What is the value of freedom if, outside these walls, we are not truly free? Iqbal’s Shaheen (eagle) soars high, it does not live in servitude.
I give this call to the entire nation, especially to the workers and supporters of Pakistan Tehreek-e-Insaf: Launch a movement after Ashura against the tyrannical system that has gripped this country. For me, death would be better than accepting a system built on slavery.
Every attempt is being made to suppress my voice so that my message does not reach the people and no one dares to stand up against oppression. But I will resist tyranny until my very last breath. I have complete faith in my Creator that this shadow of injustice will soon be lifted from Pakistan.
There are four pillars integral to any democracy: the right to vote, the rule of law, moral integrity, and a free press. The 26th Constitutional Amendment has effectively dismantled all four:
1. The Right to Vote: A dictator has no need for public mandate; he governs through force. The illegitimate assemblies formed via Forms-47, and the subsequent distribution of reserved seats, have only reinforced the perception among the people that their votes hold no value.
2. The Rule of Law: The judiciary has been reduced to a subordinate department of the government. Courts are packed with handpicked judges, while independent judges have been silenced. This is a hallmark of martial law, not democracy.
3. Moral Fabric of Society: This amendment has buried all ethical values. Individuals who are not true representatives of the people now occupy seats in the assemblies. Horse-trading of assembly members continues with impunity, and even the judiciary operates under the thumb of this mafia.
4. Free Media: Under a dictatorship, the media is bound in chains. Freedom of expression has been entirely curbed. Independent journalists are being targeted, while the rest have been bought off.
Peaceful protest is a fundamental democratic and constitutional right. Yet, 26 of our MPAs were suspended for staging a protest in the Punjab Assembly. I commend Ahmad Bhachar and all PTI MPAs who had the courage to challenge these pharaohs. Until our 26 members are reinstated, our elected representatives should hold their own assembly outside. The Form-47-based assemblies do not represent the people, in any case.”
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with Members of his Family - Adiala Jail (July 1, 2025)
“جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جات�� ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!!
دو سال سے میں صرف پاکستانی قوم کی خاطر جیل میں قید ہوں تا کہ آپ کو کوئی غلام نہ بنا سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ خود اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور اس جابر نظام کو شکست دیں۔
ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد ��س ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب پاکستانی قوم کو ملک گیر احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی اور طریقہ لا قانونیت کی اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتا۔
ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا- پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔
اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
نیلسن منڈیلا اور گاندھی تک کو دیگر قیدیوں سے ملنے، کتابیں پڑھنے اور کتابیں لکھنے کی اجازت تھی- میں ایک ایسی قید کاٹ رہا ہوں جہاں روزانہ 22 گھنٹے مجھے 6x8 کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکار تک مجھ سے بات نہیں کر سکتے، 6 ماہ سے کتابیں بند ہیں، میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میرے وکلأ اور ساتھی مجھ سے نہیں مل سکتے، میرے اہل خانہ کو ایک ہفتے بعد چند منٹ کے لیے ملنے دیا جاتا ہے اور اکثر انہیں بھی روک لیا جاتا ہے، دس ماہ سے میرے ذاتی ڈاکٹر سے میرا معائنہ نہیں کروایا گیا، پچھلے ایک ہفتے سے تو میرا اخبار اور ٹی وی بھی بند ہے۔ جو کتابیں مجھے خاندان کی طرف سے بھجوائی جاتی ہیں وہ تک مجھے مہیا نہیں کی جاتیں اور سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی رہتی ہیں۔ میری اہلیہ کو بھی بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بغل بچوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سب کچھ مجھے توڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا-
ہم نے قبائلی علاقوں کو کئی دہائیوں بعد ان کے آئینی و قانونی حقوق دلوائے اور علاقے کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل مہیا کیے- موجودہ رجیم نے پہلے تو تین سال تک ان علاقوں کے جائز فنڈز روکے رکھے اور اب ان کے آئینی حقوق واپس لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے- ہمارے پارلیمینٹیرینز اور نمائندوں نے ان اقدامات کا بائیکاٹ کر کے اچھا فیصلہ کیا-
ہمارے پنجاب کے ایم پی ایز کو جعلی حکومت کے بجٹ کے دوران احتجاج کرنے پر معطل کرنے کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف احتجاج ان کو بہت ناگوار گزرا ہے- حالانکہ ہمیشہ بجٹ کے دوران احتجاج ہوتا آیا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (۸ جولائی، ۲۰۲۵)
Former Prime Minister Imran Khan's Message – July 8, 2025
“When a nation rises for its rights, no force on earth can suppress it. I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!
For two years, I have remained imprisoned solely for the sake of the Pakistani nation, so that no one can enslave you. Now, the time has come for you to stand up for your own freedom and defeat this oppressive system.
I repeatedly called for dialogue in the best interest of the country. But the time for negotiations has now passed. After the 26th Constitutional Amendment, the rule of law, the Constitution, and the very concept of justice have been buried. Any hope of receiving justice from the courts has been completely extinguished. The Pakistani nation now has only one path forward: a nationwide protest movement. Nothing short of this can pull us out of this quagmire of lawlessness.
A complete roadmap for the nationwide movement will be announced this week. I will have completed two full years of unjust imprisonment on August 5th. One that very day our nationwide protest campaign will be at its peak.
There will be no further negotiations of any kind with anyone anymore! The only path forward is mass protest in the streets, so the nation can rid itself of the puppets forcibly imposed upon it as its rulers.
Let me be clear: any officeholder in Pakistan Tehreek-e-Insaf who cannot shoulder the weight of this movement should step aside immediately. Those who have submitted to these oppressors must remember: these very people will eventually crush you, and the people will never forgive you either.
Even leaders like Nelson Mandela and Gandhi were allowed to meet other prisoners, read books, and write. I am enduring a form of solitary confinement where I am locked for 22 hours a day in a 6x8 foot cell. Police officers are forbidden from speaking to me. I have been denied books for the past six months. I am not allowed to speak to my children. My lawyers and colleagues cannot visit me. My family is allowed only a few minutes of visitation each week, and many of them are often denied even that. My personal physician has not been allowed to examine me for the past ten months. Even my access to newspapers and television has been cut off for the last week. Books sent by my family are withheld and kept in the superintendent’s office. My wife is also being held in inhumane conditions in solitary confinement.
Behind all of this is the establishment and its pawns. All of this is being done to break me. But I will continue to stand against tyranny until my very last breath.
We restored the constitutional and legal rights of the tribal areas after decades and provided full resources for reconstruction and development. The current regime not only withheld their rightful funds for three years but is now actively working to roll back their constitutional rights, an action that is utterly condemnable. I commend our parliamentarians and representatives for boycotting these unlawful measures.
As for our Punjab MPAs who were suspended for protesting during the fraudulent government’s budget session, the real reason behind it was that their protest against Maryam Nawaz was intolerable for the regime, although it is a long-standing tradition to protest during budget sessions.”
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید ب��ھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
میرے والد، سابق وزیرِ اعظم عمران خان، اب جیل میں 700 دن سے زیادہ قید کاٹ چکے ہیں- اُنہیں اپنے وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں، ہم بچوں سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں، اور ذاتی معالج تک کو ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔ یہ انصاف نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ ایک ایسے شخص کو تنہا کیا جائے اور توڑا جائے جس نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، جمہوریت، اور پاکستان کے لیے آواز بلند کی.